نقد علمی اور نقد عناد

https://www.facebook.com/talib.mohsin
کم وبیش ہر ناقد کے ہاں دونوں طرح کی تنقیدوں کے شواہد موجود ہیں۔ کہیں کہیں کوئی ایسی تنقید ضرور مل جاتی ہے جو محض علمی تنقید کا نمونہ ہو۔ ورنہ بالعموم لکھی اور بولی گئی تنقیدیں دوسرے عنصر سے پاک نہیں ہوتیں۔ علمی تنقید میں عنادی تنقید اگر آٹے میں نمک کی طرح ہو تو قابل لحاظ ہے۔ لیکن اگر تنقید کا غالب رنگ ہی نقد عناد والا ہو تو یہ قابل اصلاح ہے۔
نقد علمی اور نقد عناد میں فرق کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ نقد عناد سے میری مراد ذاتی دشمنی یا پرخاش سے پیدا ہونے والی تنقید نہیں ہے۔ اس طرح کی تنقید زیادہ مذموم ہے اور کسی علمی شخصیت سے اس کی توقع عام طور پر نہیں ہوتی۔ میں اس تنقید کو نقد عناد کا عنوان دے رہا ہوں جو اپنی فکر کی صحت کے اعتماد اور دوسرے کی فکر کے ابطال کے جذبے کے افراط سے پیدا ہوتی اور فکر کے بجائے حامل فکر کی تنقیص، تحقیر یا تضحیک کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
اس کی مثال ہماری سیاسی تاریخ میں قائد اعظم کا مولانا ابوالکلام کے بارے میں ایک جملہ ہے۔ کسی موقع پر قائد اعظم نے مولانا کو کانگریس کو شو بوائے قرار دیا تھا۔ ظاہر ہے قائد اعظم کی مولانا سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی۔ یہ تقسیم کے جھگڑے کی سیاسی تناتنی تھی جس میں کسی موقع پر ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا ہوگا۔ قائد اعظم کا عمومی اںداز بھی اس طرح کا نہیں ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ جملہ مولانا کے مقام ومرتبہ کی نفی کرتا ہے اور میں اسے نقد عناد کی ایک مثال سمجھتا ہوں اور اس طرح کی تنقید اسی وقت وجود میں آتی جب تنقید کرنے والا کسی سبب سے ‘منقود’ کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے۔
مذہبی تناظر میں لکھی جانے والی تنقیدیں نقد عناد کے زیادہ قیبح نمونے رکھتی ہیں۔ اس میں تنابز بالالقاب، تمسخر اور قذف تک کی صورتیں موجود ہوتی ہیں۔
جب ہم کس صاحب فکر کے فکری حسب ونسب کو طے کرتے ہیں، جب اس کے کام کے دنیاوی اہداف کی تعیین کرنے لگ جاتے ہیں اور جب ہم اس کے علمی قد کاٹھ کو ناپنے لگتے ہیں تو وہ تنقید وجود میں آنے لگ جاتی ہے جسے میں نقد عناد کے عنوان دے رہا ہوں۔
علمی تنقید یہ ہے کہ ہم اپنے قلم کو کسی فکر کی غلطی کے تعین تک مجدود رکھیں اور اس کے حق میں کیے گئے استدلال کا بودا پن واضح کردیں۔ مثلا کسی بدعت کو موضوع بنائیں تو اس بدعت کے لیے پیش کی گئی آیات یا احادیث یا قیاس کی غلطی بیان کر دی جائے صاحب فکر کو بدعتی قرار دینے یا اس کی علمی استعداد پر تبصرے کرنے سے گریز کیا جائے یہاں تک اس کے مضامیں میں موجود زبان و بیان یا معلومات کی کمی یا کسی انسانی کمزوری کے تحت پیدا ہو جانے والے نقص کو بھی موضوع نہ بنا جائے۔ تو میرے خیال میں اس طرج کی تنقید ‘نقد علمی’ کے عنوان کی حق دار ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s