درایت حدیث کا تعارف

سبق 1: درایت حدیث کا تعارف

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے غلط بات کو منسوب کرنے کا معاملہ بہت ہی نازک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس ضمن میں نہایت ہی احتیاط برتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب احادیث کی چھان بین کے لئے محدثین نے جو اصول وضع کیے ہیں، ان میں سے کچھ اصولوں کا تعلق حدیث کی سند سے ہے۔ ان اصولوں کو تفصیل سے “تیسیر مصطلح الحدیث” کے مصنف ڈاکٹر محمود طحان نے بیان کیا ہے۔ آپ ان اصولوں کا پچھلے یونٹس میں مطالعہ کر چکے ہیں۔ حدیث کی سند کی تحقیق کے عمل کو “روایت حدیث” کہا جاتا ہے۔

          حدیث کی سند کے علاوہ اس کے متن کی تحقیق بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ متن کی تحقیق کے اس عمل کو “درایت حدیث” کہا جاتا ہے۔ احادیث کو جب روایت کے اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تو احادیث کی غالب تعداد کے بارے میں نہایت ہی اطمینان کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان احادیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف درست ہے یا نہیں۔

          بسا اوقات کوئی حدیث روایت کے اصولوں کے مطابق صحیح قرار پاتی ہے لیکن اس کے متن میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی درست نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک ثقہ سے ثقہ اور محتاط سے محتاط شخص بھی بھول چوک یا غلطی سے پاک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت کے اصولوں پر پرکھنے کے بعد بعض احادیث کو درایت کے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے تاکہ حدیث کی سند کے ساتھ ساتھ اس کے متن کی تحقیق بھی کر لی جائے کہ یہ بات واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے درست طور پر منسوب ہوئی ہے یا نہیں۔

          درایت حدیث کے اصول بھی عقل و دانش کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ اصول روایت حدیث کی بحث میں بھی بیان کیے جا چکے ہیں۔ درایت کے اہم ترین اصول یہ ہیں:

·       حدیث کا شذوذ سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ حدیث میں کہی گئی بات قرآن مجید، سنت متواترہ اور دیگر صحیح احادیث میں کہی گئی بات کے خلاف نہ ہو۔

·       حدیث علم و عقل کے مسلمات کے خلاف نہ ہو۔

·       حدیث کو اپنے ورود کے موقع و محل اور سیاق و سباق میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

·       حدیث کو اسی موضوع سے متعلق قرآنی آیات اور دیگر احادیث کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے کیونکہ ایک حدیث کی وضاحت دوسری حدیث میں ہو جاتی ہے۔

http://www.mubashirnazir.org/ER/Hadith/L0004-1301-Hadith.htm

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s