تکفیر کا جرم

By Talib Mohsin on April 01, 2009

عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا کَفَّرَ الرَّجُلَ أَخَاہُ فَقَدْ بَاءَ بِہَا أَحَدُہُمَا.

حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّمَا امْرِیءٍ قَالَ لِاَخِیْہِ یَا کَافِرُ. فَقَدْ بَاءَ بِہَا أَحَدُہُمَا. إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَیْہِ.

حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا۔

لغوی مباحث

‘باء بہا’ : ‘بوء ‘ کا لفظی مطلب ‘لوٹنا ‘ہے۔ اس کے ساتھ بطور صلہ ‘ب’ لگتا ہے تو اس کے معنی ‘لوٹانے ‘ کے ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر ‘ب’ کے بعد ‘حق’ یا ‘ذنب’جیسا کوئی لفظ ہو تو اس کے معنی لازم آنے یا مستحق بن جانے، اقرار کرنے اور قبول کرنے کے ہیں۔ اس روایت میں یہ لفظ لازم آنے کے معنی میں ہے اور اس معنی میں یہ قرآن مجید میں بھی استعمال ہوا ہے۔جیسے سورۂ بقرہ(۲:۹۰) میں ‘فَبَآءُ وْبِغَضَبٍ’ آیا ہے، لیکن یہ محاورہ بالعموم اسی صورت میں استعمال ہوتا ہے جب نتیجے کے طور پر کوئی بات سامنے آئی ہو۔

‘لأخیہ’، ‘أخاہ’: اپنے بھائی کو۔ شارحین نے اس کو اسلامی رشتۂ اخوت یا مسلم کی صفت کو محذوف مان کر مسلمان بھائی کے معنی میں لے کر کھولا ہے۔ سیاق وسباق سے یہ بات واضح ہے کہ یہاں اسی شخص کو کافر قرار دینا مراد ہے جس کا مسلمان ہونا معلوم ہے اور کسی دینی غلطی کی بنیاد پر اس کی تکفیر کی جارہی ہے۔

معنی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس مفہوم کا حامل ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا سنگین نتیجے کا حامل ہے۔ وہ نتیجہ یہ ہے کہ اگر کہنے والا سچا ہوا تو ٹھیک، ورنہ یہ کفر اس کی طرف لوٹ جائے گا۔اصولاً یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کی تکفیر نہیں ہونی چاہیے۔ مسلمان فکری اور عملی گمراہیوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ہر مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کی اصلاح کا کام نصیحت اور خیرخواہی کے اسلوب میں کرے۔ اسے کافر قرار دینا نصیحت اور خیرخواہی، دونوں کے خلاف ہے۔ اگر اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کا رویہ بہت برا ہے اور اس بات کو ادا کرنے کے لیے ایک سخت اسلوب اختیار کیا گیا ہے تو اس روایت میں کوئی مشکل نہیں ہے، لیکن اگر کافر ہونے کی بات حقیقی معنی میں ہے تو پھریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی غلطی کی بنا پر کفر لازم آتا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ درست ہے کہ کسی مسلمان کو کافر قرار دینا ایک سنگین غلطی ہے، لیکن اس کا نتیجہ یہ کہ وہ خود ہی کافر ہو جائے، بہت ہی غیر معمولی ہے۔ یہ بات بالعموم شارحین کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک ایک امکان یہ ہے کہ ‘ باء بہا ‘ میں ‘ہا’ کی ضمیر کفر کے بجاے معصیت کی طرف لوٹائی جائے۔ اس صورت میں روایت کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر اس نے غلط طور پر کافر قرار دیا ہو گا تو اس کو کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کے گناہ کا نتیجہ بھگتنا ہو گا۔دوسرا امکان یہ ہے کہ اس نے کسی کو کافر قرار دینے کو حلال کر لیا ہے اوراس کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے حرام کو حلال بنا لیا ہے اور حرمت کی حلت کفر ہے۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی تکفیر گویا خود اپنی تکفیر ہے، اس لیے کہ بنیادی عقائد دونوں کے ایک ہیں۔ چوتھا امکان یہ ہے کہ اس طرح کے ارشادات ان گروہوں سے متعلق ہیں جو بطور گروہ تکفیر کا ذہن رکھتے ہیں، جیسا کہ دور اول میں خوارج کا گروہ ظاہر ہوا تھا۔ پانچواں امکان یہ ہے کہ یہاں کثرت تکفیر کا پہلو پیش نظر ہے، یعنی بات بات پر لوگوں کے ایمان کی نفی کرنا ایک انتہائی غلط رویہ ہے اور یہ چیز بالآخر آدمی کے اپنے ایمان کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے تمام حل تکفیر کے لوٹنے کو ایک حقیقت مان کر کیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ روایت اسی اسلوب کی حامل ہے جو اسلوب ” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” جیسی روایتوں میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جس نے کسی مسلمان پر ہاتھ اٹھایا، وہ مسلمان نہیں ہے یا جس نے کسی مسلمان کو گالی دی، وہ مسلمان نہیں ہے۔ یہ روایت صرف ایک مسلمان کے ایمان وعمل سے اس طرح کے اعمال کی انتہائی عدم مناسبت کو واضح کرتی ہے۔ یہی معاملہ زیر بحث روایت کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تکفیر ایک بڑا جرم ہے۔ آپ نے یہ فرما کر لوگوں کو تکفیر کی ذہنیت میں مبتلا ہونے سے روکا ہے۔ آپ نے انھیں ایک خطرے سے خبردار کیا ہے کہ کہیں تمھارا اپنا ایمان ہی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ کسی دوسرے کی تکفیر خود اپنے لیے خطرہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی خیر خواہی اور اصلاح کے جذبے سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ چیز امت کے اتحاد اور یگانگت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ یہ رویہ اختیار کرنے والا امت میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے کا جرم کرتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہیں جو تکفیر کے جرم کو ایک شنیع جرم بنا دیتے ہیں۔

متون

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کے دو متن نقل کیے ہیں۔ کتب روایت میں یہی دو متن نقل ہوئے ہیں۔ ان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ کفر کے کسی ایک کی طرف لوٹنے والی بات ایک متن میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے، جبکہ دوسرے متن میں محض اصولی بات بیان ہوئی ہے۔ یہ فرق شروع ہی سے چلا آرہا ہے۔ دور اول کی کتب میں بھی یہ فرق موجود ہے۔ باقی فرق محض لفظی ہیں ۔ مثلاً ‘أخ ‘ کی جگہ’رجل’ کا لفظ بھی آیا ہے۔ بعض متون میں ‘باء بہا’ کے بجاے ‘ وجب الکفر’ یا ‘ رجعت ‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ ‘إذا کفر الرجل ‘ کی جگہ ‘أیما رجل کفر ‘ کا اسلوب بھی آیا ہے۔ بعض متون میں مسلم کی صفت کی تصریح بھی آئی ہے۔

کتابیات

بخاری، رقم۵۷۵۲۔ ۵۷۵۳؛ مسلم، رقم۶۰؛ ابن حبان، رقم۲۴۸۔ ۲۵۰؛ ابوداؤد، رقم۴۶۸۷؛ ترمذی، رقم ۲۶۳۷؛ بیہقی، رقم۲۰۶۹۱؛ احمد، رقم۴۶۸۷، ۴۷۴۵، ۵۰۳۵، ۵۰۷۷، ۵۲۵۹۔ ۵۲۶۰، ۵۸۲۴، ۵۹۱۴، ۵۹۳۳، ۶۲۸۰؛ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم۵۰۲؛ مسند طیالسی، رقم ۱۸۴۲؛ المسند (ابوبکر الحمیدی)، رقم۶۹۸؛ المعجم الکبیر، رقم ۱۰۵۴۴؛ المعجم الاوسط، رقم۱۱۱، ۱۲۳۶؛ مسند ابن الجعد، رقم۱۵۹۴؛ موطا مالک، رقم۱۷۷۷؛ الادب المفرد، رقم۴۳۵، ۴۳۹، ۴۴۰۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s