مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید

By Khurshid Nadeem on September 01, 2001

اقتباس

اہلِ علم جب دین پر غور کرتے ہیں تو اس امکان کو کسی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی رائے قائم کرتے وقت ٹھوکر کھا جائیں۔ یہ ٹھوکر بعض اوقات معمولی ہوتی ہے اور بعض دفعہ بہت بڑی بھی ہو سکتی ہے۔ ہر آنے والا صاحبِ علم پچھلے علمی کام پر نقد کرتا ہے اور پھر اپنی دانست میں درست بات کہتا ہے۔ علم کے ارتقا کا یہ وہ معلوم و معروف راستہ ہے، جس سے انسانی تہذیب مالامال ہے اور اس کے تمام تر حسن اور بوقلمونی کا راز بھی یہی ہے۔ محض دینی علوم، یعنی تفسیر، علمِ حدیث اور فقہ وغیرہ کو دیکھیے کہ ایک پوری تاریخ ہے اور مسلمانوں کے علمی طور پر ایک زندہ قوم ہونے کی ناقابلِ تردید دلیل ہے۔ ان صاحبانِ علم میں سے ایک طبقہ وہ ہے جس نے نظری کام کے علاوہ اپنے عہد کے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر درپیش مسائل اور بحرانوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کو ان مسائل سے نکالنے کے لیے ان کی فکری اور علمی رہنمائی بھی کی ہے۔ ایسی کوششوں کو کبھی مسلمانوں میں قبولیتِ عام ملی اور کبھی مسلمانوں کی اکثریت نے انھیں کسی توجہ کا مستحق نہیں سمجھا۔ ایسے مفکرین ہماری تاریخ کے ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں۔

مکمل مضمون یہاں ہے

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/molana-wahid-u-din-khan-ka-usloob-e-tanqid

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s