حیا کا دائرہ

By Talib Mohsin on January 25, 2014

سوال: حیا کیا ہے؟ کیا اس کا تعلق صرف جنس کے معاملات سے ہے؟ اگر نہیں تو وہ کیا امور ہیں جو حیا کے ذیل میں آتے ہیں؟ (عائشہ خان

جواب: حیا کا غالب اظہار جنس کے معاملات ہی میں ہوتا ہے، لیکن حیا کا جذبہ جنس کے معاملات تک محدود نہیں ہے۔ انسان اصل میں اپنے ساتھ بری چیز کی نسبت پسند نہیں کرتا،یہاں تک کہ وہ کم تر چیز کی نسبت سے بھی بچنا چاہتا ہے، یہی جذبہ ہمارے ہاں حیا کے نام سے موسوم ہے۔ غالب کے ایک شعر سے دیکھیے کس خوبی سے یہ بات واضح ہوتی ہے:

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ

ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

اس اعتبار سے دیکھیے تو یہ تمام برائیوں، خرابیوں ، نجاستوں اور کمزوریوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے بھی اس جذبے کی یہی جامعیت واضح ہوتی ہے۔ آپ نے عربوں میں معروف ایک کہاوت کی تعریف کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ اذا لم تستحی فافعل ما شئت.(بخاری، رقم۳۲۹۶)

” کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں تک پہنچی ہیں، یہ بات انھی میں سے ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔”

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/haya-ka-daira

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s