دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

اکبر الہ آبادی

 1846-1921

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی

ہرچند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں

اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث

سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں

افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت

غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں

وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے

الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں

یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے

میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں

گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں

بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں

افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ

کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s