تہتر فرقے

عن عوف بن مالک قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: [لیاتین علی امتی ما اتی علی بنی اسرائیل، مثلا بمثل، حذو النعل بالنعل، حتی لوکان فیہم من نکح امہ علانیۃ،کا ن فی امتی مثلہ. إن بنی اسرائیل]۱؂افترقت علی إحدی و سبعین فرقۃ. وإفترقت النصاری علی ثنتین وسبعین فرقۃ. والذی نفس محمد بیدہ لتفترقن امتی علی ثلاث وسبعین فرقۃ، واحدۃ فی الجنۃ وثنتان وسبعون فی النار. قیل: یا رسول اللّٰہ، من ھم؟ قال: ’الجماعۃ‘،[وما انا علیہ واصحابی]۲؂[ویخرج فی امتی، اقوام تتجاری بھم تلک الاھواء کما تتجاری الکلب بصاحبہ، فلا یبقی منہ عرق ولا مفصل الادخلہ] ۳؂(ابن ماجہ، کتاب الفتن)

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر، یقیناً وہ سب کچھ گزرے گا، جو یہود پر گزرا، حتیٰ کہ اگر ان کے کسی آدمی نے علانیہ اپنی ماں سے نکاح کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ہوگا (اور تفرقے میں تو یہ ان امتوں سے بھی بڑھ جائے گی)۔ یہود اکہتر فرقوں میں بٹے اور نصاریٰ بہتر میں اور خدا کی قسم، میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے ایک کے سوا باقی سب دوزخ میں جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ یہ (جنتی) کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ’الجماعۃ‘ سے التزام رکھنے والے اور میری اور میرے صحابہ کی اس سنت پر قائم رہنے والے۔ اور آگاہ رہو کہ میری امت میں ایسے لوگ اٹھیں گے، جن میں اس طرح کی خواہشات ایسے سرایت کیے ہوئے ہوں گی جیسے کتے کے کاٹنے سے دیوانگی آدمی کے ریشے ریشے اور رگ رگ میں سرایت کر جاتی ہے کہ جسم کا کوئی حصہ اس سے بچا نہیں رہتا۔

شرح حدیث

سبعون‘ اوراسی طرح ’بضع وسبعون‘ عربی زبان میں کثرت کی تعبیر کے لیے آتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ‘، ۴؂’ ’تم ان کے لیے خواہ ستر بار استغفار کرو، اللہ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا‘‘۔ اس طرح کے الفاظ سے کوئی متعین عدد مراد نہیں ہوتا،بلکہ اس سے بعض اوقات کثرت مراد ہوتی اوربعض اوقات یہ الفاظ مبالغے کے لیے آتے ہیں۔ اس لیے بعض شارحین نے اس حدیث کی شرح میں بھی اس رائے کو اختیار کیا ہے۔ مذکورہ مفاہیم کے لیے ’سبعون‘ یا ’بضع وسبعون‘ کے نظائر تو کلام عرب میں ملتے ہیں، لیکن ’احد وسبعون‘ یا ’اثنان وسبعون‘ کے نظائر نہیں مل سکے۔ یہی وجہ ہے کچھ اہل علم نے اس کے معنی متعین عدد ہی کے لیے ہیں۔ اس لیے انھیں اس بات پر اصرار ہے کہ امت قیامت تک، تہتر یا بہتر فرقوں میں ضرور بٹ چکی ہو گی، لیکن اس پر ایک تاریخی اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ اب تک تو تہتر سے زیادہ فرقے وجود میں آچکے ہیں، لہٰذا اس بات سے پہلے نقطۂ نظر ہی کو تقویت ملتی ہے۔

ہمارے خیال میں نہ یہ تکثیر کا عدد ہے اورنہ اس سے کوئی متعین عدد مراد ہے، بلکہ یہ تمثیل کا اسلوب ہے۔ اسے اس موقعے پر استعمال کیا جاتاہے،جب ایک فریق کو دوسرے کے مقابلے میں کسی کام میں آگے بڑھ جانے پر تنبیہ کرنا مقصودہو۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ملت اسلامیہ آگاہ رہے کہ یہ تفرقے میں یہود و نصاریٰ سے بھی بڑھ جائے گی۔ ’اِن بنی اسرائیل اِفترقت علی إحدی و سبعین فرقۃ وإفترقت النصاری علی ثنتین و سبعین فرقۃ. والذی نفس محمد بیدہ، لتفترقن امتی علی ثلاث و سبعین فرقۃ، واحدۃ فی الجنۃ وثنتان وسبعون فی النار‘۔اس تمثیل میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ نصاریٰ کے بہتر اور مسلمانوں کے تہتر فرقے ہوں گے۔یہ زبان کا ایک عام اسلوب ہے، جس میں کسی لفظ سے فائدہ اٹھا کر بات میں زور پیدا کر لیا جاتا ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ اے فلاں، وہ تین مرتبہ گڑھے میں گرا ہے تو تم چار مرتبہ گرو گے۔ یہاں کہنے والے کی مراد یہ نہیں ہے کہ وہ دونوں گن کر تین بار یا چار بار گریں گے، بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ تم اس سے بھی زیادہ گرو گے۔ بالکل اسی اسلوب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود اکہتر فرقے بنے تو تم تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گے۔ ہم نے اس بات کو ترجمے میں کھول دیا ہے۔

’فرقۃ‘ یہاں مکتب فکر کے معنی میں نہیں بولا گیا،بلکہ یہاں یہ مفارقت ’الجماعۃ‘ یا مفارقت دین اختیار کرنے والے گروہ، یعنی ’من فارق الجماعۃ‘ پر عامل اور ’ما انا علیہ واصحابی‘ کے تارک کے معنی میں بولا گیا ہے،جس کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو اس حالت میں دنیا سے گیا،وہ جاہلیت کی موت مرا۔ یعنی ان فرقوں سے مراد حنفی یا شافعی ہونا نہیں ہے،بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جو ملت اسلامیہ کو سیاسی یا دینی بنیادوں پر چھوڑ کر الگ ہو گئے، مثلاًخوارج،سبائیہ اور اسماعیلیہ وغیرہ۔اس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے واضح فرما دیا ہے کہ جس نے میرے اور میرے صحابہ کی سنت کو ترک کیا یا ’الجماعۃ‘ سے تخلف اختیار کیا،وہ فرقہ دوزخی ہے۔

الجماعۃ‘ سے مسلمانوں کا نظم اجتماعی یعنی ’ریاست اسلامیہ‘ مراد ہے۔ اس میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرقوں میں بٹنے سے اگر ہم بچنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے نظم اجتماعی کے ساتھ وابستہ رہیں۔ جو گروہ اپنے نظم اجتماعی کے ساتھ وابستہ رہے گاوہی ’الجماعۃ‘ ہے۔ یہ اصل میں ملت کو سیاسی سطح پر بھی متحد کرنے یا رکھنے کے لیے سعی و جہد کا نام ہے۔ یہ اتحاد ان شرائط میں سے ہے،جو ملت کو منصب امامت پر فائز ہونے کے لیے پوری کرنی ہیں۔

ما انا علیہ واصحابی‘ سے مراد وہ دین ہے ،جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم عمل پیرا رہے۔ دین و ملت میں پھوٹ سے بچنے کے لیے یہ دوسرا حکم ہے کہ اس دین پر قائم رہو جو میں دے کر جا رہا ہوں اور جس پر میرے یہ قریبی ساتھی (صحابہ) عمل پیرا ہیں۔

اس حدیث کے بارے میں یہ بات واضح رہے کہ اس میں وارد پیشین گوئی کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور اس کے بعد کے قریبی زمانے سے ہے۔ قیامت تک کے زمانوں تک اس کا امتداد صحیح نہیں ہے۔احادیث میں، علامات قیامت کے سوا جتنی بھی پیش گوئیاں وارد ہیں،سب میں بالعموم یہی بات ملحوظ رہنی چاہیے، اس لیے کہ اس اصول کے بغیر پیشین گوئیاں سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان تمام پیشین گوئیوں کی حیثیت دلیل نبوت کی بھی ہے۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ وہ اوائل اسلام ہی میں پوری ہوں تاکہ دلیل نبوت بن سکیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان تمام پیشین گوئیوں میں، بالعموم، سرزمین عرب ہی سے متعلق پیشین گوئیاں ہوئی ہیں اور یہ بات علامات قیامت والی روایتوں میں بھی بالعموم ملحوظ ہے۔ چنانچہ ہماری رائے میں، اس روایت کا دور آپ کے بعد کا قریبی زمانہ ہے،جس میں خوارج و سبائیہ اور جبریہ و قدریہ جیسے فرقے وجود میں آئے۔ جن کی وجہ سے سرزمین عرب میں سیاسی و دینی انتشار پیدا ہو گیا اور دیر تک عالم اسلام کے لیے ایک مسئلہ بنا رہا۔ چنانچہ یہ انھی روایتوں میں سے ایک روایت ہے،جن کا تعلق خوارج کے زمانۂ ظہور سے ہے۔جن کاظہور حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں ہوا۔ اس روایت کے آخری جملوں سے بھی ہماری رائے کی تائید ہوتی ہے۔جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ میری امت میں ایسے فتنہ پرداز پیدا ہوں گے جن میں انتشار پسندی اور فرقہ سازی جنون کی حد تک ہو گی۔ ان کی اگر کوئی مثال تاریخ اسلام میں دکھائی دیتی ہے تو وہ خوارج اور سبائی ہیں۔

اوپر کی توضیحات کے بعد حدیث کا سادہ مفہوم کچھ یوں ہوگا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری ملت اپنی اس خیر قرون (بہترین دور) کے بعد، اگلی امتوں کی طرح بگاڑ کا شکار ہو گی۔اور ہر وہ برائی کرے گی جس میں پہلی امتیں مبتلا ہوئیں، حتیٰ کہ اگر ان کے کسی آدمی نے اپنی ماں سے بدکاری کی ہو گی تو میری امت میں بھی ایسا ہو گا۔یہود انتشار کا شکار ہوئے تھے تو نصاریٰ ان سے زیادہ ہوئے اور مسلمان ان سے بھی بڑھ جائیں گے۔ یہ سب فرقے دوز خ میں جائیں گے،سوائے اس فرقے کے جو آپ اور صحابہ کی سنت پر قائم اور نظم اجتماعی سے وابستہ رہے گا۔ اس افتراق کی ایک وجہ یہ ہو گی کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں فرقہ بندی یا جتھا سازی جیسی خواہشات جنون کی حد تک ہوں گی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملت اسلامیہ کابرائی کی طرف سفر ایک تاریخی حقیقت ہے۔انبیا و رسل اپنی اپنی امتوں کو خیر قرون میں چھوڑ کر گئے، مگر بعد میں وہ گمراہی کی طرف بڑھتی چلی گئیں۔ اسی تاریخی حقیقت کو آپ نے پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا کہ میری امت پہلی امتوں کی، نعل بالنعل، پیروی کرے گی۔ اس مضمون کی اور بھی کئی روایتیں ہیں،جن میں آپ نے اس درد انگیز حقیقت کا اظہار کیا ہے۔مثلاً آپ کا فرمان ہے:

خیر الناس قرنی، ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونھم. (بخاری،کتاب الشہادات) 

’’سب سے بہتر لوگ میرے دور کے ہیں، پھر وہ جو میرے دور کے لوگوں کے بعدآئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘

اسی طرح آپ کا فرمان ہے:

بدأ الاسلام غریباً سیعود کما بدأ غریبًا.(مسلم، کتاب الایمان)

’’اسلام شروع ہواتو اجنبی تھا،عنقریب پھر پہلے کی طرح اجنبی ہو جائے گا۔‘‘

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مفصل روایت بھی ہے، جس میں آپ نے خلافت کے خاتمے اوردوبارہ احیا کی خبر دی ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے کہ ہم نے خلافت قائم کی ہے، مگر جلد ہی وہ ملوکیت و جبریت میں بدل جائے گی۔اور ایک مرتبہ دوبارہ قائم ہو کر کس طرح پھر دم توڑ جائے گی۔ آپ نے فرمایا کہ اس خلافت کے ساتھ ہی ’داعیان جہنم‘ کا دور شروع ہو جائے گا۔ یہ اس فکری پستی کی طرف اشارہ ہے، جس میں امت دوسری تیسری صدی ہی میں گر گئی تھی۔ یہ وہ دور ہے جب فکر یونان اورمنطق کا شور و غوغا ہوا۔امت کے اہل علم کا ایک گروہ اس پستی میں جاگرا کہ انھوں نے ذات خداوندی کو بھی منطق کے ثبوت کا محتاج تصور کیا۔ اس سارے دور میں وہ زمانہ بھی آگیا کہ قرآن کا استدلال ان اہل علم کے ہاں بودا قرار پایا۔ چنانچہ، اہل علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہو گی کہ اس سارے علم کلام میں کہیں قرآنی استدلال کی رمق بھی دکھائی نہیں دیتی ۔

امت کے اس انحطاط کی خبر قرآن نے بھی دی ہے۔ قرآن مجید نے اگرچہ کوئی تفصیلی خبر نہیں دی، بس ایک اشارہ کیا ہے۔ یہ اشارہ ہمارے نزدیک ان تمام روایتوں کی بنیاد ہے جن میں آپ نے اس طرح کے انحطاط کی خبر دی ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات سورۂ واقعہ میں جنتی گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمائی ہے کہ جنتی لوگ جن گروہوں میں بٹ جائیں گے، ان میں ایک گروہ سابقون کا ہو گا۔ اس گروہ کے بارے میں قرآن مجید نے یہ تفصیل دی ہے کہ وہ ’ثلۃ من الاولین و قلیل من الاخرین‘ ہو گا۔ یعنی اگلوں میں سے بہت بڑی تعداد میں اور پچھلوں میں سے تھوڑی تعداد میں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آہستہ آہستہ اخیار امت کی تعداد کم ہوتی جائے گی۔

امت اسلامیہ پچھلی امتوں کی،نعل بالنعل، پیروی کرے گی۔ اس کے لیے بھی قرآن مجید میں بعض اشارات موجود ہیں۔ مثلاً سورۂ فاتحہ کے آخرمیں ہمیں ایک دعا سکھائی گئی ہے کہ ’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ‘۔ اس دعا میں یہود (المغضوب علیہم) اور نصاریٰ (الضالین) کا ذکر کر کے یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں ان دونوں کے راستے سے بچائے۔ ظاہر ہے، ان کے راستے سے مراد وہ دین و شریعت نہیں ہے ،جو اللہ نے انھیں عطا کی تھی،بلکہ ان کی وہ روش ہے،جو انھوں نے خدا کی شریعت اور اس کے انبیا علیہم السلام کے بارے میں اختیار کی، جس کی تفصیل اس سورۂ فاتحہ کے فوراً بعد ہی بقرہ و آل عمران میں کر دی گئی ہے۔

یہ سورہ ایک طرف ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیں دعا کیا کرنی ہے تو دوسری طرف ہمیں اس امکان کی خبر بھی دیتی ہے کہ امت ان گمراہ قوموں کے راستے پر چل نکلے گی۔ اس لیے کہ اللہ کی طرف سے سکھائی جانے والی دعا بلاوجہ نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس دعا کو امت کے شب و روز کا وظیفہ بنا دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات کہ امت اسلامیہ پہلوں کی پیروی کرے گی،قرآن کے اسی طرح کے اشارو ں پر مبنی ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس سورہ میں اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ امت نے اگر صراط مستقیم کو چھوڑا تو وہ یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پرضلالت کے تاریک گڑھوں میں جا گرے گی۔

یہود کی پیروی میں،تفرقے میں پڑنے کامعاملہ بھی عام برائیوں کی طرح کا ہے، اس لیے کہ اس کی بنیاد بھی وہی ہو گی،جو برائی میں پڑنے کی ہے،جسے ہم نے اوپر بیا ن کیا ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ بقرہ اور آل عمران میں امتوں کے تفرقے میں پڑنے کی وجہ بیان فرما دی ہے۔ اس کے بعد ہمیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہم اس سے کیسے بچیں گے۔اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

اس روایت میں آپ نے یہ بھی بیان فرما دیا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن میں تفرقہ اور انتشار پسندی کوٹ کوٹ کربھری ہو گی۔یہ اصل میں اس تفرقے کا بڑا سبب ہے، جو ملت اسلامیہ میں تفرقہ بندی کا باعث بنے گا۔ قرآن مجید نے پچھلی امتوں میں تفرقے کے اس سبب کو ’بغیا بینھم‘۵؂کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ ’بغیا بینھم‘ کی ایک شکل یہ بھی ہے،جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تمثیل کی صورت میں بیان کر دیا ہے:’میری امت میں ایسے لوگ اٹھیں گے جن میں اس طرح کی خواہشات اس طرح سرایت کی ہوں گی،جس طرح کتے کے کاٹنے سے دیوانگی آدمی کے ریشے ریشے اور رگ رگ میں سرایت کرجاتی ہے کہ جسم کا کوئی حصہ اس سے بچا نہیں رہتا۔ اس کا مصداق، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا،خوارج و سبائیہ ہیں۔

اس حدیث میں ہماری دنیا کے اندر خیر و شر کی اس ستیزہ کاری کی طرف اشارہ ہے۔ جوازل سے ان دونوں کے درمیان جاری ہے کہ حق آتا ہے،پروان چڑھتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگ اس سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔شر ان پر غلبہ پا لیتا ہے اور انسان ہر خیر قرون(بھلے زمانوں) کے بعد شرقرون (برے زمانوں) کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔حتیٰ کہ قرآن کے مطابق حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اخیار امت کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔اگلوں کی تاریخ اس طرح دہرائی جاتی ہے کہ گویا اگلوں کی،نعل بالنعل پیروی کی گئی ہو۔اسی تلخ حقیقت کا اظہار آپ نے اپنی اگلی بات کی تمہید کے طور پر کیا ہے کہ میں جس خیر امت کو چھوڑ کر جا رہا ہوں وہ ایسے ہی نہیں رہے گی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ شر کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ یہی اگلوں کی تاریخ ہے۔ پہلے یہود اس سے دوچار ہوئے، پھر نصاریٰ اور اب ملت اسلامیہ بھی اس حالت سے گزرے گی،بلکہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ جائے گی۔

اس بگاڑ کی آپ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ امت پہلوں کی پیروی میں اس حدتک بڑھ جائے گی کہ بیٹا ماں سے بدکاری کرے گا۔ یہ امتوں میں انفرادی سطح پر بگاڑ کی انتہائی صورت ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اخلاق و حیا کی ساری قدریں پامال ہو چکیں ۔حتیٰ کہ ماں بیٹے کا مقدس رشتہ بھی مقدس نہ رہا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جس ملت کو میں اس کی ’خیر قرون‘ میں چھوڑ کر جا رہا ہوں،اس کے بگاڑ سے متنبہ رہو۔ یہ آہستہ آہستہ بگاڑ کا شکار ہو گی۔ اس کے سربر آور دہ لوگوں کویہ خیال کر کے کہ امت کی اصلاح ہو چکی،اپنے اصلاحی کا م سے کسی مرحلے پر بھی رک نہیں جانا چاہیے۔ اور نہ معاشرے میں درآنے والی برائیوں سے نچنت ہو جانا چاہیے۔

فرقہ بندی اسی تلخ حقیقت کی ایک اور مثال ہے جو انفرادی زندگی کے بجائے اجتماعی زندگی سے متعلق ہے ،لیکن یہ محض مثال نہیں ہے،بلکہ اس مثال کے ذریعے سے صحابہ رضوان اللہ علیہم کو آگاہ کیا گیا کہ امت کو درپیش خطرات میں سے ایک خطرہ فرقہ بندی بھی ہے۔ ہم اوپر یہ واضح کر چکے ہیں کہ فرقوں سے مراد خوارج وغیرہ ہیں۔

ہم اوپر یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہمیں ایک نظم اجتماعی کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ ہم بحیثیت امت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد،ان کی نیابت میں ’شہادت ۶؂علی الناس‘ کا فریضہ انجام دیتے رہیں۔ چنانچہ، اگر ہمارے درمیان ایسے فرقے بن جائیں اور ان کی وجہ سے ملت کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے تو یہ ملت نیابت رسول کے منصب سے خودبخود معزول ہو جائے گی۔ اس لیے کہ پابندی شریعت اور نظام عدل کے قیام کے ساتھ ساتھ، اتحاد ملت بھی کارشہادت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے کہ اس طرح کے سیاسی و دینی گروہوں میں بٹی ہوئی ملت ایک امت کی حیثیت کھو دیتی ہے۔ چنانچہ، جو فرقے اس افتراق کا باعث بنیں گے،وہ اصل میں ملت اسلامیہ کو ’شہادت علی الناس‘ کا فریضہ ادا کرنے سے روک دیں گے۔ ملت اسلامیہ کا اپنے اس منصب سے عزل باطل قوتوں کے فروغ اور ملت اسلامیہ کے زوال کا باعث بنے گا۔ یہی وہ خطرہ ہے،جس سے ملت کو آگاہ کرنا،اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ہے۔ اس طرح کے تمام فرقے جو ملت کو اس کے منصب سے ہٹا دیں گے،وہ بلاشبہ اس سزا کے مستحق ہیں،جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

اس روایت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اجتماعی سطح پر ناکامی اصل میں دو باتوں سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ ایک یہ کہ مسلمان دین خالص پر قائم نہ رہیں (قرآن کے الفاظ میں اعتصام بحبل اللہ کو ترک کر دیں)، اوردوسرے یہ کہ وہ ’الجماعۃ‘ کا التزام ترک کر دیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ ثابت ہو جاتی ہے کہ ملت ان باتوں کے اہتمام ہی سے دوبارہ اجتماعی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے صرف اسی فرقے کو کامیاب قراردیا ہے،جو ان دونوں کا اہتمام کرے گا۔

اس کامیابی کے لیے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، یہاں دوباتیں بیان کی گئی ہیں: ایک ’ما انا علیہ واصحابی‘ دوسرے ’الجماعۃ‘۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ما انا علیہ واصحابی‘ کے عموم میں سے ’التزام جماعت‘ کو اس اہمیت کے پیش نظر الگ سے بیان کیا ہے۔ ۷؂اس کی خاص اہمیت کی وجہ کیا ہے،ا س پر ہم ان شاء اللہ آگے چل کر بحث کریں گے۔ یہاں یہ بات جان لیجیے کہ یہ ویسا ہی اسلوب ہے، جیسا سورۂ عصر میں قرآن مجید نے اختیار کیا ہے۔ قرآن نے یہاں ایمان اور اعمال صالح کے ذکر کے بعد، ’تواصی بالحق‘ اور ’تواصی بالصبر‘ کا ذکر کیا ہے۔ یہاں قرآن نے اعمال صالحہ کے بعد اسے اس لیے بیان کیا ہے کہ ایمان کا یہ تقاضا بھی الگ سے اپنی اہمیت کے ساتھ بیان ہو جائے۔

اس روایت میں بھی ’الجماعۃ‘ کو الگ کرنے میں ایک مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں دو چیزوں کو کامیابی کا سبب قرار دیا ہے۔ ان میں سے ایک دین پر عمل ہے۔ ظاہر ہے، اگر آدمی اس دین پر عمل پیرا رہے،جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اور جو آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ کامیاب نہ ٹھہرے۔ لیکن اتنی بات کا فی نہیں تھی، اس لیے کہ اس سے ایک آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ مجرد نماز روزے کا اہتمام کافی ہے،خواہ ملت میں انتشار و تفرقے کی وجہ سے آتا ہوا ضعف اس سطح تک پہنچ جائے کہ مشرق و مغرب کی باطل قوتیں اس کا جسم کھدیڑتی رہیں یا اس کا بگاڑ یہ شکل اختیار کر جائے کہ ماں بھی اپنے بیٹے سے محفوظ نہ ہو۔ جبکہ آدمی ا س نماز روزے کا اہتمام کر کے یہ سمجھتا ہو کہ وہ ’ماانا علیہ واصحابی‘ پر عمل پیرا ہے، لہٰذا وہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ اسے ان بکھیڑوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان الفاظ سے اس نقص کو ’الجماعۃ‘ کے اضافے سے دور کیا گیا ہے۔ صرف شریعت ہی کی حفاظت اور اس پردوام کامیابی کے لیے کافی نہیں ہے،بلکہ نصرت دین کے لیے ملت کے وجود کی بقا اور اس کا استحکام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس استحکام اور اس بقا کا ایک ہی راستہ ہے کہ افراد ملت شریعت پر کاربند رہنے کے ساتھ ساتھ،ایک ملت بن کر رہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ’الجماعۃ‘ بن جائیں۔ وہ اپنے اندر ایسا اجتماعی نظم قائم کریں کہ عالم اسلام کا ایک ایک فرد اس سے جڑ جائے۔ وہ اپنے آپ کو ایک مضبوط رشتے میں بندھا ہوا محسوس کرے۔ پوری ملت دنیا والوں کو یوں محسوس ہوکہ یہ مجموعۂ افراد نہیں، جسد واحد ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو مثالیں دی ہیں،انھیں سامنے رکھیے تو دین و اخلاق میں خرابی سے بچنا ’ما انا علیہ واصحابی‘ پر کاربند رہنے میں مضمر ہے۔ اور ’التزام جماعت‘ تفرقے کے لیے کار تریاقی کرتا ہے۔ چنانچہ اس اعتبار سے اس روایت میں نہ صرف التزام جماعت اور دین و شریعت کی بے آمیز تعلیمات پر عمل کرنے والوں کے لیے بشارت ہے،بلکہ اس میں اوپر بیان کردہ، دین و دنیا کی خرابی سے بچنے کاطریقہ بھی مضمر ہے۔ یہ بعینہٖوہی طریقہ ہے، جو قرآن نے سورۂ آل عمران میں بیان فرمایا ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِعَلَیْْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِٓ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ.وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ أُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.(۳: ۱۰۳۔ ۱۰۴) 

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے مل کر تھامے رہو، اور تفرقے میں نہ پڑو اور اللہ کے اس فضل کو یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمھارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور تم ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔اورتم آگ کے ایک گڑھے پر کھڑے تھے تو اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا،اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی ہدایات کو واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ یاب ہو۔ اور چاہیے کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ہو، جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے،اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

ان آیات میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اللہ کی رسی ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اپنی سنت قائم کی۔ اسی بات کے بیان کے لیے آپ نے ’ما انا علیہ و اصحابی‘ کے الفاظ اختیار کیے ہیں۔ یعنی اللہ کے اتارے ہوئے دین پر سب مسلمان قائم رہیں،جس پر عمل کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پیروی میں صحابہ نے سنت قائم کی ہے۔ پھر اس حکم کے بعد یہ بات بھی واضح کردی کہ ہمیں دین میں فرقہ بندی سے اجتناب کرناہے۔ ان آیات پر تدبر کی نگاہ ڈالی جائے تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان دونوں حکموں یعنی ’اعتصام بحبل اللّٰہ‘ اور ’اجتناب تفرقۃ‘ کے لیے اپنے نظم اجتماعی کو یہ ذمہ داری دیں کہ وہ دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ، ہمارے درمیان ’نھی عن المنکر‘، ’امر بالمعروف‘ اور ’دعوت الی الخیر‘ کا فریضہ بھی سر انجام دے۔اس سے وہ تفرقے کے ہر راستے کو مسدود کر سکے گی۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ملت میں دین کی بنیاد پر فرقے وجود میں نہیں آئیں گے اور اگر آئیں گے تو انھیں مٹانا آسان ہوگا۔

ظاہر ہے،جب ’الجماعۃ‘ کے تحت وہ ادارہ (نظم) بھی قائم ہو، جو نہ صرف ملت کو وحدت پر قائم رکھے،بلکہ اسے’دعوت الی الخیر‘، ’نھی عن المنکر‘ اور ’امر بالمعروف‘ کے ذریعے سے، اللہ کے دین پر قائم بھی رکھے تو نہ انفرادی سطح پر اخلاقی و دینی انحطاط آئے گا اور نہ دین میں تفرقہ پیدا ہو گا۔ اسی طرح وہ سیاسی فرقے بھی وجود میں نہیں آئیں گے، جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری امت میں وہ یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ ہو ں گے۔ یہ سب کے سب دوزخ میں جائیں گے، سوائے ان کے جو رسول اللہ کے دیے ہوئے دین کے پیرو ہوں گے اور التزام جماعت کے حکم کے پابندرہیں گے۔

دوسری چیز اس بشارت سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ اوپر بیان کردہ انفرادی انحطاط اور فرقوں کے وجود میں آنے کی اصل وجہ کیا ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ ملت کا اجتماعی نظم کمزور ہو جائے گا،جس کی وجہ سے لوگ اصل دین سے ہٹ جائیں گے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکل آتی ہے کہ اس ملت کو دوبارہ اٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دو جہتوں سے کام لیا جائے۔ ایک اس کے دین کی تنقیح کی جائے اور اس کی وہ صورت اجاگر کی جائے جسے ’ماانا علیہ و اصحابی‘ کہا جا سکے۔ دوسرے اس میں وحدت امت کے اصول پر ایک نظم اجتماعی قائم کیا جائے۔ اس نظم میں ان چیزوں کا اہتمام کیا جائے، جن کو قرآن نے سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت میں بیان فرمایا ہے۔

اس بشارت کے بعد، جس میں ملت کی کمزوریوں کے اسباب اوراس کے دوبارہ عروج کے لیے کرنے کے اصل کاموں کی طرف اشارہ بھی کر دیا گیاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفرقے کے اسباب میں سے ایک بڑے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں فرقہ بندی اور انحراف جیسی خواہشات جنون کی حد تک ہوں گی۔ یہ بات جس موقع پر آئی ہے وہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اوپر کی دونوں برائیوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے اور بلاشبہ ایسے ہی ہے۔ مگر اس کے بعد باؤلے کتے کے کاٹنے کی جو تمثیل ان کے بارے میں بیان کی گئی ہے،اس سے ہمارا ذہن ان لوگوں کی طرف جاتا ہے، جو ملت میں افتراق و انتشارکا باعث بنے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ازارقہ، سبائیہ اور بالخصوص خوارج جیسے اس تشبیہ کے ویسے ہی مصداق تھے، جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے۔

یہ ان فرقوں کے وجود میں آنے کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ اس کا باعث وہ لوگ بنیں گے جو ہوس افتراق سے اسی طرح پاگل ہوں گے، جس طرح باؤلے کتے کا کاٹا پاگل ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس ریاست کی بنیاد مدینہ میں رکھی،وہ آپ ہی کی زندگی میں پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہوئی۔ آپ کے بعد اس کو صحابہ کے ہاتھ میں منتقل ہونا تھا۔ آپ کے صحابہ کے علاوہ،عرب کے وہ لوگ بھی دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکے تھے، جنھوں نے درس گاہ نبوی سے کوئی خاص تربیت نہیں پائی تھی،اس لیے یہ بعید نہ تھا کہ عرب اپنے قبائلی مزاج کو اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی نہ چھوڑیں،جس میں سرداری اور غالب رہنے کی نفسیات ان کے امتیازی خصائص میں شامل تھی۔اور جس کے لیے وہ بعاث اور داحس وغبراجیسی کئی لڑائیاں مول لے سکتے تھے۔ ا ن کے اس مزاج کے پیش نظر آپ ان دشواریوں سے نبٹنے کے لیے نہ صرف یہ کہ صحابہ کو دین کے احکام بتاتے،بلکہ قبائل کے مزاج و طبائع کے بارے میں بھی اپنا نقطۂ نظر واضح فرماتے رہتے تھے۔

اس روایت میں بھی ایک تو لوگوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں افتراق و انتشار کا داعیہ بہت قوی ہوگا، جو ملت کے لیے دشواریوں کا باعث بنے گا۔اس کے ساتھ ہی آپ نے دین کا حکم بھی واضح فرمایا کہ اس طرح کی صورت حال جب بھی پیدا ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سنت پر قائم اور نظم اجتماعی (ریاست) کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اس کے ساتھ تعاون و تناصر کا تعلق رکھیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں کو فتنوں سے بچانے والی اور انھیں وحدت پر قائم رکھنے والی ریاست ان کے درمیان موجود رہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان کے دور خلافت میں فتنہ اٹھا تو وہ سوال کرنے والوں کو یہی مشورہ دیتے کہ اس فتنے کا علاج یہی ہے کہ ’الجماعۃ‘ کے ساتھ التزام رکھا جائے:

دخل ابو قتادۃ و رجل آخر علی عثمان وہو محصور فاستاذناہ فی الحج فاذن لہما. فقالا لہ: ان غلب ہوٰلاء القوم (دعاۃ الفتنۃ) مع من نکون؟ قال: علیکم بالجماعۃ، قال: ان کانت الجماعۃ ہی التی تغلب علیک مع من نکون؟ قال: فالجماعۃ حیث کانت.(الریاض النظرۃ۳/ ۶۱) 

’’ابو قتادہ اور ایک آدمی حضرت عثمان کے پاس آئے،حضرت عثمان ان دنوں محصور تھے۔ان دونوں نے حج کی اجازت طلب کی۔ حضرت عثمان نے اجازت دے دی تو انھوں نے کہا کہ اگر یہ باغی لوگ غالب آجائیں تو ہم کس کا ساتھ دیں؟ تو حضرت عثمان نے کہا: تم پر نظم اجتماعی (الجماعۃ) کا ساتھ دینا واجب ہے، (اسی کا ساتھ دو) تو انھوں نے کہا کہ اگر ’الجماعۃ‘ ہی وہ ہو کہ جو آپ پر تغلب حاصل کر کے وجودمیں آئے تو پھر کس کا ساتھ دیں تو سیدنا عثمان نے فرمایا: نظم اجتماعی ہی کا ساتھ دو،(اس کی زمام) خواہ کسی کے ہاتھ میں ہو۔‘‘

جب تفرقہ عام ہو جائے،ہر طرف سے فتنے سر اٹھانے لگیں تو یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ سے فرمائی:

تلزم جماعۃ المسلمین وتسمع و تطع للامیر، وان ضرب ظہرک واخذ مالک فاسمع واطع. (مسلم،کتاب الامارہ) 

’’ان فتنوں میں مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے وابستہ رہنا، اپنے حکمران کے مطیع و فرماں برداررہنا،خواہ تمھیں مارا پیٹا جائے اور تمھارا ما ل تم سے چھین لیا جائے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلی امتوں کی طرح ملت اسلامیہ بھی برائیوں کی طرف بڑھے گی۔ اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس میں ایسے لوگ یا حالات پیدا ہوں گے جن کی وجہ سے ان کے اجتماعی نظم میں کمزوریاں در آئیں گی۔ یہ نظم اجتماعی دو طرح سے کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس میں سیاسی خلفشار پیدا ہواور مفارقت جماعت کی وجہ سے ملت وحدت پر قائم نہ رہے۔ دوسری وجہ یہ ہو گی کہ نظم اجتماعی اپنی دینی ذمہ داریاں یعنی ’دعوت الی الخیر‘، ’امر بالمعروف‘ اور ’نھی عن المنکر‘ ترک کر دے گا،جس کی وجہ سے اس کے دین میں بگاڑ آئے گا اور اس کے افراد دینی و اخلاقی میدان میں انحطاط کاشکار ہوں گے۔

تہتر فرقوں سے مراد معین تعداد نہیں ہے۔ یہ تمثیلی اسلوب ہے، اسے اس موقع پر استعمال کیا جاتا ہے،جب ایک فریق کو دوسرے کے مقابلے میں کسی کام میں آگے بڑھ جانے پر تنبیہ کرنی مقصود ہو۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ملت اسلامیہ آگاہ رہے کہ یہ تفرقے میں یہود و نصاریٰ سے بھی بڑھ جائے گی۔

فرقوں سے مراد مکاتب فکر نہیں ہیں، بلکہ وہ فرقے ہیں جنھوں نے دین میں تفریق کی یا ’الجماعۃ‘ سے تخلف اختیار کیا۔ ایسا کرنے والے فرقے اور گروہ ہی دوزخ میں جائیں گے۔

اوپر جو وجوہ انحطاط بیان ہوئے ہیں،انھی کی اصلاح سے ملت دوبارہ زندہ اور اپنے منصب پر فائز ہو سکتی ہے۔ یعنی معارف اسلامیہ کی تحقیق و تنقیح کے بعد اس کی اصلی صورت اجاگر کی جائے اوراس میں وحدت امت کے اصول پر ایک نظم اجتماعی قائم کیا جائے جو افراد ملت کو نہ صرف باہم متحد رکھے، بلکہ انھیں امر ونہی کے ذریعے سے دین پر قائم بھی رکھے۔

[۱۹۹۶ء ]

_________

۱؂یہ الفاظ حاکم کی ’’المستدرک‘‘ میں اسی مضمون کی ایک روایت سے لیے گئے ہیں۔ ( ۱/ ۱۲۹)

۲؂یہ الفاظ حاکم کی ’’المستدرک‘‘ میں اسی مضمون کی ایک روایت سے لیے گئے ہیں۔ ( ۱/ ۱۲۹)

۳؂یہ الفاظ حاکم کی ’’المستدرک‘‘ میں اسی مضمون کی ایک روایت سے لیے گئے ہیں۔ ( ۱/ ۱۲۹)

۴؂التوبہ ۹: ۸۰۔

۵؂الشوریٰ ۴۲: ۱۴۔ ’باہم ضد کی وجہ ہے‘۔

۶؂یہاں یہ بات واضح رہے کہ اب قرآن مجید کی روشنی میں ہماری رائے یہ ہے کہ شہادت کا مذکورہ فریضہ بنی اسماعیل کی ذمہ داری ہے۔

۷؂حاکم کی ’’مستدرک‘‘ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت ان الفاظ میں وارد ہے کہ ’کلھا ضالۃ الا فرقۃ واحدۃ: الاسلام و جماعتہم‘ ’’یہ سب گمراہ فرقے ہیں، سوائے ایک کے، اور وہ اسلام، اور جماعت پر قائم فرقہ ہے‘‘۔ (۱/ ۱۲۹)

___________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: