فتوی کا اختیار

وقار ملك

فتوی کا اختیار

سوال: آپ کے خیال میں ہمارے ہاں آئیڈیل علماے دین کیوں پیدا نہیں ہو رہے؟

جواب: اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ لوگوں کی دین سے دوری میں عالم دین کی شخصیت کو بڑا دخل ہے۔ لوگ اپنے لیے عالم دین کی ذات میں کوئی روشنی پاتے ہی نہیں کہ وہ اس کی جانب دیکھیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی دین کا اچھا عالم پیدا کرنے کے لیے آمادہ ہی نہیں ہے۔ اسے یہ فکر ہے کہ اچھا سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر پیدا ہو، یہ فکر نہیں ہے کہ اچھا عالم دین پیدا ہو۔ اس لیے میں یہ کہتا ہوں کہ جیسا بھی کوئی برا بھلا عالم دین ہے، اس کی وجہ سے نماز کا اہتمام تو ہو جاتا ہے، اگر علما واقعی معیار کے حامل ہوں تو لوگوں میں دین کے حوالے سے غیر معمولی رغبت پیدا کی جا سکتی ہے۔

سوال: ایک تاثر یہ ہے چونکہ ہمارا عالم معاشی طور پر مستحکم نہیں، بلکہ کمیونٹی کا محتاج ہے، اس لیے کھل کر حق بات کہنے کے بجائے مصلحت کا شکار رہتا ہے۔ آپ اس صورت حال کا کیا علاج تجویز کرتے ہیں؟

جواب: دنیا میں جو لوگ کسی علم و فن کے حوالے سے اپنے آپ کو خالص کر لیتے ہیں، ان کے معاش کا بندوبست سوسائٹی کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کا ہر معاشرہ اپنے سائنس دانوں، علمی اور فنی ماہرین کے لیے یہ بندوبست کرتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کا باوقار طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، بجائے اس کے کہ علما اچھے تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیتے اور اس کے ساتھ رضا کارانہ طور پر مسجد کی خدمت کرتے، ان کی امامت اور خطابت ہی کو ان کا ذر ي عہ ء معاش بنا دیا گیا ہے۔ پھر انھیں کمیونٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں ان کی اہلیت بھی مجروح ہوتی ہے اور ان کی خودی بھی۔ میرے نزدیک اگر کمیونٹی کی درس گاہوں کا ایک اچھا نظام بنا دیا جائے۔ علما اپنی صلاحیت کے لحاظ سے ان میں تعلیمی خدمات انجام دیں۔ استاد کی حیثیت سے ان کے لیے باوقار مشاہروں کا بندوبست کیا جائے اور وہ رضاکارانہ طور پر مساجد کی خدمت کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ بہت سے مفاسد جو موجودہ نظم مساجد سے پیدا ہوتے ہیں، وہ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

سوال: ہمارے کئی عالم دین سرکاری ملا کا روپ دھار چکے ہیں، کیا سرکاری مراعات کا حامل عالم دین اس منصب کے تقاضے پورے کر سکتا ہے؟

جواب: میرا نقطہ ء نظر یہ ہے کہ جو عالم دین حکمرانوں کی قربت تلاش کرے گا، وہ اپنا علمی مقام کھو بیٹھے گا۔ اس منصب کے تقاضے اسی صورت پورے ہو سکتے ہیں کہ وہ استغنا کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ جن لوگوں کو اسے نصیحت کرنی ہے ان کے نقطہ ء نظر سے معاملات کو دیکھنے اور ان سے مراعات حاصل کرنے کے نتیجے میں عالم اپنا وقار کھو بیٹھا ہے۔ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ حکمرانوں پر بس اسی عالم کی بات اثر کرتی ہے جو اپنی خودی کی حفاظت کرتا اور استغنا کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔

سوال: بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ایک عالم دین کو ہمیشہ اپوزیشن ہی میں رہنا چاہیے، جبکہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے بالا ہو کر رہنا چاہیے۔ آپ کا نقطہ ء نظر کیا ہے؟

جواب: عالم نہ اپوزیشن میں ہوتا ہے نہ حزب اقتدار میں۔ اس کا کام حق کہنا، حق کی نصیحت کرنا اور حق کی طرف لوگوں کو بلانا ہے۔ وہ صبح کو ایک درست بات کی تائید کرسکتا ہو تو شام کوکسی غلط بات پر تنقید بھی کر سکتا ہے۔ اس کا مقام ایک داعی کا مقام ہے، ناکہ کسی اپوزیشن لیڈر کا۔ نہ مخالفت برائے مخالفت اس کے شایان شان ہے اور نہ حکمرانوں کی کاسہ لیسی اس کو زیب دیتی ہے۔ اسے تو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے یہ ترغیب دی ہے کہ بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے سچی بات کہنا ہے۔ سچی بات کہناآدمی کو ایک ایسےغیر جانب د ار مقام پر کھڑا کر دیتا ہے، جسے آپ صرف اختلاف اور صرف اقتدار کی اصطلاحوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ عالم دین کے لیے جو اسلوب تجویز کیا گیا ہے، وہ خیرخواہی کا اسلوب ہے۔ وہ مسلمانوں کا بھی خیرخواہ ہے اور ان کے حکمرانوں کابھی۔ حق بات کہنے کے لیے اس کو سر کے بل بھی کہیں جانا پڑے تو اسے جانا چاہیے، لیکن دنیوی مفادات کے پیچھے ایک قدم بھی چلنے سے انکا ر کر دینا چاہیے۔ موجودہ زمانے میں چونکہ زیادہ تر علماے کرام سیاسی جماعتوں کی صورت میں منظم ہو گئے ہیں اس لیے ان کے بارے میں کبھی حکومت کے ساتھ ہونے اور کبھی اپوزیشن میں ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ عالم اگر عالم ہے تو اس کی شان یہی ہے کہ وہ کبھی اپنے بارے میں ایسا تاثر پیدا نہ ہونے دے۔ سچی بات کہنے کے نتیجے میں جو بھی نتائج بھگتنا پڑیں، عالم کا کام یہی ہے کہ وہ انھیں برداشت کرے، مگر اپنے اس فرض منصبی سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس کا مقام تو یہ ہونا چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں یکساں احترام کے ساتھ اس کی بات سننے کے لیے مجبور ہو جائیں۔

سوال: غامدی صاحب آپ علماے حق اور علماے سوء کا فرق کیسے واضح کرتے ہیں؟

جواب: عالم کی دو ہی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ایک علم کے لحاظ سے اس کا کیا مرتبہ ہے، دوسرا عمل کے لحاظ سے اس کا کیا مقام ہے، اگر کوئی شخص وہ ضروری علم نہیں رکھتا جو سچا عالم ہونے کے لیے درکار ہے یا اس کے مطابق عمل نہیں کرتا اور اس کی زندگی قول و فعل کے تضاد پر مبنی ہے۔ اس کے پیش نظر دنیوی مفادات کا حصول ہے تو وہ عالم سوء ہے۔ ایسا نہیں ہے تو عالم حق ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں علماے سو سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟

جواب: میرے خیال میں ضروری ہے کہ دین کے اچھے اور جید علما پیدا کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ معاشرہ اور ریاست دونوں اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ دوسرا یہ کہ عوام کی عمومی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ ان کی شعوری سطح بلند کی جائے تاکہ وہ بازی گروں اور چارہ گروں میں فرق کر سکیں۔ عوام اگر بہروپیوں کو عالم سمجھ لیں، کھیل تماشہ کرنے والوں کو اپنا مذہبی رہنما بنا لیں، شعبدے دکھانے والوں کے گرد تقدس کے ہالے بنا لیں، جو کچھ جی چاہے کر لیں۔ معاشرے کو ان کے چنگل سے نہیں نکالا جا سکتا۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے عوام سے متعلق نہ تو اس کی فکر کرتے ہیں کہ ان کی جہالت ختم ہو اور نہ اس کی فکر کرتے ہیں کہ ان کی غربت ختم ہو۔ اگر غربت اور جہالت دونوں چیزیں کسی معاشرے پر مسلط ہو جائیں تو وہاں دین ہی کیا ہر فن کے علماے سوء پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سائنس، طب اور انجینئرنگ تک جیسے علوم میں اسی طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ جہالت اور غربت کے خلاف جنگ بھی بہت سے امراض کا علاج ہے۔

سوال: ہمارے ہاں بعض لوگ کسی مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دینے والے کو بھی عالم دین قرار دیتے ہیں۔ ایک مولوی یا ملا اور عالم دین میں کیا فرق ہوتاہے؟

جواب: میرے نزدیک دین کے عالم کو عربی کا جید عالم ہونا چاہیے۔ اس میں قرآن و سنت کو براہ راست سمجھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے اور امت کے علمی ذخیرے پر اس کی نظر ہونی چاہیے۔ اسی طرح اپنے زمانے کے ان علوم پر جو کسی نہ کسی پہلو سے مذہب پر اثر انداز ہوتے ہیں ……….. ،اگر کسی شخص میں یہ خصوصیات ہیں تو وہ عالم ہے۔ عالم کے اور بھی درجات ہیں۔ یہ اس کی کم سے کم خصوصیات ہیں۔

جواب: ہمارے ہاں مولوی کا لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کسی مسجد میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں یا کسی دینی مدرسے میں پڑ ھاتے ہیں۔ یہ چونکہ بالعموم ان خصائص سے محروم ہوتے ہیں، جوکہ ایک عالم دین کے ہوتے ہیں، اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئی صنف وجود میں آگئی ہے، جسے مولوی یا ملا کہتے ہیں۔ عرف عام میں اس کے معنی یہ بن گئے ہیں کہ آدمی اگر انتہائی درجے کا متعصب ہے ، تنگ نظر ہے، فرقہ بندی کا اسیر ہے تو ملا ہے۔ انھی خصائص کے پیش نظر اقبال نے کہا تھا:

دین ملا فی سبیل اللہ فساد

سوال: ہمارے بعض علما اپنے جس اختیار کا کھلا استعمال کرتے ہیں وہ کسی بھی معاملہ میں فتویٰ دینے کا اختیار ہے اور اکثر وہ کفر سے کم فتویٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کیا اسلام میں کسی عالم دین کے پاس دوسرے کو کافر قرار دینے کا اختیار حاصل ہے؟

جواب: میرے نزدیک علما کے فتویٰ دینے کا طریقہ ہی بڑے مفاسد کا حامل ہے۔ ایک سچے عالم کو صرف اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ اسے صرف اتنی بات کہنی چاہیے کہ میں دلائل کی بنیاد پر اپن ي اس بات کو اس طرح سے سمجھتا ہوں۔ اس سے زیادہ کا کسی شخص کو کوئی حق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آزاد پیدا کیا ہے۔ وہ جس طرح کسی حکمران کے غلام پیدا نہیں کیے گئے اسی طرح مذہبی پیشوا ؤ ں کے بھی غلام پیدا نہیں کیے گئے۔ بالخصوص کفر کا فتویٰ دینے کا حق اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو نہیں دیا۔ زیادہ سے زیادہ کسی فرد یا گروہ کو غیرمسلم قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن وہ بھی کسی عالم کا کام نہیں۔ کسی فرد یا گروہ کے غیرمسلم قرار د ي ے جانے کا فیصلہ مسلمانوں کی ریاست کر سکتی ہے۔ علما کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اگر کسی غلطی پر دیکھیں تو دلائل کے ساتھ وہ غلطی ان پر واضح کریں اور دنیا و آخرت میں اس کے نتائج سے ان کو متنبہ کر دیں۔

سوال: یہ درست ہے کہ تمام مذہبی فرقوں کے بڑے بڑے علما مذہبی دہشت گردی کا کوئی رجحان نہیں رکھتے، مگر اس کے باوجود ایسے علما کی بھی کمی نہیں جو اس قسم کی کارروائیوں کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی جان لیتا ہے تو اس سے دین اسلام کی جو بدنامی ہوتی ہے کیا اس کے خاتمے کے لیے ہمارے علما مجرمانہ کوتاہی کے مرتکب نہیں ہ ي ں ؟

جواب: اس معاملے میں یہ عرض کروں گا کہ بہت کم علما لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان کی جان اور مال کے خلاف اپنے پیروکاروں کو ابھارتے ہیں۔ تمام مذہبی فرقوں کے بڑے بڑے علما اس طرح کا کوئی رجحان نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس طرح کی کاروائیوں کو قابل مذمت ہی سمجھتے ہیں۔ البتہ ان میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جو اس طرح کی کارروائیوں کو جہاد قرار دیتا ہے اور اپنے اس رویے سے علما، مسلمانوں اور دین کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ اصل غلطی یہ ہے کہ جس زور اور جس قوت کے ساتھ اور جس بے لاگ طریقے سے اس طرح کے شر پسندوں کی مذمت ہونی چاہیے اور جس بلند آہنگی کے ساتھ انھیں دین و ملت کا دشمن قرار دینا چاہیے۔ نہ صرف علما اس میں کوتاہی کرتے ہیں، بلکہ بعض مواقع پر مجرمانہ خاموشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر یہ رویہ ترک کر دیا جائے تو اس سے بدنامی کا یہ داغ آسانی سے دھویا جا سکتا ہے۔

سوال: غامدی صاحب آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو عالم دین بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اگر خدانخواستہ کوئی بچہ ذہنی طور پر کمزور ہے یا نابینا ہے تو اسے ہم دینی مدرسے میں بھیج دیتے ہیں۔ ہم ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست بچوں کو عالم دین بنانا کیوں پسند نہیں کرتے؟

جواب: یہ فضا اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ علما کے لیے باوقار حیثیت کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔ اگر دنیا کے دوسرے علوم کے ماہرین کی طرح سوسائٹی دینی علما کے لیے بھی باوقار حیثیت کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ صورت نہیں رہے گی۔ مثال کے طور پر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں دین کے جید علما کے لیے تعلیم و تدریس کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ دینی علوم کے اعلیٰ درجے کے ادارے ریاست خود قائم کرے۔ جامع مساجد کو اسلامک سنٹر میں بدل کر ان کا اہتمام بھی ریاست باوقار طریقے سے کرنے کی صورتیں پیدا کرے تو علما کے لیے باوقار حیثیت کے مواقع پیدا ہو جائیں گے، جس سے سوسائٹی میں ان کا مقام بلند ہو گا۔ لوگ اپنے ذہین بچوں کو اس میدان کی طرف بھی رغبت دلائیں گے۔ موجودہ زمانے م ي ں تو واقعی یہ صورت ہے کہ جو بچہ کسی کام کا نہیں ہوتا، اسے لوگ دینی مدرسے میں داخل کرا دیتے ہیں اور اگر کوئی غیر معمولی صلاحیت کا آدمی اپنی مرضی سے اس میدان کا انتخاب کر لے تو اسے جدوجہد کے بڑے جاں گسل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں اس شعبے میں بہت پست اخلاق کے سوال آجانے کی وجہ بھی یہی بنی ہے۔

سوال: آج کے دور کا کوئی ایسا عالم دین ہے، جسے آپ مثالی قرار دینا چاہیں گے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ہر مدرسہ ء فکر میں ایسے چند علما موجود ہوتے ہیں، جنھیں علم و عمل کے لحاظ سے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے زمانے کے دو بہت بڑے علما سے کسب فیض کیا ہے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی۔ میں دونوں کے بارے میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں اپنے علم و عمل میں بے مثل شخصیت کے حامل تھے۔

( ہفتہ ٢٩ صفرالمظفر١٤٢١ھ/ ٣ جون ٢٠٠٠ )

http://www.ghamidi.net/Interviews/Fatwa.html

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s