جبریہ اور قدریہ میں سے کس کا موقف درست ہے؟

قدریہ اور جبریہ پہلی صدی ہجری کے دو مکاتب فکر تھے۔ قدریہ کا کہنا یہ تھا کہ انسان اپنے اعمال کے لیے آزاد ہے جبکہ جبریہ کا کہنا یہ تھا کہ انسان مجبور محض ہے۔ اس معاملے میں راہ اعتدال وہی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں سمجھائی کہ اپنی ٹانگ اٹھاؤ۔ اس نے اٹھا لی تو فرمایا کہ دوسری اٹھا لو۔ اب وہ اٹھا نہ سکا تو آپ نے فرمایا کہ یہی جبر و قدر کا فیصلہ ہے۔ انسان کو بعض اختیارات دیے گئے ہیں اور انہی کا حساب ہو گا اور جو چیزیں اس کے اختیارات سے باہر ہیں، ان کا حساب نہ ہو گا۔

بعض لوگ جبریہ نقطہ نظر کے حق میں قرآن مجید کی وہ آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالی ہی کے اختیار میں ہے۔ ان کے سیاق و سباق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جبر و قدر کا نہیں بلکہ امہال اور توفیق کا قانون بیان ہوا ہے۔ جو شخص اپنی مرضی سے برائی کا راستہ اختیار کرنا چاہے، تو اللہ تعالی اسے اس کی مہلت دے دیتا ہے۔ اسی کو وہ “جسے چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کرتا ہے” سے تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی مرضی سے نیکی کا راستہ اختیار کرنا چاہے، اللہ تعالی اسے اس کی توفیق دیتا ہے۔ اس کو “جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے” کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی ہدایت اسی کو دیتا ہے جو ہدایت کے راستے پر آنا چاہیے اور اس کے لیے راہ ہموار فرما دیتا ہے۔ اسے ’’توفیق‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص گمراہی کا راستہ اختیار کرنا ہے، اللہ تعالی  اسے اس راہ پر چھوڑ دیتا ہے اور اسے پکڑ کر زبردستی نیکی کے راستے  پر نہیں چلاتا۔ اسے ’’امہال‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان آیات و احادیث میں یہی اصول بیان ہوا ہے۔

باقی رہا جبریہ کا نقطہ نظر، تو اس پر یہ اعتراض تو رہتا ہے کہ پھر ہمیں کس بات کی جزا و سزا ملے گی اگر اللہ تعالی نے ہی ہمیں اس پر مجبور کیا ہے۔ پھر تو آخرت اور جزا و سزا کا سارا عقیدہ ہی بے کار ہے۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا وہ کہتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جزا و سزا ہمارے لیے کیوں ہے اور پتھروں اور جانوروں کے لیے کیوں نہیں؟اسی طرح قدریہ کے نقطہ نظر کو مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہیں، جن میں انسان خود کو مجبور پاتا ہے۔  اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں ہے۔ دین اسلام نے اعتدال کا راستہ سکھایا ہے اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف ہے۔

والسلام

مبشر

http://www.mubashirnazir.org/QA/000400/Q0320-Jabar-o-qadar.htm

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s