اسلام اور تفریح

By Talib Mohsin on January 23, 2014

سوال: اسلام میں تفریح کا کیا تصور ہے؟ اس سے متعلق ایک چیز خوشی منانا بھی ہے۔ خوشی کیا چیز ہے؟ ہم اس کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں یا اسے کیسے منا سکتے ہیں؟ کیا خو شی منانے پر کچھ قدغنیں عائد کی گئی ہیں؟عید کے موقع پر دورکعت نماز اور خیرات کی تعلیم کیا خوشی منانے کی دوسری صورتوں کی نفی کرتی ہے؟ (آفتاب احمد معروف)

جواب: اسلام اصل میں باطن اور ظاہر کی پاکیزگی کی تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا پہننے، کھانے، پینے، رہنے بسنے، رسوم ورواج اور تفریحات، غرض ہر ہر دائرے اور موقع کے لیے اسلام فحاشی، منکرات اور محرمات سے گریز کا تقاضا کرتا ہے۔ پھر خدا کے ایک بندے کی حیثیت کو بھی اس نے نمایاں کیا ہے۔ چنانچہ دونوں عیدوں پر ایک اضافی نماز کو رائج کیا گیا ہے اور اسے خوشی کے اس دن کا نقطۂ آغاز بنا دیا ہے۔ عید الفطر میں صدقۂ فطر عائد کیا تاکہ غربا کے لیے عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کی صورت پیدا ہو جائے۔ عید الاضحی میں گوشت کی تقسیم سے یہی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایک پہلو سے یہ دونوں عبادتیں خدا سے جوڑتی ہیں اور دوسرے پہلو سے انسان سے۔ فحاشی، منکرات اور محرمات سے گریز انسان کے اخلاقی وجود کو مفاسد سے محفوظ رکھتا ہے اور عبادت اور خیرات سے اسے قوت اور جلا حاصل ہوتی ہے۔

اسلام نے تفریحات پر پابندی عائد نہیں کی، انھیں صحیح رخ پر استوار کر دیا ہے۔ جائز حدود میں رہ کر خوشی منائی جا سکتی ہے، لیکن اسے ایسی صورت نہیں دینی چاہیے جو انسان کے اخلاقی وجود کے لیے غلاظت اور زوال کا ذریعہ ہو۔

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/islam-aur-tafrih

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s