اقبالؒ: گفتار اور کردار، دونوں کا غازی

اقبال کی آمدنی کے ذرائع محدود تھے۔ دولت اکٹھی کرنا یا اپنی زندگی کو آسایشوں کے ذریعے آرام دہ بنانا اُن کی فطرت کے خلاف تھا۔ وکالت میں کام بھی اتنا لیتے تھے جس کے معاوضہ سے اُن کے ماہ دو ماہ کے اخراجات پورے ہوسکیں۔ مہینے میں کم از کم پانچ سو روپے تک کا کام مل جائے تو مزید نہ لیتے تھے۔ اگر کوئی مؤکل آ پہنچتا تو اُسے اگلے ماہ آنے کو کہتے۔ پیشۂ وکالت کے اخلاقی پہلو کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے۔ ایک مرتبہ غالباً پٹنہ میں عدالتِ عالیہ کے سامنے کوئی اہم مقدمہ زیرِبحث تھا۔ اس مقدمے میں ایک طرف سے سی آر داس اور دوسری طرف سے پنڈت موتی لال نہرو اور عبداللہ سہروردی وغیرہ پیش ٓٓہوئے۔ اس مقدمے میں بعض مسودات فارسی یا عربی میں تھے اور چند لفظوں کی تشریح متنازع امر بن گیا۔ سی آر داس وکیلِ سرکار تھے چنانچہ انہوں نے حکومت سے اجازت لے کر اقبال کو لاہور سے اس غرض سے بلوایا کہ وہ ان الفاظ کی تشریح عدالت کے سامنے پیش کریں۔ ایک ہزار روپیہ روزانہ ان کی فیس مقرر ہوئی بلکہ عدالت نے انہیں کہا کہ وہ بہار میں ایک دو ماہ تک یا جتنی مدت چاہیں، مقدمہ کی تیاری کے سلسلے میں قیام کر سکتے نیز اگر کتب یا حوالے تلاش کرنے کے لیے لاہور یا کلکتہ جانا پڑے تو آمدورفت کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ پٹنہ میں سی آر داس اقبال کو لینے ریلوے اسٹیشن پہنچے اور انہیں ایک مہنگے ہوٹل میں اتارا۔ ایک دن کے وقفے کے بعد سی آر داس انہیں ملنے آئے۔ اقبال نے انہیں بتایا کہ متنازع الفاظ کی تشریح کے متعلق انہوں نے تیاری کر لی ہے اور وہ اسی دن اپنا نقطہ نظر عدالت میں پیش کرکے جلد لاہور جانا چاہتے ہیں۔ سی آر داس نے انہیں کہا کہ یہ مقدمہ حکومت کا ہے اور اس میں اس قدر جلد اپنی رائے دینے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں چاہیے کہ اطمینان سے اپنے کاغذات تیار کریں کیونکہ اس سلسلے میں وہ دو ماہ کی مدت تک قیام کرسکتے ہیں جس کے لیے انہیں ایک ہزار روپیہ روزانہ ملتا رہے گا مگر اقبال کا اصرار تھا کہ ان کی تیاری مکمل ہے اور وہ جلد از جلد اپنا بیان عدالت کے سامنے دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اگلے روز انہوں نے اپنے بیان کو قطعی صورت دے دی اور اسے عدالت کے سپرد کردیا۔ بیان عدالت میں پیش کرنے کے بعد جب لاہور واپس جانا چاہا تو بینک بند ہوچکے تھے اور ان کی فیس نقدی کی صورت میں عمالِ حکومت کے پاس موجود نہیں تھی۔ اگر وہ ایک دن کے لیے مزید ٹھہرجاتے تو انہیں ایک ہزار روپیہ اور مل جاتا لیکن انہوں نے اس لیے واپسی پر اصرار کیا کہ ان کا کام ختم ہوچکا ہے۔ چنانچہ عمالِ حکومت نے اِدھر اُدھر سے نقد روپیہ جمع کرکے اقبال کی فیس انہیں ادا کردی اور وہ پہلی ٹرین سے لاہور روانہ ہوگئے۔

(ڈاکٹر جاوید اقبال: زندہ رود صفحہ ۴۶۷)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s