بچوں کی بڑی بڑی بیماریوں کی وجہ

سوال

یہ بتائیے کہ بچوں پر بڑی بڑی بیماریاں جیسے بلڈ کینسر وغيرہ کیوں آتی ہیں۔ جب کسی بڑی عمر کے آدمی کو ایسی بیماری لگتی ہے تو ہم عموما یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آزمائش ہے۔چنانچہ جب یہ بڑی عمرکے آدمی کو ہو تو یہ تو عقلی(logical) لگتا ہے ۔ لیکن بچے کے بارے میں دل اس logic پر مطمئن نہیں ہوتا کہ والدین کی آزمائش ہے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ انصاف کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے ، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ والدین کے گناہوں یا آزمائش کی سزا بچے کو ملے۔ اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارے بچوں کو کیوں کر سزا دے سکتے ہیں۔ کیا آپ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں۔ میں قرآن و سنت کی روشنی میں جواب حاصل کرنا چاہتاہوں۔ اور ایسے logic سے کہ جسے میں غیر مسلموں کو بھی سمجھا سکوں۔

جواب (Sajid Hameed)

آپ کا سوال اچھا ہے؟ اس طرح کے سوالات دین کے سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں ۔دیکھیے ہم جب یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا آزمائش کے لیے بنی ہے۔ تواس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے آزمائش کا مطلب سمجھ لیں۔

آزمائش کے معنی سزا کے نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسانی یامشکل میں ڈال کر آدمی کے رد عمل (reaction)کو دیکھا جائے کہ وہ رب کے معاملے میں غلط روش سے بچارہتا ہے یا نہیں۔آپ کے سوال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے آزمائش اور ‘گناہ کی سزا ‘کو ایک بنا دیا ہے۔ جیسے آپ نے لکھا ہے کہ بڑے نے گناہ کیا ہوتا ہے اس لیے اس پربیماری آنا logical ہے۔ آزمائش گناہ کرنے کی وجہ سے نہیں آتی ، بلکہ اس دنیا میں ہمیں بھیجے جانے کا اصلی سبب یہی آزمائش ہے۔ہم گناہ کریں یا نہ کریں آزمائش لازما آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کو بھی مشکلات کا سامنا ہوا۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شعب ابی طالب کی مصیبت، طائف کے اشرار کی سنگ باری اور آپ کا زخموں سے لہو لہان ہو جانا،احد کے میدان میں چہرہ مبارک پرچوٹ آنا، اور دندان مبار ک کا ٹوٹ جانا ، آپ کی نرینہ اولاد کا بچپن ہی میں فوت ہو جانا، آخری ایام میں مرض کا لاحق ہوناوغیرہ۔یہ سب اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ گناہ کیے تھے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ آیا آپ ثابت قدم رہتے ہیں یا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں سب سے زیادہ ستایا گیا ہوں۔ اس کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے کہ آپ کا مکی دور آپ کے لیے کمر توڑ دینے والا تھا(دیکھیے سورہ الم نشرح)۔آزمائش کو سمجھنے کے بعد اب آزمائش کی قسموں کو دیکھتے ہیں ۔قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ آزمائشیں کئی طرح کی ہیں۔ انھیں قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بیان کیا ہے ۔میں آپ کو صرف اس مقام سے حوالہ دے رہاہوں، جو آپ کے سوال سے متعلق روشنی ڈال سکے۔یہ سورہ البقرہ کی 155آیت ہے اس کے الفاظ اور ترجمہ یوں ہے :

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الاَمَوَالِ وَالانفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور پیداوار کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (اللہ کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو۔

اس کے مخاطب صحابہ تھے انھیں یہاں آزمائش کی پانچ بڑی صورتیں بتائی گئی ہیں :

١۔ خوف( دشمن، بیماری، آفت اور اس طرح کے بے شمار خوف)

٢۔ بھوک(یعنی ایسی غربت کہ کھانا نہ ملے، یا آدمی غریب نہ ہو مگر اس کو ایسی جگہ پھنسا دیا جائے کہ وہ فاقوں کا شکار ہو جائے)

٣۔ مال میں نقص(دینے میں کمی یا دینے کے بعد کمی)

٤۔ جانوں میں نقص( اپنے یا اپنے عزیزوں کی جان لے کر یا انھیں کسی تکلیف میں ڈال کر)

٥۔ پیداوار( یعنی فصلوں میں ،کاروبار میںاور منافع کمانے کے کاموں میں نقصان سے )

اس میں جو چوتھی صورت ہے اس کے تحت آپ کی مثال آتی ہے کہ بچے ماں باپ کو جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ، خاص طور پر پہلے چار پانچ سال میں تو ان کی معصومیت ،نازکی اور کمزوری سب پر عیاں ہوتی ہے۔اس لیے ان کی تکلیف پر والدین تو کیا ارد گرد رہنے والے بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔اب اللہ تعالی اس مصیبت سے والدین کے رد عمل کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس آزمائش کے بعد خدا سے سرکش تو نہیں ہوئے ؟ اس کے در کو چھوڑ کر اپنے جیسے انسانوں کی دہلیز پر تو جا کر نہیں گرے،وغيرہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s