ہم کسی دین سے ہوں، قائلِ کردار تو ہیں

Kunwar Mahendra Singh Bedi Sahar – Naat – Manqabat

ہم کسی دین سے ہوں، قائلِ کردار تو ہیں
ہم ثناء خواںِ شہِ حیدرِ کرارؐ تو ہیں
نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور بہ احمد مختار تو ہیں
عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
میری نظروں میں تو اسلام محبت کا ہے نام
امن کا، آشتی کا مہر و مروت کا ہے نام
وسعت قلب کا ، اخلاص و اخوت کا ہے نام
تختہِ دار پہ بھی حق و صداقت کا ہے نام
میرا اسلام نِگہ و نام میں ہے، بد نام نہیں
بات اتنی ہے کہ اب عام یہ اسلام نہیں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے منقبت

تُو تو ہر دین کے، ہر دور کے انسان کا ہے
کم کبھی بھی تیری توقیر نہ ہونے دیں گے
ہم سلامت ہیں زمانے میں تو انشاء اللہ
تجھ کو اک قوم کی جاگیر نہ ہونے دیں گے

امام الشہداء امام حسین  ؑ کے بارے میں

زندہ اسلام کو کیا تُو نے
حق و باطل دِکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا تھا
مر کے جینا سِکھا دِیا تُو نے

لب پہ اے شاہِ شہیداں ؑتیرا نام آتا ہے
سامنے ساقیِ کوثرؐ لیے جام آتا ہے
مجھ کو بھی اپنی غلامی کا شرف دے دیجیو
کھوٹا سِکہ بھی تو آخر کبھی کام آتا ہے

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s