چہرے کا پردہ

پروفیسرخورشید عالم

خالق کا ئنات نے آدم اور حوا، دونو ں کو جنت کا مکین بنایا۔دونوں کو حکم دیا کہ اللہ کی اطاعت کریں۔ لیکن دونوں کو ابلیس نے حیات جاوداں کا فریب دے کر اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ نے ان دونوں کومنع فرمایا تھا۔ نافرمانی کی پاداش میں دونوں کے مخصوص اعضا ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوگئے۔ طبعی مزاج کے باعث وہ اپنے اعضا پرجنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے ۔ اللہ نے ان کے لیے زمین پر ٹھکانا بنایااورانھیں زمین پراترنے کا حکم دیا اور ان کو زندگی گزارنے کے لیے ہر وہ چیز مہیا کی جس کی ان کو ضرورت تھی۔ سب سے پہلے ان کو لباس کی نعمت سے نوازا، کیونکہ عریانی انسان کی توہین اوررسوائی کا باعث ہے اورستر پوشی انسان کی عزت و تکریم کا سبب ۔ یہ لباس تین قسم کا تھا : ستر پوشی کا لباس، زینت کا لباس اورتقویٰ کا لباس ۔پہلے دو لباس بدن کے عیوب کو چھپاتے ہیں اورتیسر ا لباس دل کے عیوب کو دو ر کرتا ہے۔ تقویٰ کیا ہے ؟برائی سے رکتے اوربھلائی کو کرتے وقت اللہ کے خوف کا احساس ،یعنی اللہ انسان کے اندر ایک ایسی پاکیزگی پیدا کرنا چاہتاہے جو انسان کے ایمان اوروجدان سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ قانون کے زورسے ۔ دونوں ظاہری لباس باطنی لباس کے بغیر کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔اگر دلوں میں تقویٰ نہ ہو تو سات یا آٹھ میٹر کا کپڑا مرد و زن کو ایک دوسرے کی ذہنی خباثت سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟
آدم کو خلافت کی جو ذمہ داریاں سونپی گئیں،ان کو آدم اورحوا نے مل جل کر پورا کرنا تھا۔ زندگی کی اس تگ ودو میں دونوں بر ابر کے شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے :

’’ مومن مرد اورمومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اوربر ے کاموں سے روکتے ہیں۔اورنماز قائم کرتے ہیں اورزکوٰۃدیتے ہیں اور اللہ او راس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔‘‘ (التوبہ۹: ۷۱)

آدم و حوا، مرداور عورت ،دونوں ایک دوسرے کے زوج ہیں ۔دونوں مل جل کر معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہیں۔ دونوں یکساں واجب التعظیم ہیں۔ دونوں کو دل ودماغ کی یکساں صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں ۔دونوں احکام الہٰی کے مکلف ہیں اوردونوں کے اعمال کی جزا اورسزا برابر ہے ۔
اگر قدرت کا منشایہ ہوتاکہ عورت کوچھپا کر مرد سے علیحدہ رکھا جائے تاکہ عورت اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کا محدود استعمال کرے تو قدرت عورت کی ان صلاحیتوں کو مختلف ساخت دے دیتی،مگر قدرت نے عورت کو مرد کی طرح سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی ہیں تاکہ وہ مردکے ساتھ مل کر بھرپور فعال کردار ادا کر ے اورتہذیبی اورثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ چنانچہ عورت کو سوسائٹی سے کاٹ کر گھر میں بند رکھنا منشا ے الہٰی کے خلاف ہے ۔ عہد نبوت اورخلفاے راشدہ کے دورمیں بھی عورتیں اپنے خانگی کاموںیا دینی وتمدنی ضروریات کے لیے گھر وں سے باہرنکلتی تھیں،وہ مردوں سے چھپ کر زندگی بسر نہیں کرتی تھیں ،بلکہ دینی اورثقافتی تقریبات میں شرکت کرتی تھیں، وعظ و نصیحت کی مجالس میں اور پنج وقتہ نماز میں شرکت کے لیے مسجد نبو ی میں جایا کرتی تھیں ، لیکن باہر نکلتے وقت ان کے لباس اوررفتار و گفتا رمیں بے حیائی کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔
دور ملوکیت میں روم اورایران کی شہنشایت کے زیر اثر عورتوں کو مردوں سے علیحدہ کردیاگیا ۔ پردہ نشینی عرب سماج میں مروج ہوگئی اورحرم کا نظام عمل میں آگیا ۔ عورتوں کو سختی کے ساتھ گھروں میں بند رکھنے کی رسم کا اسلام میں قطعی کوئی وجود نہیں،بلکہ قرآن نے عورتوں کو گھروں میں بند رکھنے کو بطور سزا تسلیم کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

’’ جو عورتیں تمھار ی بیویوں میں سے بے حیائی کا کام کریں توتم ان عورتوں پر چار آدمی اپنے میں سے گواہ کر لو، پس اگر وہ گواہی دیں تو تم ان کو گھروں میں بند رکھو ،یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کردے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرمائیں۔‘‘ (النساء۴: ۱۵)

پردے کے جتنے احکام قرآن میں موجود ہیں، ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ عورت کو چھپا کرنہ رکھا جائے،بلکہ باہر نکلتے وقت لباس میں احتیاط کی جائے۔ اگر خواتین کو چھپا کر پابند رکھنا مقصود ہوتا تو پردے کے احکام کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ گھر تو بذات خود ایک پردہ ہے۔ اسلام میں عورت کا پردہ یہ ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ میل جول کے دوران میں اپنے بدن کو ڈھانپے اوراس کی نمایش نہ کرے ۔
مرد اور عورت، دونوں کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،بلکہ مردوں کو پہلے حکم دیا گیاہے ،مگر عجیب بات ہے کہ مردوں کو جو حکم ہوا، اس کا چرچا نہیں ہوتا ۔طبرانی نے حضرت جابر سے روایت کی ہے :

عفوا تعف نساء کم وبروا آباء کم تبر أبناء کم.
’’پاک باز ہو جاؤ، تمھاری عورتیں خو د بخود پاک باز ہو جائیں گی۔ اپنے ماں باپ کے فرماں بردار ہو جاؤ، تمھاری اولاد خو د بخود تمھاری فرماں بردار ہو جائے گی۔ ‘‘

آپ نے دیکھا کہ اخلاقی حدود نیک مرد متعین کرتے ہیں ۔ چند بدنیت مرد وں کی موجودگی کی وجہ سے عورت نارمل اوربھر پور زندگی بسر کرنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے ۔ منہ چھپانے والی عورت دراصل اخلاقی لحاظ سے مرد کو ایک کمزور اور ناقابل اعتبارمخلوق قرار دے رہی ہوتی ہے ۔
موضوع پرگفتگو کرنے سے پہلے دو باتوں کا ذکر بطور خاص کرنا چاہتاہوں ، کیونکہ ان کے بغیر موضوع کے بارے میں ذہن صاف نہیں ہوگا ۔ پہلی بات یہ ہے کہ سورۂ احزاب سورۂ نور سے پہلے نازل ہوئی ، کیونکہ اس سورت میں غزوۂ خندق اوربنو قریظہ کی فتح کاذکر ہے اوریہ واقعات ذی قعدہ کے آخر میں ۴ھ میں رونما ہو ئے، جبکہ سورۂ نور واقعۂ افک اورغزوۂ بنی مصطلق کے بعد ناز ل ہوئی اوریہ واقعات شعبان ۶ھ میں ہوئے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ مشہور قول یہی ہے کہ سورۂ احزاب ۴ھ میں نازل ہوئی اوراس کی دلیل عبداللہ بن عمر کی وہ روایت ہے جسے بخاری نے (کتاب ا لشہادات اورکتاب المغازی) اور مسلم نے ( کتاب الامارۃ میں) پیش کیا ہے کہ انھوں نے جنگ احد کے موقع پر جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی ، اپنے آپ کو جہاد کے لیے پیش کیا ،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی ۔پھر انھوں نے اپنی خدمات غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیں ، جبکہ وہ پندرہ بر س کے تھے تو آپ نے اجازت دے دی۔‘‘ (۷: ۴۰۷،۴۰۸)

مسلم کے شارح امام نووی کہتے ہیں کہ یہ روایت بتاتی ہے کہ غزوۂ خندق ۴ھ میں ہوا اوریہ صحیح ہے ، کیونکہ غزوۂ احد بلاشک ۳ھ میں ہوا۔مالک بن انس ، موسیٰ بن عقبہ ، امام بخاری، ابن قتیبہ، یعقوب بن سفیان ،امام نووی ،امام ابن حزم اورابن خلدون نے اسی رائے کی تائید کی ہے۔ طبرانی نے ابن اسحاق کی سند سے روایت کی ہے کہ ’’غزوۂ بنی مصطلق ۶ھ میں ہوا۔ ۱؂ ‘‘ ھیثمی کا قول ہے کہ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ابن جریر طبری، ابن حزم ، ابن العربی ، ابن اثیراور ابن خلدون کی بھی یہی رائے ہے ۔ امام سیوطی نے بھی اتقان میں سورۂ احزاب کو سورۂ نور سے مقدم تسلیم کیا ہے ۔۲؂
دوسری بات یہ ہے کہ لفظ حجاب اور ستر میں کیا فرق ہے ؟ اس کی وضاحت ضروری ہے ۔امام راغب حجاب کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی چیز تک پہنچنے سے روکنا اوردرمیان میں حائل ہونا ،جیسے وہ پر دہ جو دل اورپیٹ کے درمیان حائل ہے، اسے حجاب الجوف (Diaphragm) کہا جاتاہے ۔چنانچہ قرآ ن حکیم میں ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان حجاب ہوگا۔۳؂ اس سے مراد وہ آڑ ہے جو جنت کی لذتو ں کو جہنم تک پہنچنے سے روک دے گی۔ حاجب دربان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ تک پہنچنے سے روکتاہے ۔ ارشاد ربانی ہے: ’کلا انھم عن ربہم یومئذ لمحجوبون۴؂ ‘اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز تجلی الہٰی سے ان کو روک لیا جائے گا ۔ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں حجاب کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حکومتیں اپنی تشکیل کے ابتدائی ایام میں اپنے اور عوام کے درمیان کوئی حجاب یا فاصلہ نہیں رکھتیں۔ اس طرح ار دو میں حجاب کے معنی رکاوٹ، آڑ اور اوٹ کے بنتے ہیں۔ ان معنوں میں لباس اورپہناوے کامفہوم قطعی شامل نہیں ۔ عورت کے پردے کے بارے میں حجاب کا استعمال ایک نئی اصطلاح ہے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی پردے کو دوسری اقوام کے پردوں پر قیاس کیاگیا ہے ۔ زمانۂ قدیم اورخاص طور پر فقہا کی اصطلاح میں ستر پردے کے معنوں میں آتاہے۔ کتاب الصلاۃ ہو یاکتاب النکاح، فقہا نے ہر جگہ پہناوے کے مفہوم میں لفظ حجاب کو نہیں ،بلکہ ستر کو استعمال کیا ہے۔ فقہا نے کبھی بھی آیت حجاب کو ستر کے حق میں پیش نہیں کیا ۔آج کل حجاب کو صرف سکارف کے معنوں میں استعمال کیا جاتاہے ۔ فرانس،ترکی یا جہاں خواتین حجاب کے حق میں مظاہرہ کرتی ہیں، وہاں اس سے مراد Head Scarf (سرپوش) ہوتا ہے ۔
میں صرف ان آیات مبارکہ کا ذکر کروں گا جن میں یا تو پردے کے حدود متعین ہیں یا انھیں چہرے کے پردے کے بارے میں بطور دلیل استعمال کیا جاتاہے ۔ سب سے پہلے سورۂ احزاب کی آیات کو پیش کروں گا کیونکہ وہ سورۂ نور سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

’’ اے ایمان والو،نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھروں میں ( یونہی) مت داخل ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمھیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے ،مگر اس کے پکنے کے منتظر نہ رہو ،بلکہ جب تمھیں بلایا جائے (کہ کھانا تیار ہے) تب داخل ہو ا کرو پھر جب تم کھانا کھا لو تو اٹھ کر چلے جایا کرو او رباتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے، وہ تم سے حیا کرتے ہیں ۔اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اورجب تم ان (امہات المومنین) سے کوئی متاع ( سامان ) مانگو تو اوٹ کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ بات تمھارے دلوں کے لیے اوران کے دلوں کے لیے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اورتمھیں مناسب نہیں کہ اللہ کے رسول کوایذا دو اورنہ یہ کہ اس کی بیویوں سے اس کے بعد نکاح کرو اوریہ بات اللہ کے نزدیک بہت بری ہے۔‘‘( ۳۳: ۵۳)

پس منظر

منافقین کا گروہ مدینے میں اسلامی معاشر ے کے خلاف نت نئی سازشوں میں مصروف تھا اوروہ شب و روز اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ اہل بیت کے بارے میں کوئی اسکینڈل بنائیں تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو اورمسلمانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ بقول مولانا امین احسن اصلاحی وہ درانہ نبی کریم کے گھروں میں گھس جاتے تھے تاکہ وسوسہ اندازی کا کوئی موقع ان کے ہاتھ لگے۔یہ حالات تھے جب مسلمانوں کو امہات المومنین سے تخاطب اور گھروں کے اندر جانے کے آداب کی تعلیم دی گئی اورامہات المومنین کو اپنا رویہ بدلنے کا حکم ہوا تاکہ غرض مند ان کی کسی لغزش کو حجت نہ بنا سکیں۔ منافق عورتیں ازواج مطہرات کے دلوں میں اس قسم کے ارمان پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں کہ آپ تقشف کی اس زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرلیں تو وقت کے سردار آپ کو نکاح کا پیغام دیں گے ۔ امہات المومنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کیا، وہ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ سورۂ احزاب کی آیات نمبر۲۸تا ۳۴میں مخاطب امہات المومنین ہیں، ان آیات کی ابتدا اورانتہا ، ان کا انداز بیان اورافعال وضمائر کا استعمال، سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ منافقوں کی سازشوں کے پیش نظر امہات المومنین کو خاص خاص باتوں کی تعلیم دی گئی ہے ۔

شان نزول

آیت نمبر ۵۳کی شان نزول بھی اس بات پردلالت کرتی ہے کہ یہ آیت امہات المومنین کے لیے مخصوص ہے ۔ ابن العربی احکام القرآن میں کہتے ہیں کہ اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں صحیح روایات حضرت انس سے مروی ہیں ۔ ۵؂ حضرت انس کی روایت کو بخاری ، مسلم اورترمذی نے نقل کیا ہے ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں اس حدیث کو سب سے بہتر جانتا ہوں:

’’جب سیدہ زینب بنت جحش نکاح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئیں تو آپ نے دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا۔ ستو اورگھی کا آمیزہ بنایا اورایک بکری ذبح کی ۔میری والدہ ام سلیم نے پتھر کے ایک برتن میں حیس(کھجور ، ستو اورگھی کاآمیزہ) بھیجا ،لوگوں کو دعوت دی گئی ۔کوئی تین سو کے قریب مہمان تھے ۔ ایک ٹولی آتی تھی کھانا کھا کر نکل جاتی تھی یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھانا کھا لیا۔ آپ نے دستر خوان اٹھانے کا حکم دیا۔ صرف تین مہمان بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں سیدہ زینب دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھیں رہیں ۔ آپ باہر نکل گئے۔ لوٹ کر آئے تو وہ تین آدمی ابھی تک بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ جب انھیں محسوس ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پران کا وجود گراں گزر رہاہے تو وہ بھی اٹھ کر چلے گئے ۔ آپ نے پردہ گرا لیا اوراندرداخل ہوئے جبکہ میں حجرے میں بیٹھا ہواتھا …پھر اس آیت کا نزول ہوا اللہ کے رسول باہر نکلے اوریہ آیت پڑھ کر سنائی ۔‘‘

امام رازی تفسیر کبیر میں کہتے ہیں کہ جب لوگوں کو رسالت مآب کے گھروں میں داخل ہونے سے روک دیاگیا تو ماعون( برتنے کی چیزیں) کے حصول میں دقت ہوتی تھی حالانکہ ان کامانگنا ممنوع نہیں۔ تو حکم ہوا کہ گھر میں نہ گھسا کرو، بلکہ اوٹ کے پیچھے سے مانگ لیا کرو۔ ۶؂
بے پروا عرب مسلمان کسی بات کا خیال کیے بغیر بے دھڑک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں گھس جایا کرتے تھے، جہاں آپ کی ازواج مطہرات تشریف رکھتی تھیں۔ منافق تو اسکینڈل بنانے کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اولاًتو بلا اطلاع اوربلا اجازت پیغمبر کے گھر میں داخل ہو نے کی کوشش ہی نہ کرو اوراگر تمھیں دعوت میں بلایا جائے تو ان آداب کو پیش نظر رکھو جو آیت میں مذکور ہیں کیونکہ ان آداب کو نظر انداز کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اور پھر جب تم ازواج مطہرات سے کچھ مانگنا چاہو تو تمھیں چاہیے کہ گھر میں داخل ہوئے بغیر اوٹ کے پیچھے سے طلب کرو ۔ یہ طریقہ تمھارے اور ان کی پاکیزگی کے لیے بہتر ہے۔
یہ آیت مبارکہ بلندوبالاآداب پر مشتمل ہے ۔ گھر میں داخل ہونے کے آداب ، ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب اور یہ ادب کہ بلا ضرورت بات نہ کی جائے۔
آیت میں مذکور دستور اس طرز عمل سے متعلق ہے جو انسان کو دوسروں کے گھروں کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ اس کے مطابق مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ عورتوں کی رہایش میں داخل ہو۔ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو اسے چاہیے کہ پس دیوار کھڑے ہو کر اسے طلب کرے۔ اس بات کا پردے کی بحث سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ پردہ کو فقہ میں ستر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، نہ کہ حجاب کے نام سے ۔کسی فقیہ نے پردے کے لیے آیت حجاب سے دلیل نہیں پکڑی۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت تنہائی میں اکٹھے نہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن ہے: ’’کوئی مرد کسی عورت سے خلوت نہ کرے وگرنہ دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا۔‘‘ عورت مرد سے تنہائی میں نہیں مل سکتی نہ چہرہ ننگا کر کے اور نہ چہرے پر کپڑا ڈال کر۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی اندر چلا جائے اور وہ چہرہ ڈھانپ کر اس کے سامنے بیٹھ جائے۔ حجاب سے یہاں مراد پہناوا یا لباس نہیں، بلکہ مراد دروازے ، دیوار یا کسی اور چیز کی اوٹ ہے۔
ایک اچھے معاشرے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عورت کا احترام کیا جائے۔ اس اعتبار سے ازواج مطہرات خاص احترام کی سزاوار ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکم دیا گیا کہ کوئی ایسی حرکت نہ کی جائے جس سے ان کو جیتے جی یا وفات کے بعد تکلیف ہو ۔ اسی احترام کے پیش نظر آپ کی ازواج کو آپ کی وفات کے بعد شادی کی اجازت نہیں دی گئی۔
اہل تحقیق کا ان آیات کے بارے میں ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ ان آیات میں ازواج مطہرات کو خاص طور پر مخاطب کیاگیا ہے ۔ ان آیات میں امہات المومنین کے امتیازی حقوق کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ ان امتیازات میں سے ایک تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان سے نکاح حرام ہے۔ دوسرے ان کی جزا و سزا دگنی ہے۔ تیسرے ان کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کرنا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔ چوتھے ان کے گھروں میں آیات کا نزول ہوتا ہے چنانچہ’ قرن فی بیوتکن‘اورآیت حجاب بھی انھی امتیازات میں سے ہے۔ آیات کا آغاز یوں کیا گیا ہے: ’’ اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو‘‘ اوراختتام اس طرح ہوا ہے: ’’ اے نبی کے اہل بیت، تمھیں اللہ آلودگی سے پاک کرنا چاہتا ہے ۔‘‘ اللہ نے تطہیر کا ذمہ صرف ازواج مطہرات کے لیے کیا ہے، نہ کہ عام عورتوں کے لیے۔
سنن ابی داؤد ( جلد سوم کتاب ا للباس ) میں ام سلمہ سے مروی ہے:

’’ میں اور میمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں کہ عبداللہ بن ام مکتوم آگئے۔ آپ نے فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ہم نے کہا: وہ تو اندھا ہے ۔ آپ نے فرمایا: تم تو اندھی نہیں۔ کیاتم اسے نہیں دیکھ رہی ہو۔ ‘‘

امام ابو داؤد کا قول ہے کہ یہ حکم نبی کریم کی بیویوں کے ساتھ خاص ہے۔ ابن قدامہ حنبلی المغنی (۷:۴۶۶) میں کہتے ہیں کہ اثرم کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ ( امام احمد بن حنبل ) سے پوچھا کہ کیا نبہان والی روایت ( جو ام سلمہ سے مروی ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں ہے اورفاطمہ بنت قیس والی روایت ( جس میں نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو ام شریک کے بجائے ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کے لیے کہا تھا) عام عورتوں کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔
اما م زمخشری نے آیت نمبر ۳۵کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب یہ آیات ۲۸تا ۳۴ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئیں تو دوسری مسلمان عورتوں نے کہا کہ ہمارے بارے میں تو کچھ نازل نہیں ہوا تو آیت ۳۳تا ۳۵ نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی حضرت سودہ کی اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے جس میں حضرت عمر نے ان کے خروج پر اعتراض کیا تھا، فرماتے ہیں کہ حجاب کے بارے میں دوسری عورتوں کو چھوڑ کر امہات المومنین پر سختی کی گئی ہے۔۷؂ پھر حافظ صاحب قاضی عیاض کا قول نقل کرتے ہیں کہ حجاب امہات المومنین کے لیے خاص ہے …ان کا خیال ہے کہ امہات المومنین کو پردے میں بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ لیکن حافظ صاحب قاضی عیاض کے موقف کی تردید کرتے ہیں اوردلیل کے طورپر حضرت سودہ کی حدیث پیش کرتے ہیں۔ اس مکتب فکر کے حامی دلیل کے طور پرفقہ کے اصول کو پیش کرتے ہیں کہ ایسے احکام جو مخصوص نوعیت اورکسی قید سے مقید ہوں، انھیں عام کرنا درست نہیں، مثلاً ازواج کی تعداد میں جو رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت ہے، اس میں کسی دوسرے کو شامل نہیں کیا جاسکتا ۔
اس نقطۂ نظر کے مخالف کہتے ہیں کہ جن باتوں کا حکم اللہ کے پیغمبر کی بیویوں کو دیاگیا ہے، امت مسلمہ کی دوسری عورتیں بھی ان احکام میں ان کے تابع ہیں۔ وہ دلیل کی طور پر کہتے ہیں کہ آیت نمبر۳۳ میں ازواج کو حکم دیاگیاہے کہ تم نماز قائم کرو اورزکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔یہ حکم تو سب عورتوں پر لاگوہو گا ۔ یہ اعتراض بے وزن ہے، کیونکہ نماز ، زکوٰۃ اور اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کا حکم متعدد دوسری آیات میں موجود ہے، یہ حکم پہلی مرتبہ نہیں دیا گیا۔ یہاں یہ خاص حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ امہات المومنین کو زمانۂ جاہلیت کی طرح بن ٹھن کر باہر نکلنے سے منع کیاگیا ہے اور اس کے بجائے ان کی سمت سیدھی رکھنے کے لیے انھیں نماز ، زکوٰۃ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نسخہ بتایا گیا ہے یعنی نمود ونمایش پر ان اعمال سے قابو پایا جا سکتا ہے وگرنہ وہ نماز پہلے بھی پڑھتی تھیں، زکوٰۃ بھی ادا کرتی تھیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں بھی کمی نہیں کرتی تھیں۔ یہاں پران اعمال کاخاص حکم ہے تاکہ اخلاقی عیوب پر قابو پالیں اورلغزش سے بچی رہیں۔ازواج مطہرات کو یہ احکام سیاسی اوراجتماعی مصلحتوں کی وجہ سے دیے گئے ہیں ۔
سورۂ احزاب کی آیت۵۹ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ اے نبی، اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اورمومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے جلباب اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں (یا ان میں سے کچھ نیچے کر لیا کریں ) اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی۔‘‘(۳۳: ۵۹)

اس آیۂ مبارکہ کو سمجھنے کے لیے دو الفاظ کی وضاحت ضروری ہے۔ جلباب اور ادناء۔۱۔جلباب کے درست معنی کیا ہیں ؟ ۲۔ ادناء سے کیا مراد ہے؟ اوراس کی کیفیت کیاہے؟
’’مقاییس اللغہ‘‘ میں احمد بن فارس کہتے ہیں کہ جلباب کے معنی قمیص کے ہیں اورعمرو ذی کلب کی بہن جندب کا
شعر بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنے بھائی کا مرثیہ کہتے ہوئے کہتی ہے :

تمشی النسورالیہ وھی لاھیۃ
مشی العذاری علیھن جلابیب

’’ کرگس لا ابالیانہ انداز میں اس کی طرف ایسے چل رہے ہیں جیسے دوشیزائیں جلباب پہنے چلتی ہیں۔‘‘

کرگس کا سراور چونچ ننگی ہوتی ہے اس پر پرنہیں ہوتے باقی بدن پر پراتنے گھنے ہوتے ہیں کہ یوں لگتاہے جیسے انھوں نے قمیص پہنی ہوئی ہے۔
’’المفردات ‘‘میں امام راغب کا قول ہے کہ جلباب سے مراد قمیص یا اوڑھنی ہے۔ ابن سیدہ ’’المخصّص ‘‘میں جلباب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ اوڑھنی سے بڑا اورچادر سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس سے عورت اپنی پیٹھ اور سینہ ڈھانپتی ہے۔ فیروز ابادی ’’القاموس المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جلباب عبارت ہے قمیص اور ایک بڑے اور کشادہ کپڑے سے جو لحاف سے کسی قدر چھوٹا یا چادر کی طرح کا پتلالحاف ہوتا ہے جس کے ذریعہ سے عورت اپنی پوشاک ڈھانپتی ہے یا پھر اوڑھنی سے عبارت ہے۔
صاحب لسان العرب لکھتے ہیں: ’’ جلباب اوڑھنی سے بڑا اورچادر ( عبا) سے چھوٹا ایک لباس ہے جس سے عورت بد ن ڈھانپتی ہے اور خمار سے اپنا سر اورسینہ ڈھانپتی ہے۔ پھر انھوں نے ایک قول نقل کیا ہے کہ وہ ’مقنعۃ‘ (اوڑھنی ) کی مانند ہوتا ہے جس سے عورت اپنا سر، پیٹھ اورسینہ ڈھانپتی ہے۔ (لین)’ Lane‘اپنی لغت کی مشہور کتاب ’Lexicon‘ میں کہتا ہے کہ یہ اوڑھنی سے بڑا اورچادر سے چھوٹا ہوتا ہے جس سے عورت اپنا سر اورسینہ ڈھانپتی ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ جلباب کے بارے میں مفسرین کی کیا رائے ہے۔ صاحب کشاف کہتے ہیں کہ جلباب ایک کھلا کپڑا ہے جو اوڑھنی سے بڑا اورچادر سے چھوٹا ہوتا ہے۔ عورت اسے سر پر لپیٹ لیتی ہے اورباقی کا حصہ سینے پر ڈال دیتی ہے۔ ’’درمنثور‘‘ میں ابن ابی حاتم کی روایت سے مشہور تابعی سعید بن جبیر کا قول نقل کیا گیا ہے کہ جلباب وہ چادر ہے جو اوڑھنی کے اوپراوڑھی جاتی ہے۔کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ نامحرم اسے دیکھے اوراس کی اوڑھنی کے اوپرچادر نہ ہواوراس نے اسے سر اور سینے پراچھی طرح ڈالا ہوا نہ ہو ۔ ’’تفسیرالمراغی‘‘ میں ہے کہ جلباب سے مراد وہ چادر ہے جسے عورت قمیص اوراوڑھنی سے اوپر پہنتی ہے۔ ۸؂ مقصد ایسا لباس ہے جو اس کے جسم اورسر کو ڈھانپ لے اورسر ، سینہ اوربازو جیسے مقام زینت کو ظاہر نہ کرے۔ سید قطب فی ظلال القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ان سے کہہ دو جب عورت گھر سے نکلے، وہ اپنے جسم ، سر اورسینہ کو ڈھانپ لے۔
اہل لغت اورمفسرین کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ جلباب کا اطلاق ہر سلے اوران سلے وسیع کشادہ کپڑے پر ہوتا تھا ، خواہ وہ کھلی قمیص ہو یا چادر۔ کھلی قمیص میں ہر قسم کا گاؤن، اوور کوٹ یا عبا شامل ہے جن کا گریبان کھلا ہوتا ہے۔ آج کل گاؤن یا اوورکوٹ اسکارف سے مل کر جلباب کا مقصد بدرجۂ اتم پورا کرتے ہیں۔
یہاں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جلباب مرد بھی پہنتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ نے صحابۂ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’ھذاجلباب رسول اللّٰہ لم یبل ھذا أبلی عثمان سنتہ‘ ، ’’یہ رہی اللہ کے رسول کی قمیص جو ابھی بوسیدہ نہیں ہوئی، مگر عثمان نے ان کی سنت کو بوسیدہ کردیاہے۔‘‘لسان العرب میں حضرت علی کا قول نقل ہوا ہے کہ ’ من أحبنا اھل البیت فلیعدّ جلباب الفقر‘،’’جو ہم اہل بیت سے محبت کرتاہے، اسے چاہیے کہ فقر کی قمیص تیار کرے۔ ‘‘چنانچہ جلباب کھلے پیرہن ، گاؤن یا اوور کوٹ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ آج کل سوڈانی اپنے ثوب کو جلابیہ کہتے ہیں۔ تصریحات بالا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جلباب کے معنی وہ چادریں بھی ہیں جو اوڑھنی سے بڑی اورردا (چادر )سے چھوٹی ہوتی ہیں، یہ اوڑھنی کے اوپر پہنی جاتی ہیں اورسر ، سینہ اور پیٹھ کو ڈھانپتی ہیں۔ سورۂ نورآیت ۶۰کی تفسیرمیں ’ ثیاب‘ (کھلے کپڑے ) سے مراد خمار ( اوڑھنی ) اورجلباب (چادر)لیے گئے ہیں یعنی سن رسیدعورتوں کے لیے جائزہے کہ وہ اپنے سرو ں کو ننگا رکھیں۔ چہرے کو ڈھانپنا جلباب کے مقصد میں قطعی شامل نہیں۔
جلباب کے معنی میں جو اختلاف ہے، وہ لفظی اختلاف ہے، معنوی نہیں۔ ایسے اختلاف کو اصول تفسیر میں نوعیت کا اختلاف کہا جاتا ہے، اس سے مراد پیرہن لے لیں یا چادرلے لیں، معانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر اہل لغت کی تصریحات کی روشنی میں جلباب کو صرف چادر کے معنی تک محدود نہیں کیا جاسکتا ۔اوراگر اس سے چادر بھی مراد لے لی جائے توبھی جلباب صرف بدن اوراطراف کوڈھانپے گا ۔سر اورسینے کو خمار ڈھانپے گا جیسا کہ سورۂ نورمیں بیان ہوا ۔ کیونکہ قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر کرتاہے۔
زیر نظر آیت میں دوسری اہم تعبیر ’ یدنین علیھن‘ہے ’یدنین‘کا صیغہ باب افعال کے مصدر’ ادنا ء‘ سے مضارع کا جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اس کا ثلاثی مجرد’ دنا یدنو دنواً ودناوۃً ‘ہے جس کے بنیادی معنی قریب ہونا ہے۔ اس سے ثلاثی مزید ’ادنیٰ‘اور’دنّی ‘ہے جس کے معنی ہیں ،اس نے قریب کیا۔ ’’مقاییس اللغہ‘‘ میں احمد بن فارس بن زکریا (المتوفی ۳۹۵ھ) نے’دنّی ‘ کے بارہ میں لکھا ہے کہ اس کے بنیادی معنی ’مقاربۃ‘ (قریب ہونا ) کے ہیں اور’ الدنی‘ قریب آدمی کو کہا جاتاہے۔ دنیا کو بھی قریب ہونے کی وجہ سے ’دنیا ‘کہا جاتا ہے اور ’دانیت بین الامرین ‘کے معنی ہیں: میں نے دوچیزوں کو باہم قریب کیا۔اورحدیث میں ہے:’ اذا اکلتم فدنّوا‘ یعنی جب کھاؤ تو اپنے قریب سے کھاؤ۔ اور عربی محاورے میں کہا جاتاہے:’ لقیتہ ادنی دنّی‘ یعنی میں اسے سب سے پہلے ملا۔’’صحاح‘‘ میں ہے:’دنوت منہ وادنیت غیری‘ یعنی میں اس کے قریب ہوا اورمیں نے دوسرے کو قریب کیا۔ فیروز ابادی ’’القاموس المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں: ’دنی‘ وہ قریب ہوا یہ’ ادنی ‘اور’دنی‘ کی مانند ہے جس کے معنی ہیں کہ اس نے قریب کیا ۔امام راغب ’’مفردات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’الدنو‘کے معنی ہیں قریب ہونا ’ادنیت بین الامرین وادنیت احدھما‘، ’’میں نے دو چیزوں کو باہم قریب کیا۔‘‘ یا میں نے ان میں سے ایک کو قریب کیا۔ یہ معنی لکھنے کے بعدانھوں نے ’یدنین علیھن من جلابیبھن‘کو بطور دلیل پیش کیا ہے یعنی اپنی چادریں قریب کرلیںیعنی پہن لیں۔ ’’اساس البلاغہ‘‘ میں زمخشری کا قول ہے کہ ’ ادنت المراۃ ثوبہا ودنتہ‘کے معنی ہیں کہ عورت نے اپناکشادہ کپڑا پہن لیا۔شاہد کے طور پر انھوں نے عمرو بن ابی ربیعہ کا شعر نقل کیا ہے :

کأن ثوبا لما التقی الرکب تد
نیہ تشف من قمر

’’جب سوار آپس میں ملے تو جو کشادہ کپڑامحبوبہ نے پہن رکھا تھا، اس میں سے چاند صاف نظر آرہا تھا۔ ‘‘

Lane کی Lexicon میں ہے کہ’ دنّی‘ کے فعل کے ساتھ حروف جار (Preposition)من، إلی، علی اور ل استعمال ہوں گے تو معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ مطلب ہوگا: وہ قریب ہوا یا اس نے قریب کیا ۔
اس بنا پر جلباب کو قریب کرنے کا مقصد اس کو پہننا ہے۔ جب کسی عورت سے کہا جاتاہے کہ اپنے لبا س کو قریب کرلو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے نہ چھوڑو، اسے سمیٹ کر ایک طرف نہ رکھو، اسے بے اثر اوربے خاصیت نہ جانو اوراپنے آپ کو اس سے ڈھانپ لو۔
ابن قتیبہ دینوری تیسری صدی ہجری کے معروف محقق ، مفسر، محدث اورمورخ ہیں۔ اپنی معرکتہ الآرا کتاب ’’مشکل القرآن و غریبہ‘‘ کی دوسری جلد کے صفحہ ۸۱پر لکھتے ہیں’یدنین علیھن من جلا بیبھن ای یلبسن الاردیۃ‘یعنی اس سے مراد ہے اپنی چادریں اوڑھ لیں۔
نحو اورلغت کے اما م کسائی نے کہا ہے کہ’یدنین علیھن من جلا بیبھن‘ سے مراد ہے کہ اپنی چادروں کو اپنے گرد سمیٹ لیں کیونکہ’ ادناء‘ انضما م( سمیٹنے اور اکٹھا کرنے )کے معنوں میں آتاہے۔
’ جلا بیبھن‘ سے پہلے حرف جار’’من ‘‘ تبعیض (Splitting) کے معنوں میں ہے۔
’’کشاف‘‘ میں اس کی دو صورتوں کا ذکر ہے۔ ۹؂ ایک تو یہ کہ اپنے جلبابوں میں سے ایک جلباب۔ مقصد ہے کہ عورت اپنے یہاں پڑے ہوئے جلبابوں میں سے کوئی جلباب پہن لے ۔اس صورت میں ’ادنی‘ کے معنی پہننے کے ہوں گے۔ دوسری صورت کو بعد میں بیا ن کیا جائے گا۔
اگر ’ ادناء‘ اپنے بنیادی معنوں یعنی قریب کرنااور اوڑھنا کے لیے استعمال کیا جائے تو بات بالکل صاف ہوجاتی ہے اور اس کی کیفیت کے بارے میں کسی قسم کے اشکال کی کوئی گنجایش نہیں رہتی ۔
اب آئیے دوسرے معنی کی طرف ،متاخرین اہل لغت جیسے’’ المصباح المنیر‘‘ اور ’’المعجم الوسیط‘‘ کے مصنفین نے اس کے معنی نیچے کرنے اورلٹکانے کے بھی لیے ہیں۔ مفسرین نے بھی اس کے معنی نیچا کرنے اور لٹکانے کے لیے ہیں۔ صاحب کشاف کہتے ہیں کہ’ جلابیبھن‘ سے پہلے حرف جار کی دوسری صورت یہ ہے کہ اپنے جلباب کا کچھ حصہ نیچے کرلو۔ صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ ’ادنانی‘ کے معنی ہیں کہ اس نے مجھے قریب کیا، مگر ضمناً اس کے معنی ’ارخاء‘ (لٹکانے) کے بھی آتے ہیں ، ۱۰؂ خصوصاً جب اس کے بعد حرف جار تعدیہ کے لیے استعمال ہواہو اور انھوں نے مشہور تابعی سعید بن جبیر کا قول نقل کیاہے کہ ’یدنین ‘کے معنی ہیں ،وہ لٹکا لیں۔

کیفیت ادناء

ذہن میں یہ بات رہے کہ ’ ادناء‘ کے معنی لٹکانا اسی صورت میں ہوں گے جب جلباب کو چادر کے معنوں میں لیا جائے، نہ کہ قمیص ، اوور کوٹ اور گاؤن کے معنوں میں ۔
چادر کو کتنا نیچے کیا جائے، اس بارے میں اہل تحقیق میں اختلاف ہے۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ جلباب کو اتنا نیچے کیا جائے کہ بدن کے وہ حصے چھپ جائیں جنھیں چھپانے کے لیے عرب معاشرے میں عام طور پر جلباب پہنا جاتا تھا۔اس بات کی پہلے وضاحت ہو چکی ہے کہ جلباب پیشانی ، پیشانی کے بال، کان اور کانوں کے بندے اور گردن سینہ اور اس کا ہار چھپانے کے لیے پہنا جاتا تھا۔
امام طبری نے ’’جامع البیان‘‘ میں حضرت ابن عباس سے قتادہ کی روایت بیان کی ہے کہ جلباب کو اپنی پیشانی پر باندھ لیا جائے۔۱۱؂ لیکن مجاہدکا قول ہے کہ اپنے ابرووں پر باندھ لیا جائے۔ ابن نجیح نے مجاہدبن جبر المکی سے اثر روایت کیا ہے کہ ادناء سے مراد پیشانی پر باندھنا ہے، مجاہد نے سورۂ نور کی آیت نمبر ۳۱کی جو تفسیر کی ہے، وہ بھی اسی رائے کی تائید کرتی ہے۔۱۲؂ ابن عباس نے ادناء کی تفسیر کی ہے: ’تدلی الجلباب الی وجہھا ولا تضرب بہ‘چادر چہرے تک نیچے کی جائے گی، مگر اس کو چھپائے گی نہیں ’’درالمنثور‘‘ میں سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ ادناء کا طریقہ یہ ہے کہ سر اور سینے پر جمایا جائے۔ ۱۳؂
جمہور تابعین کا یہی مذہب ہے۔ مجاہد اور ان کے ہم خیال تابعین کی رائے ہے کہ ادناء کو ان مقامات زینت پر نیچاکرو جن کا اظہار جائز نہیںیعنی سورۂ نور کی آیت ’ولیضربن بخمرھن علی جیوبہن‘ سورۂ احزاب کی اس آیت کی تفسیر ہے۔ چونکہ سورۂ نور سورۂ احزاب کے بعد نازل ہوئی، اس سے یہ سمجھا جا سکتاہے کہ اس پر عمل کرنے کے علاوہ سورۂ نور میں دیے گئے حکم کی مکمل پابندی کی جائے گی۔اگر ادناء سے مراد چہر ہ چھپانا لیا جائے تو پھر سورۂ نور کے احکام معاذ اللہ بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔ سورۂ احزاب کی آیت ان عورتوں کے لیے ہے جو آوارہ لوگوں کی مزاحمت سے دوچار ہوں، جبکہ سورۂ نو رکی آیت ۳۱ایک کلی اوردائمی حکم کی حیثیت رکھتی ہے ،خواہ عورتوں کے لیے کوئی مزاحمت ہو یا نہ ہو۔ زیرنظرآیت میں آنے والا حکم اس دستورکی طرح ہے جو سورۂ احزاب کی آیت ۳۲میں وارد ہوا ہے، اس آیت میں انداز سخن کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو وقاراورعصمت کی آئینہ دار ہے جبکہ زیر بحث آیت آمدورفت میں وقار کے دستور سے متعلق ہے، اس آیت میں پردے کی حدود بیان نہیں ہوئیں اورنہ ہی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کا چھپانا واجب ہے۔ پردے کی واجبی حدود کا تعین سورۂ نورکی آیت ۳۱میں کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ فقہ کے کسی امام نے وجوب ستر کے دلائل میں اس آیت سے استنباط نہیں کیا۔ زیرنظر آیت کا اسلوب بھی اسی رائے کی تائید کرتاہے۔ جس ادناء کا حکم دیا گیا ہے، وہ مثبت صیغے میں ہے اور مثبت کا صیغہ عام حکم کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر انداز تخاطب نفی یا نہی کے صیغے سے ہوتا توپھر اسے خاص ادناء یعنی چہرے کو چھپانے پر محمول کیا جاسکتا تھا۔
اس رائے کے مخالفین ادناء سے مراد یہ لیتے ہیں کہ ایک آنکھ کے سوا سارا چہرہ چھپایا جائے۔ اس رائے کی تائید میں ایک اثر پیش کیا جاتا ہے جو یوں ہے:

’’ ابو صالح عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے اس نے علی بن ابی طلحہ سے اس نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ اللہ نے مسلمان عورت کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی حاجت کے لیے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہر ے کو جلباب سے ڈھانپ لیں اورصرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ‘‘

اس اثر پرناصر الدین البانی نے اپنی کتاب ’جلباب المراۃ المسلمۃ‘ ( حاشیہ صفحہ ۸۸) پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

’’اس کی روایت ابن عباس سے درست نہیں، کیونکہ امام طبری نے اسے علی بن ابی طلحہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس بات کے علاوہ کہ ائمہ حدیث نے اس پر تنقید کی ہے اوراس کے ثقہ ہونے کے بارے میں کلام کیا ہے، اس کا سماع ابن عباس سے ثابت نہیں،بلکہ انھوں نے عبداللہ بن عباس کو دیکھا تک نہیں، اس کا پہلا راوی ابو صالح عبداللہ بن صالح بھی ضعیف ہے۔ متن کے اعتبار سے بھی یہ اثرمعلول ہے کیونکہ امام طبری نے بعینہٖ اسی سند سے سورۂ نور کی آیت ’الا ما ظہر منھا‘کی تفسیر کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ ابن عباس چہرے کو، آنکھوں کے سر مے کو ، ہتھیلیوں کی مہندی اورانگوٹھی کوزینت ظاہرہ میں شمار کرتے ہیں۔ یہ اثر سورۂ نور کی آیت ۳۰سے متصادم ہے اس لیے قابل حجت نہیں۔ ‘‘

لغوی لحاظ سے ’من جلابیبھن‘ کے معنی ہیں جلباب کا تھوڑا سا حصہ ،جس سے پیشانی اورپیشانی کے بال ، کان اوراس کی بالیا ں چھپ جائیں اس سے پورے چہرے کا چھپانا لازم نہیں آتا۔

اختلاف رائے کا سبب

ابن العربی نے ’’احکام القرآ ن‘‘ میں لکھا ہے کہ رائے میں اختلاف کا سبب آیت کا یہ ٹکڑا ہے ’ذلک ادنی ان یعرفن‘ ،’’یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں ۱۴؂ ۔‘‘ جن لوگو ں نے ادنا ء سے مراد چہرے کو چھپانا لیا ہے، ان کا کہناہے کہ چہرے کو دیکھ کر پتا چلے گا کہ وہ آزاد عورت ہے یا لونڈی۔ان کی غلط فہمی کی بنیاد آیت کی شان نزول کے بارے میں سدی کی روایت ہے جس کے مطابق عورتیں جب قضاے حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو بدقماش لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے اوریہ عذر پیش کرتے تھے کہ ہم نے تو لونڈی سمجھ کر چھیڑا ہے، چنانچہ بعض مفسرین’ نساء المومنین ‘سے مرادآزادعورتیں لیتے ہیں اورکنیزوں کو ان میں شامل نہیں کرتے ،یہ سوچ غیر قرآنی ہے جیسا کہ تفسیر ’’البحر المحیط‘‘ (۷:۲۵)میں ہے کہ’ نساء المومنین ‘میں آزاد اور کنیزیں سب شامل ہیں، کیونکہ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑکا احتمال زیادہ ہوتا ہے ۔وہ کام کاج کے لیے باہر نکلتی ہیں۔ذہن نہیں مانتاکہ قرآن صرف آزاد عورتوں کو موردعنایت قرار دے اورکنیزوں کی آزار سے چشم پوشی کرے، حالانکہ اللہ کا دین ایک ہے، فطرت ایک ہے پھر آزاد اور لونڈی میں فرق کیوں؟آیت کے اس ٹکڑے کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جب عورت باوقار لباس پہن کر نکلے گی تو آوارہ منش لوگوں کو ان کو چھیڑنے کی جرأت نہ ہوگی۔ یہ ایک امتیازی نشان ہوگاجس سے پہچان ہو جائے گی کہ وہ باعصمت عورتیں ہیں آوارہ نہیں ۔ آیت کی شان نزول کے بارے میں درج ذیل آیات اسی تفسیر کی تائید کرتی ہیں ۔
۱۔ امام طبری اپنی تفسیر میں روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کی بیبیاں اوردوسری عورتیں قضاے حاجت کے لیے باہرنکلتی تھیں۔ یہ لوگ چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے راستوں پربیٹھ جاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ۱۵؂
۲۔’’زادالمسیر‘‘ میں روایت ہے کہ مدینہ کے کچھ لوگ عورتوں کو دیکھنے کے لیے راستوں میں بیٹھ جاتے۔ انھیں چھیڑتے اور ان کا پیچھا کرتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان روایات میں آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی کوئی تخصیص نہیں۔ ۱۶؂
ایک اورلطیف نکتہ یہ ہے کہ ادنیٰ کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوباشوں کی دل آزاری سے بچنے کا صرف یہی طریقہ نہیں، یہ تو ادنیٰ سی حفاظتی تدبیر ہے جس سے پاک باز عورتوں کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ صرف اس لباس کی وجہ سے وہ فاسقوں کی زبان سے محفوظ نہیں رہ سکتیں، یہ تو کمال کی ایک علامت ہے کہ اصل کمال یہ ہے کہ عورت کے اندر تقویٰ کامانع ( deterrent)ہو۔
مختصر یہ کہ زیر نظر آیت سے چہرے کا ڈھانپنا نہ منطوق کے اعتبار سے اورنہ مفہوم کے اعتبارسے ثابت ہوتا ہے۔ جلباب کی غرض انھی مقامات کو ڈھانپنا ہے جس کی تفصیل سورۂ نور میں ہے، کیونکہ سورۂ نور کا حکم مستقل حکم ہے۔
سورۂ نور کی آیت ۳۰اور۳۱میں پردے کی واجبی حدود کو متعین کیاگیاہے۔ قرآن حکیم کی کوئی دوسری آیت ان حدود کا تعین نہیں کرتی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ مومنوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اللہ اس سے باخبر ہے جووہ کرتے ہیں اورمومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کوظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو کھلی رہتی ہے اور چاہیے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پرڈال لیں اوراپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے باپوں کے… ‘‘ (۳۳: ۳۰،۳۱)

شان نزول

امام سیوطی نے ’’الدرالمنشور ‘‘میں روایت کیا ہے ایک دن مدینہ کے گرم موسم میں ایک خوب صورت نوجوان عورت ایک راستہ پر اس طرح چل رہی تھی کہ جاہلی رواج کے مطابق دوپٹہ گردن کے پیچھے لٹک رہا تھا۔ اس کا گریبان اورگردن کھلی تھی۔ ایک صحابی سامنے سے آ رہے تھے، وہ اس خوب صورت عورت کو دیکھتے ہی رہ گئے اور بے خبر ی میں آگے چلتے گئے یہاں تک کے دیوار سے باہر نکلی ہوئی کسی چیز سے ان کا چہرہ زخمی ہوگیا۔ وہ اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے اورسارا ماجرا کہہ سنایا۔ اس موقع پریہ آیت نازل ہوئی۔۱۷؂ ہوسکتا ہے کہ آیۂ مبارکہ پہلے نازل ہوئی ہواوراس واقعہ پر چسپاں کردی گئی ہو۔ بہر کیف اس روایت سے اتنا توواضح ہوتاہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ کر ان کو پیٹھ پرلٹکا لیتی تھیں جس سے ان کے کان ، گردن اورسینہ کا اوپروالا حصہ بے پردہ ہوجاتا تھا۔

غض بصر

شرم گاہ کی حفاظت سے پہلے نظریں نیچی کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ نگاہیں دل کی رہبر ہوتی ہیں، اس لیے انسان زیادہ ٹھوکر انھی کی وجہ سے کھاتا ہے۔ امام قرطبی کے قول کے مطابق نگاہیں دل کا مین گیٹ ہوتی ہیں ۔ اسی لیے امام غزالی کا قول ہے کہ جو نگاہیں نیچی رکھنے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ زنا سے بچنے پر بھی قدرت نہیں رکھتا۔
امام راغب ’’مفردات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’ غض‘ کے معنی کمی کے ہیں، خواہ یہ کمی نظرمیں ہو یا آواز میں یا برتن میں، کچھ کم کرنے کی صورت میں مثال کے طور پر انھوں نے یہی آیت پیش کی ہے۔ عربی زبان میں دو لفظ’ غمض‘ اور ’غض‘ آنکھ کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ پلکوں کو ایک دوسرے پر سلا دینا ’ غمض‘ کہلاتا ہے اوراس سے ترک نگاہ کا مفہوم نکلتا ہے، جبکہ نظر کو کم کرنا’غض‘ کہلاتا ہے جس سے نگاہ کو محدود کرنے یا بچانے کا مفہوم نکلتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s