احادیث کی تدوین

سوال:

احادیث کی تدوین کب شروع ہوئی اور اس کا محرک کیا تھا، بعض جلیل القدر صحابہ سے کم روایات کیوں منقول ہیں؟


جواب:

احادیث کی تدوین صحابۂ کرام کے زمانے ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ بعض اصحاب نے اپنے چھوٹے چھوٹے مجموعے بھی مرتب کر لیے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ کام ایک باقاعدہ فن کی صورت اختیار کر گیا اور تقریباً ڈھائی تین سو سال میں یہ کام منظم مجموعوں کی شکل میں مرتب ہو گیا۔ جہاں تک اس کام کے محرکات کا تعلق ہے تو یہ بات ہم سب پر واضح ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معمولی ہستی نہیں تھے۔جس ہستی کے جسمِ اطہر سے چھو کر ٹپکنے والے پانی کے قطروںکو لوگ زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ، اس کی زبان سے نکلنے والے لافانی الفاظ سے وہ کیونکر صرفِ نظر کر سکتے تھے۔لوگ تو ہم آپ جیسوں کی باتوں کومحفوظ کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ ہستی تو پیغمبر کی ہستی تھی۔ہم جیسے تو ان کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں ہیں۔ جو لوگ ان کے زمانے میں موجود تھے ، انھوں نے بالکل فطری طور پر آپ کے علم و عمل کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ بلا شبہ انسانیت پر یہ ان کا عظیم احسان ہے۔ آپ کے علم و عمل کی روایات کو آگے بیان کرنے میں بعض لوگ البتہ ، بے حد احتیاط کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ مثال کے طور پر سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمرِ فاروق اس معاملے میں حددرجہ محتاط تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے بہت کم روایات بیان ہوئی ہیں۔

Courtesy: Monthly Ishraq


جاوید احمد غامدی

http://www.al-mawrid.org/index.php/questions/question_urdu/948

Advertisements

جی پی ایس سسٹم

(Abu Yahya ابویحییٰ)

جی پی ایس (Global Positioning System) انفارمیشن ایج کی اہم ترین ایجادات میں سے ایک ہے۔ یہ نظام زمین کے گرد گھومنے والے سیٹلائٹ کے ذریعے سے ہر طرح کے موسم اور حالات میں کسی بھی ایسی چیز یا انسان کی نقل حرکت کی پوری معلومات فراہم کرتا ہے جس کے پاس وہ آلہ لگا ہو جو اس سسٹم کے سگنل وصول کرسکتا ہو۔ اسے عام طور پر GPS Tracking System کہتے ہیں ۔ اس کا ایک عام استعمال یہ ہے کہ گاڑیوں یا موبائل فون میں یہ سسٹم لگ جاتا ہے جس کے بعد یہ سسٹم ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں لوگوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔ یہ سسٹم ہر قدم پر یہ بتاتا ہے کہ اس وقت آپ کہا ں ہیں ، اردگرد کیا علاقے ہیں اور آگے کس سڑ ک پر جانا اور کون سے موڑ مڑنا ہے ۔ آپ غلط موڑ مڑ جائیں تو یہ سسٹم الارم بجا کر یہ بتاتا ہے کہ آپ غلط جا رہے ہیں ۔

کم وبیش یہی معاملہ انسان اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے اپنی وحی یعنی قرآن مجید کے ذریعے سے بالکل واضح طور پر ہدایت کا ایک نقشہ دیا ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ جنت تک پہنچنے کا درست راستہ کیا ہے۔ پھر اس کے دل میں ضمیر نام کا ایک آلہ لگا دیا ہے ۔ یہ آلہ ہر قدم پر یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی منزل یعنی جنت تک پہنچنے کے لیے درست موڑ لے رہا ہے یا پھر غلط رخ پر آ گیا ہے ۔ مگر بدقسمتی سے اپنی گاڑی اور موبائل میں یہ سسٹم پسند کرنے والے بیشتر لوگوں کواپنے اندر اس سسٹم کی موجودگی کا احساس نہیں یا پھر وہ اسے بند کر کے رکھنا پسند کرتے ہیں ۔

یا ایک دوسرا کام جو ہم لوگ کرتے ہیں وہ یہ کہ اپنی مرضی کے مواقع پر اس سسٹم کو آن کر دیتے ہیں اور جہاں دل چاہتا ہے ، اس سسٹم کو آف کر دیتے ہیں ۔ مثلاً جو لوگ خواہشات کے مریض ہوتے ہیں ، وہ اپنی خواہشات کی تسکین کے وقت اس سسٹم کو بند کر دیتے ہیں ۔ سسٹم لاکھ شور مچائے کہ جو دیکھا جا رہا ہے وہ غلط ہے ، جو سنا جا رہا ہے وہ منع ہے ، جس سے مزے لیے جا رہے ہیں وہ عمل حرام ہے ، مگر انسان اس سسٹم کی ہر پکار سنی ان سنی کر دیتا ہے ۔

جو لوگ بہت تعصبات کے مریض ہوتے ہیں وہ اختلاف رائے کے ہر موقع پر اس سسٹم کو دریا برد کر دیتے ہیں۔ وہ اندھی مخالفت کرتے ہیں ، بحث برائے بحث کرتے ہیں ، نکتہ آفرینی اور جدال کے ہتھیار لے کر میدان میں اترجاتے ہیں۔ الزام، بہتان، دشنام ہر چیز سے کام لیتے ہیں۔ مگر جو سچائی اپنے نقطہ نظر کے خلاف ہواس کو کبھی قبول نہیں کرتے۔ یہ کبھی کربھی نہیں سکتے۔ کیونکہ اس معاملے میں یہ اپنے جی پی ایس سسٹم کو بند کر چکے ہوتے ہیں۔

کم و بیش یہی معاملہ ہر شخص کا ہے ۔ کوئی انا کے لیے ، کوئی حرام کمانے کے لیے ، کوئی حرام سے لطف لینے کے لیے اور کوئی شخص نام اور مرتبے میں دوسروں سے آگے نکلنے کے لیے اپنے سسٹم کو عارضی یا مستقل طور پر بند کر دیتا ہے ۔

حالانکہ جو سسٹم ہمیں دیا گیا ہے وہ آخری درجہ کا پرفیکٹ اور مکمل سسٹم ہے۔ بس ایک دفعہ قرآن میں مطلوب صفات کا نقشہ پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے ضمیر کی ڈیوائس کو بند نہ کیا جائے تو انسان کا جنت میں جانا یقینی ہے۔ کیونکہ پھر ہدایت کا یہ GPS نظام اسے خود بخود جنت تک پہنچادے گا۔

شاید انسانوں کے اس رویے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان واقعی جنت تک پہنچنا ہی نہیں چاہتا۔ وہ جنت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ وہ خدا پر بھی ایمان نہیں رکھتا۔ اس کا ایمان ایک وراثتی عقیدہ ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ورثے میں ملنے والے عقیدے کے لیے لوگ لڑ سکتے ہیں ، اس کے مطابق زندگی نہیں گزارسکتے ۔ یہی اس سسٹم کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے ۔

http://www.inzaar.org/

دینی جماعتوں میں اتحاد

:سوال

دینی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد کیسے ممکن ہے؟


:جواب

یہ مسئلہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ دین کی دعوت کا کام بہرحال اہلِ علم کو کرنا ہے۔ اہلِ علم کے مابین دین کی تعبیر کے بارے میں کچھ اختلاف بھی ہو گا۔ اس اختلاف پر دین نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ یہ علمی اختلاف صحابۂ کرام کے درمیان بھی موجود رہا ہے۔ چنانچہ ہر صاحب ِفکر کو اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرنی چاہیے اور عام آدمی کو دلائل ہی کی بنیاد پر اس کی بات کو رد یا قبول کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ دین کی تفہیم کے کاموں میں کسی نوعیت کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ جیسے ہی اس کے لیے کوشش کریں گے، حق کے بارے میں گریز اور منافقت کے رویے کا شکار ہو جائیں گے ۔ جبکہ دعوت کی ذمہ داری میں بنیادی چیز یہی ہے کہ آپ حق کی سچی شہادت دیں اور صاف صاف طریقے سے اس کو واضح کریں۔
اس وجہ سے میرے نزدیک اس معاملے میں ہمیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ، بلکہ مختلف دینی آرا کے بارے میں رواداری کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اختلافِ رائے کو ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد نہ بنائیں اور اس کی بنا پر فرقہ بندیوں کی دیواریں کھڑی نہ کریں۔ اتحاد قومی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہونا چاہیے۔ ان امور میں اگر مختلف گروہ یا جماعتیں چند نکات پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ خیر کی بات ہے۔
Courtesy: Monthly Ishraq

جاوید احمد غامدی

http://www.al-mawrid.org/index.php/questions/question_urdu/926