ہیکلِ سلیمانی کی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ

ضمیمہ ۳

(بحوالہ باب دہم)

حضرت سلیمان علیہ السلام سے پہلے اسرائیلیوں کے ہاں ہیکل کی کسی عمارت کا وجود نہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی بدویانہ زندگی میں کسی ہیکل کی ایک متعین عمارت کے لیے کوئی جگہ ممکن ہی نہ تھی۔ ’خیمۂ اجتماع‘، جو متعین لمبائی، چوڑائی اور اونچائی وغیرہ کا ایک خیمہ ہوتا تھا، ہیکل کا کام دیتا تھا اور عہد کا تابوت (تابوتِ سکینہ) ۱؂ اِس میں رکھا ہوتا تھا۔جب حضرت داوٗد علیہ السلام (قریباً ۱۰۱۰ ۔ ۹۷۰ ق م) نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور اپنے لیے ایک مستقل محل تعمیر کر لیا تو اللہ تعالیٰ کے معبد کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( ۲۔سموئیل ۷:۲)۔ اُس نے تعمیراتی مٹیریل بہم پہنچایا، خزانہ اکٹھا کیا اورمعبد کی عمارت کے لیے ارونا یبوسی سے اس کا کھلیان خریدا (۱۔ تواریخ ۲۲: ۸؛ ۲۔ ۲۔سموئیل ۲۴: ۱۸۔۲۵)۔۲؂ اُس کے بیٹے سلیمان (جو اسرائیل کی متحدہ بادشاہت پر قریباً ۹۷۰ ۔ ۹۳۰ ق م حکمران رہا) نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں ہیکل کی باقاعدہ تعمیرشروع کی اور سات سال بعد ہیکل مکمل ہو گیا (قریباً ۹۶۰ ق م میں؛ لیکن سمتھ کی لغت، صفحہ ۹۷۶ کے مطابق قریباً ۱۰۰۵ ق م میں،جو قطعی ناممکن ہے)۔ یہودیہ کے بادشاہوں نے مختلف حکومتوں سے تعلقات استوار کرنے کی غرض سے خراج ادا کرنے کے لیے اس ہیکل کے خزانے متعدد مرتبہ لوٹے (۲۔سلاطین۱۲: ۱۸؛ ۱۶: ۸؛ ۱۸: ۱۵)۔ یوسیاہ نے (جس نے قریباً ۶۴۰ ۔ ۶۰۹ ق م یہودیہ پر حکومت کی) ہیکل کی تعمیر ومرمت کا حکم صادر کیا۔ یوسیاہ کے فرمان کے تحت کی جانے والی مرمت (قریباً ۶۲۲ ق م) کے دوران میں سردار کاہن حلقیاہ نے شریعت کی کتاب دریافت کی۔ اس بات پرعمومی اتفاق ہے کہ یہ اَسفارِ خمسہ (تورات) کی کتابِ استثنا کی اصلی حالت تھی۔ یوسیاہ نے دینی اصلاحات کے نفاذ کا عمل شروع کیا‘جو اُس تورات کی تعلیمات پر مبنی تھا جو حلقیاہ نے ہیکل میں دریافت کی تھی (۲۔ سلاطین ۲۲: ۸ وبعد)۔ بابل کے حکمران نبیو کد نضر نے ۵۸۶۔ ۵۸۷ ق م میں اپنی یروشلم کی فتح کے موقع پر ہیکلِ سلیمانی کو تباہ وبرباد کر دیااور یروشلم کے اسرائیلیوں کو اسیر بنا کر اپنے ساتھ لے گیا۔اگلے قریباً ۷۰ سال تک ہیکلِ سلیمانی کا صفحۂ ہستی پر کوئی وجود نہ تھا۔ فارس کے شاہِ سائرس نے بابل کے ولی عہد بل شعضر کو ۵۳۹ ق م میں شکست دی اور بابلی سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ سائرس ایک منصف مزاج اور رحم دل حکمران تھا۔ اُس نے اسرائیلیوں کوآزاد کر دیا اورانھیں اس بات کی اجازت بھی دے دی کہ وہ یروشلم میں واپس جا کر آباد ہو جائیں۔ اُس نے انھیں اپنا ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی اوراِس غرض کے لیے انھیں مناسب مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ہیکل کی(دوسری) تعمیر ۵۳۷ ق م میں شروع ہوئی۔ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری‘ میں وضاحت کی گئی ہے:

But the builders encountered so much opposition from enemies in their homeland that the work soon came to a virtual stop and remained interrupted until the reign of Darius 1. In the 2nd year of his reign the prophets Haggai and Zechariah encouraged Zerubbabel, the governor, and Joshua, the high priest, to make another effort to rebuild the Temple. They responded, and with the enthusiastic support of the whole nation and the good will of the Persian officials and of the king himself, the new Temple, usually referred to as the Second Temple [or the Temple of Zerubbabel], was completed, along with its auxiliary structures, in the period of 4189 years, from 520 to 515 B.C. (Ezr. 3:8 to 4:5; 4:24 to 6:15). (…). Antiochus IV Epiphanes desecrated the Temple in 168 B.C. by erecting an altar dedicated to Jupiter Olympius in the Temple court and sacrificing swine on it. He stole the sacred furniture from the holy place and removed all Temple treasures (Jos. Ant. xii 5, 4; 1 Macc 1:21-23). However, the Temple was repaired, refurnished, and rededicated in 165 B.C., after the Maccabean forces took Jerusalem (1 Mac 4:43-59) (…). When Pompey conquered Jerusalem in 63 B.C. the Temple was spared any damage, but it was later pillaged by Crassus [in 54 BC]. It may have suffered some further damage in the conquest of Jerusalem by Herod in 37 B.C. (…). When Herod announced his intention of rebuilding a new Temple [commonly called ‘Temple of Herod’], the Jews feared he would tear down the old one and then fail to rebuild it. Consequently, Herod devised a method of reconstruction by which the old was demolished only as the new construction progressed; it appeared at the different stages as if he were doing nothing but repairing the older structures, while in reality a completely new complex of buildings was erected without interrupting the services. He first rebuilt the Temple proper. This work was begun in 20/19 B.C. and lasted 18 months. He had all building material finished to size before it was brought to the Temple area, and employed only priests to work on the inner Temple structure. After that was finished, most of the outer buildings, including the cloisters, were completed during the next 8 years, but the work of decoration and embellishment went on until the procuratorship of Albinus (A.D. 62-64), immediately before the outbreak of the Jewish war. Since building activities were still going on during Christ’s ministry, it is understandable that the Jews said the Temple had been in building for 46 years (Jn 2:20). (…). The whole Temple with all its buildings was destroyed by fire during the capture of Jerusalem by the forces of Titus in A.D. 70. (…). Although the Temple built by Herod the Great was actually a new structure, the Jews always referred to it as still the Second Temple, considering his work no more than a repair and remodeling. Because of the Jews’ hatred for him, the orthodox Jewish writings, like the Mishnah, which gives detailed descriptions of this Temple, never mention the name of its builder. (…). The old Temple area was enlarged to twice its former size, including also the palace grounds of Solomon’s time. Archeological investigations show that the present Moslem enclosure, the Haram esh-Sherif, almost exactly covers Herod\’s Temple area, and large parts of the present walls rest on foundations or wall stumps of Herod’s time. ؂3

لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حجی اور زکریاہ نبیوں نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی [یا ہیکلِ زروبابل] اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں ۵۲۰ ۔ ۵۱۵ ق م ( عزرہ ۳: ۸۔ ۴: ۵؛ ۴: ۱۴ ۔ ۶:۱۵) پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ (…)۔ انطیوکس چہارم ایپی فینز نے ۱۶۸ ق م میں ہیکل کے صحن میں جیوپیٹر اولمپیئس کے نام سے منسوب چبوترہ تعمیر کرکے اور اِس پر خنزیروں کی قربانیاں پیش کرکے ہیکل کے تقدس کو پامال کیا۔ اُس نے اِس مقدس مقام سے متبرک فرنیچر چرا لیااور ہیکل کے تمام خزانے وہاں سے ہٹا دیے (جوزیفس، اینٹی کوئیٹیز دواز دہم ۵، ۴: ۱۔ مکابیون ۱: ۲۱ ۔ ۲۳)، تا ہم۱۶۵ ق م میں مکابی فوجوں کے یروشلم پر قبضے کے بعد (۱۔مکابیون۴: ۴۳۔ ۵۹) ہیکل کی مرمت کرا دی گئی، اس میں نئے سرے سے فرنیچر فراہم کیا گیا اور اسے دوبارہ مراسمِ قربانی وعبادت کے لیے وقف کر دیا گیا۔ (…)۔ جب پومپی نے ۶۳ ق م میں یروشلم پر قبضہ کیا تو ہیکل کو کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا، لیکن بعد میں [۵۴ ق م میں] کریسس نے اسے تاراخت وتاراج کیا۔ عین ممکن ہے کہ ہیرود کی ۳۷ ق م میں فتح یروشلم کے موقع پر بھی اسے مزید نقصان پہنچایا گیاہو۔ (…)۔ جب ہیرودِ اعظم نے ایک نئے ہیکل [جسے عام طور پر ’ہیرود کا ہیکل‘ کہا جاتا ہے] کی تعمیر نو کے ارادے کا اظہار کیا تو یہودیوں کو اس بات کا خوف محسوس ہوا کہ وہ پرانا ہیکل توڑ پھوڑ ڈالے گا اور پھر اس کی تعمیرنو نہیں کرا سکے گا۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہیرود نے تعمیر نو کا ایسا طریقہ اختیار کیاجس کے ذریعے سے پرانے ہیکل [کے صرف وہی حصے ] گرائے جاتے تھے جس کی تعمیر پر عمل درآمد شروع ہو جاتا تھا۔ تعمیر کے مختلف مراحل کے دوران میں یوں لگتا تھاکہ وہ پرانی تعمیرات کی مرمت کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مراسمِ قربانی وعبادت میں کسی طرح کا خلل واقع ہوئے بغیر عمارات کا مکمل طور پر ایک نیا ڈھانچا تعمیر ہو رہا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں اُس نے اصل ہیکل کو دوبارہ تعمیر کیا۔ یہ کام ۱۹ یا ۲۰ ق م میں شروع ہوا اور ۱۸ ماہ تک جاری رہا۔اُس نے تمام تعمیراتی سامان کو ہیکل کے علاقے میں لائے جانے سے پہلے ہی بالکل سائز کے مطابق تیار کروایا اور ہیکل کے اندرونی ڈھانچے پر کام کے لیے صرف کاہنوں ہی کو مقرر کیا۔ جب یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا تواگلے آٹھ سالوں کے درمیان میں اکثر بیرونی عمارتیں بشمول خانقاہ کے حجرات مکمل کیے گئے، لیکن تزئین وآرایش کا کام، یہودی جنگوں کے پھوٹ پڑنے سے فوراً پہلے، البائنس (۶۲ء۔ ۶۴ ء) کے دورِ انتداب تک جاری رہا۔ چونکہ حضرت مسیح ؑ کے دورِ نبوت کے دوران تک تعمیراتی سرگرمیاں ابھی جاری تھیں تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ یہودیوں نے یہ (کیوں) کہا تھا کہ ہیکل میں تعمیراتی کام ۴۶ سال سے جاری ہے (یوحنا ۲:۲۰)۔ (…)۔ سارے کا سارا ہیکل اپنی تمام تعمیرات سمیت ۷۰ ء میں ٹائیٹس کی فوجوں کے ہاتھوں یروشلم کے قبضے کے دوران میںآگ کے ذریعے سے نیست ونابود کر دیا گیا۔ (…) اگرچہ ہیرودِ اعظم کا تعمیر کردہ ہیکل عملی طور پر ایک نئی عمارت تھی، لیکن یہودی ہیرودِ اعظم کے کام کو مرمت اورتعمیرِ جدید سے زیادہ نہ سمجھتے ہوئے ہمیشہ اس کا ہیکلِ ثانی کے طور ہی پر ذکر کرتے تھے۔ یہود کی ہیرودِ اعظم سے نفرت کی وجہ سے مِشنا کی طرز کی متعصب یہودی تحریریں ، جو اِس ہیکل کی مکمل تفصیل بتاتی ہیں،اس کے معمار کا نام کبھی نہیں لیتیں۔ (…)۔ہیکل کا پرانا رقبہ بڑھا کر پہلے سے دوگنے سائز کا کر دیا گیااور اِس میں عہدِ سلیمان کے محل کے میدان بھی شامل کر لیے گئے۔ آرکیالوجی کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمانوں والا حصہ یعنی حرم شریف ۴؂ ٹھیک ٹھیک ہیکلِ ہیرود کے رقبے پر مشتمل ہے اور موجودہ دیواروں کے زیادہ تر حصے ہیرود کے زمانے کی بنیادوں پر قائم ہیں۔

اس جگہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب مسجدِ عمر تعمیر ہوئی، اُس سے قریباً سات صدیاں پہلے تک ہیکل کی کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ ’جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا‘ کے مطابق:

The mosque was built over a rock the traditions of which were sacred, probably the site was the same as that of the Temple which Hadrian erected to Jupiter. This in turn was on the site of Herod\’s Temple. ؂5

مسجدایک چٹان پر تعمیر کی گئی تھی، جس سے متعلق روایات یہ ہیں کہ وہ مقدس تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ اس کا محلِ وقوع وہی تھا جواُس ہیکل کا تھا، جسے ہیڈرین نے جوپیٹر [کے مراسمِ قربانی و عبادت]کے لیے تعمیر کیا تھا۔اور اسی طرح یہ بھی ہیرودِ اعظم کے ہیکل کے محل وقوع پر واقع تھا۔

اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پچھلے قریباً دو ہزار سال سے اس مقام پر ہیکلِ سلیمانی کا کسی حالت میں بھی وجود نہیں رہا۔

________

حواشی ضمیمہ ۳ ’ہیکلِ سلیمانی‘ کی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ

۱؂ مکینزی بحوالہ خروج ۲۵:۱۰ وبعد(صفحہ۵۴پر) ’تابوت‘کی حسبِ ذیل وضاحت کرتا ہے:

A small portable box or chest: 3190 X 2188 X 2188 ft, made of acacia wood, overlaid with gold inside and out. On its top were two cherubim facing each other. This is the place where Yahweh meets Israel and reveals His commandments. It contained the two tablets of stone which were thought to go back to the Mosaic period, a vessel of manna and the rod of Aaron. It was carried on the head of the column when the Hebrews traveled through the desert and before the army in battle. After the settlement of the Israelites in Canaan the ark was finally established at Shiloh, [Shiloh was 9 mi NNE of Bethel, in the central mountain range.] It was taken into battle against Philistines, who defeated Israel and captured the ark. It was finally placed in the temple of Solomon.

[تابوتِ سکینہ یا عہد کا تابوت] کیکر کی لکڑی کا بنا ہوا ایک چھوٹا دستی طورپر قابلِ منتقلی بکس یا صندوقچہ جو پونے چار ضرب سوا دو ضرب سوا دو فٹ کاتھا اور جس پر اندر اور باہر سونا جڑا ہواتھا۔ اس کے اوپردو کروبی ایک دوسرے کی طرف منہ کیے بیٹھے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ اسرائیل سے ملاقات کرتا اور اپنے احکامات کا القا کرتا تھا۔ اس میں پتھر کی وہ دوا لواح بھی موجود تھیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عہدِ موسوی کا بقیہ ہیں اور ایک ’مَنّ‘ کا برتن اور ہارون ؑ کا عصا بھی تھا۔ جب عبرانی لوگ صحرا میں سفر کرتے تواُس وقت اس طرح لے جایا جاتا کہ یہ قطاروں سے آگے ہو اور جنگوں میں اِسے فوج کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا۔ اسرائیلیوں کے کنعان میں آباد ہو جانے کے بعد تابوت کو بالآخر شیلوہ [یہ مرکزی پہاڑی سلسلے میں بیت ایل کے شمال شمال مشرق میں نو میل کے فاصلے پر واقع تھا] کے مقام پر مستقل طور پر رکھ دیا گیا۔ اسے فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں لے جایا گیا جنھوں نے اسرائیل کو شکست دی اوراِس تابوت پر قبضہ کر لیا۔ بالآخر اِسے ہیکلِ سلیمانی میں رکھ دیا گیا۔

2. Smith’s Dic. of the Bible, 679 observes:

The gold and silver alone accumulated by David are at the lowest reckoned to have amounted to between two and three billion dollars.

داوٗد ؑ نے [بیت المقدس کی تعمیر کے لیے ]جو سونا اور چاندی جمع کیا تھاصرف اُسی کی قیمت کا کم از کم تخمینہ دو اور تین بلین ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔

بظاہر یہ نا ممکن نظر آتا ہے۔لگتا یہ ہے کہ لغت نگار نے اس کا حساب کتابِ تواریخ کے مطابق لگایا ہو گا جو اپنی مبالغہ آرائیوں کے لیے مشہور ہے(ملاحظہ کیجیے ۱۔ تواریخ ۲۲: ۱۴)۔

3. 7th Day Adventist Bible Dic., p. 1099 ff.

۴؂ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ حرم شریف سے مراد نہ تو مسجدِ عمر ہے اور نہ مسجد اقصیٰ، بلکہ اس سے مراد وہ سارا رقبہ ہے جو ہیرودِ اعظم کے ہیکل میں شامل تھا۔

5. The Jewish Enc. 12:100.

Advertisements

عمر خیام

عمر خیام کا پورا نام ’ ’ابوالفتح عمر بن ابراہیم الخیامی ‘‘ تھا۔ عمر خیام ۱۰۴۸ .ء میں نیشا پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی پیشہ خیمہ دوزی تھا۔ اسی نسبت سے یہ خیام مشہور ہوئے۔ عمر خیام نے اس وقت نیشا پور میں آنکھیں کھولیں جب اس پر سلجوقیوں کی حکومت تھی، جو علم و حکمت کے بڑے دلدادہ تھے۔

عمر خیام نے نیشاپور میں ہی ابوالحسن زنہاری کی شاگردی اختیار کر لی جنہوں نے انھیں ریاضی، فلسفہ اور علم معیشت کا درس دیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد یہاں سے وہ سمرقند چلے گئے۔ جہاں ابو طاہر نامی امیر کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ ابو طاہر کی سرپرستی میں عمر خیام نے علم ریاضی پرکام کرنا شروع کر دیا اور تقریباً سات سال کی مسلسل محنت کے بعد انھوں نے اپنی مشہور تصنیف ’’مقالات فی الجبر و مقابلہ‘‘ لکھی۔ اس میں جو نظریات پیش کیے ہیں وہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔

سمرقند میں دس برس گزارنے کے بعد وہ اپنے وطن نیشاپور لوٹ آئے۔ اسی دوران یہاں کے حکمران ملک شاہ کا بیٹا بیمار ہوا۔ عمر خیام نے ہی اس کا شافی علاج کیا۔ ملک شاہ نے اسے اپنے یہاں کا شاہی طبیب مقرر کر دیا۔ ملک شاہ نے اصفہان میں ایک رصد گاہ قائم کی جس کا نگراں عمر خیام کو مقرر کر دیا۔ یہیں انھوں نے’’ تاریخ الجلالی‘‘ نامی کیلنڈر تیار کیا۔ جو موجودہ عیسوی کیلنڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ عمر خیام کی سب سے نمایاں خدمات الجبرا کے میدان میں رہی۔ ’’مقالات فی الجبر و مقابلہ‘‘ ان کا تاریخی شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ ’’بائی نومیل تھیورم‘‘(Binomial Theorum) پیش کیا اور مابعد الطبیعیات پر بھی تین کتابیں لکھی ہیں۔ مغرب نے عمر خیام کو ایک حکیم اور فلسفی کی بجائے صرف خمریات کے شاعر کی حیثیت سے نمایاں کیا ہے۔ ان کا یہی وطیرہ دوسرے مسلمان حکماء کے بارے میں بھی رہا ہے۔ ان کی رباعیات کو Idward Fitzgerald نے انگریزی میں ترجمہ کر کے عالمگیریت بخش دی ہے لیکن اس ترجمہ میں حکمت، فلسفہ اور تصوف کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف شباب اور سرمستی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اس کا ترجمہ اتنا جامع اور قابل تعریف ہے کہ کلاسیکی ادب میں آج تک شامل ہے۔ اردو میں کئی شاعروں نے ان کی رباعیات کے ترجمے کیے ہیں۔ ایک رباعی کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

اسرار دل نہ تجھ کو، مجھ کو معلوم

اس راز کو حل کرنے سے دونوں محروم

یہ گفت و شنید تجھ سے پردہ میں ہے

پردہ اٹھے تو دونوں ہوں گے معدوم

عمر خیام کا انتقال ۸۳ سال کی عمر میں ۱۱۳۱ .ء میں ہوا۔ انھیں نیشاپور میں ہی دفن کیا گیا۔

طالب انصاری

اجالے ماضی کے

 

دعا کو ہمنوائے نالۂ شب گیر کرنا ہے

    فغاں کو آشنائے ّلذت تاثیر کرنا ہے

    جنوں کو خوئے تسلیم و رضا تعلیم کرنی ہے

    بگولوں کو اسیر حلقۂ زنجیر کرنا ہے

    چھپا بیٹھا ہے اک دشمن حصار ذات کے اندر

    شکست جسم سے پہلے جسے تسخیر کرنا ہے

    وہ آنکھیں جن کو ورثے میں ملی جاگیر نفرت کی

    محبت کا سبق ان کے لیے تحریر کرنا ہے

    وہ منظر جو مری چشم تصور پر اترتے ہیں

    انھیں ہر چشم بینا کے لیے تصویر کرنا ہے

    ہزاروں خواہشوں کی بستیاں مسمار کرنی ہیں

    اسی ملبے سے پھر اک جھونپڑا تعمیر کرنا ہے

    اسے اپنا بنانے کی کوئی تدبیر کرنی ہے

    مجھے تبدیل اپنا کتبۂ تقدیر کرنا ہے

    مرے اجداد نے بھی بیعت باطل نہیں کی تھی

    مجھے بھی ّاتباع ّسنت ّشبیر کرنا ہے

    مرے اسلاف نے اچھے دنوں کا خواب دیکھا تھا

    سو ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہے

ممشتاق-عاجز

نماز كی تاريخ

 

نماز کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے ، جتنی خود مذہب کی ہے۔ اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے اور اِس کے مراسم اور اوقات بھی کم و بیش متعین رہے ہیں۔ ہندووں کے بھجن ، پارسیوں کے زمزمے، عیسائیوں کی دعائیں اور یہودیوں کے مزامیر ، سب اِسی کی یادگاریں ہیں۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اللہ کے تمام پیغمبروں نے اِس کی تعلیم دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جس دین ابراہیمی کی تجدید کے لیے ہوئی ، اُس میں بھی اِس کی حیثیت سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسمٰعیل کو ام القریٰ کی وادی غیر ذی زرع میں آباد کیا تو اِس کا مقصد یہ بتایا کہ `رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ` ١٧؎ (پروردگار، تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں)۔ اِس موقع پر اُنھوں نے دعا فرمائی : `رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ`١٨؎ (پروردگار، مجھے اور میری اولاد کو نماز کا اہتمام کرنے والا بنا دے)۔ سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ `کَانَ يَاْمُرُ اَهْلَه، بِالصَّلٰوةِ` ١٩؎ (وہ اپنے گھروالوں کو نماز کی تلقین کرتے تھے)۔ سیدنا شعیب کو اُن کی قوم نے طعنہ دیا کہ `اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَآ` ٢٠؎ ( کیا تمھاری نماز تمھیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں)۔ سیدنا اسحق اور سیدنا یعقوب کی نسل کے پیغمبروں کے بارے میں قرآن کا بیان ہے : `اَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ` ٢١؎ ( ہم نے اُن کو بھلائی کے کام کرنے اور نماز کا اہتمام کرنے کی وحی کی)۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو حکم دیا گیا : `اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِکْرِیْ` ٢٢؎ ( میری یاد کے لیے نماز کا اہتمام رکھو)۔ زکریا علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہوا ہے: ` وَهُوَ قَائِمٌ يُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ` ٢٣؎ (اور وہ محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے)۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایا ہے : `وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ` ٢٤؎ (اور اللہ نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے)۔ لقمان عرب کے حکیم تھے۔قرآن نے بتایا ہے کہ اُنھوںنے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی: `يٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ` ٢٥؎ (بیٹے، نماز کا اہتمام کرو)۔ بنی اسرائیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ `اِنِّیْ مَعَکُمْ، لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ…لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَيِّاٰتِکُمْ` ٢٦؎ (میں تمھارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پر قائم رہو گے… تو میں تمھاری برائیاں تم سے دور کر دوں گا)۔ قرآن کی گواہی ہے کہ زمانہئ رسالت میں یہود و نصاریٰ کے صالحین نماز کا اہتمام کرتے تھے :
مِنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُوْنَ. (آل عمران ٣: ١١٣)
“اِ ن اہل کتاب میں سے ایک گروہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ راتوں کو آیات الٰہی کی تلاوت کرتے اور اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں“۔
یہی بات اُس زمانے کے مشرکین عرب کے متعلق بھی بیان ہوئی ہے :
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ.(الماعون ١٠٧: ٤-٥)
“اِس لیے بربادی ہے (حرم کے پروہت) اِن نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں (کی حقیقت سے) غافل ہیں۔“
جاہلی شاعر جران العود کہتا ہے :
وادرکن اعجازًا من الليل بعد ما
اقام الصلٰوة العابد المتحنف
“اور اِن سواریوں نے رات کے پچھلے حصے کو پا لیا ، جبکہ عبادت گزار حنیفی نماز سے فارغ ہو چکا تھا۔ “

اعشیٰ وائل کا شعر ہے :
وسبح علی حين العشيات والضحیٰ
ولا تعبد الشيطان، واللّٰه فاعبدا
“اور صبح و شام تسبیح کرو، ٢٧؎ اور شیطان کی عبادت نہ کرو ، بلکہ اللہ کی عبادت کرو۔“
روایتوں میں بھی یہود و نصاریٰ اور دین ابراہیمی کے پیرووں کی نماز کا ذکر ہوا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر نے یا غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو دونوں میں نماز پڑھے اور اگر ایک ہی ہو تو تہ بند باندھ لے، اُسے نماز میں یہودیوں کی طرح چادر بنا کر لپیٹے نہیں۔ ٢٨؎
سیدناصدیق کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو تو یہودیوں کی طرح جھولے نہیں ، بلکہ سکون کے ساتھ کھڑا ہو۔ ٢٩؎
شداد بن اوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہودیوں کے برخلاف تم نماز میں جوتے اور موزے پہنے رہو۔ ٣٠؎
ابو عبد الرحمن کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں اُس وقت تک کچھ خیر باقی رہے گا ، جب تک وہ یہودیوں کی طرح مغرب کی نماز میں رات کے تاریک ہو جانے اور عیسائیوں کی طرح فجر کی نماز میں تاروں کے ڈوبنے کا انتظار نہ کریں گے۔ ٣١؎
ام المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رکوع میں گھٹنوں کے درمیان ہاتھ جوڑ لینا یہود کا طریقہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے منع فرمایا ہے۔ ٣٢؎
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے تین سال پہلے ہی میں نماز پڑھتا تھا۔ پوچھا گیا کہ کس کے لیے ؟ فرمایا : اللہ کے لیے۔ ٣٣؎
یہودونصاریٰ کی نماز کا ذکر بائیبل میں بھی جگہ جگہ ہوا ہے اور جس طرح قرآن نے بعض مقامات پر نماز کو اللہ کا نام لینے، قرآن پڑھنے ، دعا کرنے ، تسبیح کرنے اور رکوع و سجود کرنے سے تعبیر کیا ہے ، اِسی طرح بائیبل میں بھی نماز کو اِس کے ارکان سے تعبیر کیا گیاہے۔
پیدایش میں ہے :
“اور وہاں سے کوچ کر کے (ابراہیم) اُس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عی مشرق میں پڑا اور وہاں اُس نے خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی اور خدا کا نام لیا۔ “ (١٢: ٨)
“تب ابراہیم سجدہ ریز ہو گیا اور خدا نے اُس سے ہم کلام ہو کر فرمایا۔“ (١٧: ٣)
“سو وہ مرد وہاں سے مڑے اور سدوم کی طرف چلے ، پر ابراہیم خداوند کے حضور کھڑا ہی رہا۔“ (١٨: ٢٢)
“تب ابراہیم نے اپنے جوانوں سے کہا کہ تم یہیں گدھے کے پاس ٹھیرو۔ میں اور یہ لڑکا ، دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کر کے پھر تمھارے پاس لوٹ آئیں گے۔“ (٢٢: ٥)
“اور (اسحق) نے وہاں قربان گاہ بنائی اور خدا کا نام لیا۔“ (٢٦: ٢٥)
خروج میں ہے :
“تب لوگوں نے اُن کا یقین کیا اور یہ سن کر کہ خداوند نے بنی اسرائیل کی خبر لی اور اُن کے دکھوں پر نظر کی ، اُنھوں نے اپنے سرجھکا کرسجدہ کیا۔“ (٤ : ٣١)
زبور میں ہے :
“اے خداوند، تو صبح کو میری آو از سنے گا۔ میں سویرے ہی تیرے حضور میں نماز کے بعد انتظار کروں گا۔ “  (٥:٣)
“لیکن میں تیری شفقت کی کثرت سے تیرے گھر میں آؤں گا۔ میں تیرا رعب مان کر تیری مقدس ہیکل کی طرف رخ کر کے سجدہ کروں گا۔“ (٥:٧)
“پر میں تو خداوند کو پکاروں گا اور خداوند مجھے بچا لے گا۔ صبح و شام اور دوپہر کو میں فریاد کروں گا اور نالہ کروں گا اور وہ میری آواز سن لے گا۔“ (٥٥: ١٦-١٧)
“سمندر اُس کا ہے۔ اُسی نے اُس کو بنایا ہے اور اُسی کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔ آؤ، ہم رکوع و سجود کریں اور اپنے خالق خداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں، کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے۔ “ (٩٥: ٥-٦)
“میں تیری مقدس ہیکل کی طرف رخ کر کے سجدہ کروں گا اور تیری شفقت اور سچائی کی خاطر تیرے نام کا شکر کروں گا ، کیونکہ تو نے اپنے کلام کو اپنے ہر نام سے زیادہ عظمت دی ہے۔ “ (١٣٨: ٢)
سلاطین اول میں ہے:
“جب تیری قوم اسرائیل تیرا گناہ کرنے کے باعث اپنے دشمنوں سے شکست کھائے اور پھر تیری طرف رجوع لائے اور تیرے نام کا اقرار کر کے اور اُس گھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے اور تجھ سے مناجات کرے تو تو آسمان پر سے سن کر اپنی قوم بنی اسرائیل کا گناہ معاف کرنا اور اُن کو اُس ملک میں جو تو نے اِن کے باپ دادا کو دیا ، پھر لے آنا۔“ (٨: ٣٣- ٣٤)
یرمیاہ میں ہے :
“تو خداوند کے گھر کے پھاٹک پر کھڑا ہو اور وہاں اِس کلام کی منادی کرا دو کہ : اے یہوداہ کے سب لوگو جو خداوند کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے اِن پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو، خداوند کا کلام سنو۔“ (٧:٢)
دانیال میں ہے :
“جب دانیال کو معلوم ہوا کہ نوشتہ پر دستخط ہو گئے تو وہ اپنے گھر آیا اور اپنی کوٹھڑی کا دروازہ جو بیت المقدس کی طرف تھا، کھول کر اور دن میں تین مرتبہ گھٹنے ٹیک کر اپنے پروردگار کے حضور میں اُسی طرح نماز پڑھتا اور تسبیح و تحمید کرتا رہا ، جس طرح پہلے کرتا تھا۔ “ (٦: ١٠)
“اور میں نے خداوند خدا کی طرف رخ کیا اور نماز اور دعاؤں کے ذریعے سے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ پر بیٹھ کر اُس کا طالب ہوا۔“ (٩: ٣)
متی میں ہے :
“اور لوگوں کو رخصت کر کے (یسوع) تنہا نماز پڑھنے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب شام ہوئی تو وہاں اکیلا تھا۔“  (١٤: ٢٣)
“اُس وقت یسوع اُن کے ساتھ گتسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا : یہیں بیٹھے رہنا ، جب تک کہ میں وہاں جا کر نماز پڑھ لوں۔ “ (٢٦:٣٦)
“پھر ذرا آگے بڑھا اور سجدہ ریز ہوا اور نماز پڑھتے ہوئے یوں دعا کی کہ اے میرے باپ، اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔“  (٢٦: ٣٩)
مرقس میں ہے :
“اور وہ صبح سویرے اٹھ کر نکلا اور ایک ویران جگہ میں گیا اور وہ اُس جگہ نماز پڑھا کرتا تھا۔“ (١: ٣٥)
لوقا میں ہے :
“او ر اُن سے کہا : تم سوتے کیوں ہو ، اٹھو اور نماز پڑھو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“ (٢٢:٤٦)
اعمال میں ہے :
“پطرس اور یوحنا نماز کے وقت ، یعنی دن کی نویں گھڑی میں ٣٤؎ ہیکل کو جا رہے تھے۔ “ (٣:١)
“دوسرے دن جب وہ راہ میں تھے اور شہر کے نزدیک پہنچے تو پطرس ساتویں گھڑی ٣٥؎ کے قریب کوٹھے پر نماز پڑھنے کو چڑھا۔“ (١٠:٩)
“اور اُس پر غور کر کے اُس یوحنا کی ماں مریم کے گھر آیا جو مرقس کہلاتا ہے۔ وہاں بہت سے آدمی جمع ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ “ (١٢ :١٢)
“اور سبت کے دن ہم شہر کے دروازے کے باہر ندی کے کنارے گئے ، جہاں نماز کا معمول تھا اور بیٹھ کر اُن عورتوں سے جو اکٹھی ہوئی تھیں ، کلام کرنے لگے۔ “ (١٦: ١٣)
“اور آدھی رات کے قریب پولس اور سیلاس نماز پڑھ رہے اور اللہ کی تسبیح کر رہے تھے اور قیدی (اُن کی یہ تسبیح و مناجات) سن رہے تھے۔“ (١٦: ٢٥)
“اُس نے یہ کہہ کر گھٹنے ٹیکے اور اُن سب کے ساتھ نماز پڑھی۔“ ٣٦؎ (٢٠: ٣٦)
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ نماز ہمیشہ سے پانچ وقت ہی ادا کی جاتی رہی ہے۔ ابوداؤد کی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ یہ بات خود جبریل امین نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ ٣٧؎ اِس میں شبہ نہیں کہ یہود کے ہاں اب تین نمازیں ہیں اور اوپر کے اقتباسات میں بھی ایک جگہ تین ہی نمازوں کا ذکر ہوا ہے ، لیکن لوئی گنز برگ نے یروشلم کی تالمود پر اپنی تحقیقات میں واضح کیا ہے کہ یہود کے ہاں بھی یہ رواج بالکل اُسی طرح ہوا ، جس طرح ہمارے ہاں اہل تشیع نے جمع بین الصلوٰتین کے طریقے پر ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کو اکٹھا کر کے پانچ نمازوں کو عملاً تین نمازوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ اُس نے بتایا ہے کہ تالمود کے زمانے میں یہود دن میں پانچ وقت نماز کے لیے جمع ہوتے تھے : تین مرتبہ اُن نمازوں کے لیے جو اِس وقت بھی ادا کی جاتی ہیں اور دو مرتبہ ` شیما` کی تلاوت کے لیے۔ تاہم بعد میں بعض عملی دشواریوں کے پیش نظر صبح اور شام کی دو دو نمازوں کو جمع کر کے وہ صورت پیدا کر لی گئی جو اب رائج ہے۔ ٣٨؎
نزول قرآن کے بعد اب سورہ فاتحہ نماز کی دعا ہے۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے لیے اِس طرح کی دعا تمام الہامی کتابوں میں نازل کی گئی۔
تورات کی دعا یہ ہے :
“خداوند، خداوند، خداے رحیم اور مہربان، قہر کرنے میں دھیمااور شفقت اور وفا میں غنی۔ ہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گناہ اور تقصیر اور خطا کار کا بخشنے والا، لیکن وہ مجرم کو ہرگز بری نہیں کرے گا ، بلکہ باپ دادا کے گناہ کی سزا اُن کے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اور چوتھی پشت تک دیتا ہے۔“ ٣٩؎ (خروج ٣٤:٦-٧)
زبور کی دعا یہ ہے :
“اے خداوند، اپنا کان جھکا اور مجھے جواب دے ، کیونکہ میں مسکین اور محتاج ہوں۔ میری جان کی حفاظت کر، کیونکہ میں دین دار ہوں۔ اے میرے خدا، اپنے بندے کو جس کا توکل تجھ پر ہے ، بچا لے۔ یارب ، مجھ پر رحم کر، کیونکہ میں دن بھر تجھ سے فریاد کرتا ہوں۔ یا رب ، اپنے بندے کی جان کو شاد کر دے، کیونکہ میں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔ اِس لیے کہ تو یارب، نیک اور معاف کرنے کو تیار ہے اور اپنے سب دعا کرنے والوں پر شفقت میں غنی ہے۔
اے خداوند ، میری دعا پر کان لگا اور میری منت کی آواز پر توجہ فرما۔ میں اپنی مصیبت کے دن تجھ سے دعا کروں گا ، کیونکہ تو مجھے جواب دے گا۔ یا رب ، معبودوں میں تجھ سا کوئی نہیں اور تیری صنعتیں بے مثال ہیں۔ یا رب ، سب قو میں جن کو تو نے بنایا آ کر تیرے حضور سجدہ کریں گی اور تیرے نام کی تمجید کریں گی ، کیونکہ تو بزرگ ہے اور عجیب و غریب کام کرتا ہے۔ تو ہی واحد خدا ہے۔
اے خداوند ، مجھ کو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ میں تیری راستی میں چلوں گا۔ میرے دل کو یک سوئی بخش تاکہ تیرے نام کا خوف مانوں۔ یا رب ، میرے خدا ، میں پورے دل سے تیری تعریف کروں گا۔ میں ابد تک تیرے نام کی تمجید کروں گا، کیونکہ مجھ پر تیری بڑی شفقت ہے۔ اور تو نے میری جان کو پاتال کی تہ سے نکالا ہے۔
اے خدا، مغرور میرے خلاف اٹھے ہیں اور تند خو جماعت میری جان کے پیچھے پڑی ہے اور اُنھوں نے تجھے اپنے سامنے نہیں رکھا۔ لیکن تو یا رب ، رحیم وکریم خدا ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت و راستی میں غنی۔ میری طرف متوجہ ہو اور مجھ پر رحم کر۔ اپنے بندے کو اپنی قوت بخش اور اپنی لونڈی کے بیٹے کو بچا لے۔ مجھے بھلائی کا کوئی نشان دکھا تاکہ مجھ سے عداوت رکھنے والے اُسے دیکھ کر شرمندہ ہوں ، کیونکہ تو نے اے خداوند، میری مدد کی اور مجھے تسلی دی ہے۔“(٨٦: ١-١٧)
انجیل کی دعا یہ ہے :
“اے ہمارے باپ، تو جو آسمان پر ہے ، تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے ، زمین پر بھی ہو۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔ اور جس طرح ہم نے اپنے قرض داروں کو معاف کیا ہے ، تو بھی ہمارے قرض ہمیں معاف کر۔ اور ہمیں آزمایش میں نہ لا، بلکہ برائی سے بچا ، کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین۔“ (متی ٦: ٩-١٣)
یہ نماز کی تاریخ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ قرآن نے جب لوگوں کو اِس کا حکم دیا تو یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ وہ اِس کے آداب و شرائط اور اعمال و اذکار سے پوری طرح واقف تھے۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِس کی تفصیلات بیان کرتا۔ دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے یہ جس طرح ادا کی جاتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم پر بعض ترامیم کے ساتھ اِسے ہی اپنے ماننے والوں کے لیے جاری فرمایا اور نسلاً بعد نسلٍ ، وہ اُسی طرح اِسے ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ اِس کا ماخذ اب مسلمانوں کا اجماع اور اُن کا عملی تواتر ہے۔ اِس کی تفصیلات ہم اِسی سے اخذ کر کے آگے کے مباحث میں بیان کریں گے۔
—————————
١٧؎ ابراہیم ١٤: ٣٧۔
١٨؎ ابراہیم ١٤: ٤٠۔
١٩؎ مریم ١٩: ٥٥۔
٢٠؎ ہود ١١: ٨٧۔
٢١؎ الانبیاء ٢١: ٧٣۔
٢٢؎ طٰہٰ ٢٠: ١٤۔
٢٣؎ آل عمران ٣: ٣٩۔
٢٤؎ مریم ١٩ : ٣١۔
٢٥؎ لقمان ٣١: ١٧۔
٢٦؎ المائدہ ٥: ١٢۔
٢٧؎ قرینہ دلیل ہے کہ ` تسبیح` کا لفظ یہاں نماز کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ قرآن مجید میں بھی کئی مقامات پر یہ اِسی مفہوم میں آیا ہے۔
٢٨؎ ابوداؤد ، رقم ٦٣٥۔
٢٩؎ کنز العمال ، رقم ٢٢٥٣٠۔
٣٠؎ ابوداؤد، رقم ٦٥٢۔
٣١؎ احمد، رقم ١٨٥٨٨۔
٣٢؎ فتح الباری ، ابن حجر ٢/ ٢٧٤۔
٣٣؎ مسلم ، رقم ٦٣٥٩۔
٣٤؎ اِس سے مراد تیسرا پہر ہے ، یعنی عصر کا وقت ۔
٣٥؎ مراد ہے دوپہر، یعنی ظہر کا وقت ۔
٣٦؎ بائیبل کے یہ تمام اقتباسات اُس کے عربی ترجمے کے مطابق ہیں جو براہ راست یونانی زبان سے ہوا ہے ۔
٣٧؎ ابوداؤد ، رقم ٣٩٣۔
٣٨؎ `Judaism in Islam`، ابراہام کیٹش ١٠۔
٣٩؎ سیدنا ابراہیم کی ذریت کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کے اُس خاص قانون کا حوالہ ہے جس کے تحت قومی حیثیت سے اُن کے جرائم کی سزا اُنھیں دنیا ہی میں دی جاتی رہی ہے ۔

عہد طفلی

 تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے

وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے

تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے

حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے

شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر

وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر

پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر

اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر

آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا

دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا

بانگِ درا ۔۔۔ علامہ اقبالؔ، حصہ اول

مسئلہ تقدیر کا معرکۃ الاراء سوال – محمد زاہد صدیق مغل

مسئلہ تقدیر کا معرکۃ الاراء سوال یہ ہے کہ:
جب آپ کے بقول خدا کو ماضی، حال و مستقبل سے متعلق ہر چیز کا مکمل و یقینی علم ہے، تو پھر انسان مجبور محض ہوا۔ جب اللہ کو پتہ تھا کہ فلاں فلاں شخص فلاں فلاں کام کرے گا نیز اسے لوگوں کا ارداہ بھی معلوم تھا کہ ’’وہ اپنے ارادے سے‘‘ ایسا کریں گے تو پھر اختیار کا کیا معنی؟ جب سب کچھ خدا کے ارادے کے تحت ہے تو ایک آزاد ارادے کے وجود کا کیا مطلب؟ انسان جو بھی ارادہ کرتا ہے وہ لازما اس ارادے ہی کے تو ماتحت ہے جو خدا نے انسان کے ارادے سے ماقبل اور اس کی خواہش کے بغیر اپنے علم سے مقدر کردیا۔ خدا نے اگر زید کے ارادے و عمل سے متعلق ’’الف ب ج‘‘ جانا تو بھلا کیا زید کے لیے ممکن ہے کہ وہ ’’دھو‘‘ کرسکے؟

تبصرہ:
یہ مسئلہ خدا کے علم و ارادے اور اس کے عدل کے مابین توازن تلاش کرنے سے عبارت ہے۔ اسے حل کرنے کے لیے عام طور پر استاد کے شاگرد کے نتیجے سے متعلق یا محکمہ موسمیات کے موسم سے متعلق علم والی مثالوں سے سہارا لیا جاتا ہے۔ مثلا یہ کہ جس طرح موسمیات والوں کے ماقبل طور پر جاننے سے بارش نہیں ہو رہی، اسی طرح خدا کے ماقبل طور پر جان لینے سے بندہ مجبور نہیں ہوجاتا۔ یہ جواب و مثال بالکل غلط و ناقص ہیں۔ محکمہ موسمیات والا ایک ایسے عمل کو جانتا ہے جو اس کے ارادے کے ’’بدون و ماسواء‘‘ باہر کہیں متعین ہو رہا ہے اور موسمیات والے نے اسے خارج سے معلوم کر لیا۔ کیا خدا کے علم کی نوعیت ایسی ہی ہے؟ کیا کائنات خدا کے ارادے سے باہر کہیں متعین ہو چکی یا ہو رہی ہے کہ خدا نے بس اسے جان رکھا ہے اور اب اس کا یہ جاننا کائنات کے لیے علت نہیں؟ ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔ اسی طرح استاد صرف جانتا ہے، مگر ساتھ ہی طالب علم کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ محنت کر کے اس کے علم کو غلط ثابت کر دے۔

جو حضرات مسئلہ تقدیر کا جواب دینے کے لیے خدا کے علم اور ارادے کا فرق کر کے پھر علم کو انسانی ارادے و عمل کے لیے علت بنانے کا انکار کر رہے ہیں، وہ خدا کے ارادے و علم کے تعلق کے سوال سے پہلوتہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ خدا کا ارادہ کیا اس کے علم سے ہی متعلق نہیں؟ یعنی جو وہ ہمیشہ سے جانتا ہے وہی ہمیشہ سے اس کا ارادہ نہیں؟ اس قسم کی مثالوں سے خدا کے علم کی بابت نہایت غلط تصورات و پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے قدریہ کے ایک گروہ کو یہ حل سوجھا تھا کہ خدا کو بس اجمالا یا اصولوں کا علم ہے، نہ کہ جزئیات کا۔ یعنی جب انسان ارادے کے تحت کچھ کرتا ہے تب خدا کو ان کا علم ہوتا ہے۔ گویا خدا کے ارادے سے باہر بھی کوئی determinant موجود ہے اور یہی اس قسم کی مثالوں کا حاصل ہے۔ علم کو معلوم کی علت نہ ماننے کے لیے لازم ہے کہ معلوم کو عالم کے علم و ارادے سے ماوراء متعین مانا جائے، اس کے بغیر اس مفروضے کو ماننا ممکن نہیں اور ظاہر ہے خدا کے لیے یہ ماننا ممکن نہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کیلئے کچھ جبریہ نے اس انتہاء کو مان لیا کہ انسان حقیقتا مجبور محض ہے، خدا جو چاہتا ہے سو کرتا ہے، اس سے کوئی سوال نہیں کرسکتا۔

اس سوال پر گفتگو کی دو جہات ہیں،
(الف) خدا سے بندے کی طرف،
(ب) بندے سے خدا کی طرف۔
دونوں پر باری باری گفتگو کی جاتی ہے۔

(الف) خدا سے بندے کی طرف
اس میں اصولی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ بندہ ’’خدا کی طرف سے کھڑا ہو کر‘‘ اس معاملے کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس کے لیے اس پوزیشن پر جانا لازم ہے جو ’’خدا کی پوزیشن‘‘ (ازلی، قدیم، قائم بالذات، زمان و مکاں سے ماوراء) ہے۔ ظاہر ہے ’’مخلوق بندے‘‘ (جو کہ حادث، محتاج، زمان و مکان میں مقید و مخلوق ہے) کے لیے یہ ممکن نہیں، ان ’’جہات مخلوقیت سے ماوراء‘‘ کے بارے میں وہ جو بھی رائے قائم کرے گا، ہر حال میں قیاس آرائی پر ہی مبنی ہوگا۔ یہ نہایت اہم مقدمہ ہے جسے ذرا تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ درج ذیل تصویر میں دی گئی صورت پر غور کریں۔ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں مادی اعتبار سے یہ تین جہاتی ہے (لمبائی، چوڑائی و گہرائی)۔ اب کسی ’’دو جہاتی‘‘ دنیا کا تصور کریں (جہاں اشیاء صرف لمبائی و چوڑائی میں ہوں، گھرائی کا کوئی تصور نہ ہو)۔ اس دنیا میں دو افراد کو دو الگ الگ دائروں میں قید کر دیا جاتا ہے (جیسے یہاں دکھایا گیا ہے)۔ کیا اس دنیا کے یہ دو انسان ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں؟ بالکل نہیں کیونکہ ان کے پاس تیسری جہت (گہرائی) موجود نہیں (جس سے ہم انھیں دیکھ رہے ہیں)۔ اسی طرح ان افراد کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس دائرے کو توڑے بغیر اس سے باہر آجائیں۔اس کے مقابلے میں ہم انہیں دائرہ توڑے بغیر سامنے سے پکڑ کر باہر نکال سکتے ہیں۔ مگر دوجہات والے ان انسانوں کے لیے اس تیسری جہت کا تصور ممکن نہیں کیونکہ وہ اسی میں مقید ہیں۔ ہم اس بات کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی بوتل کے اندر ایک قنچہ ڈال کر بوتل بند کر دی جائے تو کیا آپ کے لیے یہ متصور کرنا ممکن ہے کہ بوتل ٹوٹے بنا قنچہ باہر آجائے؟ نہیں، بالکل اسی طرح دو جہاتی دنیا کے انسانوں کے لیے بھی اس دائرے سے باہر نکلنا ممکن نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی چوتھی جہت پر قدرت رکھتا ہو تو بوتل توڑے بنا قنچہ باہر نکال سکتا ہے، مگر ہمارے لیے اس کا عقلی ادراک کرسکنا ممکن نہیں کہ ہم تین جہاتی دنیا میں مقید ہیں (ممکن ہے شیطان ہمیں کسی چوتھی جہت سے دیکھتا ہو، جیسے قرآن میں آیا ’’یرونہم من حیث لاترونہم‘‘)۔

اب یہ سمجھنا چاہیے کہ ان تین مادی جہات کی طرح ’’وقت یا زمانہ‘‘ بھی ایک جہت ہے جو ’’ہم‘‘ سے متعلق ہے، خدا اس سے ماوراء ہے بلکہ زمانہ بذات خود خدا کی تخلیق ہے۔ چنانچہ معترضین کا اشکال زمانے (تقدیم و تاخیر) کی موجودگی کے ’’ہم سے متعلق‘‘ ایک سادے تصور کو مفروضے کے طور پر قبول کیے ہوا ہے لیکن خدا کے لیے ’’پہلے جاننے‘‘ اور ’’بعد میں تخلیق‘‘ کرنے جیسے تصورات ہی لایعنی ہیں (سوال کی بنا ہی اس پر ہے کہ جب خدا جانتا تھا تو اس نے پیدا کیوں کیا؟ یعنی تقدیم و تاخیر کا تصور فرض کیا جا رہا ہے)۔ خدا چونکہ زمانے سے ماوراء ہے لہذا اس کے حضور یہ سب اس طرح وقوع پذیر ہو رہا ہے جس میں وقت کا کوئی تصور نہیں اور چونکہ وہاں زمان کا تصور اپلائی نہیں ہوتا لہذا علت و معلوم، ماقبل و مابعد جیسے تمام تصورات (جن پر یہ سوال مبنی ہے) وہاں موجود نہیں۔ ظاہر ہے ہم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے لیے چوتھی یا پانچویں مادی جہت کا تصور ممکن نہیں۔ مثلا ممکن ہے اس کی کیفیت یہ ہو کہ خدا کے حضور یہ سب کچھ بیک وقت ہو رہا ہو، مگر یہاں دھیان دیجیے کہ ہم انسانوں کے پاس وہ زبان ہی نہیں جس کے ذریعے ہم زمان و مکان سے ماوراء خدا کی پوزیشن کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہوں، مثلا یہاں بھی ’’بیک وقت‘‘ کا لفظ زمانے پر دلالت کر رہا ہے جو ’’ہماری پوزیشن‘‘ کے مطابق ہمارے فہم کے لیے ہے (اس تناظر میں وہ حدیث مبارکہ کس قدر بامعنی ہے جس میں نبی علیہ السلام نے ’’قدر و قضاء کی کیفیت‘‘ کو سمجھنے کے لیے گفتگو سے منع کیا کہ اس کا فہم و بیان ممکن نہیں)۔ پس خدا کی نسبت سے اس اشکال کے بامعنی ہونے کے لیے جس مفروضے کا درست ہونا لازم ہے خدا کی پوزیشن سے وہ مفروضہ درست نہیں، لہذا خدا پر یہ اشکال درست نہیں۔

الغرض کہنے کا مقصد یہ کہ ہماری عقل گواہی دیتی ہے کہ خدا کی جہت سے ہم اس مسئلے کو سمجھنے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔ اس گفتگو پر ملحد کوئی اشکال نہیں کھڑا کر سکتا کیونکہ یہ اہل مذہب کی داخلی پوزیشن سے ہم آہنگ ہے۔ اہل مذہب نے یہ دعوی ہی نہیں کیا کہ ہم خدا کو مکمل طور پر سمجھ اور بیان کر سکتے ہیں۔ اس گفتگو پر اشکال کھڑا کرنے کے لیے لازم ہے کہ ملحد عقلا ثابت کرے کہ انسان کے لیے اس مسئلے میں خدا کی جہت سے کوئی پوزیشن لینا ممکن ہے، چونکہ ایسی پوزیشن کا وجود ناممکن ہے لہذا ہماری گفتگو پر اشکال بھی ممکن نہیں، (مسئلہ جبر و قدر میں سوالات کھڑے ہی تب ہوتے ہیں جب ہم اس کی کیفیت کو سمجھانے کے لیے کوئی پوزیشن لیتے ہیں)۔

(ب) بندے کی جہت سے
اب اس سوال (جو دراصل جبر و قدر سے متعلق ہے) پر ’’بندے سے خدا کی طرف‘‘ جہت سے غور کریں۔ اس پر اگر اس نکتہ نگاہ سے غور کیا جائے کہ کائنات خدا کی صفات کا اظہار ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی صفت ’’ارادہ‘‘ بھی ہے جس کا اظہار انسان جیسی مخلوق کی صورت میں ہوا جو ’’متحرک بالارادہ‘‘ ہے (اگرچہ اس کے ارادے کی حدود ہمیں مکمل طور پر معلوم نہیں)۔ یہ گویا انسانی ارادے کے وجود کی دلیل ہوئی۔ اب بندے کی نسبت سے محض ’’کسی کا پیدا کیا جانا‘‘، اس کے جہنم میں جانے کی بنیاد نہیں بلکہ اس ارادے کے تحت اعمال کے کسب پر ہے (جیسا کہ خدا نے واضح کیا)۔

یہاں بندے کی جہت سے یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ ’’اللہ کے علم میں کیا ہے‘‘ اس کی ہم میں سے کسی کو خبر نہیں، ہماری (حادث و مخلوق کی) جہت سے ہمیں عمل کا اختیار دیا گیا ہے (اور یہ ایک ایسی شے ہے جسے ہم شعوری طور پر محسوس کرتے ہیں)۔ اگر تو ہم جو کرتے ہیں وہ ’’اللہ کے علم کی طرف دیکھ کر‘‘ کریں کہ ’’چونکہ مجھے معلوم ہے کہ اللہ کے علم میں ایسا ہے لہذا میں یوں کر رہا ہوں کہ کہیں اس کا علم غلط نہ ہوجائے‘‘ تو پھر بندے کی جہت سے اللہ کے علم کی وجہ سے جبر کا اعتراض درست ہوتا۔ لیکن چونکہ یہاں معاملہ اس طرح نہیں لہذا بندے کی جہت سے یہ اعتراض ویلڈ نہیں کہ میں وہ کرنے پر مجبور ہوں جو علم الہی میں مقدر ہوچکا۔ دراصل اس قسم کا استدلال کرتے وقت ہم دونوں جہات کو خلط ملط کردیتے ہیں، بندے کے عمل کا کسب (حادث و مخلوق کے اعتبار سے) تقدیم و تاخیر کے تصورات پر مبنی ہے مگر اس جہت میں بندے کو ’’کسب کرتے وقت‘‘ علم الہی کی تقدیر معلوم نہیں ہوتی لہذا وہ کسب کرتے وقت خود کو اس سے ’’شعورا‘‘ متعین ہوتا محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے سے ایسا کرتا ہے (یعنی ’’اللہ کا علم‘‘ ان معنی میں ایسی قوت نہیں جو مجھے فیس بک پر ٹائپ کرنے کے لیے بٹن دبانے پر مجبور کر رہا ہے اور میں اس قوت کو محسوس کررہا ہوں کہ چاہتے ہوئے بھی اس کے علاوہ کچھ نہ کرسکوں نہ ہی میں اس کیفیت میں ہوں کہ اللہ کے علم کو جان کر ایسا کررہا ہوں)، اس کے مقابلے میں علم الہی سے جبر ثابت کرنے کے لیے تقدیم و تاخیر کے جن تصورات کی ضرورت ہے ’’خدا کی جہت سے‘‘ وہ تصورات ہی موجود نہیں (جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا)۔ پس علم الہی سے جبر کا اثبات ’’خدا کی بندے کی طرف جہت‘‘ کے اعتبار سے لامتصور مفروضے پر مبنی ہے لیکن ’’بندے کی جہت سے‘‘ یہ جبر (اگر خدائی جہت سے کسی معنی میں ہے بھی) اس پر حاکم نہیں (کہ بندے کو چونکہ اس کی خبر ہی نہیں اور وہ ارادہ محسوس کرتا ہے، تو کسب کرتے وقت یہ ’’نامعلوم علم‘‘ اسے کس طرح متعین کرسکتا ہے؟)۔ الغرض یہ اشکال کہ ’’میں وہ کرنے پر مجبور ہوں جو خدا کے واجب و ازلی علم میں ہے‘‘ ان دو جہات پر بیک وقت مبنی ہے۔

حاصل گفتگو یہ کہ میری جواب دہی کی بنیاد میرا احساس نیز خدا کا حکم ہے۔ رہی یہ بات کہ میرے عمل و ارادے سے ماقبل جو خدا کا علم ہے، وہ میرے عمل اور ارادے کے لیے کن معنی میں علت ہے، اس کا جواب میں دے ہی نہیں سکتا، اس کا جواب دینے کے لیے ’’مجھے ٹیبل کے دوسری جانب‘‘ جانا ہوگا جو میں نہیں جاسکتا۔

فائدہ: مسئلے کو ان دو جہات میں تقسیم کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ نفس اعتراض ’’غیر متعلق یا لایعنی‘‘ (irrelevant) ہوجاتا ہے، نہ کہ ’’حل‘‘ (solve)۔ عام طور جو تنقیح کی جاتی ہے وہ اسے ’’حل کرنے کی کوشش‘‘ ہوتی ہے، جبکہ ناقابل حل سوال کا حل ممکن نہیں ہوتا۔ اس تقسیم سے یہ سوال و اشکال لایعنی ٹھہرتا ہے، یعنی اس پر حل و غیر حل کی کیٹیگریز اپلائی نہیں ہوتیں۔

https://daleel.pk/2017/03/19/35413