غیر مسلم کی اخروی نجات کا معاملہ ، قرآن کی روشنی میں

Wednesday, 23 December 2015

غیر مسلم کی اخروی نجات کا معاملہ ، قرآن کی روشنی میں:

جو سوالات ہر انسانی ذہن میں اٹھتے ہیں، وہ فطرت میں خدا کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہوتے ہیں۔ ان سوالات کا ہر دماغ میں خود سے پیدا ہونا اس کی دلیل کہ خدا ہم سے چاہتا ہے کہ ان کا جواب تلاش کیا جائے، اور یہی وہ ہدایت کا راستہ ہے جس پر چل کر حق تک پہنچا جا سکتا ہے ،خدا کے  بنائے ہوئے اس فطری تجسس کو غلط سمجھنا اور ان    سوالات کے اٹھنے پر اعتراض کرنا خدا کی فطرت پر اعتراض کرنا اور ان کے جواب سے پہلو تہی برتنا، اپنے جہل کا اعتراف کرنا ہے۔

ان سوالات میں سے ایک سوال جس سے ہر ایک کو سابقہ پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا صرف مسلمان ہی اخروی نجات اور ابدی جنت کے مستحق ہیں؟ ایک غیر مسلم جس کے پاس حق کی تعلیم نہیں پہنچی یا اس طرح نہیں پہنچی کہ اسے قائل کر سکی  ، اور وہ دنیا سے اس حال میں گزر گیا کہ اس کے ماحول اور معاشرے میں جو عقیدہ یا بدعقیدگی رائج تھی،  اس پر  اس کا ایمان  یا  گمان تھا، کیا وہ ابدی جھنم کا مستحق ہے؟ ایسا کیوں؟ ایک مسلم جسے گھر بیٹھے ، بلا محنت اور بلاغوروفکر اسلام اور ایمان کی دولت مل گئی وہ جنت کا مستحق ہے لیکن ایک غیرمسلم پر اتنی بڑی ذمہ داری کیوں ہے کہ وہ اسلام کو جانے، پھر پرکھے، اور اس کے بعد ہر قسم کے تعصبات سے بلند ہو کر ، اپنے ماحول اور معاشرے کی مخالفت مول لے کر اسلام اور ایمان قبول کرے اور اگر یہ سب نہیں کرتا تو اس کی نجات ممکن نہیں؟ خدا نے انسانوں میں سے کچھ کو اتنی سہولت کیوں دی کہ وہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوکر جنت کے مستحق اور دوسرے غیر مسلم کے گھر پیدا ہوکر اتنی بڑی آزمائش کا شکار؟

اس سوال کے جو روایتی جواب دیئے جاتے ہیں وہ یقینا اطمینان بخش نہیں۔ اگر وہ اطمینان بخش ہوتے تو یہ سوال بار بار نہ پوچھے جاتے۔  ہم ان سوالات کا جواب قرآن پاک سے تلاش کریں گے، کیوں کہ  ہم جانتے ہیں کہ قرآن حق و باطل ، درست اور غلط  کے درمیان فرق کرنے اورجانچنے کے لیے، اور مخمصوں اور کنفیوژن دور  کرنے کے لیے میزان اور فرقان بنا کر نازل کیا گیا ہے۔  یعنی  عقائد، اخلاق ، عبادات اور مابعد الطبیعات  (Metaphysics or Transcendental Values)   کے معاملات میں، جہاں انسانی عقل فیصلہ کن نہیں ہو سکتی،  قرآن ،انسان کی مکمل اورقطعی رہنمائی کرتا ہے،

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تا کہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کر دینے والا بنے!

اللَّـهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ (42:17)

اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری، یعنی میزان نازل کی ہے

ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا تعلق عقایداور تصور خدا سے جڑا ہوا ہے ، اس لیےیہ قرآن کے موضوعات کے دائرہ میں آنا چاہیئے ، اور اس میں بھی ہمیں مکمل اور قطعی رہنمائی  ملنی چاہیئے:

اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔

دینِ حق کے نہ  ماننے والے،  چار طرح کے لوگ ہو سکتے  ہیں:

1۔ ایک وہ  جن پر دین کا حق پیغام ہرطرح کے دلائل ع براہین وغیرہ سے ثابت ہوگیا۔اور ان کے ضمیر قائل ہوگئے ۔ان میں انبیاء کے براہ راست مخاطبین بھی شامل ہیں،جن پر اتمام ِحجت ہوا اورقیامت تک کے وہ تمام لوگ بھی  جن کی عقل و فہم نے غورو فکر کے بعد اسلام کے دینِ حق ہونے کا فتوی دیا ۔ لیکن انہوں نے اپنے ضمیر کے قائل ہوجانے کے بعد بھی محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کردیا۔

2۔ دوسرے وہ جن پر حق واضح نہ ہو سکا ۔ دینِ حق کی دعوت اور تعلیم ان تک پہنچی لیکن  اس طرح نہ پہنچی کہ ان کو قائل کرسکتی اور ان کے ضمیر اس کو تسلیم کرلیتے، انہوں نے ناسمجھی سے انکار کردیا۔انبیا ء کے براہ راست مخاطبین  ، جن کو ہر طرح کے دلائل سننے، سمجھنے اور مشاہدات کے موقع ملا، ان کے علاوہ دیگر  تمام  انسان  اس  زمرے میں شامل  ہو سکتے ہیں۔

3۔ تیسرے وہ جن تک دینِ حق کی دعوت سرے سے پہنچی ہی نہیں۔ ان کے پاس اپنی  عقل اور حواس کے علاوہ کوئی الہامی ذریعہ علم نہیں  تھا یا نہیں ہے۔

4۔ وہ لوگ جنھیں دین کی تعلیمات خالص اور درست حالت میں میسر نہ آسکیں۔ دین کی تعلیمات تحریف شدہ شکل میں ان تک ملیں، اور انہوں نے ان کو ویسے ہی مان لیا جس حالت میں انہوں نے پائیں اور انے ضمیر کی حد تک پوری سچائی سے ااس پر ایمان لائے۔  انہوں نے انکار نہیں کیا بلکہ ایمان  کی جو غلط تعلیم  انہین ملی انہوں نے مان لی۔

پہلے تین انکار کرنے والے ہیں اور چوتھی قسم  کے لوگ ایمان لانے والے ہیں۔ لیکن ان کا ایمان غلط تعلیم ملنے سے غلط ہوباتوں پر ہو گیا۔ غور کیجیئے تو  چوتھی قسم میں صرف  یہود و نصاری ہی نہیں،  مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہیں، یعنی ایسے لوگ جن کے لئے دین کی تعلمات پر مختلف اور متضاد تعبیرات کی وجہ سے اصل حقیقت جاننا مشکل ہو گیا ہے، توحید اور رسالت جیسی بنیادی تعلیم بھی عجیب و غریب تاویلات کا شکار ہیں ۔یہ مشکل اس لیے بھی زیادہ ہو گئ ہے کہ قرآن، جو اگرچہ محفوظ ہے لیکن اس  کے سمجھنے کے بارے میں عوام بلکہ علما میں بھی یہ تاثر بہت قوی کر دیا گیا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا سمجھنا ، بغیر اختصاصی علوم کے ممکن ہی نہیں،  عوام کو اس کو خود سے سمجھنے کی  کوشش گمراہی کی طرف لے جائے گی۔  ددوسری طرف تفسری روایات میں ہر رطب و یابس کی شمولیت ، اور اس سے بڑھ کر تفسیرِ باطنی کے کے نظریے نے  بہت سوں کوقرآن فہمی سے بالکل ہی مایوس کر دیا کیونکہ یہ صوفیانہ دعوی کر دیا گیا  ہےکہ قرآن کا ظاہری مطلب تو عام لوگوں کےلیے ہیں ، جب کہ  اس کے باطنی مطالب ہی اس کے حقیقی مطالب ہیں ،  لیکن ان تک رسائی کے لیے جو منازل  بیان کی جات ہیں ، وہ عام آدمی طے کرنے کی ہمت رکھتا ہے  نہ  وقت ۔ اس پر یہ  سوفلسفہ ہے زبا ن اپنی اصل میں قطعی ہی نہیں، بلکہ احتمالی اور اعتباری ہے، اس نے قرآن کی سمجھ کو انفرادی  فہم میں حد میں محدود کردیا، اب قرآن کو اختلاف اور تنازع کے لیے  میزان  اور فرقان بنایا جانا عبث ٹھہرا۔  غرض، اسلام کی درست   تعلیمات  کے فہم   کا راستہ  قرآن کے قاری پر ایسے ہی بند کر دیا گیا ہے، جیسے یہود و نصاری پر اپنے دین کی خالص تعلیمات تک رسائی اب نا ممکن ہے۔

ایک اصول مد  نظر رہنا ضروری ہے:

ضمیر کے مطابق کسی حقیقت کو ماننا، خداکے ہاں یہی مقبول ہے۔ گناہ اور ثواب کے فیصلے اسی اصول پر ہوتے ہیں ۔اسی لیئے مجتھد کو خطا پر بھی ایک ثواب ملتا ہے اور اس کے فتوی پر عمل کرنے والے کوکوئی گناہ نہیں ملتا ۔اس  بات  کی دلیل قرآن کی یہ آیت  ہے:

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ (2:187)

 روزوں کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو ۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا ۔ چنانچہ اب (بغیر کسی تردد کے) اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور (اِس کا )جو( نتیجہ) اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اُسے چاہو ۔

یہ ہجرت مدینہ کے بعد کا ابتدائی زمانہ تھا، احکام ابھی نازل ہو رہے تھے۔ صحابہ کو یہ گمان تھا کہ افطار کے بعد رمضان کی راتوں میں بھی دن کی طرح کھانا پینا اور ازدواجی تعلق جائز نہیں ، بعض سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد جائز نہیں ، بعض یہ خیال کرتے  تھے کہ سو جانے کے بعد جائز نہیں۔ اس بارے میں کوئی حکم موجود نہیں  تھا ، یہ رواج ،اہلِ کتاب کے ہاں تھا اور صحابہ جن چیزوں میں کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا، اس میں اہلِ کتاب کے عمل کے مطابق عمل کرلیا کرتے تھے۔  غرض یہ کہ اپنے گمان کے مطابق ازدواجی تعلق کو ممنوع سمجھنے کے باوجود وہ رمضان کی راتوں میں  اس  فعل کے مرتکب ہوئے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کرکے حکم واضح کیا ۔ اس میں  ایک تو یہ فرما دیا کہ رمضان کی راتوں میں تم پر ایسی پابندی نہیں ، دوسرے یہ فرمایا کہ خدا نے تمھیں معاف کیا۔سوال یہ ہے کہ  جو گناہ ہی نہیں اس کے معاف کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا مطلب  یہی ہے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کے خلاف ایک کام کیا اور اس کام کا درحقیقت گناہ نہ ہونے کے باوجود وہ قابلِ مواخذہ اس لیے ہو سکتا تھاکہ وہ اسے گناہ سمجھ کے کر رہے تھے، اس پر اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے تمھیں معاف کیا۔ (اس بارے میں وارد ہونے  والی روایات میں اضطراب ہے ، اور محققین نے یہی نتیجہ نکالا ہے جو میں نے پیش کیا، اس پر میرا تحقیقی مضمون موجود ہے، جو جلد طبع کروایا جائے گا، انشاءاللہ)

اب نجات کے معاملے کی طرف آتے ہیں:

قرآن پاک  میں پہلی قسم کے لوگوں کے بارے میں واضح طور پر خدائی فیصلہ موجود ہے۔ ان میں مشرکینِ، یہود اور نصاری سب شامل ہیں۔  ان کے لیے ضروری تھا کہ اپنے معتقدات کو نئے آنے والے رسول کے ساتھ آنے والی  الہامی تعلیمات کے مطابق  کرلیں:  جو باطل ہے اسے چھوڑ دیں اور غلط ہے اسےدرست لیں۔ان میں سے جس نے اپنے ضمیر کے قائل ہوجانے کے بعد بھی انکار کیا، ان  منکرینِ حق کی سزا ابدی جھنم ہے۔ اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ اس لیےیہاں زیرِبحث نہیں۔

اب  دیگر افراد کا معاملہ دیکھتے ہیں جو اسلام کے پیرو نہیں:

حق پر ایمان لانے کا ایک اصولی قاعدہ اللہ نے درج ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے:

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ شَهِدْنَا أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّن بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ (7:172)

اے پیغمبر، اِنھیں وہ وقت بھی یاد دلاؤ)، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی نسل کو نکالا اور اُنھیں خود اُن کے اوپر گواہ ٹھیرایا تھا۔ (اُس نے پوچھا تھا): کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہاں،( آپ ہی ہمارے رب ہیں)، ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اِس لیے کیا کہ قیامت کے دن تم کہیں یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اِس بات سے بے خبر ہی رہے۔ یا اپنا یہ عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر کیا آپ اِن غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟

یہ فطرت کی رہنمائی ہے، جو ہر انسان کے اندرڈال دی گئی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ جیسے ہی سوچنےسمجھنے کے قابل ہوتا ہے پہلا سوال اپنے پیدا کرنے والے کے بارے میں پوچھتا ہے ۔ اور حقیقیت یہ ہے کہ شرک یعنی  ایک سے زیادہ خداؤں کی تعلیم انسانی فطرت اور عقلِ سلیم کو کبھی مطمئن نہیں کر پاتی۔ یہ اس عدم اطمینان کی وجہ سے ہی ہے کہ شرک کی طول طویل توجہہات کرنی پڑتی ہیں اور بڑے بڑے  پیچیدہ فلسفے ایجاد کرنے پڑتے ہیں۔

اس آیت میں ان تمام اقسام کے افراد پر خدا کی حجت قائم کر دی گئی ہے۔ کہ ان سب لازم ہے کہ اپنی عقل کو استعمال کریں اور فطرت کی رہنمائی میں حق کے راہی بنیں۔جن تک حق کی تعلیم پہنچ گئی ان پر دہری ذمہ داری ہے اور جن تک نہیں پہنچی، ان پر صرف عقل اور فطر  ت سے رہنمائی کا مطالبہ ہے ۔تاہم، آپ  درج بالا آیت پرغور فرمائیں کہ ایسے لوگوں کے اس سوال پر کہ ، ‘ پھر کیا آپ اِن غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟’ کے جواب میں اللہ نے یہان کچھ نہیں فرمایا!  اس خاموشی کا جواب ہمیں سورہ مائدہ کی آخری آیات میں ملتا ہے ، جو اگرچہ ہے تو دوسری اور چوتھی قسم کے افراد کے لیے،  لیکن وہیں سے ہمیں تیسری قسم  غیرمسلمین کی نجات کے معاملے کی رہنمائی بھی مل جاتی ہے۔  ملاحظہ کیجئے:

سورہ مائدہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن وہ نبیوں سے ان کی امت کے ان افراد کے بارے میں سوال کرے گا جو رسول کے دنیا سے جانے بعد اس کے پیروکار بنے رہے۔  اس سلسلے میں عیسی ؑ کے ساتھ تفصیلی مکالمہ نقل ہوا ہے۔ اس کو ملاحظہ کرتے ہیں:

وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ  قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ لِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔

اور یاد کرو، جب  اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

ذرا غور کیجیے۔ عیسی ؑ دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد، اپنے بارے میں گھڑے جانے والے غلط عقائدپر ایمان لے آنے  والوں اور اس کے نتیجے میں خدا کے ساتھ شریک کرنے والوں کی مغفرت کا نہ صرف  امکان ظاہر فرما رہے ہیں بلکہ سفارش بھی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے غلط الہامی تعلیمات  پر ایمان لے آنے کی وجہ سے  غلط عقائد اپنا لیے، اور چونکہ یہ سب ان سے ایک عظیم پیغمبر کے نام پر، اس کی عقیدت میں کروایا گیا ، اس لیے  جب حق کی ہدایت ان تک پہنچی تو انہوں نے پوری ایمانداری سے  اسے  ماننے سے انکاربھی  کردیا۔ یعنی دوسری اور چوتھی قسم کے لوگ۔  ان لوگوں کے کے لیے عیسیؑ  مغفرت کی سفارش کر رہے ہیں۔ تاہم،   مغفرت کی سفارش کے ساتھ وہ  یہ بھی تسلیم کررہے ہیں کہ اپنی عقل پوری طرح استعمال نہ کر سکنے کی وجہ سے یہ ہیں تو خطا کار کہ انہوں نے اللہ  کی اولاد کے احمقانہ عقیدےکو مان لیا اور حق کو جھٹلا دیا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان کی مغفرت کی جسارت فرما رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے  ہیں ان لوگوں کو ایک  عظیم نبی کے نام پر غلط عقائد کی تلقین اور تبلیغ کی گئی تھی اور ان بےچاروں نے عقیدت میں مان لیا تھا اور تحقیق کی زحمت نہیں اٹھائی تھی۔

ایک لمحے کوغور فرمائیے۔ کتنی ضعیف اور من گھڑت روایات ہیں جو عوام کو رسول اللہ ﷺ کے نام سے سنائی جاتی ہیں اور ان میں کوئی کم ہی یہ پوچھنے اور پرکھنے کی جسارت کرتا ہے کہ کیا  واقعی ہماتے نبی نے یہ فرمایا تھا۔  ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم عوام بلا حیل و حجت ایسی روایات کو بھی صحیح  مان لیتے ہیں اور بڑی عقیدت سے آگے بیان کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی کہہ دے کہ یہ روایت درست نہیں، ضعیف ہے وہ الٹا ناراض ہو جاتے ہیں ۔ ان روایات کے ذریعے کیسے کیسے عقیدے عوام میں پھیلائے گئے ہیں، یہ سب پر عیاں ہے۔

اب یہی رویہ دوسرے لوگ  اپنے نبی کے نام پر ملنے والی غلط سلط تعلیمات کے بارے میں اپناتے ہیں تو اس میں حیرت کیوں؟انسان آخر انسان ہے، ایسی حماقتیں تو وہ کرتا ہی ہے۔ کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی عقل کا درست استعمال کرکے درست نتائج تک پہنچتے ہیں۔ درج بالا آیت میں اگر آپ غور کریں تو حضرت عیسیؑ گویا وہ یوں فرما رہے ہیں کہ ‘تو یہ لوگ شرک میں مبتلا ہوجانے کی بنا پر اپنی حماقت کی وجہ سے عذاب کے مستحق تو ہیں، لیکن ہیں تو آپ کے بندے  ہی ،  اگر معاف فرمادیں تو آپ مالک  و مختار ہیں، اور یہ معاف کرنا بھی عین آپ کی حکمت پر مبنی ہوگا۔’ یار رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی اس وقت حالت جلال میں ہوں گے، اس حالت میں سفارش اور رحم کی اپیل کا یہی انداز مناسب تھا، جو عیسی ؑ نے اختیار فرمایا۔ غور فرمائیے تو عیسیؑ  ‘آپ کے بندے’ کہہ جہاں خدا کا بندوں پر اختیار کا اظہار فرما رہے ہیں وہاں  رحمتِ خداوندی کو متوجہ  بھی کر رہے ہیں   کہ سو کرو، آخر آپ کے بندے ہیں ، نیز  اختیار اور حکمت کا حوالہ دے کر ، مغفرت کے فعل کر گزرنے کی اپیل بھی فرما رہے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ملازم کی خطا پر مالک غصے میں ہو، اور اسے نوکری سے نکا ل دے رہا ہوِ او ر اس لمحے آ پ سفارش کرنا چاہیں کیسے کریں گے؟  آپ  کچھ ایسا ہی اسلوب اختیار کریں گے:

‘  جناب اگر آپ اسے نوکری سے نکال دیں گے تو اگرچہ ہے تو آپ کا گناہ گار ،لیکن  آپ ہی کا نمک خوار رہا ہے، اور اگر معاف کردیں تو آپ مالک ہیں، معاف کرسکتے ہیں،  اگرمعاف کردیں تو آپ کا کیا جائے گا ، غریب کا بھلا ہوجائے گا۔’

  اس طرح آپ  بھلے اور دردمند انداز میں سفارش بھی کردیں گے اور اس کی ذمہ داری سے بھی بری ہو جائیں گے کہ  مالک  اگر معاف ک رہا ہے تو اپنے  اختیار سے کر رہا ہے، اور چونکہ اسے اختیار ہے اس لیے اسے اسے استعمال کرکے مہربانی کرنی چاہیے ۔

عیسی ؑ اور خدا کے درمیان زیرِ بحث لوگوں میں ، البتہ،ایسے  افراد  کے شامل ہونے کا بھی  پوراامکان ہے جن پر ان عقائد کی غلطی واضح ہوگئی تھی، لیکن وہ اپنے ضمیر کے خلاف روایتی عقیدے کی تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ، ایسے لوگ مغفرت کے مستحق نہیں ہوں گے ۔ لیکن چونکہ  ان کا علم بھی خدا کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے عیسیؑ نےاجمالی  سفارش کرکے سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔

اب اس  سفارش کے جواب  پر غور کیجئیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے عیسیؑ کو سفارش کرنےسے منع نہیں فرمایا  دیا،جیسا کہ ابراہیمؑ کو اپنے والد ، آذر کے لیے دعا ئے مغفرت کرنے سے یہ کہہ کر منع کردیا تھا وہ اللہ کا دشمن ہے۔  اس کی مغفرت نہیں ہو سکتی ۔لیکن عیسیؑ کو منع نہیں فرمایا۔ یہ نہیں کہا کہ یہ تو مشرک ہیں ان کی مغفرت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ آج سچوں کو ان کی سچائی کا صلہ ملے گا۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟ ہم جو اس کا مطلب سمجھیں ہیں وہ یہی ہے کہ جو لوگ سچائی اور دیانت داری سے جس تصورِ خدا کی بھی عبادت کرتے رہے،  وہ لوگ بھی نہ صرف یہ کہ خدا کی بخشش پائیں گے بلکہ اس کی خوشنود ی بھی حاصل کرلیں گے۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کو مذھب کے نام پر غلط تعلیمات ملیں او انہوں نے سادہ لوحی ، اپنی عقیدت میں اسے مان لیا اورحق کا انکار کیا۔ یہاں سچا ہونے  کی شرط لگا کر مغفرت کی بشارت میں سے ان لوگوں کو نکال دیا گیا ہے جنھوں نے علم اور عقل کے ذریعے حقیقیت سمجھ لینے کے بعد اس کا انکار کردیا۔

یہ بیان کردہ تفسیری بیانیہ نیا نہیں ہے۔اسلاف میں اس کا اظہار ملتا ہے۔تیسری صدی ہجری کے ایک معتبر عالم، ابن الانباری   فرماتے ہیں:

لما قال الله لعيسى أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ. لم يقع لعيسى إلا أن النصارى حكت عنه الكذب لأنه لم يقل ذلك وقول الكذب ذنبفيجوز أن يسأل له المغفرة والله أعلم بمراده وأسرار كتابه  (تفسیر خازن)

جب اللہ  تعالی عیسیؑ سے فرمائے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ معبود بنا لو۔ درحقیقیت، ایسی کوئی بات عیسیؑ کے سامنے نہیں ہوئی تھی، نصاری نے ان کی طرف منسوب کر کے جھوٹ کہا تھا، اس لیے کہ عیسیؑ نے ایسا نہیں کہا تھا۔ جھوٹی بات گناہ ہے کفرنہیں)، اس لیے یہ جائز ہے کہ اللہ سے اس کی مغفرت طلب کی جائے۔ بہرحال، اللہ اپنی کتاب کی مراد اور اسرار سے زیادہ واقف ہے۔

امام فخر الدین رازی نے بھی  ایک تفسیری رائے اسی کی تائید میں فرمائی ہے اور اس کو رد بھی نہیں کیا:

أَنَّهُ تَعَالَى لَمَّا قَالَ لِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [الْمَائِدَةِ: 116] عُلِمَ أَنَّ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى حَكَوْا هَذَا الْكَلَامَ عَنْهُ، وَالْحَاكِي لِهَذَا الْكُفْرِ عَنْهُ لَا يَكُونُ كَافِرًا بَلْ يَكُونُ مُذْنِبًا حَيْثُ كَذَبَ فِي هَذِهِ الْحِكَايَةِ وَغُفْرَانُ الذَّنْبِ جَائِزٌ۔ (تفسیر کیبیر)

جب  اللہ تعالی نے عیسیؑ سے فرمایا کہ کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ معبود مان لو، تو معلوم ہوگا کہ ان کی قوم میں کچھ لوگوں نے یہ بات ان کی طرف منسوب کرکے کہی تھی۔ اس کفر کو ان کی طرف سے بیان کرنے والا،  اس بیان کی وجہ سے کافر نہیں ہوجاتا بلکہ گناہ گار ہوتا ہے،  اور گناہ کی مغفرت طلب کرنا جائز ہے۔

جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ سورہ مائدہ کی ان مذکورہ آیات میں عیسی ؑ اللہ سے سفارش نہیں فرمارہے انہیں غور کرنا چاہیے کہ  رسول اللہ ﷺ انہی آیات کو لے کر بڑی آہ وزاری کے ساتھ رات کی نمازوں میں اللہ سے اپنی امت کی  سفارش اور مغفرت کی دعا فرمایا کرتے تھے ۔کیونکہ آپؐ کے علم میں بھی یہ ہوگا کہ آنے والے زمانوں میں لوگ آپؐ کے نام پر اسلام کے بارے میں  کیسے کیسے عقیدے اور غلط فہمیاں عام لوگوں میں  پیدا  کریں گے اور آپ کی امت بھی اس کا شکا ر ہو جائے گی۔ آپؐ کی ان فریادوں کے جواب میں اللہ نے آپؐ کو جو فرمایا وہ آپ ملاحظہ کیجئے:

أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ عِيسَى: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: “اللَّهُمَّ أُمَّتِي”. وَبَكَى، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ -وَرَبُّكَ أَعْلَمُ-فَاسْأَلْهُ: مَا يُبْكِيهِ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ. (1)

نبی کریم ﷺ نے عیسیؑ کے اس قول تلاوت فرمائی: ‘إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں’۔ پھر اپنے ہاتھ بلند فرمائے اور فرمایا:،’اے اللہ، میری امت! ‘اور آپؐ رو پڑے۔ اس پر اللہ نے فرمایا: ‘ اے جبرائیل، محمدﷺ کی طرف جاؤ، اور ان سے پوچھو(حالانکہ، تیرا رب زیادہ جاننے والا ہے) ، ‘ آپ کیوں روئے؟جبرائیل تشریف لائے ۔ آپؐ نے انہیں بتایا جو آپؐ نے عرض کیا تھا۔ اس پر اللہ نے فریاما: ‘اے جبرائیل، محمدﷺ کی طرف جاؤ، اور ان سے کہو: ہم آپؐ کو آپؐ کی امت  کے بارے میں راضی کردیں گے اور  غمگین نہیں کریں گے۔’ (صحیح مسلم)

یہاں یہ خود واضح ہو جاتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی بخشش ہو سکتی ہے جو غلط تعلیمات کی وجہ سے گمراہ ہوگئے تو تیسری قسم میں شامل  ان لوگوں کی بخشش تو بدرجہ اولی ہو سکتی ہے جن کو الہامی دین کی دعوت اور تعلیم سرے سے پہنچی ہی نہیں، البتہ، سورہ اعراف کی درج بالا آیت کی رو سے ان پر  یہ ذمہ داری  عائد ہوتی ہے کہ اپنی فطرت کی آواز کو سن کراور اپنی عقل ِ سلیم کو استعمال کر کے ایک خدا پر اجمالی  ایمان لائیں، اسی آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان پر ایمان بالآخرت کا مطالبہ ان سے نہیں ہے ۔ اگرایسے لوگ  اس میں بھی  کوتاہی کرتے ہیں تو وہ اپنے سر الزام دھر لیتے ہیں جس کا مواخذہ ہوسکتا ہے، تاہم خدا نے ان کے اس سوال  کا کہ ‘پھر کیا آپ اِن غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟’ کا جواب نہیں دیا، لیکن حقیقت یہ ہے  قرآن نے ایسے لوگوں کو بڑھ بڑھ کر عذاب کی کوئی ایک خبر بھی نہیں سنائی۔ سارے قرآن میں خدا کی ناراضی کا سارا زور ضد  اور ہٹ دھرمی سے انکار کرنے والوں کے خلاف ظاہر ہوتا ہے، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں یہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، تو جن کے بارے میں خدا نے خاموشی ظاہر کی ان ی بخشش کی قوی امید ہے، بشرطیکہ انہوں نے جو بھی مانا اپنے ضمیر کے مطابق مانا۔ اس کے ساتھ اگر ایسے افراد کو  بھی  روایات کے نام پر غلط عقیدے سکھا دیئے گئے اور وہ پوری ایمانداری سے ان پر ایمان لائے رہے تو سورہ ما ئدہ کی آخری آیات کے مطابق ان کی بخشش کی اور بھی  امید بھی موجود ہے۔

غرض یہ کہ خدا کی طرف آئی ہوئی تعلیمات کا درست اور کامل  طریقے سے پہنچنا  اور انسان کے ضمیر کے مطمئن کے لینے کے بعد بھی اگر انسان ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار اور شرک پر اصرار کرے تو اسے نجات سے محروم کر دیتا ہے۔ لیکن اگر عذ ر موجود ہوں، یعنی کہ دین کی تعلیمات درست  طریقے سے نہیں پہنچی، یا اس تسلسل اور قوت سے نہیں پہنچی کی ضمیر کو قائل کردیتی، تو ماحول کے اثر اور دباؤ اور پراپیگنڈے کی وجہ سے انسان حق کو قبول نہ کرے اور غلط عقائد کو اپنا لے تو اس پر پھر بھی اپنی عقل کے استعمال کی ذمہ داری ہے کہ  کم از کم باطل کا انکار تو کرے، جو عقل و فطرت کے خلاف ہے، یہ چیز بھی اسے نجات دلا سکتی ہے جیسےکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام سے قبل بعض لوگ شرک سے نفرت کرتے تھے جن میں حضرت عمر فاروق کے چچا زید بھی تھے  ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔  ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی  کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ تاہم جو لوگ کسی ضد کی ووجہ سے نہین بلکہ ماحول کے اثر سے شرک کو اپنا لیتے ہیں وہ ایک موہوم چیز کے بلا دلیل قائل ہوجانے کی وجہ سے اپنے سر الزام دھر لیتے ہیں ۔لیکن چونکہ انسان میں یہ کمزوریاں  بھی خدا نے ہی رکھی ہیں، اس لیے ان کی بخشش کی کی امید  بھی موجود ہے۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ  آپ سارا  قرآن  دیکھ لیجئے، پورے قرآن میں  خدا کی ناراضی کا  اظہار ان  پر نہیں جو خدا کو نہیں مانتے بلکہ ان پر ہے جنھوں نے جانتے بوجھتے ایک خدا  اور اس کی تعلیمات کو  ماننے سے انکار کردیا۔ان لوگوں پر خدا کا غصہ اتمامِ حجت کے بعد بھی انکار کرنے پر ہے۔ خدا کی اس ناراضی کا اطلاق دیگر غیرمسلم پر نہیں کیا جاسکتا محض اس بنا پر کہ ان کا قومی نام بھی یہود اور نصاری ہے یا ان کے عقائد ان سے ملتے جلتے ہیں۔

(اس مضمون کی تیاری میں ڈاکٹر عبداللہ رحیم کے ارشادات سے استفادہ کیا گیا ہے)

http://irfanshahzadurduarticles.blogspot.ae/2015/12/blog-post_23.html

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s