کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے

ثاقب لکھنوی

 1869-1946

میرزا ذاکر حسین قزلباش's Photo'

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے

جوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے

لہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے

بہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے

وفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ

گھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے

ہجوم تمنا سے گھٹتے تھے دل میں

جو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے

میں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے تا کے

کبھی چیخ اٹھوں گا غم سہتے سہتے

بتاتے ہیں آنسو کہ اب دل نہیں ہے

جو پانی نہ ہوتا تو دریا نہ بہتے

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا

زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے

مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقبؔ

کنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s