مسلمان مرد کےلیے ڈاڑھی کا حکم

:سوال

ڈاڑھی کے مسئلے میں ہمارے مذہبی حلقوں میں بالعموم یہ نقطۂ نظر پایا جاتا ہے کہ مسلمان مرد کے لیے ڈاڑھی رکھنا “واجب”یعنیدینی طور پر لازم ہے۔پھر یہ دعویٰ بھی ہمارے معاشرے میں عمومی شہرت رکھتا ہے کہ ڈاڑھی کے بارے میں یہی رائے نہ صرف یہ کہ ائمۂ اربعہ اور اُمت کے تمام فقہا کی ہے،بلکہ مذاہب اربعہ کے تمام علما کا اِس پر اجماع ہے۔یہ بتائیں کہ فقہ اسلامی کی رو سے علمی طور پر ڈاڑھی کے مسئلے میں یہ مقدمہ آیا درست ہے ؟ کیا واقعتاً اِس مسئلےمیں اُمت کا اتفاق ہے ؟ اگر ہے تو اِس کی دلیل کیا ہے ؟ اور اگر نہیں ہے تو یہ بتائیں کہ ڈاڑھی کے مسئلے میں علما ے سلف وخلف نے کیا آرا پیش کی ہیں ؟

:جواب

 دیکھیے ،فقہ ِاسلامی کی روشنی میں پہلی بات تو یہ جاننا چاہیے کہ اِس مسئلے میں ائمۂ اربعہ کے اتفاق کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے۔ علم کی دنیا میں اِس کی کوئی حقیقت ہے،نہ اِس کے اثبات کے لیےکوئی ماخذ ہی پیش کیا جاسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ مذاہب اربعہ کے علما وائمہ بھی اِس مئلے میں قطعاً متفق نہیں ہیں۔ اُن کے مابین بھی اِس معاملے میں بہت کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ ڈاڑھی کے مسئلے میں سلف وخلف کے علما وائمہ کے مابین کئی پہلؤوں سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔تحقیق کی رو سے دیکھا جائے تو علماے اُمت کے مابین ڈاڑھی کی تعریف اور اِس کی حدودِ اربعہ کی تعیین میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ڈاڑھی رکھنے کے حکم میں بھی اختلاف ہے۔ ڈاڑھی کی تہذیب واصلاح اور اُس کی تراش خراش کے باب میں بھی فقہا کی آرا کئی پہلؤوں سے باہم مختلف ہیں۔یہاں تک کہ ڈاڑھی منڈانے کا کیا حکم ہے ؟؛اِس سوال کے جواب میں بھی اُمت کے اصحاب ِ علم باہم متفق نہیں ہیں۔
چنانچہ یہ جاننا چاہیے کہ اِس مسئلے میں اُمت میں کسی بھی پہلو سے اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ بلکہ یہ منجملہ مختَلف فیہ مسائل ہے۔
یہاں سائل کا اصل سوال چونکہ خاص “ڈاڑھی رکھنے کے حکم” کے بارے میں ہے تو اِس حوالے سے واضح رہے کہ راقم الحروف کی تحقیق واستقصا کے مطابق اُمت کے سلف وخلف کے علماومحققین کی پانچ مختلف آرا سامنے آتی ہیں،جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :
1۔ڈاڑھی رکھنا ہر مسلمان مرد پر واجب ہے۔
بعض فقہا کے نزدیک مسلمان مرد کے لیے ڈاڑھی رکھنا دین میں”واجب” یعنی لازم ہے۔اِس کا ترک کرنا قابل مواخذہ ہے۔ یہ رائے علماے احناف کی اور دوسری روایت کے مطابق بقیہ تینوں مذاہب کے فقہا کی ہے۔ علماے عصر میں سے یہی رائے شیخ عبد العزیزبن باز،شیخ عبد الرزاق عفیفی، اور بعض دیگر علما کی ہے (1)۔
2۔ڈاڑھی رکھنا مسنون ومستحب ہے۔
ایک رائے کے مطابق ڈاڑھی رکھنا دین میں ایک ” مسنون ومستحب” عمل ہے۔یعنی یہ دین میں ایک پسندیدہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔مسلمان مرد پر ڈاڑھی رکھنا لازم ہے،نہ اِس کے ترک کرنے پر کوئی مواخذہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ نقطۂ نظر مالکی،شافعی اورحنبلی فقہا کا ہے۔ علماے معاصرین میں سے علامہ یوسف قرضاوی کی بھی یہی رائے ہے (2)۔
3۔ ڈاڑھی رکھنا منجملہ اُمورِ عرف وعادت ہے۔
ڈاڑھی کے معاملے میں تیسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مردوں کا ڈاڑھی رکھنا یا نہ رکھنا منجملہ قومی اور علاقائی عادات ہے۔یہ اُمورِ شریعت میں سے نہیں ہے کہ اِس میں فرضیت وحرمت کی بحث کی جائے۔ اِس معاملہ میں لوگوں کو اپنے عرف کی پیروی کرنی چاہیے۔ یہ رائے علماے مصر میں سے علامہ شیخ محمود شلتوت(سابق رئیس جامعہ الازھر)، اور امام جاد الحق علی جاد الحق(سابق رئیس جامعہ الازھر) اور بعض دیگر علماے عصر کی ہے۔
یہ اصحابِ علم اپنی رائے کی تفصیل اِس طرح کرتے ہیں کہ عرب اور دیگر قوموں کی قدیم تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ڈاڑھی رکھنا اُن کے ہاں اچھی عادات میں شمار ہوا کرتا تھا۔اور پھر اکثر اُمتوں میں دین ،نسل اور علاقوں کے اختلاف کے باوجود اُن کے علما وفلاسفہ میں بھی ڈاڑھی رکھنے کی یہ عادت اِسی طرح موجود رہی ہے۔وہ اِسے جمالِ شخصیت کا مظہر اور ذریعۂ وقار سمجھتے تھے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی اُمت کو ایسی مستحسن عادات کو اپنانے کی ہدایت فرماتے جو عرف کے مطابق شخصیت کی خوبصورتی اور وقار کا ذریعہ ہوں۔ ڈاڑھی بڑھانے سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اِسی قبیل سے ہیں(3)۔
4۔ڈاڑھی رکھنے کا حکم مسلمانوں کو غیر مسلموں سے ممیز رکھنے کے لیے دیا گیا ہے۔
چوتھا نقطۂ نظر ایک عراقی عرب عالم ومحقق شیخ عبد اللہ بن یوسف الجُدیع کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان مردوں کے لیے ڈاڑھی رکھنے اور بڑھانے کی نبوی ہدایت ایک خاص علت پر مبنی ہے،جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہوئی ہے۔ اور وہ مسلمانوں کامحض معاشرے میں موجود غیرمسلموں سے ممیز ہونے کی غرض سے علامتی طور پر اظہارِ مخالفت ہے۔
شیخ الجُدیع مزید فرماتے ہیں کہ حکم کی اصل علت چونکہ یہی بیان ہوئی ہے ،چنانچہ کسی زمانے یا علاقے میں غیرمسلموں کا طریقہ اور امتیاز بڑی ڈاڑھی رکھنا ہوگا تو اُس صورت میں بھی مسلمانوں کو اپنا امتیاز قائم رکھنے کی غرض سے اُن کے بر عکس طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
یہ البتہ ،واضح رہے کہ غیرمسلموں سے مظاہر میں مخالفت کا یہ حکم بھی زیادہ سے زیادہ”مستحب ومندوب” کے درجے کا ہے۔یہ مسلمان مردوں پر واجب نہیں ہے۔چنانچہ آدمی کی نیت ،جو کہ ایک داخلی چیز ہے؛اگر غیر مسلموں سے مشابہت اختیار کرنے کی نہ ہوتو اِس حکم کو ترک کرنا بھی زیادہ سے زیادہ کراہت کے دائرے میں آئے گا۔کسی مستحب عمل کو ترک کردینا حرمت یا شریعت کی مخالفت کے زمرے میں قطعاٍ نہیں آتا۔
ڈاڑھی بڑھا نے کا حکم غیر مسلموں سے اظہارِ مخالفت کی علت پر مبنی ہے۔چنانچہ یہ علت جب تک موجود رہے گی ؛یہ حکم بھی باقی رہے گا۔ اور جب علت موجود نہ رہے تو حکم بھی معطل ہوجائے گا۔اور علت کے مفقود ہوجانے کی صورت میں ڈاڑھی رکھنے کے عمل کو حکم کے اعتبار سے اپنی اصل حیثیت پر رکھا جائے گا۔اور ڈاڑھی کا معاملہ اپنی اصل کے اعتبار سے چونکہ عاداتِ معاشرہ کے قبیل سے ہے۔اور عادات کے باب میں عرف کی بڑی اہمیت ہے۔عرف کا کوئی عمل اگر خلاف شرع نہ ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ وہ اُس کی موافقت کرتے تھے۔ چنانچہ ایسی صورت میں پھر ڈاڑھی کے معاملے میں معاشرے کے عرف ہی کی پیروی کی جائے گی۔ یعنی مسلمانوں کا عرف اگر کسی زمانے اور علاقے میں ڈاڑھی منڈاکر رکھنے کا ہو اور ڈاڑھی کو بڑھانا وہاں شذوذ میں شمار کیا جاتا اور باعث شہرت بن جاتا ہو تو ایسی صورت میں عرف کی پیروی کرنا ہی موافقِ سنت ہوگا۔کیونکہ اِس طرح کی صورت حال میں ڈاڑھی کو بڑھانا دین کی کسی مصلحت ومقصد کو پورا نہیں کرتا۔
اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ علتِ حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاڑھی بڑھانے کے اِس حکم کی تعمیل بھی اُسی زمانے اور معاشرے میں کی جائے گی جہاں مسلمانوں کو اقتدار وغلبہ حاصل ہو۔کیونکہ اِس کے بغیر غیر مسلموں سے اظہارِ مخالفت ممکن ہے،نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دورِ مغلوبیت میں اِس طرح کا کوئی حکم مسلمانوں کو کبھی دیا ہے(4)۔
5۔ ڈاڑھی مرد کی فطرت اور اُس کی مردانہ وجاہت کا مظہر ہے۔
اِس باب میں پانچواں اور آخری نقطۂ نظر یہ ہے کہ مرد کے لیے ڈاڑھی اُس کی خلقت کے اعتبار سے ایک فطری چیز اور اُس کی مردانہ وجاہت کا مظہر ہے۔ چنانچہ مرد،خواہ وہ کسی بھی زمانے،علاقے اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو؛وہ جب ڈاڑھی رکھتا ہے تو اپنی اِسی خلقی فطرت اور مردانہ وجاہت کی رعایت اور حیثیت سے رکھتا ہے؛آسمانی شریعتوں نے اِس سے کبھی بحث کی ہے،نہ قرآن سنت میں محصور اسلامی شریعت نے اِس معاملے میں کوئی قانون سازی کی ہے۔
اسلامی شریعت کے اُن تمام احکام کو جو عملی نوعیت کے ہیں؛اگرجمع کر کے دیکھا جائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ اصلاً چار ہی قسم کے ہیں۔ایک وہ سنن جو عبادات کے قبیل سے ہیں۔دوسرے وہ احکام جو اخلاقیات کے تزکیے سے تعلق رکھتے ہیں۔تیسرے وہ اعمال جو تطہیر بدن سے متعلق ہیں۔اور چوتھے وہ ہدایات جو خور ونوش کی پاکیزگی کے لیے دی گئی ہیں۔ذرا تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو ڈاڑھی رکھنے اور بڑھانے کا حکم،احکامِ دین کی اِن چاروں نوعیتوں میں سے کسی ایک سے بھی متعلق نہیں ہوتا۔یعنی یہ عبادات کے قبیل کا کوئی عمل ہے،نہ تزکیہ اخلاق سے اِس کا کوئی تعلق ہے۔اِسی طرح یہ تطہیر بدن سے متعلق ہوتا ہے،نہ کھانے پینے کی پاکیزگی ہی سے اِس کا کوئی تعلق جوڑا جاسکتا ہے۔
اِس تفصیل سے ڈاڑھی رکھنے کے عمل کا اپنی نوعیت کے لحاظ سے بھی دائرۂ شریعت سے خارج ہونا بالبداہت واضح ہوجاتا ہے۔
یہاں اِس بات پر بھی نظر رہے کہ ڈاڑھی کا حکم اسلامی شریعت کے کسی بنیادی حکم کا تقاضا یا فرع نہیں ہے،بلکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ ایک مستقل بالذات حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔اور اخبار آحاد دین میں اِس نوعیت کے کسی مستقل بالذات حکم کا،جس سے اصل مصادرِ شریعت یعنی قرآن وسنت بالکل خاموش ہوں؛ماخذ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی چند اخبار آحاد ہیں،جن کی بنا پر ڈاڑھی کا مسئلہ اُمت میں موضوع ِبحث بنا ہے۔اور ہر صاحبِ علم نے اِس مسئلے میں اپنی رائے کے حق میں مستدل کے طور پر بالعموم اُنہی روایات کو پیش کیا ہے۔
اُن احادیثِ باب کو جمع کر کے اُن کے موقع ومحل کی رعایت کرتے ہوئے اگر دقّتِ نظر سے اُن پر تدبر کیا جائے تو یہ بات بھی خود اُن روایتوں ہی سے واضح ہوجاتی ہے کہ مثبت طور پر کسی مستقل حکمِ شرعی کی حیثیت سے ڈاڑھی رکھنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن ارشادات میں بھی سرے سے بیان ہی نہیں ہوا ہے۔بلکہ اُن میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی اور مونچھ ،دونوں کے معاملے میں بعض مجوسیوں،مشرکوں اور اہل کتاب میں پائی جانے والی اُس متکبرانہ وضع کو ترک کرنے کی نصیحت مسلمانوں کو فرمائی ہے جس میں لوگ چھوٹی ڈاڑھی اور بڑی بڑی مونچھیں رکھتےتھے۔ غرور وتکبر پر دلالت کرنے والی یہ وضع ، ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کے اخلاقی تزکیے کو مجروح کردیتی ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا تم ڈاڑھی بڑھالو،لیکن مونچھیں ہر حال میں چھوٹی رکھو۔آپ کی اِس نصیحت کا صحیح محل یہی تھا۔ مگر لوگوں نے اِسے ڈاڑھی بڑھانے کا مستقل حکم سمجھااور اِس طرح ایک ایسی چیز دین میں داخل کردی جو اُس سے کسی طرح متعلق نہیں ہوسکتی۔
احادیثِ باب سے مسلمان مرد کے لیے ڈاڑھی سےمتعلق کسی مستقل دینی حکم کو اخذ کرنے کی گنجایش بھی اُس وقت پیدا ہوسکتی تھی، جب روایتوں میں اِس سے متصل مونچھوں کو پست رکھنے اور غیر مسلموں سے اظہار مخالفت کا کوئی تذکرہ موجود نہ ہوتا۔
اِس سے صاف واضح ہے کہ محض اخبارِ آحاد سے مستقل نوعیت کے احکامِ شریعت اخذ کرنے والے اصحاب کے لیے بھی اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو روایاتِ باب میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہ استاذِ محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کا نقطۂ نظر ہے (5)۔
حکم کا ماخذ اور احادیثِ باب کی تخریج وتحقیق
مسلمان مرد کے لیے ڈاڑھی رکھنے کے حکم سے متعلق علما وفقہا نے اپنی جو آرا پیش کی ہیں ،اُن کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آپ کے چند ارشادات ہیں، جن سب میں آپ نے ڈاڑھی بڑھانے اور مونچھوں کو پست کرنے اور اِس طرح مجوسیوں،مشرکوں اور اہل کتاب سے اظہارِ مخالفت کی ہدایت فرمائی ہے۔بعض کتب حدیث میں مذکور یہ روایات آپ سے اخبارِ آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں۔ اِس مضمون کی تمام احادیث کو جمع کرکے اگرعلمِ روایت کے معیار پر پرکھا جائے تو نتیجتا ً تین مرفوع احادیث سامنے آتی ہیں،جن کا استناد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا اور جو محدثین کی اصطلاح میں “صحیح” یا “حسن ” کی شرائط پر پورا اُترتی اور مقبول قرار پاتی ہیں۔اور یہ واقعہ ہے کہ اِن کی روایت بھی تین ہی صحابہ رضی اللہ کی نسبت سے ہوئی ہے۔اِن روایتوں کی تخریج وتحقیق حسبِ ذیل ہے:
ا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اُس کے متون
ایک حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ متفرق کتب میں موجود اِس روایت کے تمام طرق کو جمع کیا جائے تو اِس کے مندرجہ ذیل متون سامنے آتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مشرکین کی مخالفت کرو(بعض الفاظ کے مطابق:مجوسیوں کی مخالفت کرو)،ڈاڑھیاں بڑھاؤ(بعض متون میں بیان ہوا ہے:ڈاڑھیوں کو چھوڑ دو)اور مونچھوں کو پست کرو(بعض طرق کے الفاظ ہیں : مونچھوں کو بالکل پست رکھو۔مونچھوں کو ختم کردو) (6)۔
متنوع الفاظ ِ حدیث پر مشتمل یہ تمام طرق “صحیح” یا “حسن الاسانید” ہیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک طریق میں روایت ہوا ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجوسیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ لوگ مونچھوں کو چھوڑ دیتے اور ڈاڑھیوں کو منڈاتے ہیں ،چنانچہ تم اِن کی مخالفت کرو (7)۔
عصر حاضر کے عالم ومحدث شیخ شعیب الارناؤوط نے ابن حبان پر اپنی تحقیق میں اور شیخ عبد اللہ بن یوسف الجُدیع نے اپنی کتاب”اللحیۃ” میں اِس روایت کو “حسن”(8)،جبکہ امام حدیث شیخ ناصر الدین البانی نے اِسے”صحیح” قرار دیا ہے(9)۔
ب۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اور اُس کے الفاظ
دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نسبت سے بیان ہوئی ہے۔ جس کے متون کی تفصیل ہم ذیل میں نقل کر رہے ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مونچھوں کو تراشو(بعض الفاظ کے مطابق:کم کرو۔ بالکل باریک کردو )۔بعض متون میں الفاظ اس طرح آئے ہیں کہ” مونچھیں کچھ تراش کر رکھو”۔اور ڈاڑھیوں کو چھوڑدو۔اور اِس طرح مجوسیوں کی مخالفت کرو (10)۔
شیخ شعیب الار ناؤوط مسند احمد پر اپنی تحقیق میں فرماتے ہیں کہ اِس روایت کی سند امام مسلم کی شرائط کے مطابق”صحیح” ہے(11)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ایک طریق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بعض اضافوں کے ساتھ یوں بیان ہوا ہے :
تم اپنی ڈاڑھیوں کو چھوڑ دو اور مونچھوں کو کم کرلو(بعض متون کے مطابق : کچھ کم کرلو)اور بڑھاپے کی وجہ سے پیدا ہونے اپنے بالوں کی سفیدی کو رنگ دیا کرو۔یہود ونصاری کی مشابہت اختیار نہ کرو (12)۔
شیخ شعیب الار ناؤوط فرماتے ہیں کہ یہ روایت “صحیح” ہے ، لیکن یہاں اِس کی سند “حسن” کے درجے کی ہے (13)۔
مصری عالم ومحقق شیخ احمد شاکر نے مسند احمد پر اپنی تحقیق میں اس روایت کو “صحیح” قرار دیا ہے (14)۔
بعض متون میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین اپنی مونچھوں کو چھوڑ دیتے اور اپنی ڈاڑھیوں کو بالکل پست کردیتے ہیں۔لہذا تم اپنی ڈاڑھیوں کو بڑھالو اور مونچھوں کو نہایت پست کردو۔ اِس طرح اہل شرک کی مخالفت کرو (15)۔
شیخ ابو محمد عبد اللہ بن یوسف الجُدیع نے اِس روایت کو “حسن” قرار دیا ہے(16)۔
حضرت ابو ہریرہ ہی سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
مجوسی اپنی مونچھوں کو چھوڑدیا کرتے اور ڈاڑھیوں کو بالکل پست کردیا کرتے تھے۔چنانچہ تم اپنی مونچھوں کو تراش کر رکھو اور ڈاڑھیوں کو بڑھالو۔ اور اِس طرح اُن کی مخالفت کرو(17)۔
شیخ ابو محمد الجُدیع کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث بھی “حسن” کا درجہ رکھتی ہے(18)۔
ج۔ ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اُس کے متون
تیسری مرفوع حدیث حضرت ابو اُمامہ الباہلی رضی اللہ عنہ نے اِس طرح روایت کی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر انصار کے بعض ایسے بزرگوں کی مجلس میں تشریف لے گئے جن کی ڈاڑھیاں سفید تھیں۔آپ نے دیکھا تو فرمایا :تم اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد رنگ سے رنگ لیا کرو۔ اور اِس طرح اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں : اُس موقع پر ہم نے آپ سے عرض کیا :اے اللہ کے رسول !اہلِ کتاب پاجامہ پہنتے ہیں؛وہ تہ بند نہیں باندھتے۔اِس پر آپ نے فرمایا:تم پاجامہ بھی پہنو اور تہمد بھی باندھو۔اِس طرح اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ اہل کتاب چمڑے کے موزے استعمال کرتے ہیں؛جوتے نہیں پہنتے۔اِس پر آپ نے فرمایا :تم موزے بھی پہنا کرو اور جوتے بھی استعمال کرو۔اِن اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
پھر فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنی ڈاڑھیوں کو تراشتے اور مونچھوں کو بڑھاتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا :تم اپنی مونچھوں کو تراش کر رکھو اور ڈاڑھیاں بڑھالو۔ اور اِن اہل کتاب کی مخالفت کرو(19)۔
معاصر عالم ومحقق شیخ شعیب الارناؤوط نے اس روایت کو “صحیح” قرار دیا ہے(20)۔
جبکہ امام حدیث شیخ ناصر الدین البانی اورشیخ ابو محمد عبد اللہ بن یوسف الجدیع نے اِسے “حسن” قرار دیا ہے (21)۔
محققانہ تجزیے کے مطابق مذکورہ بالا تین صحابہ کی احادیث کے سوا اڈاڑھی کے موضوع پر متعدد صحابہ سے مروی بقیہ تمام روایتیں ضعیف یا نہایت ضعیف روایتوں کا مجموعہ ہیں۔اُن میں سے کوئی ایک روایت بھی تحقیق سند کے معیارات پر پورا نہیں اُترتی۔
علما کی آرا ——سبب ِاختلاف
یہاں آخر میں ایک سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ موضوع ِبحث مسئلے میں علما ومحققین کے مذکورہ بالا آرا میں پائے جانے والے اختلاف کا اصل سبب کیا ہے ؟
اِس کی تفصیل یہ ہے کہ جو فقہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آخبار آحاد کو آسمانی شریعت کا ماخذ قرار دیتے ہوئے اُن میں روایت ہونے والے ڈاڑھی جیسےمستقل بالذات نوعیت کے احکام کو بھی شریعتِ اسلامی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اور پھر اُن میں منقول حکم کے صیغوں کو” وجوب” کے معنی میں لیتے ہیں؛اُن علما نے اِس مسئلے میں نتیجتاً “واجب” کا حکم لگایا ہے۔
جن اصحابِ علم نے موضوعِ بحث مسئلے میں مروی ارشاداتِ نبوی پرمجموعی تناظر میں تدبر کیا اور سیاقِ احکام پر بھی نظر رکھی؛اُنہوں حکم کے صیغوں کو قرائن کی بنیاد پر” استحباب” اور “سُنیت” پر محمول کیا ہے۔
اور جن محققین نے اِس پر مزید یہ کیا کہ روایتوں کے متون ہی سے حکم کی علت کو متعین کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے موقع ومحل کو بھی پیش نظر رکھا،اُنہوں نے “استحباب” کا قول اختیار کرتے ہوئے حکم کو علت پر مبنی اور موقع ومحل ہی کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔
جن علما نے مرد کے لیے ڈاڑھی رکھنے کے عمل کو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منجملہ اُمورِ عادات اور عرفِ معاشرہ قرار دیا؛انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو دائرۂ شریعت سے باہر عرف کی مستحن عادات ہی کی ترغیب پر محمول کیا۔
جن محقیقن نے دین میں مستقل بالذات احکام کا ماخذ ومصدر محض قرآن وسنت ہی کو مانا اور مرد کے لیے ڈاڑھی کو اپنی نوعیت کے لحاظ سے سر کے بالوں کی مانند ایک فطری چیز قرار دیا؛اُنہوں نے بھی اِسے آسمانی شریعت کے احکام میں شمار نہیں کیا۔اُنہوں نے احادیثِ باب کو جمع کر کے اُن پر اِسی پہلو سے تدبر کیا تو اِس نتیجے پر پہنچے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اصلاً ڈاڑھی کے حوالے سے کوئی مستقل حکم بیان ہی نہیں کر رہے ہیں۔بلکہ اُن میں تو مسلمانوں کو ڈاڑھی اور مونچھ،دونوں کے معاملے میں اُس متکبرانہ وضع کو اختیار کرنے سے روکا گیا ہے جو اُس زمانے کے بعض غیر مسلم گروہوں میں موجود تھی۔هذا ما عندي والعلم عند الله
حواشی
. 1اللحیۃ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقییۃ،الشیخ عبد اللہ بن یوسف الجُدیع،ص:243۔مجموع الفتاوی،الشیخ عبد العزیزبن باز،3/372۔373۔فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء،5/140،فتوی رقم :2139۔
. 2اللحیۃ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقییۃ،الشیخ عبد اللہ بن یوسف الجُدیع،ص:242۔الحلال والحرام فی الاسلام،الشیخ القرضاوی، 85۔87۔
. 3فتاوی الشیخ محمود شلتوت،227۔229۔ الفتاوی الاسلامیۃ،الامام جاد الحق علی جاد الحق،2/21۔23۔
. 4اللحیۃ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقییۃ،الشیخ عبد اللہ بن یوسف الجُدیع۔
. 5میزان،جاوید احمد غامدی،ص:234۔235۔محاضرات “الاسلام کورس”۔
. 6مسند احمد،رقم: 4654۔ ابن ابی شیبہ،رقم :25492۔ صحیح بخاری، رقم: 5553،5554۔ صحیح مسلم،رقم:259۔ سنن ترمذی،رقم:2763۔ نسائی،رقم: 5226۔ مستخرج ابی عوانہ،رقم : 353۔
. 7صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان،رقم:5476۔ السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم: 679۔
. 8صحیح ابن حبان بتحقیق الشیخ شعیب الارناؤوط،12/289،رقم:5476۔اللحیۃ۔الشیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع،ص: 53۔
. 9سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، الالبانی ، رقم : 2834۔
. 10مسند احمد ، رقم : 8785۔ مسلم ، رقم : 260۔
. 11مسند الامام احمد بتحقیق الشیخ شعیب والشیخ عادل مرشد وآخرون،14/390۔
. 12مسند احمد ، رقم : 8672۔
. 13مسند الامام احمد بتحقیق الشیخ شعیب والشیخ عادل مرشد وآخرون،14/305۔306۔
. 14مسند الامام احمد بتحقیق الشیخ احمد شاکر ، 16/274۔
. 15کشف الاستار عن زوائد البزار،الھیثمی،رقم:2971۔
. 16اللحیہ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقہیۃ،ص:56۔
. 17التاریخ الکبیر،الامام البخاری ،رقم:419۔
. 18اللحیہ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقہیۃ،ص:57۔
. 19مسند احمد،رقم:22283۔
. 20مسند الامام احمد بتحقیق الشیخ شعیب والشیخ عادل مرشد وآخرون،36/613۔ 614۔
. 21جلباب المرأۃ المسلمۃ ، ص :185۔ اللحیہ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقہیۃ،ص:60۔
کتابیات
. 1التاريخ الكبير،محمد بن إسماعيل بن إبراهيم أبو عبدالله البخاري الجعفي،دار الفكر۔
. 2الجامع الصحيح سنن الترمذي، محمد بن عيسى أبو عيسى الترمذي السلمي،دار إحياء التراث العربي – بيروت،(الأحاديث مذيلة بأحكام الألباني عليها)۔
. 3الجامع الصحيح المختصر،محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي،دار ابن كثير ، اليمامة – بيروت،الطبعة الثالثة ، 1407 ھ – 1987 م۔
. 4جلباب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة،محمد ناصر الدين الألباني – المكتبة الإسلامية – عمان – الطبعة: الأولى – سنة الطبع: 1413 ھ ـ
. 5الحلال والحرام فی الاسلام،الشیخ الدکتور یوسف القرضاوی،مکتبۃ وھبۃ،القاہرۃالطبعۃ الثانیۃ والعشرون،1418 ھ۔ 1997 م۔
. 6سنن البيهقي الكبرى، أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر البيهقي، مكتبة دار الباز – مكة المكرمة ، 1414 – 1994۔
. 7صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان،محمد بن حبان بن أحمد أبو حاتم التميمي البستي،مؤسسة الرسالة – بيروت،الطبعة الثانية ، 1414 ھ – 1993م،تحقيق : الشیخ شعيب الأرنؤوط ،(الأحاديث مذيلة بأحكام شعيب الأرنؤوط عليها)
. 8صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري النيسابوري،دار إحياء التراث العربي – بيروت۔
. 9الفتاوی (دراسۃ لمشکلات المسلم المعاصرفی حیاتہ الیومیۃ والعامۃ)،الامام لاکبر الشیخ محمو شلتوت،دار الشروق،القاہرۃ،الطبعۃ الثامنۃ عشرۃ،1421 ھ۔2001 م۔
. 10الفتاوی الاسلامیۃ،فضیلۃ الامام الاکبر شیخ الزھرجاد الحق علی جاد الحق،دار الفاروق للنشر والتوزیع،القاہرۃ،الطبعۃ الاولی:2005 م۔
. 11فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، أحمد بن عبد الرزاق الدويش، الرئاسة العامة للبحوث العلمية والإفتاء۔
. 12کشف الاستار عن زوائد البزار،نور الدین الھیثمی،مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت،1979 م۔ 1985م۔
. 13اللحیۃ۔ دراسۃ حدیثیۃ فقہیۃ۔ شیخ ابو محمد عبد اللہ بن یوسف الجُدیع۔ مؤسسۃ الریان للطباعۃ والنشر والتوزیع،بیروت،لبنان، الطبعۃ الثالثۃ : 1428ھ۔2007م۔
. 14المجتبى من السنن، أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي، مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب،الطبعة الثانية ، 1406 ھ – 1986 م،(الأحاديث مذيلة بأحكام الشیخ الألباني عليها)۔
. 15مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله،(المتوفى: 1420هـ)مصدر الكتاب:موقع الرئاسة العامة للبحوث العلمية والإفتاء، http://www.alifta.com۔
. 16مستخرج أبي عوانة ،أبو عوانة يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم بن يزيد الإسفراييني (316هـ). دار المعرفة – بيروت، الطبعة الأولى، 1419هـ- 1998م.
. 17مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني،مؤسسة قرطبة – القاهرة،(الأحاديث مذيلة بأحكام الشیخ شعيب الأرنؤوط عليها )۔
. 18مسند الإمام أحمد بن حنبل، أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني،الشیخ شعيبالأرنؤوط – عادل مرشد،وآخرون،مؤسسة الرسالة، الطبعة : الأولى ، 1421 هـ – 2001 م۔
. 19المسند، أحمد بن محمد بن حنبل – المحقق: أحمد شاكر، دار الجيل –
. 20المصنف في الأحاديث والآثار،أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة الكوفي، مكتبة الرشد – الرياض الطبعة الأولى ، 1409 ھ۔

. 21میزان۔ جاوید احمد غامدی، ناشر: المورد ، ادارۂ علم وتحقیق لاہور ، طبع پنجم: فروری 2010 ء۔

داڑھی کا مونڈنا

سوال:

میں ایک سوال کے بارے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ میں نے غامدی صاحب کو کہتے سنا ہے کہ داڑھی رکھنا احکام دین میں لازم یا فرض نہیں ہے۔ لیکن علامہ راشدی صاحب نے ایک حدیث قدسی بیان کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ داڑھی رکھو اور مونچھ کاٹو)۔ برائے مہربانی اس بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان فرمائیے۔

جواب:

دین میں ڈاڑھی کی حیثیت کے بارے میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے دو قول ہیں۔ قول جدید کے مطابق یہ ان کے نزدیک کوئی دینی نوعیت رکھنے والی چیز نہیں، جبکہ قول قدیم یہ ہے کہ اسے دین کے ایک شعار اور انبیا کی سنت کی حیثیت حاصل ہے۔ ١٩٨٦ء میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے لکھا کہ:
”ڈاڑھی نبیوں کی سنت ہے۔ ملت اسلامی میں یہ ایک سنت متواترہ کی حیثیت سے ثابت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دس چیزوں میں شمار کیا ہے جو آپ کے ارشاد کے مطابق اس فطرت کا تقاضا ہیںجس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم ولکن اکثر الناس لا يعلمون
”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”
بنی آدم کی قدیم ترین روایت ہے کہ مختلف اقوام و ملل اپنی شناخت کے لیے کچھ علامات مقرر کرتی ہیں۔ یہ علامات ان کے لیے ہمیشہ نہایت قابل احترام ہوتی ہیں۔ زندہ قومیںاپنی کسی علامت کو ترک کرتی ہیں، نہ اس کی اہانت گوارا کرتی ہیں۔ اس زمانے میں جھنڈے اور ترانے اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو ہر قوم میں یہی حیثیت حاصل ہے۔ دین کی بنیاد پر جو ملت وجود میں آتی ہے، اس کی علامات میں سے ایک یہ ڈاڑھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دس چیزوں کو فطرت میں سے قرار دیا ہے، ان میں سے ایک ختنہ بھی ہے۔ ختنہ ملت ابراہیمی کی علامت یا شعار ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی حیثیت بھی اس ملت کے شعار کی ہے، چنانچہ کوئی شخص اگر ڈاڑھی نہیں رکھتا تو وہ گویا اپنے اس عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ملت اسلامی میں شامل نہیں ہے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اگر اس ملک کے علم اور ترانے کو غیر ضروری قرار دے تو ہمارے یہ دانش ور امید نہیں ہے کہ اسے یہاں جینے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن اسے کیا کیجیے کہ دین کے ایک شعار سے بے پروائی اور بعض مواقع پر اس کی اہانت اب ان لوگوں کا شعار بن چکا ہے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں بہرحال اپنے شعار پر قائم رہنا چاہیے۔” (اشراق، ستمبر ١٩٨٦)
میری طالب علمانہ رائے میں ڈاڑھی کو ایک امر فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذ گرامی کا قول قدیم زیادہ اقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں ڈاڑھی کو ”شعار” مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ روایات کے مطابق صحابہ کے عہد میں بعض مقدمات میں مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی ڈاڑھی مونڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دور صحابہ کے بعض جلیل القدر تابعی فقہا سے منقول ہیں۔ (رواس قلعہ جی، موسوعہ فقہ ابی بکر۔ اخبار القضاۃ لوکیع) اگر یہ حضرات ڈاڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقینا مذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح ڈاڑھی کو دینی شعار سمجھتے ہوئے اسے تعزیراً مونڈ دینے کا فیصلہ بھی ناقابل فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے فقہا کے ہاں عام طور پر یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعزیر کے طور پر کسی مسلمان کی ڈاڑھی نہیں مونڈی جا سکتی۔ واللہ اعلم

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s