دنیا میں ناقص چیزوں کے وجود کی مصلحت

    سوال: کائنات میں ناقص چیزیں کیوں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح سے شر کا وجود کیوں ہے؟ جو آدمی الوہیت کے آفاقی دلائل پر غور کرتا ہے، اس کے لیے یہ آثار تو بظاہر الوہیت کے متضاد ہیں۔ اصل صورت حال کیا ہے؟
جواب: دنیا میں ناقص چیزوں کے وجود سے متعلق مجھے سب سے زیادہ صحیح جواب وہ معلوم ہوتا ہے جو سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے ایک شاگرد کو دیا تھا۔ شاگرد نے حضرت مسیح علیہ السلام سے پوچھا تھا کہ اے استاذ! دنیا میں یہ مادر زاد اندھے کیوں پائے جاتے ہیں؟ آخر انھوں نے پیدا ہونے سے پہلے کیا گناہ کیا جس کی ان کو یہ سزا ملی ہے؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ یہ مادرزاد اندھے اس لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ آنکھ والوں کو بصیرت حاصل ہو۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے اس جواب سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں اگر اندھے، لنگڑے، اپاہج، کوڑھی، مفتور العقل پائے جاتے ہیں تو اس کی وجہ نہ تو قدرت کی مشین کی خرابی ہے اور نہ یہ ہے کہ انھوں نے کچھ جرائم کیے تھے جن کی سزا میں وہ ناقص پیدا کیے گئے ہیں، بلکہ ان کے وجود سے مقصود اہل دنیا کے لیے درس عبرت مہیا کرنا ہے۔ اس دنیا کو اس کے خالق نے اس کے وجود ہی میں ایک بہترین درس گاہ کی شکل میں ترتیب دیا ہے جس میں انسان کی آنکھیں کھولنے، اس کے دل کو بیدار رکھنے اور اس کی عقل کو رہنمائی دینے کے لیے قدم قدم پر اسباب و سامان موجود ہیں۔ انسان خدا شناسی اور حقیقت رسی کے لیے جن چیزوں کا محتاج ہے، وہ ساری چیزیں اس گھر کے اندر ہی جمع کر دی گئی ہیں۔ اس کی ایک ایک اینٹ پر حقیقت کا کوئی نہ کوئی نقش کندہ ہے۔ بلکہ عارفوں کے الفاظ میں اگر میں بات کہوں تو یوں بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس چمن کا ہر پتا معرفت کردگار کا ایک دفتر ہے۔
انسان کا حال آپ دیکھتے ہیں کہ اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اس کو ملنی ہی تھی۔ وہ آنکھ کو، ہاتھ کو، پاؤں کو، عقل کو، صحت کو، غرض ہر چیز کو اپنا حق، اپنی ملکیت، اور اپنی جایداد سمجھنے لگتا ہے اور اس حماقت میں مبتلا ہو کر بالکل فرعون بن بیٹھتا ہے۔ جن نعمتوں کو پا کر اسے اپنے خالق و مالک کا شکرگزار بننا تھا، ان کے گھمنڈ میں وہ اتراتا اور اکڑتا ہے، جن قوتوں اور صلاحیتوں سے متمتع کیے جانے کے سبب سے اسے اپنے رب کی بندگی اور اطاعت میں سرگرم ہونا تھا، ان کو وہ اپنے رب ہی کی نافرمانی اور اسی کے خلاف بغاوت میں استعمال کرتا ہے۔ ایسے اندھوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے قدرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ اس نے مادرزاد اندھے بھی پیدا کر دیے ہیں تاکہ اگر وہ دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکیں کہ خدا چاہتا تو انھیں بھی اسی حالت میں وہ پیدا کر سکتا تھا، لیکن یہ محض اس کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو آنکھوں والا بنایا۔ اسی طرح مذکورہ بالا قسم کے سائنس زدہ پاگلوں کو سبق دینے کے لیے قدرت نے بہت سے پاگل اور دیوانے بھی بنا چھوڑے ہیں تاکہ اگر یہ چاہیں تو یہ سبق حاصل کر سکیں کہ قدرت کے کارخانے میں یہ نمونے ڈھالنے والے سانچے بھی موجود تھے، لیکن یہ محض اس کا احسان ہے کہ ان کو اس نے عقل کی نعمت سے نوازا۔
غور کیجیے کہ یہ کتنی عظیم تعلیم ہے جو دنیا کی یہ ناقص چیزیں ان لوگوں کے لیے فراہم کر رہی ہیں جو ہر قسم کے خلقی نقص سے پاک ہیں۔ یہ ناقص چیزیں ایک طرف تو ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ قدرت کی یہ عظیم نعمتیں ہمیں بغیر کسی استحقاق کے محض اس کے فضل سے ملی ہوئی ہیں۔ اگر یہ نہ ملتیں تو کوئی نہیں تھا جو ہمیں یہ نعمتیں دے سکتا، ہمارا حال بھی آج یہ ہوتا کہ ہم سڑکوں کے کنارے بیٹھے ہوئے ہر گزرنے والے کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہوتے۔ دوسری طرف یہ اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ اہل نعمت کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے کام آئیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں۔
آدمی اگر دنیا کی ناقص الخلقت چیزوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھے تو اسے ہر چیز زبان حال سے یہ کہتی ہوئی سنائی دے گی:

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہو

لیکن افسوس یہ ہے کہ آنکھیں رکھنے والوں میں عبرت نگاہی کا فقدان ہے اور کان رکھنے والے حقیقت نیوشی سے محروم ہیں۔
ممکن ہے، گفتگو کے اس موقع پر آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قدرت نے ایک کو سبق دینے کے لیے دوسرے کو کیوں مصیبت میں مبتلا کر دیا؟اس سوال کے جواب میں، میں یہ عرض کروں گا کہ یہ کیوں کے بعد کیوں کا سلسلہ اگر شروع ہو گیا تو یہ سلسلہ لامتناہی ہو جائے گا۔ اس کائنات کے بنانے والے نے یہی پسند فرمایا ہے کہ اس میں ایک کو دوسرے سے آزمائے ’کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ‘۔* اس نے ایک کو غریب، دوسرے کو تونگر، ایک کو کمزور، دوسرے کو قوی، ایک کو بینا اور دوسرے کو نابینا بنا کر دونوں کا امتحان کیا ہے اور یہ دیکھنا چاہا ہے کہ بینا، بینا ہو کر نابینا کے ساتھ کیسا معاملہ کرتا ہے اور ایک نابینا، نابینا ہو کر اپنے رب کا کیسا وفادار بندہ رہتا ہے۔
میں اس سلسلہ میں جو بات عرض کر سکتا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندے کو اگر اپنی کسی نعمت سے محروم رکھا ہے تو اس نعمت کی ذمہ داریوں اور مسؤلیتوں سے بھی اس کو بری رکھا ہے۔ اب یہ راز اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کھلے گا کہ خوش قسمت وہ ہے جس نے آنکھیں پائیں، لیکن ان کا حق ادا نہیں کیا یا وہ خوش قسمت ہے جس کو نہ آنکھیں ملیں نہ ان کے حق کے بارے میں اس سے سوال ہوا۔
علیٰ ہٰذا القیاس یہ راز بھی آخرت ہی میں کھلے گا کہ جنھوں نے ملی ہوئی نعمتوں کا حق ادا کیا ہے، ان کو اللہ تعالیٰ اپنی ان نعمتوں کا کیا معاوضہ دیتا ہے جن سے اس نے اس دنیا میں ان کو محروم رکھا۔ میں تو اجمالی طور پر صرف یہ ایمان رکھتا ہوں کہ جو لوگ آنکھیں پا کر دنیا میں اندھے بنے رہے، آخرت میں ان کے مقابل میں شاید وہ لوگ اچھے رہیں جو آنکھوں سے محروم رہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ جنھوں نے ملی ہوئی نعمتوں کا دنیا میں حق ادا کیا ہو گا، وہ نہ ملی ہوئی نعمتوں کا آخرت میں انشاء اللہ وہ صلہ پائیں گے کہ نہال ہو جائیں گے۔
رہا آپ کا یہ سوال کہ اس دنیا میں شر کا وجود کیوں ہے؟ تو اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ اس دنیا میں شر محض کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہاں شر جو کچھ پایا جاتا ہے، اس کی حیثیت شر محض کی نہیں ہے، بلکہ وہ کسی خیر سے ضمناً پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار کا شرف عطا فرمایا ہے جو ایک عظیم خیر ہے، لیکن انسان اس خیر کو غلط استعمال کر کے اس سے بہت سے شر پیدا کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے پیدا کیے ہوئے بہت سے شرور کو اس دنیا میں جینے یا غالب ہونے کا موقع اگر دے دیتا ہے تو یہ بھی اس وجہ سے نہیں کہ شر سے اس کو کوئی محبت ہے، بلکہ یا تو اس وجہ سے دے دیتا ہے کہ اس نے ازل سے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ وہ باطل کو بھی اتنی مہلت دے گا جتنی مہلت میں وہ اپنا پیمانہ بھر لے اور خدا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے یا اس وجہ سے دیتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ کسی خیر کی تربیت کرنا یا اس کو نشوونما دینا چاہتا ہے۔
میں نے ’شر محض‘ کا جو لفظ استعمال کیا ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ سب سے بڑا شر جس کو آپ شر محض قرار دے سکتے ہیں، وہ تو شیطان ہے، لیکن شیطان کیا چیز ہے؟ جنوں اور انسانوں کے اندر کے وہ افراد جو خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، وہی شیطان ہیں۔ اب غور کیجیے کہ جنات و انسان بجاے خود تو شر نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو ان کو نہایت اچھی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، لیکن یہ خود اپنے ارادہ سے ابلیس کے نقش قدم کی پیروی کر کے گمراہ ہوتے ہیں اور پھر اس کی امت میں شامل ہو کر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔

(تفہیم دین ۱۱۷۔۱۲۰)

________* الانعام ۶: ۵۳۔

http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/dunya-mai-naqis-chizon-ke-wajud-ki-maslehat

Advertisements