ترجمے کا سہو

کلمہ (word) کی تین قسمیں ہیں: اسم (noun)، فعل (verb) اور حرف (particle)۔ تنہا حرف اگرچہ مفید کلام تشکیل نہیں دے سکتا، تاہم یہ اسم اور فعل کی طرح کلام کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے، خصوصاً عربی حروف مفہوم و معنی ادا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حرف صحیح استعمال کیا گیا ہوتو کلام بلاغت کی انتہاؤں کو چھونے لگتا ہے اور حرف کے بے محل استعمال سے کلام سقیم ہو جاتا ہے۔
من‘ عربی زبان کا ایک حرف ہے ۔اس کے حسب ذیل معانی بیان کیے گئے ہیں،ہم نے طویل بحث کرنے کے بجاے مثالوں پر اکتفا کیاہے۔
ابتداے غایت: ’سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘، ’’پاک ہے اﷲ جو اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۱)۔ ’لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ‘، ’’وہ مسجد جس کی بنیاد روز اول سے تقویٰ پر رکھی گئی، (اے رسول) وہی حق دار ہے کہ آپ اس میں قیام کریں (اور امامت کرائیں)‘‘ (التوبہ۹: ۱۰۸)۔
تبعیض: ’فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ کَفَرَ‘، ’’(رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد ان کی) قوموں میں سے کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے اور انھیمیں کچھ تھے جوکافر ہی رہے‘‘ (البقرہ۲: ۲۵۳) ۔
بیان (یا بیان جنس): ’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ‘، ’’اس لیے تم گندگی، یعنی بتوں سے بچو (لہٰذا بتوں پر مشتمل پلیدی سے دور رہو)‘‘ (الحج ۲۲: ۳۰)۔ ’یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ‘، ’’(ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کو) جنت میںسونے سے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے، وہ باریک ریشم اور دبیز دیبا سے بنی ہوئی سبز پوشاکیں پہنیں گے‘‘ (الکہف ۱۸: ۳۱)۔ ’مَا نَنْسَخْ مِنْاٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْمِثْلِھَا‘، ’’ہم (جنس) آیت میں جو بھی منسوخ کرتے ہیں یا محو کر دیتے ہیں ، بدلے میں اس سے بہتر یا اس جیسی نازل کر دیتے ہیں‘‘(البقرہ ۲: ۱۰۶)۔
تعلیل: ’مِمَّا خَطِیْٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا‘، ’’قوم نوح کے لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق طوفان ہوئے، پھر آگ میں جھونکے گئے‘‘ (النوح ۷۱: ۲۵) ۔
بدل: ’اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ‘، ’’کیا تم آخرت کی (نعمتوں )کے عوض دنیاوی زندگی پرقانع ہو بیٹھے ہو؟‘‘ (التوبہ ۹: ۳۸)۔
فصل: ’وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ‘، ’’اور اﷲبگاڑ پیدا کرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے الگ پہچانتا ہے‘‘ (البقرہ۲: ۲۲۰)۔ ’مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ‘، ’’اﷲ اہل ایمان کو ہرگز اس حالت میں نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت ہو (یعنی منافقین مخلصین اہل ایمان میں رلے ملے ہیں۔ وہ تمھیں آزماتا رہے گا) حتیٰ کہ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے چھانٹ کر الگ کر دے‘‘ (آل عمران۳: ۱۷۹)۔
زائدہ:جو عموم نفی( جنس منفی کے استغراق کے لیے) یا تاکید استفہام کے لیے آتا ہے۔ ’وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا‘، ’’اور کوئی ایک پتاتک نہیں جھڑتا، مگر اﷲ کو معلوم رہتا ہے‘‘ (الانعام ۶: ۵۹)۔ ’اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْ م بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ‘، ’’تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس(نجات کی) بشارت دینے والا ،(عذاب الٰہی سے ) خبردار کرنے والا کوئی ایک بھی نہیں آیا‘‘ (المائدہ ۵: ۱۹)۔ ’ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ‘، ’’کیا اﷲ کے سوا کوئی خالق و مالک ہے جو تمھیں آسمان و زمین سے رزق فراہم کرتا ہو؟‘‘ (الفاطر ۳۵: ۳)۔ ’وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْقَرْنٍ ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ‘، ’’ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں،کیا تم ان میں سے کسی کا بھی نشان پاتے ہو؟‘‘ (سورۂ مریم ۱۹: ۹۸)۔
ظرفیہ: ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘، ’’اے ایمان لانے والو، جب جمعہ کے دن (در روز جمعہ :شیخ سعدی، شاہ ولی اﷲ) نماز (جمعہ) کے لیے اذان دی جائے تو اﷲ کے ذکر (نماز)کی طرف دوڑ پڑو‘‘ (الجمعہ ۶۲: ۹)۔
زمخشری نے ابتداے غایت کو ’من‘ کے اصل معنی قرار دے کر باقی معانی کوابتداے غایت کا شاخسانہ قرار دیا ہے جیسا کہ ’’المفصل‘‘ کی اس عبارت سے واضح ہے: ’فمن معناہا إبتداء الغایۃ وکونہا مبعضۃ و مبینۃ و مزیدۃ راجع إلی ہذا‘ (’من‘ کے معنی ہیں: ابتداے غایت ۔’من‘ کے تبعیض یا بیان کے معنی دینا اور اس کا زائدہ ہونا اسی مفہوم، ابتداے غایت کے تحت آ جاتے ہیں)۔اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ کسی عربی عبارت کو جب اردو میں منتقل کیا جاتا ہے تو تبعیض کے معنی غالب آ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کا اردو ترجمہ کرنے والے علما ’من‘کا ترجمہ ’سے ‘کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ابتداے غایت کا ترجمہ بھی ’سے‘ہی بنتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا. وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا‘، ’’اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے،اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و آرایش حاصل کرنا چاہتی ہو تو آؤ ،میں تمھیں مال و متاع دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں۔لیکن اگر تم اﷲ،اس کے رسول اور آخرت میں قائم رہنے والے گھر کا قصد رکھتی ہو تواﷲ نے تم نیک بیبیوں کے لیے اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے‘‘ (الاحزاب ۳۳: ۲۸۔۲۹)۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیات بنو نضیر اور بنو قریظہ کی فتوحات کے بعد نازل ہوئیں جب مال غنیمت ملنے سے مسلمان خوش حال ہو رہے تھے، جبکہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاں فاقوں پر فاقے گزر رہے تھے اور ازواج مطہرات نان نفقہ کے ہاتھوں سخت پریشان تھیں۔ مسلم ،کتاب الطلاق، رقم ۳۶۸۳ اور مسند احمد، مسند جابر بن عبداﷲ ،رقم ۱۴۵۱۵میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اس شان نزول سے عدم موافقت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’امہات المومنین کے متعلق یہ سوء ظن نہیں کیا جا سکتا کہ ان پر دنیا کی راحتوں اور زینتوں کا شوق کسی دور میں اتنا غالب آ گیا ہو کہ وہ اس کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوں اور معاملہ اتنا سنگین ہو گیا ہوکہ خود اﷲ تعالیٰ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی ہو اور نوبت اس نوٹس تک پہنچی ہو جو ان آیات میں ان کو دیا گیا۔‘‘ان کا کہنا ہے: ’’ اﷲ و رسول کی طرف سے ان (ازواج مطہرات)کو آزادی کا پروانہ دے کر ان کے اعلیٰ کردارکا مظاہرہ کرایا گیا تاکہ ان منافقین کے حوصلے ہمیشہ کے لیے پست ہو جائیں جو اس طمع خام میں مبتلا تھے کہ ازواج نبی (رضی اﷲ عنہم )کو دنیا کی کسی طمع کے پھندے میں پھنسا کر اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے ۔اس اعلان تخییر کے بعد گویا ہر ایک کو حوصلہ آزمائی کا موقع دے دیا گیا، لیکن سب پر ثابت ہو گیا کہ اہل بیت رسالت کا انتخاب خود اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس حرم کے اندر کسی کے لیے بھی کسی در اندازی کی گنجایش نہیں ہے‘‘ (تدبر قرآن۶: ۲۱۶، ۲۱۸)۔ استاذ جاوید احمد غامدی نے اس مضمون کو ترجمہ سے پہلے قوسین لگا کر واضح کر دیا ہے: (اس طرف سے مایوس ہو کر اب یہ منافقین تمھارے گھروں میں فتنے اٹھانا چاہتے ہیں، اس لیے)اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو…۔
ایک مضمون میں قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات کا حوالہ دینے کی ضرورت پیش آئی تو خیال آیا کہ ’الْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ‘ کاترجمہ ’تم میں سے جو نیکو کا ر ہیں‘ کرنا موزوں نہیں لگتا۔ اس طرح نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی کچھ ازواج نیک ثابت ہو جاتی ہیں اور کچھ ایسی جو نیک نہیں، ’معاذ اﷲ من ہذا‘۔یہ عقدہ وا کرنے کے لیے ہم نے تفاسیرکی طرف رجوع کیا تو صاحب ’’کشاف‘‘ کی اس صراحت نے گرہ کشائی کی کہ ’’من للبیان لا للتبعیض‘‘ انھوں نے محض یہ بتانے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’من‘ بیانیہ ہے، بلکہ تبعیض مراد لینے کا امکان بھی رد کر دیا۔گویا یہ اس آیت مبارکہ میں آنے والے ’مِنْ‘کی جامع و مانع تفسیر ہوئی۔احمد رضا بریلوی کا ترجمہ بہتر لگتا ہے:’’تو بے شک اﷲ نے تمھاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘یہاں لفظ ’تم ‘ رکھ دیا جائے تو ’ تمھاری ‘میں جھلکنے والی تبعیض زائل ہو جاتی ہے۔
قرآن مجید میں یہی ایک مقام نہیں جہاں یہ مسئلہ پیش آیا ،چار مثالیں اور بھی ہیں جن کی ہم الگ الگ وضاحت کرتے ہیں۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ تَرٰہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانًا سِیْمَا ھُمْ فِیْ وُجُوْھِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْءَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا.(الفتح ۴۸ : ۲۹)
’’محمد ،اﷲ کے رسول اور ان کا ساتھ دینے والے صحابہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔تم ان کو اﷲ کا فضل اور اس کی خوش نودی طلب کرتے ہوئے رکوع و سجود میں سرگرم پاؤ گے۔ان کا امتیاز ان کے چہروں پر سجدوں کے اثرات ہیں۔ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔اور انجیل میں ان کی تمثیل یوں بیان کی گئی ہے ،گویا ایک کھیتی ہے جس نے کونپل اگائی پھر اسے تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی،کھیتی کرنے والوں کے دلوں کو موہتی ہوئی (یہ تفصیل اس لیے بیان ہوئی ) تاکہ(اﷲ) کفار کے دلوں کوان اہل ایمان سے جلائے۔یہ صحابہ جو ایمان لائے اور نیک ا عمال بجا لائے ،اﷲ نے ان کی بخشش کرنے اور بڑا اجر دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ ‘‘

یہاں بھی’مِنْ‘ بیان کے لیے ہے، تبعیض کے لیے نہیں۔ اس لیے ’ان میں سے جو یقین لائے ہیں اور کیے ہیں بھلے کام‘ درست ترجمہ نہیں۔ صحیح ترجمہ یوں ہونا چاہیے: ’یہ اصحاب جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال کیے‘۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول کی تفصیل سے خوبیاں بیان کرنے کے بعد اﷲ ان میں سے کچھ کو مغفرت اور اجر عظیم کا حق دار قرار دے؟مولانا مودودی نے اپنے ترجمے میں تبعیض کے معنی سے بچنے کی کوشش کی ہے ،’’اس گروہ کے لوگ جوایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں‘‘۔
وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ م بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ‘، ’’اور یہ کہ اﷲ ایمان لانے والوں کا اجر ضائع نہیں کرے گا یعنی وہ صحابہ جنھوں نے زخم کھانے کے بعد اﷲ و رسول کی پکار پر لبیک کہی ، ان نیکیاں کرنے والوں اور تقویٰ کو شعار بنانے والوں کے لیے بڑا اجر ہے‘‘ (آل عمران ۳: ۱۷۱۔۱۷۲)۔ وہ صحابہ جو جنگ احد میں اہل شرک سے قتال کرتے ہوئے شدید زخمی ہوئے ،اگلے ہی روز رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعوت پرمکہ لوٹنے والی مشرک فوج کا پیچھا کرتے ہوئے مدینہ سے آٹھ میل دور مقام حمرا الاسدتک چلے آئے، سب کے سب رسول کے جان نثار اور اﷲ کو پیارے تھے۔ یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ان میں سے کچھ کو اجرعظیم کی بشارت دی جاتی۔ یہاں بھی ’مِنْہُمْ ‘ کا مطلب ہے: یعنی یہ تمام اصحاب۔ ڈپٹی نذیر احمد کا ترجمہ تبعیض سے مبرا ہے: ’’ایسے نیکوکار اور متقیوں کے لیے بڑے اجر ہیں۔‘‘
لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَاِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘، ’’یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جو کہتے تھے کہ اﷲ تین (خداؤں) میں تیسرا ہے، حالاں کہ کوئی معبود نہیں، مگر ایک ہی الہٰ (اﷲ)ہے۔اگر یہ اپنی ان (مشرکانہ)باتوں سے باز نہ آئے جو کہہ رہے ہیں تو ان سب کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو دردناک عذاب چمٹ جائے گا‘‘ (المائدہ ۵: ۷۳)۔ تثلیث سے بڑا شرک کیا ہوگا جس میں نصاریٰ ملوث ہوئے ۔ان کا یہ جرم بتانے کے بعد یہ کہنے کا موقع نہیں کہ ان کٹے مشرکوں میں سے جس جس نے کفر کا ارتکاب کیا؟صحیح ترجمہ یوں ہونا چاہیے: کفر کا ارتکاب کرنے والے ان لوگوں، یعنی نصاریٰ کو دردناک عذاب آ چمٹے گا۔ واقعہ ہے کہ یہاں تبعیض کے معنی لینا کسی طور ممکن نہیں ،یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اﷲ کو حاشیے میں ’’یعنی اہل اصراررا از ایشاں‘‘کا اضافہ کرنا پڑا اور استاذ غامدی نے قوسین میں مقدر محذوف ’’ان میں سے جو (پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے بعد بھی ) اپنے کفر پر قائم رہیں گے‘‘مان کر تبعیض کے معنی منطبق کیے۔احمد رضا بریلوی نے یہ تر جمہ کر کے تطبیق کی: ’’تو جو ان میں کافر مریں گے۔‘‘ مولانا محمود الحسن دیوبندی نے شاہ صاحب کی فارسی کو اردو میں یوں منتقل کیا:’’ تو بے شک پہنچے گا ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو عذاب دردناک۔‘‘
فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا‘، ’’پھر اگر تمھاری بیویاں اپنی مرضی سے مہرکا کچھ حصہ چھوڑ دیں تو کھاؤ اسے رچتا پچتا‘‘ (النساء ۴: ۴)۔ امام رازی کہتے ہیں: ’من في قولہ (منہ) لیس للتبعیض بل للتبیین والمعنی عن شيء من ہذا الجنس الذي ہو مہر کقولہ (فاجتنبوا الرجس من الأوثان) و ذلک أن المرأۃ لو طابت نفسہا عن جمیع المہر حل للزوج أن یأخذہ بالکلیۃ‘، ’’اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ’مِنْ‘ تبعیض کے نہیں، بلکہ بیان جنس کے معنی دے رہا ہے، یعنی ’’اس جنس مہر میں سے کچھ‘‘ ’من‘ انھی معنوں میں اﷲ کے فرمان ’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ‘، ’’پس تم گندگی یعنی بتوں سے بچو۔‘‘ (الحج۲۲: ۳۰) میں وارد ہواہے۔ ’مِنْ‘ بیانیہ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ عورت اگر تمام مہر بخوشی چھوڑ دے تو شوہر کے لیے جائز ہو گا کہ پورے کا پورا مہر رکھ لے۔‘‘
مشہور فقیہ لیث بن سعد سورۂ نساء کی اس آیت مبارکہ میں ’مِنْ‘ کو تبعیض کے معنی میں لیتے ہیں، اس لیے قرار دیتے ہیں کہ عورت پورا مہر نہیں، بلکہ اس کا کچھ حصہ ہبہ کر سکتی ہے (البحرالمحیط :ابو حیان اندلسی ، تفسیر المنار:رشید رضا)۔
حرف کے صحیح محل کی طرف توجہ نہ کی گئی ہو تو عرب قاری کے لیے بھی قرآن سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، دوسری زبانوں میں کیے ہوئے تراجم سے استفادہ کرنے والوں کا کیا حال ہو گا۔حرف کا صحیح مفہوم متعین نہ کرنے کی وجہ سے ہماری زبان اردو کے ترجموں میں قرآن مجید کے متن سے پیدا ہونے والا تفاوت قارئین پر خوب واضح ہو گیا ہو گا۔
لفظی ترجمہ کرنے والوں کی مجبوری ہے کہ انھیں ہرعربی لفظ کے مقابل میں اردو کاایک لفظ رکھنا پڑتا ہے۔اگر وہ لفظ ’سے‘ نہ درج کریں تو ’من‘ کی جگہ خالی رہ جاتی ہے ۔ آیات مذکورہ کا مفہوم اردومیں صحیح طور پر تبھی منتقل ہو سکتا ہے اگر ’من‘ کے برابر’ یعنی‘ کا لفظ رکھ دیا جائے ۔اس سے بیان کا مفہوم ادا ہو جاتا ہے اور متن اور ترجمہ یکساں مفہوم کے حامل ہو جاتے ہیں ۔
ایک اشکال کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ سورۂ احزاب کے اسی سلسلۂ مضمون کی اگلی آیات ہیں: ’یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا‘، ’’(اے ازواج النبی) تم میں سے جو کسی صریح بے حیائی کی مرتکب ہو گی، اسے دوچند عذاب دیا جاے گا،اور یہ اﷲ کے لیے ایک سہل بات ہے ۔اورتم میں سے جو اﷲ اور اس کے رسول کے تابع فرمان رہیں گی اور نیک عمل کرتی رہیں گی ہم ان کو دونا اجردیں گے اور ان کے لیے ہم نے اعلیٰ رزق تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (۳۰۔۳۱)۔ ان دونوں آیات میں ’مِنْ‘ تبعیض کے معنی میں ہے،معترض کہہ سکتا ہے کہ ایک ہی سلسلۂ کلام میں آپ ایک مقام پر ’من‘ کو بیانیہ بتا رہے ہیں اور دوسرے دو مقامات میں مبعضہ مان رہے ہیں؟اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت کی تالیف میں بیان کے معنی منطبق ہو جاتے ہیں اور کلام کا حسن نکھر کر نمایاں ہو جاتا ہے، جبکہ اگلی دو آیات میں ’مِنْ‘ استعمال ہی تبعیض کے لیے ہوا ہے، اس لیے دوسرے معنی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔
مفتی محمد شفیع ’’کھلی ہوئی بے حیائی یا بے ہودگی‘‘ سے مراد لیتے ہیں،وہ معاملہ جس سے رسول اﷲ تنگ و پریشان ہوں۔کہتے ہیں: اس آیت میں ’فَاحِشَۃ‘ کے لفظ سے بدکاری اور زنا مراد نہیں ہوسکتا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے سب پیغمبروں کی ازواج کو اس سخت عیب سے بری فرمایا ہے — حضرت لوط اور نوح علیہما السلام کی بیبیاں ان کے دین سے منحرف ہوئیں اور سرکشی اختیار کی جس کی سزا ان کو ملی ،لیکن بدکاری کا الزام ان میں بھی کسی پر نہیں تھا — اس آیت میں فاحشہ سے مراد عام گناہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایذا و تکلیف ہے (معارف القرآن ۷: ۱۳۰)۔ ازواج مطہرات میں سے کسی پر بھی( معاذ اﷲ) فحش میں مبتلا ہونے کا الزام نہیں لگا۔ افک عائشہ کا واقعہ رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی کی شرارت تھی۔ چنانچہ ا ﷲ تعالیٰ نے خود ان الفاظ میں عصمت عائشہ کی گواہی دی: ’لَوْلَآ اِذْسَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِھِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ‘، ’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے افک کی بات سنی تو اہل ایمان مرد اور عورتوں نے اپنے (یعنی ایک دوسرے کے ) بارے میں نیک گمان کیا ہوتا اورکہا ہوتا ، یہ کھلا بہتان ہے ‘‘(النور ۲۴: ۱۲)۔ ازواج نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے خطاب کا اندازوہی ہے جو سورۂ زمرکی ان آیات میں اﷲ کے برگزیدہ پیغمبروں سے مخاطبت میں اختیار کیا گیا: ’قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجٰھِلُوْنَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ‘،’’(اے نبی!) کہہ دیں، اے جاہلو! کیا تم مجھے غیراﷲ کی عبادت کی صلاح دے رہے ہو؟یہ واقعہ ہے کہ آپ کی طرف اورآپ سے پہلے والوں کی طرف وحی کی جا چکی ہے کہ اگر تم شرک کرو گے تو تمھارا عمل لازماً اکارت جائے گا اور تم ضرور گھاٹے میں رہنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے‘‘ (الزمر ۳۹: ۶۴۔۶۵)۔ پیغمبراﷲ کی طرف سے معصوم عن الخطا ہوتے ہیں۔ ان کی بعثت کا مقصد ہی توحید کا پرچار اور شرک کا قلع قمع کرناہوتا ہے،ان سے شرک کیسے صادر ہو سکتا ہے؟ اس انتہائی مبغوض عمل سے انھیں خبردار کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ان کے پیرووں اور نہ ماننے والوں پر اس کی شناعت اچھی طرح واضح کر دی جائے۔
ترجمہ کے سہو کی کچھ مثالیں اور بیان کی جاتی ہیں جو بہت عام ہیں۔
’’الحیٰوۃ الدنیا‘‘ ترکیب صفت و موصوف ( مرکب توصیفی) ہے جو قرآن مجید میں۶۳ بار آئی۔ ’حیات‘ کا لفظ اردو میں عام مستعمل ہے ،اس کے معنی ہیں: زندگی۔ہر شخص یہ مفہوم بآسانی سمجھ لیتا ہے۔لفظ ’دنیا‘ میں البتہ شبہ کی گنجایش ہے جو ’أدنٰی‘ کا مونث ہے ،اس کے لفظی معنی ہیں: گھٹیا ، فرو تر جیسے ’اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ‘، ’’کیا تم کم تر (ترکاری) کو اس (آسمان سے نازل ہوئے کھانے )کے عوض حاصل کرنا چاہتے ہو جو عمدہ اور اعلیٰ ہے؟‘‘ (البقرہ ۲: ۶۱)۔ ’فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی وَیَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا‘، ’’پھر اگلی نسلوں کے بعدپھر ایسے نا خلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث بن کر اس دنیاے دوں کے فائدے سمیٹتے اور یہ کہتے رہے کہ ہمیں سب معاف کر دیا جائے گا۔‘‘ (الاعراف ۷: ۱۶۹)۔ قریب ترین جیسے ’ینزل ربنا تبارک و تعالٰی کل لیلۃ إلی السماء الدنیا ‘، ’’ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات (سب سے نچلے ،دنیا کے) قریب ترین آسمان کی طرف نزول کرتا ہے (بخاری، رقم ۱۱۴۵۔ مسلم، رقم ۱۷۲۲)۔ ’عن ابن عمر أنہ کان یرمي الجمرۃ الدنیا بسبع حصیات‘، ’’عبداﷲ بن عمر کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ (سنت نبوی بتانے کے لیے منیٰ کے) قریب ترین شیطان کو سات کنکر مارتے‘‘ (بخاری، رقم ۱۷۵۱)۔ بخاری ہی کی اگلی روایت میں ’الدنیا‘کے معنی کی صراحت کر دی گئی ہے: ’الجمرۃ التي تلي مسجد منٰی‘، ’’وہ شیطان جو مسجد منیٰ کے قریب پڑتا ہے‘‘ (بخاری، رقم ۱۷۵۳)۔ عرف عام میں یہ اس زمین و آسمان یا جہان فانی کے لیے بولا جاتا ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔اسے دنیا اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ہمارے قریب ہے اور عالم آخرت کے مقابلے میں کم تر ہے۔ علیا اس کا متضاد ہے۔
عربی سے اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے لفظ ’دنیا‘کو اسی طرح لکھ دیا جاتا ہے ،اس کے لفظی ترجمہ کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا، حالاں کہ بسا اوقات عربی متن میں اصطلاحی مفہوم کے بجاے اس کے اصل معنی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ قرآن مجید میں آنے والے اکثر مقامات میں ایسا ہی ہے۔قرآن مجید کے اردو تراجم میں ’دنیا کی زندگی‘ عام کیے جانے والا ترجمہ ہے۔اس میں نہ صرف لفظی معنی نمایاں نہیں ہوتے، بلکہ قرآن کا مرکب توصیفی اردو کے مرکب اضافی میں بدل جاتا ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی زندگی سے مراد دنیاوی زندگی ہی ہوتی ہے، مگرپھر بھی سیدھا سیدھا مرکب توصیفی ’إضافۃ الصفۃ إلی الموصوف‘ (صفت کا اپنے موصوف کی طرف مضاف ہونا) میں منقلب ہو جاتا ہے۔ یہ انقلاب روا ہے، تاہم مترجم کی کوشش ہونی چاہیے کہ مفہوم ادا کرنے کے ساتھ متن کی ترکیب و ترتیب کو برقرار رکھے۔ہمارے خیال میں ’الحیوٰۃ الدنیا‘ کے یہ ترجمے ممکن ہیں ، فروتر زندگی، دنیاوی زندگی،دنیا والی زندگی، موجودہ جیون،حیات حاضرہ ۔ ان تراجم میں سے ’فروتر زندگی‘ ثقہ ، آسان اور سریع الفہم ترجمہ ہے،یہ الہامی کتاب قرآن کے متن سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے ۔
الدار الاٰخرۃ‘: قرآن مجیدمیں سات بارصفت و موصوف کی ترکیب میں ( مرکب توصیفی) اوردو بار ترکیب اضافی (مرکب اضافی)کی صورت میں (لدار الآخرۃ )مذکور ہے۔ مرکب توصیفی ہونے کی صورت میں اس کا سیدھا سادہ ترجمہ’ آخرت والا گھر ‘بنتا ہے۔لیکن کیا کیجیے ،کچھ مستثنیات کو چھوڑکر مترجمین اس کا ترجمہ کرتے ہیں: آخرت کا گھر۔ یہ ترجمہ ’دار الآخرۃ‘ کا تو ہو سکتا ہے ’الدار الآخرۃ‘کا نہیں۔
یہ سہو ایسے نہیں کہ قرآن مجید کے مفہوم ومعنی میں خلل آیا ہو۔ تاہم ہمارے خیال میں قرآن مجید کا ترجمہ لفظی کیا جائے یا بامحاورہ الفاظ قرآنی کے اصل معانی اور آیات کی تالیف کو برقرار رکھنا چاہیے ۔یہ نہ ہوکہ قرآن کا مضاف اردو کی صفت اورقرآن کی صفت اردو کا مضاف الیہ بن جائے۔
اس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے ہم نے قرآن مجید کے فارسی تراجم میں سے شیخ سعدی اور شاہ ولی ﷲ کے ترجمے دیکھے۔اردو تراجم میں سے شاہ رفیع الدین ،شاہ عبدالقادر ، مولانا محمودالحسن دیوبندی ، فتح محمد جالندھری، ڈپٹی نذیر احمد، احمد رضا خاں بریلوی ،مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اوراپنے استاذ جاوید احمد غامدی کے ترجموں سے رجوع کیا۔ موضوع کی مناسبت سے ہم ان بزرگوں کے ترجموں کا الگ الگ ذکر کرتے ہیں۔
ہمارے خیال میں شیخ سعدی پہلے مترجم ہیں جنھوں نے قرآن مجید کے مرکب توصیفی کوترجمے کے مرکب اضافی میں بدلا۔ انھوں نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا ترجمہ بلا استثنا پورے قرآن میں ’زندگانی دنیا‘ (ایک مقام پر ’زندگی دنیا‘) کیا۔ اس طرح تین مقامات کے علاوہ ’الدار الآخرۃ‘ کو ’سراے آخرت ‘کی شکل دے دی۔ سورۂ قصص کی آیات ۷۷، ۸۳ اور سورۂ احزاب کی آیت ۲۹ میں ’الدار الآخرۃ‘ کی تالیف توصیفی برقرار رکھتے ہوئے ’سرائے دیگر ‘ کا ترجمہ کیا۔ یہ ’الدار الأخرٰی‘ کا ترجمہ تو ہو سکتا ہے ’الدار الآخرۃ‘ کا نہیں، کیونکہ ’دیگر‘’اخریٰ‘کے معنی ہیں ’آخرت‘ کے نہیں۔
شاہ ولی اﷲ کا ترجمہ شیخ سعدی کے ترجمے سے بہت مختلف ہے، تاہم انھوں نے بھی ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا ترجمہ ’زندگانی دنیا‘ اور ’الدار الآخرۃ‘ کا ’سراے آخرت ‘کیا۔ ہمیں خیال ہوا کہ شاہ صاحب نے شاید ’ زندگانی دنیا‘ مرکب توصیفی کے طور پر استعمال کیا ہو، کیونکہ فارسی مرکب توصیفی اور مرکب اضافی ایک ہی ہےئت رکھتے ہیں۔جیسے ’مادر من‘، ’مادر مہربان‘ اور ’خرقۂ درویش‘، ’خرقۂ بوسیدہ ‘ایک شکل کے حامل ہیں،چاروں میں پہلا جزو مجرور ہے ۔اس کے باوجود ’مادر من ‘ا ور ’خرقۂ درویش ‘مضاف و مضاف الیہ، یعنی مرکب اضافی جبکہ ،’مادر مہربان‘ اور ’خرقۂ بوسیدہ‘ موصوف و صفت، یعنی مرکب توصیفی کہلاتے ہیں۔ہماراخیال اس وقت باطل ہوا جب دوسری جگہ ’زندگانئ این جہاں‘ کا ترجمہ دیکھا، اب ’زندگانی دنیا‘کے مرکب اضافی ہونے میں شبہ نہ رہا۔
شاہ ولی اﷲ کے دوسرے فرزند شاہ رفیع الدین نے قرآن مجید کا پہلا لفظی اردوترجمہ کیا تو ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کے ترجمے کے لیے’ زندگانی دنیا‘ ہی کا انتخاب کیا۔البتہ ’الدار الآخرۃ‘کا ترجمہ ’گھر آخرت کا‘ (مرکب اضافی)کرنے کے علاوہ سورۂ اعراف آیت ۱۶۹ ، سورۂ قصص آیت ۸۳میں ’گھر پچھلا‘(مرکب توصیفی )بھی کیا۔سورۂ احزاب آیت ۲۹ میں اس مرکب توصیفی کی شکل ذرا بدل گئی’ گھر پچھلے کا ‘۔
شاہ صاحب کے تیسرے فرزند شاہ عبدالقادر نے قرآن حکیم کا پہلا بامحاورہ اردوترجمہ کیا تو ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کو ’دنیا کی زندگی‘،’ دنیا کا جینا ‘ اور ’الدار الآخرۃ‘کو ’پچھلا گھر‘ ،’گھر آخرت کا‘ کے اردو قالب میں ڈھالا۔’پچھلا گھر‘ ایسا ترجمہ ہے جو ہزارداد کے لائق ہے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے الفاظ اور مدعا کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔
دیوبند کے پہلے طالب علم مولانا محمود الحسن دیوبندی کے ترجمے اس طرح ہیں: ’الحیٰوۃ الدنیا‘ : ’دنیا کی زندگی‘، ’دنیا کی زندگانی‘، ’دنیا کا جینا‘۔ ’الدار الآخرۃ‘:’آخرت کا گھر ‘سورۂ بقرہ آیت۹۴، سورۂ انعام آیت ۳۲، سورۂ اعراف آیت ۱۶۹ ،’پچھلا گھر‘سورۂ احزاب آیت ۲۹،سورۂ قصص آیات ۷۷، ۸۳، سورۂ عنکبوت آیت ۶۴ ۔
فتح محمد جالندھری نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا ترجمہ قرآن کریم کے ۶۱ مقامات پر ’دنیا کی زندگی‘ کرنے کے ساتھ سورۂ کہف آیت ۲۸ میں’زندگانی دنیا ‘ اور سورۂ نور آیت ۳۳ میں ’دنیاوی زندگی‘ کیا۔ ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا یہ پہلا صحیح ترجمہ ہے۔ ’الدار الآخرۃ‘ کا ترجمہ ۶ مقامات پر’ آخرت کا گھر ‘اور ساتویں جگہ (سورۂ احزاب آیت ۲۹)’عاقبت کا گھر‘ کیا۔
ڈپٹی نذیر احمدنے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کے لیے بالعموم’ دنیا کی زندگی‘کا ترجمہ اپنایا البتہ سورۂ کہف آیت ۱۰۴ اور سورۂ طٰہٰ آیت ۱۳۱میں درست ترجمے ’ دنیاوی زندگی ‘ کوجگہ دی۔ ’الدار الآخرۃ‘ کے لیے ’عاقبت کاگھر ‘،’ آخرت کا گھر ‘ اور ’دار آخرت‘لکھتے لکھتے سورۂ نحل آیت ۳۰ میں صحیح لفظی ترجمہ’آ خری ٹھکانا ‘ تحریر کیا۔
احمد رضا بریلوی نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کے یہ ترجمے کیے،’دنیا کی زندگی‘،’ دنیا کی زندگانی ‘،’ دنیا کی زیست‘،’ دنیا کے جیتے‘،’ دنیا کا جینا‘۔ان کے دو ترجموں ’ جیتی دنیا ‘(سورۂ آل عمران آیت ۱۴،سورۂ نساء آیت ۹۴، سورۂ توبہ آیت ۳۸ ،سورۂ کہف آیت ۴۶،سورۂ طٰہٰ آیت ۱۳۱، سورۂ زخرف آیت ۳۵ ، سورۂ اعلیٰ آیت ۱۶)اور ’ دنیوی زندگی ‘(سورۂ نور آیت۳۳، سورۂ قصص آیات ۶۰۔ ۶۱، سورۂ روم آیت ۷)میں قرآن مجید کی ترکیب توصیفی اردو میں بھی منتقل ہوئی۔ نصف مقامات پر ’الدار الآخرۃ‘ کا ترجمہ ’آخرت کا گھر‘ کیا ،بقیہ جگہ ’پچھلا گھر‘(سورۂ بقرہ آیت ۹۴، سورۂ انعام آیت ۳۲، سورۂ اعراف آیت ۱۶۹، سورۂ نحل آیت ۳۰)کا بہترترجمہ اختیار کیا۔
مولانا مودودی نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کے لیے زیادہ تر’ دنیا کی زندگی‘کا ترجمہ اپنایاتاہم سورۂ توبہ آیت ۳۸، سورۂ رعد آیت۲۶ ،سورۂ کہف آیت۴۶ ، سورۂ طٰہٰ آیت ۱۳۱ میں ’دنیوی زندگی‘اور سورۂ نساء آیت ۹۴ میں ’دنیوی فائدہ‘کے ترجمے تحریر کیے۔ ’الدار الآخرۃ‘ کی ترجمانی انھوں نے یوں کی: ’آخرت کا گھر ‘ (سورۂ بقرہ آیت ۹۴، سورۂ قصص آیت ۸۳)،’آخرت کا مقام‘(سورۂ انعام آیت۳۲)،’ آخرت کی قیام گاہ ‘(سورۂ اعراف آیت ۱۶۹)، ’دار آخرت ‘(سورۂ عنکبوت آیت ۶۴)۔ ’آخرت کی قیام گاہ ‘سب سے موزوں ترجمانی ہے اگرچہ ’آخرت والی قیام گاہ‘ اس سے بہتر شکل ہوتی۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا ترجمہ ’ دنیا کی زندگی‘ کے علاوہ اس طرح کیا: ’حیات دنیا ‘ (سورۂ قصص آیات ۶۰، ۶۱، ۷۹) ’دنیاوی زندگی‘(سورۂ آل عمران آیت ۱۴، سورۂ طٰہٰ آیت ۷۲)، ’دنیوی زندگی‘(سورۂ نساء آیت۹۴، سورۂ کہف آیات ۴۵۔ ۴۶، سورۂ شوریٰ آیت ۳۶)۔ ’الدار الآخرۃ‘کا ترجمہ انھوں نے ایک مقام (سورۂ قصص آیت۷۷) کے علاوہ ہر جگہ ’دار آخرت‘ کیا۔ مذکورہ مقام پر دار کوحذف کر کے صرف آخرت لکھ دیا۔
استاذجاوید احمد غامدی نے ’الحیٰوۃ الدنیا‘ کا ترجمہ’ دنیا کی زندگی‘ کرنے کے علاوہ حسب ذیل مقامات پر ’دنیوی زندگی‘ تحریر کیا، سورۂ نساء آیت۹۴،سورۂ کہف آیات ۲۸، ۴۵۔ ۴۶،سورۂ طٰہٰ آیت ۱۳۱،سورۂ نور آیت ۳۳۔ استاذ غامدی نے ’الدار الآخرۃ‘ کے لیے ایک ہی تعبیر’آخرت کا گھر‘ اختیار کی۔
مطالعۂ مزید:الکشاف عن حقائق التنزیل (زمخشری)، المفصل فی صنعۃ الاعراب (زمخشری)، مفاتیح الغیب (امام رازی)، مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب (ابن ہشام)، اوضح المسالک الی الفیۃ ابن مالک (ابن ہشام)، لسان العرب (ابن منظور)، شرح ابن عقیل (عبد اﷲ بن عقیل)، النحو الوافی (عباس حسن)، معارف القرآن (مفتی محمد شفیع)، تدبر قرآن (امین احسن اصلاحی)، البیان (جاوید احمد غامدی)۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: