نور نبوی کی تخلیق

By Administrator on March 02, 2007

اس موضوع اور ولادت رسول سے متعلق جو روایات عام طور پر کتب سیرت اور میلاد ناموں میں پائی جاتی ہیں، ہم ان پر سید سلیمان ندوی مرحوم کی تحقیق قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے سیرت النبی کی جلد سوئم میں فرمائی ہے۔ سید صاحب لکھتے ہیں:

”اس سلسلہ میں سب سے پہلی روایت یہ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح و قلم، عرش و کرسی، آسمان و زمین اور جن و انس غرض سب سے پہلے نور محمدی کو پیدا کیا۔ اور پھر لوح و قلم ، عرش و کرسی، آسمان و زمین اور ارواح و ملائکہ سب چیزیں اسی نور سے پیدا ہوئیں۔ اس کے متعلق’اول ما خلق اللّٰہ نوری'(سب سے اول اللہ نے میرے نور کو پیدا کیا)کی روایت عام طور سے زبانوں سے جاری ہے، مگر اس روایت کا احادیث کے دفتر میں مجھے کہیں کوئی پتا نہیں ملا، البتہ ایک روایت مصنف عبدالرزاق بن ہمام میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:

یا جابر اول ما خلق اللّٰہ نور نبیک من نورہ.

”اے جابر، سب سے اول اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے تیرے نبی کے نور کو پیدا کیا۔”

اس کے بعد ذکر ہے کہ اس نور کے چار حصے ہوئے، اور ان ہی سے لوح و قلم، عرش و کرسی، آسمان و زمین اور جن و انس کی پیدایش ہوئی۔

زرقانی وغیرہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے، مگر افسوس ہے کہ اس کی سند نہیں لکھی۔ہندوستان میں مصنف عبدالرزاق کی گو دوسری جلد ملتی ہے، مگر پہلی نہیں ملتی۔ دوسری جلد دیکھ لی گئی ہے، مگر اس میں یہ حدیث مذکور نہیں، اس لیے اس روایت کی تنقید نہیں ہو سکی۔ اور چونکہ کتاب مذکور میں صحیح حدیثوں کے ساتھ ساتھ موضوع حدیثیں تک موجود ہیں۔ اور فضائل و مناقب میں اس کی روایتوں کا اعتبار کم کیا جاتا ہے، اس لیے اصولی حیثیت سے اس روایت کے تسلیم کرنے میں مجھے پس و پیش ہے۔ اس تردد کو قوت اس سے اور بھی زیادہ ہوتی ہے کہ صحیح احادیث میں مخلوقات الٰہی میں سب سے پہلے قلم تقدیر کی پیدایش کا تصریحی بیان ہے کہ:’اول ما خلق اللّٰہ القلم'(اللہ تعالیٰ نے سب سے اول قلم کو پیدا فرمایا۔)(ترمذی، کتاب القدر)”( سیرت النبی۳/۷۳۷ )

عبدالرزاق بن ہمام کی مصنف اب دس جلدوں میں شائع ہو چکی ہے، لیکن اس میں صحیح، ضعیف، مرسل، منقطع، منکر اور موضوع سب ہی قسم کی روایات ہیں۔

اس کے علاوہ خود عبدالرزاق کی ذات مشکوک ہے۔ محدثین کا بیش تر طبقہ انھیں رافضی قرار دیتا ہے۔ بلکہ بعض تو انھیں کذاب بھی کہتے ہیں۔ اور جو لوگ ان کی روایات قبول کرتے ہیں، وہ بھی چند شرائط کے ساتھ قبول کرتے ہیں:

۱۔ چونکہ یہ شیعہ ہیں، لہٰذا فضائل و مناقب اور صحابہ کی مذمت میں جو روایات ہیں، وہ قبول نہیں کی جائیں گی۔

۲۔ ۲۱۰ھ میں ان کا دماغ جواب دے گیا تھا اور جو شخص بھی چاہتا، وہ ان سے حدیث کے نام سے جو چاہتا کہلوا لیتا۔ لہٰذا۲۱۰ھ کے بعد سے ان کی تمام روایات ناقابل قبول ہیں۔

۳۔ ان سے ان کا بھانجا جو روایات نقل کرتا ہے، وہ سب منکر ہوتی ہیں۔

۴۔ یہ معمر سے روایات غلط بیان کرنے میں مشہور ہے، اور اس کی عام روایات معمر سے ہوتی ہیں۔

۵۔ ان عیوب سے پاک ہونے کے بعد اس روایت کے راوی تمام ثقہ ہوں اور سند متصل ہو تو پھر وہ روایت قابل قبول ہو گی، ورنہ نہیں۔ یہ تمام شرائط ان حضرات کے نزدیک ہیں جو اس کی روایت قبول کرتے ہیں، ورنہ محدثین کا ایک گروہ اس کے رافضی ہونے کے باعث اس کی روایت ہی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بلکہ زید بن المبارک تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ واقدی سے زیادہ جھوٹا ہے۔ تفصیل کے لیے کتب رجال ملاحظہ کیجیے۔

اب اس روایت کی معنوی حیثیت پر بھی غور فرما لیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نور سے پیدا کیا اور پھر حضور کے نور سے تمام مخلوقات پیدا ہوئیں۔ گویا اللہ تعالیٰ لا محدود اجزا و اجسام میں تقسیم ہو گیا۔ اس لحاظ سے اس کی یہ تقسیم قیامت تک جاری رہے گی۔ اس طرح زمین و آسمان کی ہر شے اللہ کا ایک جز ہوئی۔ اور ہر شے میں الوہیت کا مادہ پایا گیا۔ اور کوئی شے ایسی باقی نہیں رہی جو الوہیت سے خالی ہو۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص اپنے الہٰ ہونے یا ‘اناالحق’ یا ‘انا ربکم الاعلیٰ’ کا دعویٰ کرے تو اس کا یہ دعویٰ اپنی جگہ بالکل درست ہو گا۔ اور خالق و مخلوق، عابد و معبود اور مالک و مملوک کا وہ رشتہ جو اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن میں بیان کیا ہے، فنا ہو کر رہ جائے گا۔ یہی تو وہ کہانیاں ہیں جن پر وحدت الوجود اور ہمہ اوست کی بنیادیں قائم ہیں۔ اور جب یہ اجزا فنا ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی فنا بھی یقینی ہو گی۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ اجزا فنا نہیں ہوتے ،بلکہ دوبارہ اللہ کی ذات میں جا کر شامل ہو جاتے ہیں تو عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہی تصور ہے۔ اسی سے تو تثلیث وجود میں آئی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عیسائیوں نے اسے صرف تین کی حد تک محدود رکھا اور ہمارے صوفیا نے تمام مخلوقات کو اس کے احاطہ میں شامل کر لیا۔

پھر غور طلب یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات میں سے ایک جز علیحدہ کر دیا گیا تو دو امور تو پہلے ہی تسلیم کر لیے گئے:

۱۔ اللہ ایک ایسی شے ہے جو اجزا پر تقسیم ہو سکتی ہے اور جو شے اجزا پر تقسیم ہوتی ہو، وہ مجسم بھی ہو گی اور فنا بھی ہو گی۔ گویا اللہ تعالیٰ مجسم بھی ہے اور فانی بھی ہے۔

۲۔ جب ایک جز علیحدہ ہوا تو ذات الٰہی میں نقص لازم آیا۔ (عیاذ باللہ)

ان روایات پر منطقی لحاظ سے آپ کسی طرح بھی غور کر لیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی ذات پر تبرا ہے۔ عبدالرزاق سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی تھی۔ افسوس تو ہمیں اپنے علما پر ہے کہ وہ اس روایت کو حضور کی فضیلت تصور کر بیٹھے۔

اس غلط فہمی کا دور کرنا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ایک نور ہے۔ یہ قطعاً غلط ہے۔ نور تو اس کی ایک مخلوق ہے۔ اور مخلوق اور خالق ایک نہیں ہوتے، ورنہ پھر پہلی والی ہمہ اوست کی شکل پیدا ہو گی۔ ارشاد الٰہی ہے:

وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ.

”اس نے ظلمت اور نور کو پیدا کیا۔”

نیز ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ.

”اور ہم نے انسان کے لیے نور پیدا کیا جس سے وہ انسانوں میں چلتا پھرتا ہے۔”

اور ارشاد ہے:

وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ.

”جس کے لیے اللہ نور پیدا نہ فرمائے اسے نور کہاںسے حاصل ہو گا۔”

اور جاعل و مجعول کبھی ایک نہیں ہو سکتے، کیونکہ جاعل بمعنی خالق ہے اور مجعول بمعنی مخلوق ہے۔ اور خالق و مخلوق اور فاعل و مفعول کا ایک ہونا امر محال ہے۔ عام لوگ جو مغالطہ کھاتے ہیں، وہ اس آیت کی وجہ سے کھاتے ہیں:

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ.

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔”

حالانکہ عربی میں نور مصدر ہے اور مصدر کبھی مصدری معنی دیتا ہے، کبھی حاصل مصدر کے معنی دیتا ہے، کبھی مفعول کے اور کبھی فاعل کے۔ اسی لیے عرب مفسرین اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں:

اَللّٰہُ مُنَوِّرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ.

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کو منور کرنے والا ہے۔”

عوام اگر دھوکا کھائیں تو اس کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ وہ لا علم ہیں، لیکن اگر علما بھی اس قسم کی باتیں کہنے لگیں تو اسے تو جہل مرکب ہی کہا جائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ خود نور نہیں تو اس کے نور سے کسی تخلیق کا کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ سیدھے سیدھے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا۔ جس طرح فرشتے، لیکن یہ سراسر قرآن کی تکذیب ہے۔ وہ تو کہتا ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ طِیْنٍ.

”اور ہم نے انسان کو گارے سے پیدا کیا۔”

ہمارے نظریہ میں یہ روایت شیعوں کی وضع کردہ ہے۔ اور یہ اس لیے وضع کی گئی ہے تاکہ پنج تن پاک کی کہانیوں کی راہ ہموار ہو سکے۔ کیونکہ ان کہانیوں کی رو سے یہ نور پانچ حصوں میں تقسیم ہوا ہے۔ اور یہ روایت عبدالرزاق کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں اور وہ رافضی ہے۔ لہٰذا اس نے اپنے عقیدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ روایت وضع کی کہ جب اہل سنت یہ کڑوی گولی ہضم کر لیں گے تو انھیں دوسری گولی کھلائی جائے گی۔ اور عبدالرزاق کو اب تیرہ سو سال گزر چکے ہیں۔ اتنے طویل عرصے میں تو ہم ہزار ہا کڑوی گولیاں نگل چکے ہیں، بلکہ اب ہم اہل سنت اس مارفین کے ایسے عادی ہو گئے ہیں کہ اس کے خلاف کوئی بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/Noor-e-Nabi-ki-Tekhleek

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s