اسلام میں حیا کا تصور

:سوال

اسلام میں حیا کا کیا تصور ہے؟ کیا حیا صرف جنسی معاملات تک ہی محدود ہے یا اس کا دائرہ اس سے وسیع ہے ، اگر وسیع ہے تو اور کون کون سی چیزیں اس کے دائرے میں آتی ہیں؟ 

 (عائشہ خان)

:جواب

حیا سے مراد وہ جھجک یا نفسیاتی رکاوٹ نہیں ہے جس کا باعث عام طور پر ہمارا خارج ہوتا ہے، بلکہ حیا انسان کے اندر پائی جانے والی وہ خوبی یا صفت ہے جس کی وجہ سے وہ غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں انقباض (گھٹن) محسوس کرتا ہے۔
آدم و حوا علیہما السلام سے غلطی سرزد ہو جانے کے نتیجے میں جب ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں تو وہ اس فطری حیا ہی کی وجہ سے خود کو پتوں سے ڈھانکنے لگے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ. (الاعراف7: 22)
”پھر جب انھوں نے اس درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کی شرم گاہیں ان کے سامنے بے پردہ ہو گئیں اور وہ اپنے آپ کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔”

شرم گاہوں کو چھپانے کا یہ اضطراری عمل اس فطری حیا ہی کا ظہور تھا، اس لیے کہ انسان فطری طور پر یہ جانتا ہے کہ شرم گاہیں چھپانے کی چیز ہیں۔


موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے کنویں پر جن دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا تھا، ان میں سے ایک جب انھیں اپنے باپ کے پاس لے جانے کے لیے بلانے آئی تو اس وقت اس کے آنے میں حیا کی جو صفت نمایاں تھی، قرآن نے درج ذیل الفاظ میں اس کا ذکر کیا ہے:

فَجَآءَ تْهُ اِحْدٰهُمَا تَمْشِيْ عَلَی اسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْکَ لِيَجْزِيَکَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا.(القصص28: 25)
”پس ان میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی، کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ جو پانی آپ نے ہماری خاطر پلایا ہے، اس کا آپ کو صلہ دیں۔”

قرآن نے یہاں ایک کنواری عورت کی اس فطری حیا کا ذکر کیا ہے جواسے کسی غیر محرم مرد سے بات کرتے ہوئے محسوس ہو سکتی ہے۔


اسی طرح ایک کریم النفس آدمی دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے بعض اوقات اس سے اپنا حق وصول کرنے میں بھی حیا محسوس کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلٰکِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ يُؤْذِی النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْکُمْ وَاللهُ لَا يَسْتَحْيٖمِنَ الْحَقِّ.(الاحزاب33: 53)
”ہاں جب تمھیں (نبی کے گھر میں) کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو،یہ باتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ تم سے کہتے ہوئے شرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں نہیں شرماتا۔”

یہ شرمانا دراصل دوسرے کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اس کا لحاظ کرنا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے بھی ایک کریم النفس آدمی کئی جگہوں پر شرم محسوس کرتا ہے۔ خدا ظاہر ہے کہ انسان کا خالق، رب اور معبود ہے، چنانچہ وہ اس سے بہت بالا ہے کہ کسی انسان کی عزت نفس اسے اپنا یا کسی دوسرے کا کوئی حق بیان کرنے سے روک دے۔
دین کے نزدیک حیا ایک بڑی قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسِتُّوْنَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ اَلْاِيْمَانِ. (بخاری، رقم9)
”ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”

نیز آپ نے فرمایا:

اَلْحَيَاءُ کُلُّهُ خَيْرٌ.(مسلم، رقم37)
”حیا تو خیر ہی خیر ہے۔”

خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے صحابۂ کرام بتاتے ہیں کہ آپ بہت حیادار تھے:

کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَشَدَّ حَيَآءً مِّنَ الْعَذْرَآءِ فِيْ خِدْرِهَا.

 (بخاری،رقم3562)

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں بیٹھنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔”

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات انسان کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے یا بعض صورتوں میں وہ بالکل بے حس ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پھر وہ کوئی حیا محسوس نہیں کرتا۔


بہرحال، اصولی بات یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان تمام غیر معروف اعمال سرانجام دینے میں فطری طور پر حیامحسوس کرتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s