دعا کے حوالے سے ذہن میں ابھرنے والے متعدد اہم سوالات

وقار ملك

دعا

معزز قارئین، ہم میں سے ہر کوئی دعا ضرور مانگتا ہے، کوئی زیادہ اور کوئی کم۔ اکثر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ دعا کی تعریف کیا ہے، اور اس کی مقبولیت کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے، یہ کب اور کس جگہ مانگنے سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ دعا کے حوالے سے ذہن میں ابھرنے والے متعدد اہم سوالات کے جوابات جاننے کے لیے جاوید احمد غامدی سے مکالمہ کیا گیا تو انھوں نے بڑے مدلل، پر مغز اور معلومات افزاجوابات د ي ے۔ اس ضمن میں میرا ان سے پہلا سوال یہ تھا کہ اصل میں دعا ہے کیا چیز؟

جس پر انھوں نے کہا کہ بندہ ء مومن اس شعور کے ساتھ دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے کہ اس کا وجود اور گرد و پیش کا ماحول اس کے لیے ایک عظیم نعمت ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ بہت سی نعمتوں کے لیے ہمہ وقت محتاج ہے۔ نعمت کا شعور شکر کا تقاضا کرتا ہے اور احتیاج دعا کا۔ وہ اپنی ہر ہر ضرورت کے لیے اور جو کچھ میسر اۤ چکا ہے اس میں اضافے کے لیے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتا ہے تو دعا وجود میں اۤ جاتی ہے۔ اور ایمان ان دونوں ہی چیزوں سے وجود پز ي ر ہوتاہے، یعنی شکر اور دعا کے ساتھ۔

سوال: اس کی مقبولیت کا معیار کیا ہے؟

جواب: دعا اگر صحیح وقت پر صحیح طریقے پر اور اپنی حدود کا احساس کرتے ہوئے کی جائے تو بالعموم فوراً قبول ہو جاتی ہے۔ البتہ اس کا انحصار دعا پر بھی ہے کہ اۤپ کیا دعا مانگ رہے ہیں؟ مثلاً ہماری ہر مسجد میں لوگ دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو دنیا میں غلبہ حاصل ہو جائے، لیکن اس کے لیے جو کچھ انھیں خود کرنا چاہیے اس کو کیے بغیر وہ یہ دعا مانگتے ہیں، اس لیے قبول نہیں ہوتی۔ ہمیں جو کچھ کر کے یہ دعا کرنی چاہیے، وہ ہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح انفرادی زندگی میں اۤپ دیکھیے کہ ا ي ک اۤدمی بیماری میں، تکلیف میں، مشکلات میں، اپنی ذمہ داریوں کا کوئی شعور نہیں رکھتا اور دعا کیے جاتا ہے، چنانچہ وہ دعا قبول نہیں ہوتی۔ جب صحیح وقت پر اور اپنی حدود کا لحاظ کر کے دعا کی جائے گی تو بالعموم قبول ہو جائے گی۔ اگر پھر بھی اس کا قبول ہونا خداتعالیٰ کی مجموعی حکمت کے خلاف ہے تو قبول نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر کسان کو ضرورت ہے کہ بارش ہو، جبکہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا کچا کوٹھا نہ گر جائے۔ ہم دونوں ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں، ظاہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی دعا قبول ہو گی۔ دنیا کی مجموعی حکمت کے لحاظ سے یا خود دعا کرنے والے فرد کی اپنی بہبود کے لحاظ سے جب کہیں دعا قبول نہیں ہوتی تو پیغمبر اسلام نے بتایا ہے کہ اس کا اجر قیامت م ي ں بندہ ء مومن کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

سوا ل : نیک بزرگ شخص کی دعا اور ایک عام مسلمان کی دعا میں کیا فرق ہوتا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی دعا کو محبوب رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر قراۤن مجید میں رسالت ماۤب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اۤپ سے دعا کی درخواست کریں۔ خود بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں اور اۤپ سے بھی درخواست کریں کہ اۤپ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہیں۔

سوال: ہمارے ہاں کئی بار ي ہ سننے میں اۤتا ہے کہ ایک فقیر نے دعا دی تھی، اس کے ساتھ ہی کایا پلٹ گئی: کیا کسی فقیر کی دعا میں اتنی تاثیر ممکن ہے کہ ایک شخص یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دے: اگر نہیں تو پھر فقیر کی دعا کے بعد حالات کا یکسر تبدیل ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے؟

جواب: اس طرح کی باتیں لوگ بالعموم اپنے اعتقادات کی بنیاد پر کرتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک کام اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق لازماً ہونا ہی تھا۔ کسی نے اس کے لیے دعا بھی کر دی۔ اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ اۤدمی کسی غلط عقیدے میں مبتلا ہو گیا اور بطور اۤزمایش وہ چیز پوری ہو گئی۔ اس لیے تمام پہلو ممکن ہیں، لیکن پیغمبر کے بعد ہمارے ل ي ے یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کا م فلاں کی دعا کے نتیجے میں ہو گیا۔ اۤپ برے ہوں یا اچھے، سب اللہ تعالیٰ کے محتاج بندے ہیں، وہ اپنے قانون اور حکمت کے مطابق جب چاہتا ہے، جو بات چاہتا ہے، قبول کر لیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسی قبولیت سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ جس نے دعا کی ہے، وہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ لوگ مندروں میں جاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے، گرجوں میں جاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ پادری ہاتھ اٹھاتا ہے، اس کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ یوگی اور رشی ہاتھ اٹھاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ بتوں کے سامنے لوگ نیاز پیش کرتے ہیں، وہ بھی قبولیت کی بشارت لے کر اۤ جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات تو اصول کے طور پر صحیح ہے کہ نیک لوگوں سے دعا کی درخواست کرنی چاہیے، لیکن دعا کی ہر قبولیت اچھے پہلو سے نہیں ہوتی، بلکہ بطور اۤزمایش بھی ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ اگر شیطان کے پاس جانے والوں کو ہمیشہ محروم رکھے تو پھر کہیں کوئی شیطان کے پاس نہ جائے اور اس کے نتیجے میں اۤزمایش ختم ہو جائے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نعمت اور امتحان ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر نعمت عنایت کے طور پر ہو۔ وہ سزا یا اۤزمایش اور کسی سر کش کو ڈھیل دینے کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔

سوال: کیا کسی خاص جگہ جا کر دعا مانگنے یا منگوانے سے دعا ز ي ادہ جلدی قبول ہوتی ہے؟

جواب: دعا کی قبولیت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جگہوں اور مواقع کی اہمیت بیان کی ہے۔ مثلاً جمعہ کا دن، تہجد کا وقت، محلے کی مسجد، حرمین شریفین، یہ وہ جگہیں ہیں جن میں دعا کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ باقی جن جگہوں پر لوگ دعا کی قبولیت کا اعتقاد لے کر جاتے ہیں، ان کے لیے دین و شریعت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔

سوال: اکثر سننے میں اۤیا ہے کہ والدین اور مریض کی دعا بہت جلد قبول ہوجاتی ہے۔ اس کی کیا خاص وجہ ہے؟

جواب: دعا کی قبولیت میں اۤدمی کا تعلق خاطر اس کی محبت اور اس کی خدا تعالیٰ کے سامنے شکستگی اور اۤزردگی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماں جس کیفیت میں دعا کرے گی، باپ جس طرح روح کی گہرائیوں سے دست بدعا ہو گا، مریض اپنی بے بسی کے جس احساس کے ساتھ خدا تعالیٰ کو پکارے گا، اس کی توقع اۤپ دوسرے لوگوں سے نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مظلوم کی پکار سے بچو۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ جس بے بسی اور شکستگی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس میں توقع کی جاتی ہے کہ خدا کی رحمت زیاد ہ متوجہ ہو جائے گی۔

سوال: ایک عام مسلمان کو کیا دعا مانگنی چاہیے؟

جواب: ہر چیز جس کی وہ ضرورت محسوس کرتا ہے، وہ اپنے رب ہی سے مانگے۔

سوال: کئی بار بندہ دعا میں ایسی چیز طلب کر لیتا ہے جو کہ بعد میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ کیا اس قسم کی دعا اس کی اۤزمایش یا سزا کے طور پر قبول ہوتی ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ کوئی ایسی دعا قبول نہیں کرتے جو ان کی اپنی حکمت کے خلاف ہوتی ہے۔ ہاں، البتہ بندہ بعض اوقات کسی اۤزمایش کے لیے دست بدعا ہو جاتا ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز طلب کر لیتا ہے جو اسے طلب نہیں کرنی چاہیے تھی، تواللہ تعالیٰ بطور اۤزمایش یا بطور سزا اسے وہ چیز دے دیتے ہیں۔

سوال: بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ فرض نماز کے بعد امام کا اجتماعی طور پر دعا کرانا اسلام کے حوالے سے درست نہیں۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟

جواب: یہ درست ہے کہ احادیث میں جن مواقع پر دعا کے زیادہ قبول ہونے کا ذکر اۤیا ہے، ان میں فرض نماز کے بعد دعا کرنا بھی شامل ہے، لیکن اس کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، وہ انفرادی دعا ہی کا تھا۔ اگر کوئی نمازی اپنی ضرورت محسوس کرتا تھا تو وہ دعا کر لیتا تھا۔ امام کے اجتماعی طور پر دعا کرنے کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، سوائے اس کے کہ کسی موقع پر اۤپ سے دعا کرنے کی درخواست کی گئی۔ مثلاً لوگوں نے کہا کہ بارش کے لیے دعا کیجیے یا کوئی معاملہ ہو گیا ہے تو اس کے لیے دعا کیجیے۔ یہ جو اۤج کل سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر فرض نما ز کے بعد امام صاحب دعا کرائ ي ں اورمقتدی اۤمین کہ ي ں۔ یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ء کرام کے زمانے م ي ں نہیں تھا اور اب بھی یہ طریقہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں رائج ہے۔

سوال: ہمارے ہاں یہ روایت بڑی عام ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جب بیت اللہ شریف پر پہلی نظر پڑتی ہے تو اس موقع پر وہ جو بھی دعا مانگے وہ قبول ہوتی ہے، کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟

جواب: اسلام میں کسی مخصوص جگہ کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہاں اگر دعا کی جائے گی تو وہ لازماً قبول ہو جائے گی۔ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بعض جگہیں اور بعض مواقع دعا کی زیادہ قبولیت کا باعث بنتے ہیں۔ سو فی صد قبولیت کی کوئی بات نہیں۔ اگر سوفی صد دعائیں قبول کر لی جائیں تو ایک دن کے لیے بھی دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ پرویز مشرف اور نواز شریف اگر ایک ہی وقت میں حرم میں داخل ہوں تو اندازہ کر لیجیے کہ وہ کیا دعا مانگیں گےاور اگر دونوں کی دعا قبول ہو جائے تو کیا نتیجہ ہو گا۔ یہ بات صحیح ہے کہ دعا قبول ہو تی ہے، لیکن وہ بندے کی اپنی بھلائی اور دنیا کی مجموعی حکمت کے لحاظ سے قبول ہوتی ہے۔

سوال: بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا، مگر وہ اسے مل جاتی ہے۔ بغیر دعا مانگے کسی خواہش کی قبولیت کا کیا معیار ہے؟

جواب: بعض اوقات توایسا ہوتا ہے کہ آپ نے الفاظ میں دعا نہیں کی ہوتی، لیکن وہ ہماری شدید تمنا اور خواہش ضرور ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی حکمت کے مطابق پورا کر دیتے ہیں۔

سوال: عرصہ سے دنیا بھر کےاسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ بالخصوص حج بیت اللہ کے موقع پر بھی مسلمانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں، مگر یہ دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ ان دعا مانگنے والوں میں بڑی بڑی نیک شخصیات بشمول امام کعبہ بھی شامل ہیں۔ آپ مسلمانوں کی ان اجتماعی دعا ؤ ں کی ناکامی کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟

جواب: بین الاقوامی سطح پر مسلمان جو دعائیں کر رہے ہیں، ان دعا ؤ ں کے بعض تقاضے ہیں جنھ ي ں پہلے پورا کرنا چاہ ي ے۔ بدر میں نبی کریم نے اس وقت دعا کی جب مسلمانوں نے اپنی طرف سے سب تقاضے پورے کر دي ے۔ بے سروسامانی کے باوجود میدان میں اترے، پوری فوج سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ ان کے پاس جو کچھ تھا انھوں نے میدان میں رکھ دیا۔ اس کے بعد دعا کی گئی اور قبول ہوئی۔ اب مسلمانوں کو علم و ہنر اور دین و اخلاق میں جو تقاضے پورے کرنے چاہییں، اگر انھیں پورے کر کے دعا کی جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے گا۔ گھر کو تالا لگا کر دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے روزی دے دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے۔ مختصراً یہ کہ عقلی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں تو پھر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دعا قبول نہ ہو۔

(اتوار ٢٦ ذوالحجہ ١٤٢٠ھ/ ٢ اپریل ٢٠٠٠)

http://www.ghamidi.net/Interviews/Dua.html

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s