ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

 

مظفر رزمی کیرانوی's Photo'

مظفر رزمی

  • 1936-2012

ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا

جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ

اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا

جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے

مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا

یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ہیں کہ قاتل ہیں

ہمیں اپنے نمائندوں کا اندازہ نہیں ہوتا

نظر ہو لاکھ گہری اور بصیرت آشنا پھر بھی

نقابوں میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا

زمیں پر آؤ پھر دیکھو ہماری اہمیت کیا ہے

بلندی سے کبھی ذروں کا اندازہ نہیں ہوتا

وفاؤں کے تسلسل سے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں

محبت کے حسیں رشتوں کا اندازہ نہیں ہوتا

اتر جاتے ہیں روح و دل میں کتنی وسعتیں لے کر

غزل کے دل ربا لہجوں کا اندازہ نہیں ہوتا

سلیقے سے سجانا آئینوں کو ورنہ اے رزمیؔ

غلط رخ ہو تو پھر چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s