دعویٰ اور دعوت

ہوائی جہاز کے سفر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن کی کمی ہونے پر خود بخود آکسیجن ماسک نیچے گریں گے – پہلے خود پہنیں پھر اپنے بچوں کو یا کسی اور کو پہنائیں – پہلے خود پہننے والی بات معقول ہے یا نہیں؟

سورہ تحریم کی آیت نمبر 6 میں ﷲ نے فرمایا

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ….

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤ ، جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ میرا مطالعہ نہایت قلیل ہے اور جو کچھ میں عرض کروں گا وہ عقل عام کے سہارے میں نے سمجھا ہے –

دعوت کیا ہے؟ دعا کا مطلب ہوتا ہے پکارنا اور دعوت ہے کسی کو پکار کر کوئی ایسی بات بتانا جو میں جانتا ہوں اور وہ نہیں جانتا – یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے – یہ ہوائی جہاز کے آکسیجن ماسک کی طرح ہے – یہ ایک ایسی بات ہے جس کا جاننا ہر انسان کے لئے ضروری ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کو معدودے چند لوگ جانتے ہیں اور ایک عظیم اکثریت اس بات کو نہیں جانتی – یہ ہمارا دعویٰ ہے – انگریزی میں dawah لکھا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے اچھا نہیں لگتا کیونکہ یہ سننے میں اردو کے دعویٰ جیسا لگتا ہے اور ہمارا دعویٰ اکثر غلط ہی ہوتا ہے – 😊

وہ چیز جسے جاننے کا دعویٰ کچھ لوگ کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ باقی لوگ اس کے منکر ہیں، وہ کیا ہے؟ وہ وجود باری تعالیٰ کا اثبات اور عقیدہ توحید ہے –
سورہ الاعراف کی آیت نمبر، 172 میں ﷲ نے فرمایا :

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚ ۛ شَہِدۡنَا ۚ ۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۙ

اور ( یاد کرو ) جب نکالا تمہارے رب نے بنی آدم سے ، ان کی پیٹھوں سے ، ان کی ذریت کو اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر ۔ پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ بولے: ہاں! ( تُو ہمارا رب ہے ) ۔ ہم اس کے گواہ ہیں ۔ ( یہ ہم نے اس لئے کیا کہ ) مبادا قیامت کو تم عذر کرو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی رہے ۔

یعنی ہر فرد بشر کے اندر ﷲ نے توحید تک پہنچنے کی صلاحیت رکھی ہے – اب اگر کسی کی اس صلاحیت کو نکھارنے کا موقع ﷲ نے ماں کے گود میں ہی دے دیا تو اس میں اس شخص کا کیا کمال ہے؟ اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم والدین کے یہاں پیدا ہو کر یہ موقع نہیں پایا تو اس میں اس کا کتنا قصور ہے؟

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ شرک ایک ناقابل معافی جرم ہے اور راہ نجات صرف اور صرف عقیدہ توحید میں ہے –

انسانوں کا جو حال ہے اس دنیا میں اس سے تو یہی ڈر لگتا ہے کہ بے شمار انسان جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے – لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ تصور ہے کہ جہنم ہر غیر مسلم کا ابدی ٹھکانہ ہے – ہمیں تو اپنا عقیدہ وراثت میں ملا ہے – اسے ہم نے اپنی کوشش سے حاصل نہیں کیا ہے – پھر موروثی عقیدے کی بنیاد پر اتنا بڑا فرق کیسے ہو سکتا ہے؟

میرا عقیدہ میری ذاتی دریافت ہے یا مجھے اپنے گھر اور معاشرے سے ملا ہے؟ میرے نیک اعمال کے دو محرکات ہیں – ایک میرا مذہبی عقیدہ اور دوسرا میرا اخلاقی حس جو مجھے اسی طرح میسر ہے جس طرح میرے غیر مسلم ساتھیوں کو – یہ دوسرا محرک کسی مذہبی عقیدے کا محتاج نہیں ہوتا –

مجھے یہ علم نہیں ہے کہ اگر میں کسی غیر مسلم گھر میں پیدا ہوا ہوتا تو بڑے ہو کر اپنے عقل کا استعمال کر کے یا اہل ایمان کو دیکھ کر ایمان لے آیا ہوتا – وہ ایمان جس کے بارے میں بچپن سے مجھے بتایا گیا ہے کہ میری اخروی کامیابی کے لیے ضروری ہے –

راجو اور راجیش میرے غیر مسلم ساتھی ہیں – انھیں بھی میری طرح ادراک ہے اس ہستی کا جو ان کا خالق اور رب ہے – البتہ علم وحی سے وہ بالکل ناواقف ہیں – اگر عقیدہ کا معاملہ الگ کر دوں تو مجھے ان کے کردار پر رشک آتا ہے – میرے لئے یہ تصور کرنا نہایت مشکل ہے کہ آخرت میں اپنے گناہوں کی سزا کاٹ کر بالا آخر میں ایک دن جہنم سے نجات پا جاؤں اور دوسری طرف راجو اور راجیش اپنے غلط موروثی عقیدے کے بنا پر ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں……

اللّٰهَ سب سے بڑا منصف ہے –

سورہ الشمس
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ۰۰۷فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ۰۰۸قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ۰۰۹وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ۰۰۱

ترجمہ : اور (شاہد ہے) نفس اور جیسا اُسے سنوارا۔ پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔

عام طورپرمجرموں کوسزادینے کے پیچھے دووجہیں ہوتی ہیں:ایک یہ کہ مجرم نے جرم کاارتکاب کیاہے،اس لیے وہ مستحق ہوگیا ہے کہ اس کوسزادی جائے۔دوسرایہ کہ اس سے مقصودبعض انفرادی اوراجتماعی نوعیت کے فائدوں کا حصول ہوتاہے۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاں بھی انھی دووجوہات کی بنیادپرسزادی جاتی ہے اور جو فائدے اس کے پیش نظرہوتے ہیں ،ان میں سے ایک بڑا فائدہ مجرم کاتزکیہ بھی ہے۔چنانچہ خداکی طرف سے تزکیے کا یہ عمل جس طرح دنیامیں کیاجاتاہے،اسی طرح آخرت میں بھی کیاجائے گا۔ مثلاً، کتمان حق کے مجرموں کے لیے ارشاد ہوا ہے: ’وَلَا یُزَکِّیْھِمْ‘ ۳؂ ،یعنی، خدا ان کاتزکیہ نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ،اس کا مطلب ہے کہ وہاں کچھ لوگوں کاتزکیہ، بہرحال کیاجائے گا،اوریہ تزکیے ہی کی ایک صورت ہے کہ کسی کودوزخ میں ڈال کراس کوگناہوں سے پاک صاف کردیاجائے اورجب وہ طہارت حاصل کرلے تواس کووہاں سے نکال لیاجائے۔
اس راے کے حق میں یہ عقل وفطرت کے مسلمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات ہی ہیں کہ اسے بہت سی حدیثوں میں بھی بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔جیساکہ ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخرت میں اللہ جنت والوں کو جنت میں اور دوزخیوں کودوزخ میں داخل کردے گا۔پھرایک وقت آئے گااوروہ حکم دے گا کہ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابربھی ایمان ہے ، اُسے دوزخ میں سے نکال لیاجائے۔چنانچہ انھیں وہاں سے نکال لیاجائے گا اوروہ جل جل کرکوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ اس پر انھیں ایک نہر حیات میں ڈالاجائے گا اور وہ اس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے پانی کے کنارے کوئی دانہ اُگ آئے۔

اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا کسی غیر مسلم کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہونا ناممکن ہے؟