اللہ کا ذکر اور اطمينان قلب ———– ریحان احمد یوسفی

اللہ کا ذکر اور اطمينان قلب
قرآن ميں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمينان کا ذريعہ بتا يا ہے(الرعد13:28)۔ مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر يہ شکايت کرتے نظر آتے ہيں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بے چين و مضطرب رہتا ہے۔ وہ صبح و شام تسبيحات پڑھتے ہيں،مگر پھر بھی زندگی حز ن و ملال اور بے چينی و انتشار ميں گزرتی ہے۔
اصل بات يہ ہے کہ اس آيت ميں اطمينان سے مراد سکون کی وہ کيفيت نہيں ہے جو کسی نشے کو اختيار کرنے کے بعد اانسان پر طاری ہوجاتی ہے۔ اور جس کے بعد انسان دنيا و مافيہا کے ہر غم سے بے نياز ہوجاتا ہے۔ بلکہ يہاں اطمينان سے مراد وہ ذہنی کيفيت جس ميں انسان کو يہ يقين ہوتاہے کہ جس ہستی پر وہ ايمان لايا ہے، جس کو اس نے اپنا رب اور اپنا معبود ماناہے، و ہی در حقيقت خالق و مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ ميں کل کائنات کی بادشاہی ہے۔ اور جس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ ميں دے ديا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی رسوا اور محروم نہيں کرے گا۔
تاہم يہ يقين اللہ کے جس ذکر سے پيدا ہوتا ہے وہ محض تسبيح پر انگلياں پھيرنے کا عمل نہيں بلکہ اس کی ياد ميں جينے کا نام ہے۔ يہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہيں،اس کے ذکر سے منہ ميں شيرينی گھل جانے کا نام ہے۔ يہ اس کے نام کی مالا جپنے کاعمل نہيں، ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کيفيت کا نام ہے۔ يہ اللہ ھو کا ورد کرنے کا عمل نہيں، رب کی محبت اور اور اس کے ڈرميں زندگی گزارنے کے نام ہے۔ اس ياد کی بڑی خوبصورت تعبير فيض نے يوں کی ہے۔
رات يوں دل ميں تيری بھولی ہوئی ياد آئی
جيسے ويرانے ميں چپکے سے بہار آجائے
جيسے صحراؤں ميں ہولے سے چلے باد نسيم
جيسے بيمار کو بے وجہ قرار آجائے
قرآن نے اس بات کوواضح کيا ہے کہ اطمينان قلب کی وہ کيفيت جس ميں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی انديشہ اللہ کے دوستوں عطا کی جاتی ہے۔ فرمايا:
سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے ليے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی انديشہ۔ يہ وہ لوگ ہيں جو ايمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ ان کے ليے خوشخبری ہے،دنيا کی زندگی ميں بھی اور آخرت ميں بھی،اللہ کی باتوں ميں کوئی تبديلی نہيں ہوسکتی۔ يہی بڑی کاميابی ہے۔ (يونس10:62-64)
يہاں قرآن يہ بھی بيان کرتا ہے کہ اللہ کے يہ دوست کون ہوتے ہيں ؟ يہ کوئی ”بزرگ” قسم کے لوگ نہيں بلکہ وہ سچے اہل ايمان ہيں جو اپنے ايمان کا ثبوت تقوی سے ديتے ہيں۔ يعنی رب کی ياد ان کا احاطہ اس طرح کر ليتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے ميں وہ يہ سوچ کر گناہ سے دور بچتے ہيں کہ اللہ ميرے ساتھ ہے اور مجھے ديکھ رہا ہے۔ يہی لوگ اللہ کے ولی اور اس کے دوست ہيں۔ اور جو اللہ کا دوست ہو وہ کيسے کسی خوف و حزن کا شکار ہوسکتا ہے۔
اس بات کو ايک مثال سے سمجھيں۔ اگر کسی شخص کی پاکستان کے صدر مملکت سے براہِ راست دوستی ہوجائے تو پھر پاکستان ميں کوئی سرکاری محکمہ اسے تنگ نہيں کرسکتا۔ کہيں اس کا کام پھنس نہيں سکتا۔ جب ايک فانی انسان کا يہ حال ہے تو جن لوگوں کوا للہ تعالیٰ اپنا دوست قرار ديدے،ان کے معاملات کا اندازہ کيا جاسکتا ہے۔ وہ ايمان و تقوی کے ساتھ زندگی گزرتے ہيں اور اللہ انہيں ہر خوف و حزن سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اللہ کی ياد ميں جيتے ہيں اور اللہ ان کے دل کو اطمينان سے بھرديتا ہے۔
يہاں سوال يہ پيدا ہوتاہے کہ اللہ کے نيک بندوں پر تکاليف بھی آتی ہيں بلکہ اکثر انھی پر آجايا کرتی ہيں توپھر يہ لوگ کس طرح خوف و حزن سے محفوظ ہوئے۔ اس کا جواب يہ ہے کہ حزن و خوف دل کی ايک کيفيت کا نام ہے۔ جو لوگ اللہ کی ياد ميں جيتے ہيں، ان کے اردگرد وقتی طور پر پريشان کن حالات پيدا ہوسکتے ہيں، مگر ان کے قلب پر اطمينان کی وہ کيفيت رہتی ہے جس سے انسان ہميشہ پرسکون رہتاہے۔ اس کا سب سے اچھا نمونہ خود حضور پاک کی اپنی سيرت ہے۔ آپ کو اپنی زندگی ميں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ہجرت کے موقع پر تو خون کے پياسے لوگ آپ کو تلاش کرتے کرتے غارثور تک آپہنچے۔ آپ کے ساتھ سوائے حضرت ابو بکرؓ کے اور کوئی نہ تھا۔ مگرآپ اس موقع پر ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ جب حضرت ابوبکر ؓ آپ کی طرف سے فکرمند ہوئے تو آپ نے ان کو اس طرح تسلی دی کہ اے ابو بکر ان دوکے متعلق تمہارا کيا خيال ہے جن کا تيسرا رفيق خود اللہ ہے،(ماظنك يا ابا بکر باثنين الله ثالثهما، رواه بخاری، رقم 3453)۔
ايک بندہ مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہيں تو اس کا ايمان اسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو باآسانی اسے ان مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ جس کے نتيجے کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے اس مشکل سے نجات عطا کرديتے ہيں۔ تاہم اسے يہ بھی يقين ہوتا ہے کہ يہ مشکلات،اگر دور نہيں ہورہیں تب بھی،جنت ميں اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہيں اور آخرت کے دکھوں سے اسے بچارہی ہيں۔ چنانچہ مشکلات و تکاليف بھی اسے يہ اطمينان فراہم کرتی ہيں کہ اس کی تکليف کا ہر اک لمحہ جنت ميں اس کی راحتوں ميں اضافہ کا سبب بنے گا۔ جو شخص اطمينا ن کی اس کيفيت ميں جيتا ہو، اس کے سکون قلب کے کيا کہنے۔
يہ بالکل ايسا ہی ہے جيسے امتحان کی تياری ميں مصروف کوئی قابل طالبعلم رات بھر جاگتا اور نيند کی راحت سے محروم رہتا ہے۔ مگر اسے يہ تکليف اس ليے گوارا ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں ميں اس کا بہترين نتيجہ ديکھے گا۔ يا کوئی کاروباری شخص اپنے کاروبار ميں پيسے لگاتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے، اس اميد پر کے آنے والوں دنوں ميں اسے بھرپور منافع ملے گا۔
يہ ايک حقيقت ہے کہ اللہ کی ياد ميں بڑا سکون ہے۔ مگر اس شخص کے ليے جو ايمان و تقوی کی کيفيات ميں جيتا ہو۔ نہ اس شخص کے ليے جسے عام حالات ميں نہ اللہ ياد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنيا کی لذتيں ہوں۔ ہاں اسے کبھی تکليف پہنچ جائے تو اس تکليف سے نجات پانے کے ليے وہ وظيفے پڑھنا شروع کردے اور سمجھے کہ يہ اللہ کی ياد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔
ــــــــــــــــــــــ
:مصنف
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s