دینی جماعتوں میں اتحاد

:سوال

دینی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد کیسے ممکن ہے؟


:جواب

یہ مسئلہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ دین کی دعوت کا کام بہرحال اہلِ علم کو کرنا ہے۔ اہلِ علم کے مابین دین کی تعبیر کے بارے میں کچھ اختلاف بھی ہو گا۔ اس اختلاف پر دین نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ یہ علمی اختلاف صحابۂ کرام کے درمیان بھی موجود رہا ہے۔ چنانچہ ہر صاحب ِفکر کو اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرنی چاہیے اور عام آدمی کو دلائل ہی کی بنیاد پر اس کی بات کو رد یا قبول کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ دین کی تفہیم کے کاموں میں کسی نوعیت کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ جیسے ہی اس کے لیے کوشش کریں گے، حق کے بارے میں گریز اور منافقت کے رویے کا شکار ہو جائیں گے ۔ جبکہ دعوت کی ذمہ داری میں بنیادی چیز یہی ہے کہ آپ حق کی سچی شہادت دیں اور صاف صاف طریقے سے اس کو واضح کریں۔
اس وجہ سے میرے نزدیک اس معاملے میں ہمیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ، بلکہ مختلف دینی آرا کے بارے میں رواداری کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اختلافِ رائے کو ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد نہ بنائیں اور اس کی بنا پر فرقہ بندیوں کی دیواریں کھڑی نہ کریں۔ اتحاد قومی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہونا چاہیے۔ ان امور میں اگر مختلف گروہ یا جماعتیں چند نکات پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ خیر کی بات ہے۔
Courtesy: Monthly Ishraq

جاوید احمد غامدی

http://www.al-mawrid.org/index.php/questions/question_urdu/926

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s