مذہب اور فطرت

سوال: جو لوگ مذہب کو نہیں مانتے ، ان کے ہاں بھی اخلاق اور خیر و شر کے جاننے کا اصول پایا جاتا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:مذہب تو انسان کی فطرت میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آسمان سے کوئی بات آئے گی اور وہ آپ کی شخصیت کے لیے اجنبی ہو گی۔ انسان کے اندر جو کچھ ہے ، مذہب اسی کو ابھارتا ہے۔ اسی وجہ سے جب ہم دین کا تعارف کراتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت ہے جو اس نے انسان کی فطرت کے اندر رکھی۔ پھر انبیا علیہم السلام نے اس کی تفصیل کر کے اور اسے متعین کر کے انسان کو دے دیا۔اس کے سوا انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں اس بات پر البتہ ضرور تنبیہ حاصل کر لینی چاہیے کہ ادیان کا جو اختلاف ہمیں نظر آتا ہے، اس میں ایک دین وہ ہے، جو انبیا علیہم السلام کا دین ہے، وہ جس طریقے سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کودیا گیا، اسی طرح سے پہلے نبیوں کو بھی دیا گیا تھا۔ اسے قرآن نے یوں بیان کیا ہے کہ ‘شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی۔’ (الشوری ۴۲: ۱۳)ہم نے آپ کو بالکل وہی دین دیا ہے جو دین اس سے پہلے ہم نے نوح علیہ السلام کو دیا تھا۔ اسی کی نصیحت ہم نے آپ کو کی ہے۔ یہی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا، یہی مسیح علیہ السلام کو دیا تھا اور سب کو یہ ہدایت کی تھی کہ ‘أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ’ (حوالہ سابقہ) اس دین کے اوپر قائم ہو جاؤ۔ اس کو پوری قوت کے ساتھ پکڑ لو۔ اس کو اپنی زندگی کادستور اور اپنی زندگی کا لائحۂ عمل بنا لو ۔ ‘وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ’ (حوالہ سابقہ) اور اس میں کوئی تفرقہ پیدا نہ کرو۔ انبیا علیہم السلام کے اس دین کا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کا انتخاب کر کے اپنی ہدایت ان کو دیتا ہے اور وہ یہ ہدایت انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے سارے مراحل کو قرآن مجید نے کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت جبریل امین کے حوالے کرتے ہیں۔ جبریل امین یہ ہدایت لے کر انبیا علیہم السلام کے پاس آتے ہیں۔ پھر وہ انسانوں کو ملتی ہے۔

دوسرا دین وہ ہے جس کو ہم صوفیانہ مذہب کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس دین کی بنیاد یہ ہے کہ انسان خودریاضتوں اورِ چلوّں سے گیان، دھیان حاصل کر سکتا ہے۔جس کو بدھا کی تعلیمات میں نروان کہا جاتا ہے یعنی درمیان کے اس واسطے وسیلے اورذریعے کے بجائے ، انسان اپنی ریاضتوں سے خود خدا سے تعلق پیدا کر سکتا ہے اور اس کی ہدایت اور رہنمائی بھی حاصل کر سکتا ہے۔

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/mutafariq-sawalaat2

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s