اقوال زریں

اے آدم کے بیٹے تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا تو تم رو رہے تھے

اور تُمہارے اِرد گِرد والے لوگ خوش اور مُسکرا رہے تھے

اب تم اپنے لیے کوشش کرو کہ جب یہ لوگ رو رہے ہوں

تُمہارے مرنے پر تو تُم خوش اور مُسکرا رہے ہو

 ——————————————————————————————————————-

Imaam Maalik (d. 179H) said: “The sunnah is like the ark of Noah. Whoever embarks upon it reaches salvation and whoever refuses is drowned.” [Majmoo’ Al-Fataawee 4/57]

—————————————————————————————————————————————

وقت کے زیاں کا ایک اہم ذریعہ
ان لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ ہے
جن کا علم اور سمجھ بہت کم
اور اعتماد بہت زیادہ ہوتا ہے

—————————————————————————————————————————————

ترجمہ: کسی نوجوان نے شیخ محمد غزالی سے پوچھا کہ نماز چھوڑدینے والے کا کیا حکم ہے؟ انھوں جواب دیا۔ اس کا

حکم یہ ہے کہ اسے اپنے ساتھ مسجد لے جاؤ۔ (داعی بنیے قاضی مت بنیے)

یہ عین ایمان کا تقاضا ہے کہ ایک مومن کا دل کسی دوسرے مومن کے خلاف نفرت و بغض سے خالی ہو۔ اس معاملہ میں بہترین سبق ایک حدیث سے ملتا ہے جو نسائی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ تین دن مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے، اور ہر بار وہ آنے والے شخص انصار میں سے ایک صاحب ہی ہوتے۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص کو جستجو پیدا ہوئی کہ آخر یہ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر حضورﷺ نے ان کے بارے میں بار بار یہ بشارت سنائی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بہانہ کر کے تین روز مسلسل ان کے ہاں جا کر رات گزارتے رہے تاکہ ان کی عبادت کا حال دیکھیں۔ مگر ان کی شب گزاری میں کوئی غیر معمولی چیز انہیں نظر نہ آئی۔ ناچار انہوں نے خود ان ہی سے پوچھ لیا کہ بھائی، آپ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے حضورؐ سے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سنی ہے؟  انہوں نے کہا میری عبادت کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔ البتہ ایک ات ہے جو شاید اس کی موجب بنی ہو، اور وہ یہ ہے کہ لا ابد فی نفسی غ،لًّا لا حد من المسلمین، ولا احدہ علی خیراٍ اعطاہ اللہ تعالیٰ ایاہ۔ ’’ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کپٹ نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اسے عطا کی ہو، اس سے حسد کرتا ہوں ‘‘۔

http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/059/21.html


 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s