او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

محمّد حفیظ's Photo'

حفیظ جالندھری

  • 1900-1982
  • لاھور

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

ہاں میرے مجروح تبسم خشک لبوں تک آتا جا

پھول کی ہست و بود یہی ہے کھلتا جا مرجھاتا جا

میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بد نام ہوئی

اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا

یہ دکھ درد کی برکھا بندے دین ہے تیرے داتا کی

شکر نعمت بھی کرتا جا دامن بھی پھیلاتا جا

جینے کا ارمان کروں یا مرنے کا سامان کروں

عشق میں کیا ہوتا ہے ناصح عقل کی بات سجھاتا جا

تجھ کو ابرآلود دنوں سے کام نہ چاندنی راتوں سے

بہلاتا ہے باتوں سے بہلاتا جا بہلاتا جا

دونوں سنگ راہ طلب ہیں راہنما بھی منزل بھی

ذوق طلب ہر ایک قدم پر دونوں کو ٹھکراتا جا

نغمے سے جب پھول کھلیں گے چننے والے چن لیں گے

سننے والے سن لیں گے تو اپنی دھن میں گاتا جا

آخر تجھ کو بھی موت آئی خیر حفیظؔ خدا حافظ

لیکن مرتے مرتے پیارے وجہ مرگ بتاتا جا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s