غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول

قرآن مجید نے سیدنا یوسف علیہ السلام کا واقعہ یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ یہ احسن القصص یعنی بہترین قصہ ہے اور اس میں جستجو رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اس واقعہ کے سبق آموز پہلو تو کئی ہیں، لیکن اس موقع پر ہم اس خاص زاویے سے اس سے راہ نمائی لینے کی کوشش کریں گے کہ کسی ایسے معاشرے میں جہاں مسلمان اکثریت میں اور اقتدار میں نہ ہوں، ان کا رویہ اور معاملہ معاشرے کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے اور اس ضمن میں انھیں کن اخلاقی اور انسانی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ قرآن مجید نے اس حوالے سے مختلف واقعات کی مدد سے سیدنا یوسف علیہ السلام کے کردار اور فہم و دانش کے بعض ایسے پہلووں کو اجاگر کیا ہے جو اس باب میں نہایت بنیادی راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔

سب سے پہلا اخلاقی اصول تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوں اور معاشرہ ان کے اخلاق و کردار پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں اپنے وسائل اور سہولیات سے مستفید ہونے کا موقع دے رہا ہو تو اس کے جواب میں مسلمانوں کو بھی اس اعتماد پر پورا اترنا چاہیے اور خیانت سے کام لیتے ہوئے اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کو بازار مصر میں ایک غلام کے طور پر سستے داموں لاکر بیچا گیا تھا، لیکن ان کے مالک نے ان کے لیے رہائش، خوراک اور تربیت کا اچھا بندوبست کیا اور پردیس میں انھیں گھر جیسی سہولتوں کی فراہمی کا انتظام کیا۔ پھر سنِ رُشد کو پہنچنے پر جب خاتون خانہ نے انھیں دعوت گناہ دی تو سیدنا یوسف کا سب سے پہلا اور فوری ردِعمل یہ تھا کہ میں یہ خیانت کیسے کر سکتا ہوں، جب کہ میرے آقا نے میرے لیے یہاں سامان زندگی کا اتنا عمدہ بندوبست کیا ہے(انہ ربی احسن مثوای)۔ خاتون خانہ کی دعوت کو قبول کرنا اپنی ذات میں تو گناہ تھا ہی، اس کے ساتھ سیدنا یوسف نے اپنی سلیم فطرت کی بدولت اس کے اس پہلو کو بھی شدت سے محسوس کیا کہ یہ ایک محسن اور منعم کے ساتھ خیانت اور بدعہدی کا عمل ہوگا جو کسی شریف اور باکردار انسان کے شایان شان نہیں۔ یہ اصول، ظاہر ہے، جیسے افراد کے لیے ہے، ویسے ہی قوموں کے لیے بھی ہے اور صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات میں موثر نہیں، بلکہ اس کا تعلق آفاقی انسانی اخلاقیات سے ہے۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو مسلمانوں کو انفرادی سطح پر بھی اور گروہی سطح پر بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے، یہ ہے کہ جو معاشرہ ان کے لیے اپنے وسائل اور مواقع سے استفادہ کے دروازے کھول رہا ہو اور ان کے اخلاق و کردار پر اعتماد کر رہا ہو، وہ جواب میں اس کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں اور کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کریں جو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والا ہو۔

دوسرا اخلاقی اصول جو سیدنا یوسف کے کردار سے ہمارے سامنے آتا ہے، یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ کہیں کوئی نا انصافی یا زیادتی ہوجائے تو وہ اسباب کی سطح پر داد رسی کے لیے ضرور کوشش کریں، لیکن معاشرے یا اس کے نظام وقانون سے متعلق کسی منفی ردِعمل میں مبتلا نہ ہو جائیں اور خاص طور پر اس ناانصافی کی وجہ سے اس معاشرے کے لیے انسانی خیر خواہی کا رویہ ترک نہ کر دیں۔ سیدنا یوسف کو ایک بے بنیاد الزام پر، محض ایک بااثر گھرانے کو بدنامی سے بچانے کے لیے، جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ کئی سال تک قید میں رہے۔ یہاں ان کی ملاقات شاہی دربار کے دو خادموں سے ہوئی جن میں سے ایک کو انھوں نے تاکید کی کہ جب تم رہا ہوکر بادشاہ کے پاس واپس جاو تو میرے متعلق اس کو بتانا۔ سوئے اتفاق سے اس شخص کو بادشاہ کے سامنے سیدنا یوسف کا ذکر کرنا یاد نہ رہا اور سیدنا یوسف مزید کچھ عرصے کے لیے جیل میں ہی پڑے رہے۔ اس کے بعد شاہ مصر نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا جس کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہ آ سکی تو بالآخر وہ موقع پیدا ہوا جس میں اہل مصر کو سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا پڑا جنھیں اللہ نے خوابوں کی تعبیر کی خاص مہارت عطا فرمائی تھی۔

یہاں ہمیں سیدنا یوسف کے کردار کی بلندی اوج کمال پر نظر آتی ہے۔ وہ نہ تو خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے آنے والے شاہی خادم سے کوئی شکایت کرتے ہیں کہ تم نے میری رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی، نہ یہ ردِعمل ظاہر کرتے ہیں کہ مصر کے نظام انصاف نے مجھے بے گناہ ہوتے ہوئے جیل میں ڈال رکھا ہے، اس لیے میں اہل مصر کے کام کیوں آؤں اور نہ یہ شرط ہی رکھتے ہیں کہ پہلے مجھے انصاف دیا جائے، تب میں اپنے علم اور مہارت سے اہلِ مصر کو فائدہ پہنچاؤں گا۔ اس کے بالکل برعکس، وہ نہ صرف بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا دیتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ تدبیر بھی بتاتے ہیں کہ قحط کے زمانے میں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس سے پہلے آنے والے سالوں میں غلے کا ذخیرہ جمع کر لیا جائے اور دانوں کو خوشوں کے اندر ہی رہنے دیا جائے۔ گویا وہ اپنے کردار سے یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو جو علم، دانش اور حکمت دی گئی ہے، وہ اس کے پاس ایک امانت ہے جسے ہر حال میں لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور کسی شخص یا گروہ کے ساتھ ہونے والی کوئی نا انصافی یا زیادتی اس کا جواز نہیں بن سکتی کہ ضرورت کے موقع پر وہ لوگوں کو اپنی خداداد صلاحیت اور علم وتجربہ سے محروم رکھے۔

سیدنا یوسف علیہ السلام کے طرزِ عمل اور کردار سے تیسرا اہم اصول یہ سامنے آتا ہے کہ مسلمان جس معاشرے میں بھی ہوں، وہاں کے لوگوں اور وہاں کی سیاسی ومعاشی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہوکر رہنے کے بجائے معاشرت اور نظام سیاست ومعیشت کا حصہ بنیں اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے مواقع اور وسائل سے خود بھی مستفید ہوں اور خلقِ خدا کی بہتری کے لیے بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ چنانچہ سیدنا یوسف کو ان کے علم وفہم اور دانش مندی کی بدولت جب شاہ مصر کا مقرب خاص بننے کا موقع ملا تو انھوں نے نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، بلکہ خود اپنے لیے اہل مصر کی خدمت کا ایک خاص دائرہ منتخب کیا اور بادشاہ سے اس دائرے میں ذمہ داری اور اختیار تفویض کیے جانے کی درخواست کی۔ اسی سے آگے چل کر انھیں مصر کے نظام اقتدار میں وہ اثر ورسوخ حاصل ہوا کہ انھوں نے اپنے پورے کنبے کو مصر میں بلا لیا اور ان کے پہنچنے پر ان کا شاہانہ شان وشوکت کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ مزید یہ کہ بنی اسرائیل کے لیے بطور ایک قوم طویل عرصے تک عزت اور وقار کے ساتھ مصر میں زندگی بسر کرنے کے اسباب فراہم ہوئے، تا آنکہ کچھ صدیوں کے بعد حالات کے الٹ پھیر سے وہ رفتہ رفتہ ایک محکوم اور مقہور گروہ کا درجہ اختیار کرتے چلے گئے۔

اس ضمن کا چوتھا اور اہم ترین دینی اصول یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی بنیادی اور اصل ذمہ داری یعنی دعوت الی اللہ سے کسی حال میں غفلت اور بے پروائی اختیار نہ کریں اور معاشی ومعاشرتی ترقی کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس فریضے کی ادائیگی پر بھی پوری طرح توجہ مرکوز رکھیں۔ سیدنا یوسف کے واقعے میں قرآن نے اس کی ایک جھلک یوں پیش کی ہے کہ جب قید خانے میں دو شاہی ملازم اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس آئے تو انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی حکمت کے ساتھ اور بڑے عمدہ اسلوب میں ان کے سامنے توحید کی دعوت بھی پیش کر دی۔ قرآن مجید کے ایک دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا یوسف نے مصر میں اقتدار اور سیاسی اثر ورسوخ ملنے کے بعد وہاں کے بااثر طبقات کو بھی دعوت الی اللہ کا باقاعدہ مخاطب بنایا اور دلائل وبینات کی روشنی میں توحید کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مخاطبین اگرچہ عمومًا ان کی دعوت کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا رہے، تاہم مصر کی تاریخ میں اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر انھیں احترام سے یاد کیا جاتا رہا۔

اس زاویے سے سیدنا یوسف کے واقعے پر غور کیا جائے تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، نہ صرف غیر مسلم معاشروں میں زندگی بسر کرنے کے اخلاقی اصول واضح ہوتے ہیں، بلکہ ایک پوری حکمت عملی ابھر کر سامنے آتی ہے جس سے کسی بھی معاشرے میں رہنے والے مسلمان افراد یا طبقے استفادہ کرسکتے ہیں۔ معاصر تناظر میں مختلف غیر مسلم معاشروں میں مسلمان کمیونٹیز کی جو عمومی نفسیات دیکھنے میں آ رہی ہے، اس کے پیشِ نظر ان اصولوں کی طرف توجہ دلانے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اللہ کرے کہ ہر معاشرے کے ذمہ دار مذہبی وسماجی راہ نما اس طرف متوجہ ہوں اور اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کے اسوہ کی روشنی میں مسلمانوں کی نفسیات، ذمہ داریوں اور کردار کو درست طور پر تشکیل دینے میں کامیاب ہوں۔

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 15 فروری 2017
مصنف : عمار خان ناصر
http://www.meezan.tv/article/1022/detail
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s