تو تو ہے، ميں ميں ہوں —————— ریحان احمد یوسفی

خلافت راشدہ کے بعد عربوں کی دو عظيم حکومتيں قائم ہوئيں۔ ايک کا تعلق بنو اميہ سے تھا اور دوسرے کا بنو عباس سے۔ بنو عباس رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے چچا حضرت عباس کی اولاد ميں سے تھے۔ عباسی خاندان نے پانچ صديوں تک حکومت کی۔ تہذيب وتمدن، علم و حکمت،قوت واقتدارغرض ہر اعتبار سے ان کے دور ميں اسلامی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔
عباسی خاندان کا سب سے بڑا خليفہ ہارون الرشيدتھا۔ اس کے اقتدار کی عظمت اندازہ ايک واقعہ سے کيا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ايک دفعہ دارلخلافہ بغداد ميں خشک سالی ہوگئی۔ ايک روز خليفہ اپنے محل کی چھت پر کھڑا تھا کہ ابر چھاگيا، مگر بادل برسے بغير آگے چلا گيا۔ اس پر ہارون رشيد نے کہا :اے بادل تو جہاں چاہے جاکر برس، تيری پيداوار کا خراج ميرے ہی پاس آئے گا۔
ہارون رشيد اپنی ذاتی زندگی ميں ايک صالح آدمی تھا۔ اس کی ايک دعا اس طرح نقل ہوئی ہے۔
يا رب انت انت و اناانا۔ انا العواد بالذنب و انت العواد بالمغفرة۔ فاغفرلی
اے ميرے رب توتو ہے اور ميں ميں ہوں۔ ميں بار بار گناہ کرتا ہوں اور تو بار بار بخشنے والا ہے۔ پس مجھے بخش دے۔
اس دنيا ميں ساری بڑائی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ليے ہے۔ کسی انسان کی اس کے سامنے کوئی حيثيت نہيں۔ اس کی دی ہوئی بھيک سے ہر آدمی پل رہا ہے۔ اس کی بخشی ہوئی پناہ ميں ہر آدمی جی رہا ہے۔ يہ حقيقت ا گر انسان کو يادرہے تو خدا اس کی ہر اميد اور ہر خوف کا مرکز بن جائے گا۔ وہ سب سے بڑھ کر اس سے محبت کرے گا اور سب سے زيادہ اسی سے ڈرے گا۔ اپنے بشری تقاضوں کی بنا پر اس انسان سے کوئی غلطی تو ہوسکتی ہے،مگر يہ غلطی کبھی سر کش اور بے نيازی ميں نہيں بدل سکتی۔

رب کی عظمت اور اس کے سامنے اپنے بے وقعت ہونے کا احساس اگر زندہ ہے توانسان بادشاہ بن کر بھی غافل نہيں رہتا۔ يہ احساس مردہ ہوجائے تو معمولی انسان بھی خود کو فرعون سمجھتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s