(۱) خوابوں کی حقیقت

گفتگو: جاوید احمد غامدی
مرتب: رانا معظم صفدر

[’’دنیا‘‘ ٹی وی کے پروگرام ’’علم و حکمت: غامدی کے ساتھ‘‘ میں میزبان
کے سوالوں کے جواب میں جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو]

    سوال: انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی میں دوبارہ سے جائے اور دیکھے کہ وہ کن مقامات میں گھومتا تھااور کن لوگوں سے ملتا تھا۔اسی طرح اس کی یہ تمنا بھی ہوتی ہے کہ مستقبل کے جھروکوں میں جھانک سکے اور یہ دیکھ سکے کہ آیندہ کیا واقعات رونما ہونے والے ہیں۔ اس خواہش کی تکمیل حقیقی زندگی میں تو ممکن نہیں ہے، لیکن خواب ایک ایسا میڈیم ضرور ہے کہ جس کے ذریعے سے بعض اوقات انسان ماضی میں چلا جاتا ہے اور اُن لوگوں سے ملاقات کر لیتاہے جن سے وہ وابستہ رہا تھا ۔ پھر وہ اسی میڈیم کے ذریعے سے مستقبل کے بارے میں کوئی اشارہ پا لیتا ہے یا کوئی چیز جان لیتا ہے۔سب سے پہلے تو یہ سمجھائیے کہ خواب اصل میں ہے کیا، اس کی حقیقت کیا ہے، یہ کس کیفیت کا نام ہے؟
جواب: خواب ہمارے نفس میں ظہور پذیر ہونے والے حقائق یا تصورات کی تمثیل ہے ۔ اِس کی نوعیت ایسی ہی ہے، جیسے ایک ڈرامہ نگارزمانے کے حقائق یا اپنے تصورات کو ڈرامائی تشکیل دیتا ہے اور انھیں ممثل کر کے ہمارے سامنے لے آتا ہے۔اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسان کی شخصیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو ایک مادی وجود دیا ہے، وہاں اُس کے ساتھ ایک شخصیت بھی دی ہے۔ اس شخصیت کو قرآن مجید نفس سے تعبیر کرتا ہے۔ اس نفس یا شخصیت کو دنیا سے متعلق کرنے کے لیے ہمارے جسم میں بہت سے ذرائع اور آلات و جوارح رکھے گئے ہیں۔ جیسے حواس خمسہ ہیں۔ ان کے ذریعے سے ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سونگھتے ہیں، چکھتے ہیں اور چھو کر محسوس کرتے ہیں ۔ یہ سب صلاحتیں ہمارے جسم میں اس لیے رکھی گئی ہیں کہ ہمارا نفس ان کے ذریعے سے ایک طرف باہر کی دنیا کے ساتھ رابطہ پیدا کر سکے اور دوسری طرف اس دنیاسے وابستہ ہو سکے جو اس کے اندر آباد ہے ۔ یہ شخصیت اپنی بھی کچھ صلاحیتیں اور خصوصیات رکھتی ہے۔ انھی میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حقائق کو ایک تمثیل کی صورت دے دیتی ہے۔ خواب کی اصل حقیقت یہی ہے۔ یعنی خواب ہماری شخصیت یا ہمارے نفس کی کار گزاری اور کارفرمائی ہے یا اُس پر گزرنے والی کیفیت کا نام ہے۔

    سوال: شخصیت کی کچھ مزید وضاحت کر دیجیے اور یہ بھی واضح کر دیجیے کہ شخصیت ، نفس ، روح، خودی، کیا یہ سب ہم معنی الفاظ ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے؟
جواب: انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ انسان کا خلیوں سے بنا ہوا جسم تو توڑپھوڑ کا شکار ہوتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے، مگر اُس کی شخصیت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اسی کو قرآن مجید نفس سے تعبیر کرتا ہے۔ ’وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ‘۱؂ کے قرآنی الفاظ کی بنا پر اسی کے لیے ’روح‘ کی تعبیر بھی رائج ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جسے اہل فلسفہ ’خودی‘ اور ’انانیت‘ کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ اس شخصیت یا نفس کو اللہ تعالیٰ انسان کے اندر اُس وقت پھونکتے ہیں جب وہ رحم مادر میں ۱۲۰ دن کا ہوتا ہے۔۲؂ اس سے پہلے وہ محض ایک حیوانی وجود ہوتا ہے، لیکن اس شخصیت کے داخل ہونے کے بعد وہ انسان کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ موت اسی شخصیت کے جسم سے الگ ہو جانے کا نام ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جس کی نگرانی میں فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے جو موت کے وقت انسان کے پاس آ کر اس شخصیت کو اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔۳؂
اللہ تعالیٰ نے جب اس شخصیت یا نفس کی تخلیق کی تو بہت سی چیزیں اُس کے اندر ودیعت کر دیں۔ ان میں سب سے بنیادی چیز اللہ کی ربوبیت کا اقرار ہے۔یہ اللہ کے ساتھ عہد و میثاق کا ایک حقیقی واقعہ ہے جو انسان کے قالب کے وجود میں آنے سے پہلے اُس کی شخصیت کے ساتھ رونما ہوا۔ اسی کو سورۂ اعراف میں ’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی‘ ۴؂ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا اُس وقت انسان کی شخصیت موجود تھی جس کے ساتھ پروردگار کامکالمہ ہوا۔ اس واقعے کی یاد تو انسان کی یادداشت سے محو کر دی گئی، لیکن اس کی حقیقت اُس کے دل و دماغ پر نقش ہے اور اُس کے ان گنت شواہد انسان کے گرد و پیش میں موجود ہیں۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ہماری پیدایش کا واقعہ ہمیں یاد نہیں، مگر ہم اپنے اردگرد کے مشہود حقائق کی بنیاد پر اُسے ایک یقینی واقعے کے طور پر جان لیتے ہیں۔
ربوبیت کے اقرار کے ساتھ ساتھ خیر و شر کا شعور بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی شخصیت میں ودیعت کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کی شخصیت کو نک سک سے سنوارا اور پھر اُسے نیکی اور بدی کا شعور عطا فرمایا۔ ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا‘۵؂ کے الفاظ میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بہت سے علوم و فنون بھی اس شخصیت کو الہام کیے گئے ہیں۔ اس شخصیت کا شعور ہر انسان اپنے اندر بھی محسوس کرتا ہے اور اپنے مخاطب کے اندر بھی۔ شعور کے یہ دونوں پہلو اُس کے اپنی شخصیت کے بارے میں ادراک کو پختہ کرتے ہیں۔یعنی ایک شخص اپنی شخصیت کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کیے گئے الہامات اور علوم و فنون کا پہلے خود تجربہ کرتا ہے:

شاہد اول شعور خویشتن
خویش را دیدن بنور خویشتن۶؂

اور پھر جب دوسرے سے مخاطب ہوتا ہے تو دوسری شخصیت کا فہم اس کی اپنی شخصیت کے شعور کومزید اجاگر کرتا ہے:

شاہد ثانے شعور دیگرے
خویش را دیدن بنور دیگرے

۷؂

یعنی نفس یا شخصیت کاشعور انسانوں کے اندر ایک مشترک حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ میں بھی اسے جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔

    سوال: سائنس خواب کے معاملے کو نفس یا روح کے تعلق سے ہٹ کر ایک دوسرے طریقے سے بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق انسانی ذہن دن بھر کام کرتا ہے یا جو کچھ سوچتا ہے، خواب اُسی کوایک ڈرامے کی صورت دے دیتا ہے۔ کیا سائنس کی بات مذہب کی بات سے مختلف ہے یا یہ محض بیان کرنے کے انداز کا فرق ہے؟
جواب: سائنس کی محدودیت یہ ہے کہ اُس نے حقائق کو جاننے کے لیے مشاہدے ، تجربے اور شعور ہی پر انحصار کیا ہے۔حقائق تک رسائی کا یہی ایک طریقہ نہیں ہے، اس کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں۔ سائنس انھی حقیقتوں کو جان سکتی ہے، جو مشاہدے ، تجربے اور شعور کے طریقے سے جانی جا سکتی ہیں ۔ وہ اُن حقائق کو نہیں جان سکتی جو غیر مرئی ہیں، جو حواس کی گرفت میں نہیں آتے، جن کا تجربہ نہیں کیا جا سکتا، جن کو شہود کی نوعیت حاصل نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ علم نفسیات جب فلسفے سے الگ ہونا شروع ہوا تو پہلے اس کی تعریف یہ کی گئی کہ اصل میں یہ Soul کی سائنس ہے، لیکن پھر جلدہی یہ اندازہ ہو گیا کہ نہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتاہے، نہ کسی لیبارٹری میں اس کا تجربہ ہو سکتا اور نہ شعور کی سطح پر اسے پرکھا جا سکتا ہے۔جب یہ اندازہ ہوا تو اسے Science of Behaviour کا نام دے دیا گیا۔ گویا یہ انسان کے کردار یا سیرت کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہے۔
لہٰذا سائنس جب انسانی شخصیت کو جاننا چاہے گی تو وہ قالب سے چلے گی، کیونکہ اُس کو یہی نظر آ رہا ہے۔ یعنی میرے بولنے سے، میرے سننے سے، میرے دیکھنے سے، میرے چھونے سے ،میرے دماغی عمل سے وہ مجھ تک اپروچ کرے گی، لیکن میرے وجود کے اندر جو میری اصل شخصیت ہے یا جو میرا نفس ہے، اس تک وہ پہنچ ہی نہیں سکتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کوئی مادی حقیقت ہے ہی نہیں۔ وہ مادے سے ماورا ہے اور اپنی ایک جامع الصفات ہستی رکھتاہے۔ یہ وہ ہستی ہے جو موت کے وقت نکال لی جاتی ہے اور جو نیند کے عالم میں بھی ایک طرح سے معلق کر دی جاتی ہے۔۸؂ اس ہستی کو جاننے کا سائنس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

    سوال: جب انسان اس دنیا سے رخصت ہو کر قبر میں چلا جاتا ہے تو وہاں اُس کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ کیا وہ وہاں بھی خواب دیکھتا ہے؟
جواب: ہماری شخصیت جس طرح دنیا میں جسمانی قالب کے ساتھ روبہ عمل ہوتی ہے ، اسی طرح قیامت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی جسمانی قالب ہی کے ساتھ روبہ عمل ہو گی۔یعنی نفس انسانی کو جب دوسری زندگی دی جائے گی تو اُس وقت بھی اُس کو ایک جسم دیا جائے گا۔ جہاں تک موت اور قیامت کے درمیانی عرصے کا تعلق ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں انسان زندہ ہو گا، مگر یہ زندگی جسم کے بغیر ہو گی۔اس عرصے میں انسان پر نیند کی سی کیفیت ہی طاری ہو گی اور اسے مختلف چیزوں کا ویسے ہی احساس اور مشاہدہ ہو گا جیسے خواب میں ہوتا ہے۔اس موقع پر انسان کہاں ہو گا، اس کے لیے قرآن مجید نے ’برزخ‘ کی تعبیر اختیار کی ہے، جہاں وہ قیامت تک موجود رہے گا۔۹؂ اس دوران میں نیکو کار اللہ کی عنایتوں اور اس کے رزق سے فیض یاب ہوں گے اورسرکشوں کو صبح و شام دوزخ کا مشاہدہ کرایا جائے گا۔ جیسا کہ فرعون کی قوم کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ وہ صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت ہو گی تو حکم ہو گا کہ انھیں شدید ترین عذاب میں داخل کر دیا جائے۔ ۱۰؂

    سوال: یہ آپ نے جو برزخ کے زمانے میں رزق ملنے یا دوزخ کا مشاہدہ کرانے کی بات کی ہے، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟
جواب: سورۂ آل عمران میں شہدا کے حوالے سے ’عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ‘ ۱۱؂ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی انھیں روزی مل رہی ہے۔ اور سورۂ مومن میں آل فرعون کے حوالے سے ’اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا‘۱۲؂ کا جملہ موجود ہے۔ یعنی دوزخ کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔ ان باتوں کے یقینی ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہے، لیکن ان کی حقیقت کیا ہے ، اسے جاننے کی ہم صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہمارے لیے ان کی نوعیت امور متشابہات کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نوعیت کے معا ملات کی حقیقت تو ہم نہیں جان سکتے ، البتہ اُن کی نوعیت کو اپنے علم اور فہم کی حد تک کسی قدر سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں اللہ تعالیٰ ملتی جلتی چیزوں سے تشبیہ دے کر ہمیں بات سمجھا دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ تمام معاملات جو ہمارے علم و عقل کے دائرے سے ماورا ہیں، اُن کے بارے میں مانوس اورملتے جلتے اسالیب اختیار کر کے یا دنیا کی چیزوں سے تشبیہ دے کر بات سمجھا دی جاتی ہے ۔ مثلاً مرنے کے بعد کیا ہوگا ، قیامت کیسے ہو گی، نئی دنیا کیسے وجود میں آئے گی، ہم سے پہلے کیا احوال تھے، اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کیسے کی اور اُس کے ساتھ مکالمہ کیسے کیا گیا، ’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘ والا واقعہ کیسے پیش آیا، ان تمام معاملات میں ہماری زبان اور ہمارے فہم کی رعایت سے تشبیہ ہی کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔
اس کو آپ ایک مثال سے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی آج سے دو سو سال پہلے بجلی کے قمقموں کی پیشین گوئی کرنا چاہتا تو اُس کو یہ مسئلہ درپیش ہوتاکہ وہ بجلی، تار، بلب اور ان سے پھوٹنے والی روشنی کے تصوارت کو کیسے سمجھائے، کیونکہ اُس وقت نہ ان کا وجود تھا ، نہ ان کے لیے کوئی الفاظ تھے۔ اس صورت میں اُسے اپنے زمانے کے کچھ الفاظ اور کچھ تعبیرات کو مستعار لینا پڑتا۔ لہٰذا وہ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ پاتا کہ ایسے دیے جلیں گے جن میں تیل نہیں ڈالنا پڑے گا ۔
[باقی]

________

۱؂ الحجر۱۵: ۲۹۔
۲؂ السجدہ ۳۲:۶۔۹۔ المومنون ۲۳: ۱۲۔۱۴۔ بخاری، رقم ۷۴۵۴۔ مسلم، رقم۶۷۲۳۔
۳؂ النساء ۴: ۹۷۔ الانعام۶: ۹۳۔ النحل ۱۶: ۲۸۔ السجدہ ۳۲:۱۱۔
۴؂ ۷: ۱۷۲۔۱۷۴۔
۵؂ الشمس ۹۱: ۷۔۸۔ ’’اور نفس اور جیسا اسے سنوارا، پھر اس کی بدی اور نیکی اسے سجھا دی۔‘‘
۶؂ جاوید نامہ، علامہ اقبال۔ ’’پہلا گواہ اپنا شعور ہے، یعنی اپنے آپ کو اپنے نور سے دیکھنا۔‘‘
۷؂ جاوید نامہ، علامہ اقبال۔ ’’دوسرا گواہ دوسروں کاشعور ہے، یعنی دوسروں کے نور کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھنا۔‘‘
۸؂ الانعام ۶: ۶۰۔۶۱۔
۹؂ المومنون ۲۳: ۱۰۰۔
۱۰؂ المومن ۴۰: ۴۵۔۴۶۔
۱۱؂ ۳: ۱۶۹۔
۱۲؂ ۴۰: ۴۵۔۴۶۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s