شیطان کا پچھتاوا

بتایا جاتا ہے کہ یہ نظم حیدر آباد دکن (بھارت) کے ایک شاعر سید طالب خوند میری نے لکھی ہے اور اس نظم میں موجودہ انسانی معاشرے میں شیطنت کے عروج پر اصل شیطان کے جذبات کی یوں ترجمانی کی ہے

 

تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بھایا یا رب
اس لیے میں نے سر اپنا نہ جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یا رب

عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

نرم طبیعت اس کی ابتداءً تھی بڑی
قلب و جان پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پر مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

بھر دیا تو نے بھلا کون سا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوہ اس میں
اک اک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں؟

اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے
اُکھڑ جاتا ہے جب کبھی طیش میں ہتھے سے
خود مرے شر کا توازن بگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

مری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ لیڈر بن کر

شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب جھجھکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز یہ دکھلاتا ہے
اب یہ ظالم میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کر جاتا ہے

کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
میرے شر سے بھی ہے سوا یہاں انسان کا شر
اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ عقائد میں بھی ڈالے اس نے
کر دیے قید اندھیروں میں اجالے اس نے
کام جتنے تھے مرے سارے سنبھالے اس نے

اب تو خود کو میں ہر اک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

استقامت تھی کبھی اس کی مصیبت مجھ کو
اپنے ڈھب پر اسے لانا تھا قیامت مجھ کو
کرنی پڑتی تھی بہت اس پہ مشقت مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ دن رات ہے فرصت مجھ کو

اب کہیں گوشہ نشینی میں گزارہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

مست تھا میں تیرے انساں کی حقارت کر کے
خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کر کے
کیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کر کے
اب یہ کہتا ہوں خود پہ ملامت کر کے

کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s