شادی سے متعلق غلط تصورات کی تصحیح

By Rehan Ahmed Yusufi on April 10, 2014

اصلاح احوال کی سمت پہلا قدم شادی سے متعلق لوگوں کے افکار کی درستی ہے۔ سب سے پہلے یہ بات لوگوں کے ذہن میں راسخ ہونی چاہئے کہ شادی ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کی ایک بنیادی ضرورت ہے جس پر کسی دوسری شے کو ترجیح نہیں دی جانی چاہئے۔ بلوغ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کا نفسیاتی وجود جنم لے رہا ہے۔ بالکل اس نومولود کی طرح جو نو مہینے ماں کے پیٹ میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کے بعد اس دنیا میں آتا ہے۔ جس طرح ایک نومولود کی کچھ بنیادی ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح کسی نوجوان کی ایک نفسیاتی ضرورت ہے۔ جس میں غیر ضروری تاخیر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری چیز جس کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے وہ شادی کو اجتماعی زندگی میں غیر معمولی اہمیت دینا ہے۔ ہم نے فرد کی زندگی میں تو شادی کو بہت پیچھے ڈال دیا مگر معاشرے میں اسے حد سے زیادہ اہمیت دیدی ہے۔ اس کے لوازمات بے حساب ہیں اور اس کا اہتمام جوئے شیر لانا ہے۔ شادی پر ہندوانہ رسموں کی کثرت اور ہر جانے انجانے کو اکٹھا کرنا اس کی بڑی نمایاں مثالیں ہیں۔ ہمارے مذہب نے نکاح کو زندگی کی ایک عام ضرورت سمجھا اور اس عمل کو بیحد آسان کر دیا۔ ایک مرد اور ایک عورت علانیہ ایجاب و قبول کر کے جب زندگی بھر ساتھ رہنے کا عہد کرلیں تو وہ میاں بیوی بن جاتے ہیں۔ اس طرح لوگ جان لیتے ہیں کہ معاشرے میں ایک نیاخاندان وجود میں آ گیا ہے۔ اس کے بعد مرد جس کے ذمے خاندان کی کفالت ہے اپنے قریبی اعزاء کو اپنی خوشی میں شریک کرنے کے لیے حسب استعداد ایک دعوت کا اہتمام کر دے۔ یہ شادی کرنے کا وہ سادہ طریقہ ہے جو دین نے مقرر کیا ہے۔ اس کے بالمقابل آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے خدا کی دی ہوئی اس آسانی کو ایک شدید تنگی سے بدل لیا ہے۔ خصوصاََجو اسراف اس موقع پر ہمارے یہاں عام ہے اس کے مرتکبین کو خدا شیطان کے بھائی قرار دیتا ہے (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۷)۔ شیطان سے رشتہ داری قائم کر کے خدا کی رحمت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ جب طے پا گیا کہ شادی زندگی کی لازمی مگر ایک عام ضرورت ہے تو پھر معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص معاشرے میں غیر شادی شدہ نہ رہے۔ خصوصاً کوئی بیوہ اور مطلقہ تنہا نہیں چھوڑی جائے۔ یہ قرآن کا ایک صریح حکم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”اور تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صلاحیت رکھتے ہوں، ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گااور اللہ بڑی وسعت اور بڑے علم والا ہے۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں، انہیں چاہیے کہ عفت اختیار کریں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے۔” (النور۲۴: ۳۲۔۳۳)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس معاشرے میں کنواری لڑکیوں کے لیے رشتوں کا حصول ایک مسئلہ ہے وہاں کسی بیوہ یا مطلقہ کے مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔ ہمارے نزدیک اسی قسم کی صورتحال کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مردوں کی دوسری شادی کو روا رکھا ہے۔

یہ مسئلہ اس دور میں غیر ضروری طور پر بحث و نزاع کا موضوع بن گیا ہے۔ بعض لوگ قرآن میں تعدد ازواج کے تذکرے کو ( معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کی ایک غلطی خیال کرتے ہیں اور طرح طرح سے اس کی تاویلیں کرتے ہیں۔ جبکہ بعض کے نزدیک اس طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو ایک کھلا لائسنس دے دیا ہے کہ وہ دوسری تیسری اور چوتھی شادی کر کے جب چاہیں اپنا حرم بڑھا سکیں۔ اس لیے ہم چاہیں گے کہ مختصراََ اس بارے میں بھی کچھ عرض کر دیں۔ نکاح کے بارے میں خدا کی مرضی یہی ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت اس رشتے میں بندھ جائیں اور ساری زندگی وہ دونوں ایک ساتھ گزاریں۔ دیکھیے اس نے آدم ؑ کے لیے صرف ایک حوا بنائی اور روز وہ یہی کرتا ہے۔ اس دنیا میں روزانہ اوسطاً جتنے بچے پیدا ہوتے ہیں اتنی ہی بچیاں پیدا ہوتی ہیں مگر بہت سے اسباب مثلاً عورتوں کی اوسط عمر کا زیادہ ہونا، جنگ و جرائم و حادثات میں مردوں کا زیادہ مرنا اور دیگر اسباب کے نتیجے میں کسی بھی معاشرے میں شادی کے قابل عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ ہی رہتی ہے۔ یہ اور اس جیسی بعض دیگر سماجی، سیاسی اور تمدنی ضروریات کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہ چھوٹ دی ہے کہ مرد ایک وقت میں چار تک نکاح کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بیویوں میں عدل کر سکیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ عام حالات کا ضابطہ نہیں ہے۔ عام حالات میں ایک مرد و عورت ہی مل کر خاندان بناتے ہیں۔ تاہم حالات کا اگر تقاضا ہو تو مرد کی ایک سے زیادہ شادی خود ایک سماجی ضرورت بن جاتی ہے۔ اس پس منظر میں دین میں اسے گوارا کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں نفس پرستوں کو اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت دینا چاہیے اور نہ اسے اپنے لیے باعث شرم سمجھ کر اس سے اعلانِ براءت کرنا چاہیے۔ بلکہ اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر اس کے ذریعے اپنے اجتماعی مسائل حل کرنے چاہییں۔

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/shadi-se-mutaliq-ghalat-tasawuraat-ki-tashih

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s