کردار کا جائزہ

By Talib Mohsin on March 02, 2010

ہمیں بالعموم لوگوں سے تضاد کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی انسانی آزادی کا علم بردار ہے ،لیکن خود اس کے رویے میں ہمیں آمریت نظر آتی ہے۔ کوئی انسانی ہمدردی کی باتیں کرتاہے ،لیکن ہمیں اس میں شقاوت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ کسی کے نزدیک علمی آزادی ایک بنیادی قدر ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اختلاف کرنے پر وہی آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ کوئی درویش ہونے کا مدعی ہے، لیکن اسی میں ہمیں دنیا کی محبت کے آثار نظر آتے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ کیا سب منافق ہیں۔ ہر ایک قول وفعل کے تضاد میں مبتلا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ہر انسان ایک شخصیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ انسان کے اندر کچھ طاقت ور جبلتیں ہیں۔ یہ تو ہر انسان کا مشترک اثاثہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہر شخص شکل وصورت ہی کی طرح صلاحیت اور مزاج میں بھی دوسرے سے مختلف ہے۔ پھر اس کی شخصیت جس طرح تعمیر ہوئی ہے کچھ عادتیں اس کا مستقل حصہ بن چکی ہیں۔ پھر اس کا ایک علمی وجود ہے۔ ہر انسان اپنی استعداد کے مطابق صحیح خیالات کا ادراک کرتا اور انھیں اپنی آراء کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی ہے اور وہ کسی عمل، ردعمل یا رویے کے سامنے آنے کے خارجی اسباب ہیں۔ خارجی اسباب بھی اپنے ظہور کے دو پہلو رکھتے ہیں :ایک پہلو تو وہ ہے جو وہ شخص خود سمجھتا ہے اور دوسرا پہلو وہ ہے جس کو کوئی دوسرا دیکھ رہا ہے۔کوئی بھی شخص کوئی بھی عمل یا رویہ انھی تینوں چیزوں کے تحت اختیار کرتا ہے۔ کبھی صحت فکر غالب آتی ہے، کبھی مزاج اور عادت یا جبلت غلبہ پالیتی ہے اور کبھی خارجی اسباب آدمی کو بہا لے جاتے ہیں یا کم تر رویہ اختیار کرنے کا عذر بن جاتے ہیں۔

ہم اگر اپنے گردو پیش کے افراد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بالعموم ہر فرد نیک نیتی سے خیر پر رہنا چاہتا ہے اس کے باوجود اس سے ناانصافیاں، کوتاہیاں یا مذہبی لفظ اختیار کریں تو گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادے کی صلاحیت سب سے بڑھ کر دی ہے ،وہ حالات مزاج اور عادات ،سب کا مقابلہ کر سکتا اور صحیح عمل کرنے کے لیے ضروری قدرت رکھتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو انسان کو جس آزمایش میں ڈالا گیا ہے ،وہ باطل ہو جاتی ہے۔ مراد یہ کہ جزا وسزا کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔

ہم ہر فرد کے کردار کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ جائزہ لیتے ہوئے ہم ان سارے پہلوؤں کو ملحوظ نہیں رکھتے جن سے ہر انسان دوچار ہے۔ کسی شخص کے کسی ایک موقع یا چند مواقع پر کسی غلطی کا ارتکاب کرنے کو ہم اس کی شخصیت کا عنوان بنا دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس یہ ہوتی ہے کہ وہ کئی مواقع پر اسی غلطی کے ارتکاب سے بچا ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اسی طرح غلطی بھی کرتا اور غلطی کرنے سے اپنے آپ کو بچاتا بھی ہے۔ فیصلہ کسی ایک صحیح عمل یا غلط عمل سے نہیں ہونا چاہیے ،بلکہ بحیثیت مجموعی دیکھنا چاہیے کہ غلطی سے بچنے کا تناسب کسی شخص میں کیا ہے۔ اسی طرح غلطی کے ارتکاب کے مواقع کا بھی جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ اس طرح کی داخلی اور خارجی صورت حال میں کوئی شخص کتنا معذور ہو سکتا ہے۔

اس طرح جائزہ لینے ہی کی صورت میں ہم کسی شخص کے بارے میں بہتر رائے قائم کر سکتے ہیں۔ اگر ہم انسان کی جبلت کے تقاضوں، اس کے مزاج اور صلاحیت کی محدودیتوں، اس کی عادات اور تربیت کی کارفرمائیوں اور حالات کی جبر آزمائیوں کو نظر انداز کرکے اس کا جائزہ لیں گے تو ہم اس کی اس جدوجہد کی قدر نہیں کر پائیں گے جو اس نے انھی عوامل کی موجودگی میں متعدد مواقع پر خیر پر رہنے میں کی ہے۔

ہم آزادی کے علم بردار ہونے کے باوجود جبریت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہم ہمدرد ہوتے ہیں، لیکن ہم سے شقاوت اور ظلم صادر ہوتا ہے۔ ہم پوری نیت رکھتے ہیں کہ دوسرے کو فکروعمل کی آزادی دیں، لیکن پھر بھی ہم کئی موقعوں پر اس پر عمل نہیں کر پاتے۔ ہم میں سے کوئی بالکلیہ خطا سے مبرا نہیں ہو سکتا ہے۔ ہماری جدوجہد یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ خیر پر رہیں۔ جس شخص کے بارے میں ہم رائے قائم کر رہے ہیں ،اس کے ہاں جو چیز غالب ہے رائے اس کے مطابق ہونی چاہیے۔ کسی موقع یا چند مواقع پر غلطی کا ارتکاب قول وفعل کا تضاد نہیں ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s