(خوابوں کی حقیقت (۲

گفتگو: جاوید احمد غامدی
مرتب: رانا معظم صفدر

[’’دنیا‘‘ ٹی وی کے پروگرام ’’ علم و حکمت : غامدی کے ساتھ‘‘ میں
میزبان کے سوالوں کے جواب میں جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو]

  سوال: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے خوابوں کے لیے جو مبشرات کی تعبیر اختیار فرمائی ہے، اس سے کیا مراد ہے؟
جواب: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بتایا کہ آپ پر نبوت ختم ہو گئی ہے تو ارشاد فرمایا: ’لم یبق من النبوۃ إلا المبشرات‘ یعنی نبوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ختم ہوگئی ہے، بس مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ’الرؤیا الصالحۃ‘ یعنی اچھا خواب ۔۱؂ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خواب آ سکتا ہے۔ ’مبشرات‘ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کا خواب بشارت ہی کی کوئی صورت ہو گا۔جس میں، مثلاً یہ بتایا جائے گا کہ یہ انعام ہے ، یہ تنبیہ ہے، یہ رہنمائی ہے،یہ مستقبل کی خبر ہے۔لیکن یہ ساری چیزیں تمثیل کی صورت میں ہوں گی اور اس کی کوئی نہ کوئی تعبیر ہی کی جائے گی۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پر اپنے والد کے سامنے یہ خواب سنایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ تین چاند میری آغوش میں اُتر آئے ہیں ۔ سیدنا ابوبکر صدیق نے پوچھا کہ تمھارے خیال میں اس کی کیا تعبیر ہے ؟ انھوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے ہاں اولاد ہو گی۔ یہ سن کرحضرت ابو بکر خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے جسد مبارک کو سیدہ عائشہ کے حجرے میں دفن کیا گیا تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ تمھارا پہلا چاند آغوش میں اُتر گیا ہے۔

  سوال: کیا سچے خواب کی کوئی نشانیاں ہوتی ہیں؟
جواب: بعض اوقات آپ کا نفس مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ بات ٹھیک ہے۔ بعض اوقات خواب پورا ہو جاتا ہے اور آپ اُس کی سچائی کا اندازہ کر لیتے ہیں۔اسی طرح بعض اوقات آپ کسی خاص مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں ۔ اُس کے بارے میں بہت متردد ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں آپ کو خواب آتا ہے اور آپ کو گویا ایک اطمینا ن ہو جاتا ہے کہ یہ غالباً اللہ ہی نے رہنمائی فرمائی ہے۔ تاہم ،یہ اطمینان ہی ہوتا ہے، یقین نہیں۔ پھر جب وہ پورا ہو جاتا ہے تو آپ اُس کی سچائی پر بھی یقین کر لیتے ہیں۔
خود میں آپ کو اپنا ایک خواب بتاتا ہوں جس سے آپ اس کی نوعیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ میرے ایک قریبی عزیز ایک مسئلے سے دوچار تھے اور معاملہ خرابی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرے دل میں شدید خواہش تھی کہ یہ معاملہ جس سمت میں جا رہا ہے ، اُس سمت میں نہ جائے۔ میں اس کے لیے پریشان بھی تھا اور اللہ سے دعا بھی کر رہا تھا۔ ایک شب میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک گاڑی ہے جس میں میں بھی بیٹھا ہوں اور میرے وہ عزیز بھی بیٹھے ہیں۔ وہ تیزرفتاری سے ایک ایسی سڑک پر بھاگ رہی ہے جس کے آخر میں دیوار ہے ۔ ڈر ہے کہ یہ اُس دیوار سے ٹکرا جائے گی۔ مگر جیسے ہی وہ دیوار کے پاس پہنچتی ہے تو اُس کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس خواب کے بعد جب میری نیند کھلی تو مجھے ایک اطمینان حاصل ہواکہ اب وہ معاملہ درست سمت میں آگے بڑھے گا اورعملاً ایسا ہی ہوا ۔ اس طرح کی صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالباً اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔ یہاں ’غالباً‘ کے لفظ کا استعمال ضروری ہے۔ اس سے زیادہ ہمیں کچھ نہیں کہنا چاہیے۔

  سوال: کیا کوئی شخص دماغی مشق کے ذریعے سے اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ جو چاہے، دیکھ سکے؟
جواب: اس کا جواب اثبات میں ہے۔ یعنی آپ ریاضتوں اورمشقوں کے ذریعے سے یہ صلاحیت اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں کہ اپنی مرضی کا خواب دیکھ لیں ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آپ یہ صلاحیت بھی پیدا کر سکتے ہیں کہ سوئے بغیر بیداری کے عالم میں کوئی خواب دیکھیں ۔یہ انسانی نفس کی صلاحیت ہے جو بعض اوقات یہاں تک بھی 143developکی جاسکتی ہے ۔ میڈیکل سائنس نے ایسی دوائیں بھی ایجاد کر دی ہیں کہ اگر اُن کو استعمال کریں تو بیداری کے عالم میں خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی چیز بعض ریاضتوں اور مشقوں کے ذریعے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

  سوال: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کی بنیاد پر اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعہ کی روشنی میں یہ فرمائیے کہ کیا کوئی شخص اپنے خواب کو بنیاد بنا کر کسی کو قتل کر سکتا ہے؟
جواب: کوئی شخص کسی بھی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کو قتل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بتا دیا ہے کہ کسی انسان کی جان صرف دو صورتوں میں لی جا سکتی ہے : ایک یہ کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اُس کے قصاص میں اُس کی جان لی جائے۔ دوسری یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جان ، مال اور آبرو کے درپے ہو گیا ہو اور اس طرح فساد فی الارض کا مرتکب ہوا ہو تو اُسے قتل کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مگر ان دونوں صورتوں میں بھی یہ ضروری ہے کہ اس کا فیصلہ نظم اجتماعی یا اس کے تحت کسی عدالت نے کیا ہو۔لہٰذا کسی انسان کو کسی دوسرے کی جان لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
انبیا علیہم السلام کا معاملہ عام انسانوں سے مختلف ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے مامور ہوتے ہیں۔ اُن پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے۔ انھیں اگر کوئی خواب دکھایا جاتا ہے تو اُنھیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُن کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیے کہ اس واقعے میں دونوں اللہ کے پیغمبر ہیں، باپ بھی اور بیٹا بھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بتا رہے ہیں کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اُس کو اللہ کا حکم سمجھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ابا جان، آپ اس پر عمل کیجیے ۔ یہ حیثیت اب نہ کسی کو حاصل ہے اور نہ حاصل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہم میں سے کوئی بھی اپنے خواب کی بنیاد پر کسی کی جان لینے کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے ۔اللہ کے پیغمبروں کے معاملات کو اپنے اوپر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔

  سوال: خواب کی تعبیر کے بارے میں بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ فرمائیے کہ خواب کی تعبیر کی صلاحیت God gifted ہوتی ہے یا کسی ماہر فن سے سیکھی جا تی ہے؟
جواب: جتنی صلاحیتیں بھی ہمارے اندر ہیں، وہ سب God gifted ہیں۔ اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔ کوئی صلاحیت بھی باہر سے نہیں آتی۔ ہم اُس کو پالش کرتے ہیں اور تعلیم سے، تربیت سے، مشق سے، ریاضت سے اُس کو بہتر بناتے ہیں۔ جو چیز آپ کے اندر موجود نہیں ہے، وہ باہر سے پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ شاعری وہی کر سکتا ہے جس کو خدا نے موزوں ذہن دیا ہو۔ لیکن جب وہ ابتدا کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ مصرع سیدھا نہ ہو ، قافیہ تنگ ہو، بندش بھی چست نہ ہو، الفاظ کے دروبست سے بھی واقفیت نہ ہو، پھر کوئی استاد اُس کی تربیت کرتا ہے، تعلیم دیتا ہے تو وہ اچھے شعر کہنے لگ جاتا ہے۔ ہماری تمام صلاحیتوں کا معاملہ یہی ہے۔
جانوروں میں بھی آپ دیکھ لیجیے۔ جو خصوصیات اللہ تعالیٰ نے کتوں میں ودیعت کی ہیں، کیا وہ بلی میں یا شیر میں پیدا کی جا سکتی ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ لیکن جو کچھ اللہ نے عطا فرما دیا ہے، اُس کو آپ بہتر کر سکتے ہیں ، کمال پر پہنچا سکتے ہیں اور اعلیٰ تربیت کر کے اُس کو ایسی غیر معمولی حیثیت دے سکتے ہیں کہ لوگوں کے لیے حیرت انگیز ہو جائے۔ آپ یہ سب کر سکتے ہیں، لیکن کوئی چیز اگر اندر موجود نہیں تو وہ پیدا نہیں کی جاسکتی۔
جہاں تک خوابوں کی تعبیر کا معاملہ ہے تو اگر کسی آدمی کے اندرفطری طور پر تمثیلات کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ اسے تعلیم و تربیت اور مشق اور ریاضت سے بہتر کر سکتا ہے ۔ وہ انسانوں کی شخصیات کا مطالعہ کرے گا، اُن کے خوابوں پر غور کرے گا، اُن کے تمثیلی پہلوؤں کو سمجھے گا اور آہستہ آہستہ اس قابل ہو جائے گا کہ اس معاملے میں لوگوں کی رہنمائی کر سکے۔

  سوال: خواب کی تعبیر کس سے پوچھنی چاہیے؟ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیجیے۔
جواب: اپنے خواب کی تعبیر سب سے پہلے اپنے آپ سے پوچھنی چاہیے۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنے احوال کو دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔ بعض اوقات آدمی خود کسی فیصلے تک نہیں پہنچ پاتا تو اس صورت میں کسی ایسے شخص سے مشورہ بھی کر سکتا ہے جو تمثیل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تمثیل کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت دی ہوتی ہے۔اس کی ایک بڑی نمایاں مثال سیدنا یوسف علیہ السلام ہیں ۔ انھوں اپنے زنداں کے ساتھیوں کی اور بادشاہ کے خوابوں کی ایسی غیر معمولی تعبیر کی کہ جو کچھ انھوں نے کہا بعینہٖ وہی حقیقت بن کر سامنے آیا۔ اس میں ہمارے سمجھنے کے لیے دو باتیں اہم ہیں: ایک یہ کہ دونوں خواب پیغمبر کو نہیں، بلکہ عام انسانوں کو آئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام انسانوں کو بھی اللہ کی طرف سے سچا خواب آ سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ ان میں تمثیل کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا، حقیقت نہیں دکھائی گئی تھی۔ساتھی قیدیوں میں سے ایک نے اپنے آپ کو شراب نچوڑتے ہوئے دیکھا تھا اور دوسرے نے یہ دیکھا تھا کہ سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہے جس میں سے چڑیاں کھا رہی ہیں۔۲؂ بادشاہ نے دیکھا تھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری اور سات سوکھی بالیاں ہیں۔۳؂ یہ ساری تمثیلات تھیں جن کی حقیقت یہ تھی کہ ایک قیدی رہا ہو گا اور بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا، دوسرا سولی چڑھے گا اور اس کے سر کو پرندے نوچیں گے ۴؂ اور ملک میں سات سال تک خوب کھیتی ہو گی اور سات سال تک قحط رہے گا۔۵؂ اس سے واضح ہوا کہ سچا خواب بالعموم تمثیل کی صورت میں ہوتا ہے جس کی تعبیر کی جاتی ہے۔

________

۱؂ بخاری، رقم ۶۹۹۰۔
۲؂ یوسف ۱۲: ۳۶۔
۳؂ یوسف ۱۲: ۴۳۔
۴؂ یوسف ۱۲: ۴۱۔
۵؂ یوسف ۱۲: ۴۷۔ ۴۸۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: