2017 سلسلہ روز و شب – فروری (Abu Yahya ابویحییٰ)

ابویحییٰ

دورہ آسٹریلیا: کچھ تاثرات

المورد آسٹریلیا کی دعوت پر 28 ستمبر2016 تا 14 اکتوبر 2016 آسٹریلیا کا سفر ہوا۔ اس دورے میں آسٹریلیا کے پانچ بڑے اور اہم شہروں یعنی ملبورن، سڈنی، برسبین، کینبرا اور ایڈیلیڈ میں میں خطبات دینے کے علاوہ پرتھ میں یونیورسٹی اور ویسٹرن آسٹریلیا کے سنٹر آف اسلامک اسٹیٹ اینڈ سوسائٹی کی ایک کانفرس میں مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ قارئین اس سفر کی تفصیلی روداد تو میرے سفرنامے ’’سیر ناتمام‘‘ میں ہلکے پھلکے انداز اورکچھ تذکیری نکات کے ساتھ پڑھ سکیں گے، لیکن کچھ علمی اور فکری نکات ایسے ہیں جو اس سفر میں فکر و خیال کا حصہ بنے رہے۔ تاہم شاید ایک سفرنامے کی صنف کے لیے وہ موزوں نہ ہوں۔ ان میں سے بعض اہم نکات اس مضمون میں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں ۔

المورد آسٹریلیا کی ٹیم

اس سفر کا اصل محرک المورد آسٹریلیا کے روح رواں جناب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سڈنی کے قیام میں میرے میزبان ہونے کے علاوہ المورد آسٹریلیا کے بانی، منتظم اعلیٰ، مدرس و معلم سب کچھ ہی تھے۔ ذاتی طور پر وہ ایک انجینیئر تھے اور آسٹریلیا آ کر انھوں نے ماسٹرز اور پھر پی ایچ ڈی کر رکھا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر سے قطع نظر وہ ایک فکری اور دینی ذوق رکھنے والی شخصیت اور زبردست دعوتی اور تنظیمی صلاحیت کے مالک تھے۔انھوں نے نہ صرف سڈنی میں اپنے اردگرد ایک مضبوط ٹیم قائم کر رکھی ہے بلکہ آسٹریلیا کے ہر اہم شہر میں المورد کے ایسے وابستگان کا حلقہ بنا دیا جنھوں نے ہر شہرمیں بہترین پروگرام آرگنائز کیے۔ ان میں ملبورن کے عبد الشکور صاحب، ایڈیلیڈ کے عامرشیخ صاحب، کینبرا میں تنویر خان صاحب، پرتھ میں کاشف صاحب کے نام نمایاں ہیں۔ برسبین میں میرے جانے پر پہلی دفعہ حلقہ قائم ہوا جس میں ارم احتشام صاحبہ، اسماء صاحبہ، مدثر صاحب اور عمار صاحب کا نام نمایاں ہے۔ جبکہ سڈنی میں ذوالفقار صاحب کی ٹیم میں فرخ صاحب، کامران مرزا صاحب، عابد صاحب، سلیمان صاحب، خالد ادریس ، بلال صاحب، عبد الوحید صاحب ، بلال صاحب کے علاوہ متعدد کئی اور لوگ شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے ہر جگہ اپنی محبت ، تعاون اور خلوص سے کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا اوراس خاکسار کو یہ موقع دیا کہ اپنے رب کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

فکر فراہی کا عالمی دور

آسٹریلیا میں گزارے گئے وقت سے یہ اندازہ ہوا کہ فکرفراہی اب عالمگیر دور میں داخل ہو چکی ہے۔ المورد آسٹریلیا، جاوید صاحب کے قائم کردہ علمی اور فکری ادارے المورد کا اولین عالمی پڑاؤ تھا۔ جب جاوید صاحب ملائشیا منتقل ہوگئے تو ڈاکٹرذوالفقار صاحب نے ان سے رابطہ کر کے ان کو دو دفعہ آسٹریلیا بلایا۔ جاوید صاحب نے کئی اہم فکری لیکچر یہیں آسٹریلیا ہی میں دیے ہیں۔ اب تو آسٹریلیا کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، انڈیا اور دیگرممالک میں المورد کے حلقے قائم ہیں، لیکن جاوید صاحب کی فکر کو دنیا بھر میں پھیلانے میں ذوالفقار صاحب ہی کو اولیت حاصل ہے۔ جاوید صاحب کا ملک چھوڑ کر چلا جانا اہل پاکستان کے لیے توایک بڑی محرومی بن گئی لیکن اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں ان کی بات پھیل گئی۔ میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت ہوتی ہے۔ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کون سا معاملہ کہاں ہونا چاہیے۔

اس سفر میں بیشتر وقت ڈاکٹر ذوالفقار کے ساتھ گزرا اور ان سے بہت سے اہم علمی اور فکری موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ خاص کر ان کا فکری اور ارتقائی سفر بہت تفصیل سے زیر بحث آیا۔ یہ طویل سفر انھوں نے کئی اقساط میں مجھے سنایا۔ ان کے فکری سفر کا آغاز وہی تھا جو جاوید صاحب سے وابستہ کئی اور اہم لوگوں کا ہے یعنی ڈاکٹر اسرار صاحب۔ ڈاکٹرذوالفقار صاحب ابتداء میں ڈاکٹر اسرار کے ساتھ فکری طور پر اورکسی حد تک عملی طور پر بھی وابستہ تھے۔تاہم آہستہ آہستہ وہ جاوید صاحب کے خیالات سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ یہ فکری سفر محض ایک شخص کا فکری سفر نہیں بلکہ اس امت کے فکری سفر کی بھی اہم داستان ہے، اس لیے کے پس منظر کو قارئین کے سامنے رکھنا یقینا ان کی دلچسپی کا باعث ہو گا۔

غیر مسلموں کا غلبہ اورمسلمانوں کا فکری جواب

ڈاکٹر اسرار مرحوم احیائے اسلام کی اس فکر کے آخری بڑے آدمی تھے جو اسلامی دنیا پر مغرب کے غلبے کے بعد مسلمانوں کی فکری قیادت کی طرف سے پیش کی گئی۔ آج کا مسلمان اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ انیسویں صدی کے ایک باشعور مسلمان پر اس وقت کیا گزری ہو گی جب اس نے یورپین اقوام کو اپنے ملکوں اور علاقوں پر قابض ہوتے دیکھا ہو گا۔ آج دنیا کے جس اقتدارپر امریکہ دو عشروں سے قابض ہے، روس نصف صدی تک رہا اور برطانیہ ایک صدی کی مدت میں فارغ ہو گیا، مسلمان اس حیثیت میں یعنی دنیا کی سول سپرپاور کے طور پر دو چار نہیں بارہ صدیوں تک فائز رہے۔ ان کی قیادت بدلتی رہی۔ عربوں کی شکل میں پہلے خلافت راشدہ، پھر بنوامیہ اور پھر بنوعباس اور عجمیوں کی شکل میں عثمانی ترک، پھر اِدھر مغل اور صفوی مگر اصل اقتدار مسلمانوں کا تھا۔مسلمان پوری متمدن دنیا کے وسط میں چھائے ہوئے تھے۔

مگر پھر یاجوج ماجوج کا بندھ ٹوٹتا ہے۔ ابن خلدون جیسا مفکر جن لوگوں کو بالکل بے وقعت سمجھتا تھا وہ اپنے ملکوں سے اٹھے اور دنیا بھر پر چھا گئے۔ چنانچہ اس کا ردعمل مسلمانوں پر بہت شدید ہوا۔ مگر شدت جذبات میں وہ یہ تجزیہ نہیں کرسکے کہ مسلمانوں کی یہ شکست دراصل فوجی میدان کی شکست نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی اور فکری انقلاب کا نتیجہ ہے جو کئی صدیوں کے عمل سے یورپ میں برپا ہوا۔ پہلے پہل مسلمانوں نے پے در پے فوجی مہموں کے ذریعے سے اہل یورپ کو شکست دینا چاہی۔ 1757 کی پلاسی، 1799 میسور، 1831 بالاکوٹ اور1857 دہلی کی شکستیں اسی جدوجہد کی یادگار ہیں۔ سراج الدولہ، حیدر علی، ٹیپو سلطان، جرنل بخت خان، سید احمد شہید جیسے حکمران، جرنل اور مصلحین کی معرکہ آرائی اس مغربی یلغار کو نہ روک سکی۔ یہ معاملہ صرف ہندوستان ہی کا نہ تھا، پوراعالم اسلام اس جدوجہد میں شریک تھا۔ لیبیا میں سنیوسی تحریک اور عمرمختار، سوڈان میں مہدی سوڈانی، اور قفقاز میں امام شامل نے فرانس، اٹلی، اور روس اور دیگر یورپی اقوام کے تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ مگر ہر طرف ایک ہی انجام ہوا۔

اس مکمل شکست کے بعد مسلمانوں نے فکری جدوجہد شروع کی۔ مگر اس فکری جدوجہد میں بھی اصل وجوہات پر بہت کم نظر گئی۔ زیادہ تر جذباتی باتیں اور غیر حقیقی چیزیں ہی پیش نظر رہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کے بعض غدار ان شکستوں کے ذمہ دار ہیں۔ کبھی یہ کہا گیا کہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم ہو چکا ہے اس لیے مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ کبھی یہ کہا گیا کہ جب تک عالم اسلام کے تمام مسلمان ایک نہیں ہوجاتے ہیں ان کو فتح نہیں مل سکتی۔ مگرنہ یہ مسلمانوں کی شکست کے حقیقی اسباب تھے نہ ان باتوں سے مسلمانوں کو آزادی مل سکتی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کرم کا فیصلہ کیا اور یورپی اقوام دو عظیم جنگوں میں آپس میں ٹکرا کر اتنا کمزور ہوگئیں کہ بیرون ملک اپنا تسلط قائم رکھنا ممکن نہ رہا۔

بہرحال اس پورے پس منظر میں بیسویں صدی کے آغاز میں ابو الکلام آزاد نے حکومت الٰہیہ کا تصور پیش کیا۔ اس تصور کو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لیا اور دین کی ایک پوری تعبیر میں بدل دیا۔ اس تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد کرنا جہاں اللہ کے فرامین کو اصل حکم مانا جائے، وہ اصل دینی فریضہ ہے جو مسلمانوں پر عائد ہے۔

اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ملک پر غیر مسلموں کا غلبہ ہو اور یہ ہوجائے۔ چنانچہ اس کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ ہر جگہ مسلمانوں کا ہی اقتدار قائم ہو۔ چنانچہ اس اقتدار کی جدوجہد مسلمان کی زندگی کا نصب العین قرار پائی۔ جو بات مولانا کے فکر میں با الوسطہ نکل رہی تھی، وہ مصر میں حسن البنا اور سید قطب نے براہ راست کہہ دی۔ مسلمانوں کا غلبہ اور مغرب سے نجات یہی کرنے کا اصل کام ہے۔ چنانچہ دو صدی پہلے جو جنگ مغرب کے خلاف سیاسی جنگ کے طور پر شروع ہوئی وہ بیسوی صدی تک آتے آتے ایک مذہبی فریضہ بن گئی اور اس فریضے کی ادائیگی پر ہر مسلمان کا دین منحصر قرار پایا۔

اس خاکسار کے پیش نظر اس فکرکا کوئی تنقیدی جائزہ لینا نہیں ہے، اصل مقصد اس فکرکی تاریخ کا مختصر تعارف کرا کے یہ بتانا تھا کہ ہمارے ممدوح ڈاکٹر اسرار احمد اسی فکر کے آخری بڑے آدمی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اب جماعتیں رہ گئیں ہیں یا تنظیمیں، پورے عالم اسلام میں اس فکر کا کوئی بڑا آدمی اب موجود نہیں ہے۔

تعبیر کی غلطی

ڈاکٹر اسرار صاحب بیسویں صدی میں سیاسی بنیادوں پر احیائے اسلام کی فکر کے آخری بڑے آدمی تھی۔ تاہم ان کے بعد اس فکر میں کوئی بڑا آدمی نہیں پیدا ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس فکر کے اصل بانی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسی بڑی شخصیت کی فکر پر عین ان کے عروج کے دور میں انھی کی جماعت سے متعلق ایک نوجوان نے ایک زبردست تنقید کر دی تھی۔ میرا اشارہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی طرف ہے جنھوں نے سن ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں ’’تعبیر کی غلطی‘‘ نامی کتاب لکھ کر دین کی اس سیاسی تعبیر پر زبردست تنقید کی تھی اور مستند حوالوں سے یہ بتایا تھا کہ ہمارے اسلاف دین کو اس طرح نہیں سمجھتے تھے جس طرح مولانا مودودی نے سمجھا ہے۔

انھوں نے اسلاف کے حوالوں کی روشنی ہی میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ خالص علمی اور عقلی بنیادوں پر یہ بالکل واضح کر دیا تھا کہ دین کی جس سیاسی تعبیر کو قرآن مجید کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، قرآن مجید ہرگز یہ بات نہیں کہہ رہا۔

اس کتاب کی موجودگی میں اب یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی معقول آدمی اب اس فکر کو اختیار کرسکے ۔ اب صرف وہی لو گ اس نقطہ نظر کے ساتھ آتے ہیں جو اصل جذباتی انداز سے سوچتے ہیں۔ چنانچہ مغربی استعمارکا ظلم، یہود و ہنود کی سازشیں، فلسطین و کشمیر کا مسئلہ جیسی چیزوں کے تناظر میں جو لوگ دنیا کو دیکھتے ہیں وہ آج بھی یہی انداز فکر رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو خالصتاً علمی انداز میں قرآن مجید کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو تھوڑی ہی دیر میں یہ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ قران مجید کا نقطہ نظر ہرگز یہ نہیں کہ ہر فرد پر یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔

تاہم مولانا مودودی نے چونکہ پاکستان میں ایک جمہوری راستہ اختیار کر لیا تھا اس لیے ان پر اور ان کی جماعت اسلامی پر عملی اعتبار سے کوئی تنقید نہیں ہو سکتی۔ یہ ان کا حق ہے کہ اپنا نقطہ نظرلوگوں کے سامنے پیش کریں اور اگر لوگ ان کا انتخاب کر لیں تو پھر وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق اقتدار میں آ کر حکومت کریں۔ تاہم ڈاکٹر اسرار کا معاملہ جدا تھا۔ انھوں نے چونکہ انقلابی راستہ اختیار کر لیا جس میں آخر کار اقتدار پر زبردستی ہی قبضہ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے سیرت النبی کی روشنی میں اپنا ایک پورا منہاج بھی بیان کیا۔

یہی وہ نقطہ نظر ہے جس پر جاوید صاحب نے بہت تنقید کی اور اول دن سے کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی جاوید صاحب کی شخصیت اور کام کو ہدف بنایا۔۔ ذوالفقار صاحب، اس خاکسار اور دیگر بہت سے لوگوں کا فکری سفر اسی زمانے میں شروع ہوا تھا اور نوے کی دہائی کے آغاز پر اس معرکہ آرائی کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔

اس وقت عملی صورتحال یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کو نصف صدی اور جاوید صاحب کو ربع صدی ہو چکی ہے، مگر اس تنقید کے باوجود عوام الناس میں سیاسی تعبیر کی فکر ہی مقبول ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ عرض کیا کہ معروضی سیاسی حالات، مسلمانوں کا تاریخ پس منظر، مغربی غلبہ جیسی چیزیں ہیں نہ کہ کوئی فکری قوت۔ اسی لیے اس فکر میں اب کوئی بڑا آدمی موجود نہیں رہا۔ یہی کسی فکر کے زوال کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ پھر موجودہ دور میں اس فکر کے حاملین دہشت گردی کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تائید کر کے اخلاق کے ہر پیمانے پر اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ صحیح بات پر توجہ دلانے والوں کے خلاف جو بے ہودہ اور جھوٹی مہمیں چلائی گئی ہیں، اس کے بعد ممکن ہی نہیں کہ کسی کو خدا کی رحمت سے کوئی حصہ مل سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ امت کی فکری امامت بدل جائے۔ امت پھر بھی نہیں مانے گی تو اس کے ساتھ وہی ہو گا جو پہلے تاتاریوں کے ہاتھ ہو چکا ہے۔

دیانت دارانہ رائے

میرا تعلق اصلاً اسی سیاسی تعبیر سے تھا۔ میں نہ وحید الدین خان کو جانتا تھا نہ جاوید احمد صاحب غامدی کو۔ میں ذہنی طور پر مولانا مودودی سے قریب اور انھی سے متاثر تھا۔ لیکن جب یہ تنقید سامنے آئی تو دین کے بنیادی ماخذ قرآن مجید کی کسوٹی پر ہر دو آراء کو پرکھنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد پوری دیانت داری سے یہ رائے قائم ہے اور جسے پورے اعتماد سے روزِ قیامت اللہ کے حضور بیان کرسکتا ہوں کہ دین فرد کے سامنے کسی سیاسی انقلاب کا ہدف نہیں رکھتا۔ ہاں دین میں سیاسی احکام ضرورہیں۔ اس سے کوئی انکار نہیں۔ شریعت کو فرد کی طرح اجتماعی طور پر بھی نافذ ہونا چاہیے، مگر یہ فرد کا کام نہیں کہ اس کے لیے زندگی وقف کر دے۔

قرآن مجید فرد کی نجات کو آخری درجہ میں تزکیہ نفس پر موقوف رکھتا ہے۔ قرآن صاف ترین الفاظ میں کہتا ہے کہ قد افلح من تزکی۔ یعنی آخرت کی کامیابی وہ پائے گا جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے گا۔ میں نے آسٹریلیا میں جو بیشتر تقریریں کیں ان میں قرآن مجید کے ایک ایک بیان کو لے کر پورے دین سے اسے متعلق کر کے بتایا ہے کہ اس باب میں قرآن مجید کا نقطہ نظر کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ذوالفقار صاحب یہ ساری تقریریں ایک ساتھ جمع کر کے شائع کر دیں گے۔ جو لوگ تفصیل سے اس بات کو سمجھنا چاہیں وہ المورد آسٹریلیا کی ویب سائٹ یا انذار کی ویب سائٹ یا یو ٹیوب چینل پر ان چیزوں کو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

دور جدید میں فتنہ

یہ سب چیزیں اگر علمی اور فکری دائرے میں رہتیں تو غنیمت تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ چیزیں کچھ ایسے دائروں میں پہنچ گئیں جہاں اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوظلم سخت ناپسند ہے۔ اس ظلم کی بدترین قسم ‘‘فتنہ‘‘ ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کا مطلب کسی کے مذہبی نقطہ نظر کی بنیاد پر اس کو اذیت دینا ہے۔ یہ معاملہ جب بنی اسرائیل نے اپنے انبیا اور مصلحین کے ساتھ کیا تو اس پر خدا کا جو غضب بھڑکا ہے اسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی جوشاید سب سے بڑی بدقسمتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ سارے واقعات ہمارے ہاں پیش آئے ہیں۔ جاوید صاحب اور ان کے احباب کے ساتھ وہ ظلم ہوا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ مقدمہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو نجانے کتنے لوگوں کی گرفت ہو گی۔

جاوید صاحب کے کتنے رفقا کو قتل کر دیا گیا یا ان پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ خود ان کی اور ان کے خاندان کے لوگوں کی جان عرصے تک خطرے میں رہی۔ یہاں تک کہ جب ان کے پڑوسیوں کی جان بھی خطرے میں آ گئی تو ان کو ملک چھوڑنا پڑا۔ مسلسل دھمکیوں اور خطرات کی بنا پر ا ن کے ادارے المورد کو بند کرنا پڑا۔ان کے بعض ساتھیوں کو بھی جھوٹے الزامات اور جان کے خطرات کی وجہ سے ملک اورگھر چھوڑنا پڑے۔ ان اسکالرز کے لیے حصول معاش کو مشکل بنا دیا گیا۔ ان کے بچوں کے شادی بیاہ تک کے معاملات میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

جھوٹی اور بے ہودہ مہموں کا تو کوئی حساب ہی نہیں ۔ کون سا الزام اور بہتان ہے جو نہیں لگا۔ انتہائی مخلص اور نیک لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان چیزوں کو بلاتحقیق آگے بڑھاتے ہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ کبھی جاوید صاحب کو پڑھا توکہتے ہیں اتفاق نہیں ہوا۔ جاوید صاحب پر بغیر پڑھے اور ان کی بات کو بغیر سمجھے تنقید کرنا اس دور کا سب سے بڑا مذہبی فیشن اور شہرت حاصل کرنے کا آسان ترین نسخہ ہے۔ جو پڑھتے ہیں وہ اس نیت سے کہ کوئی نہ کوئی شوشہ اٹھائیں۔ یہ سوچے بغیر کے مستشرقین یہی سارے کام قرآن و حدیث کے ساتھ کر کے قرآن، حدیث، اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسی ہی بے ہودہ اور جھوٹی باتیں کرتے ہیں۔

باقی جو کچھ تحقیق و تنقید کے نام پر کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت کو کوئی سمجھنا چاہے تومسلمانوں کے مختلف فرقے ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہتے اور لکھتے رہتے ہیں، اس کو پڑھ لے یا سن لے۔ زیادہ صاحب علم ہیں تو امام اعظم ابوحنیفہ سے لے کر امام ابن تیمیہ اور شیخ محمد بن عبد الوھاب سے لے کر مولانا مودودی کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا مہموں کی داستان پڑھ لیں۔ ان میں سے ہر شخص اپنے زمانے میں بلکہ بعد میں بھی عرصے تک فتنہ قرار پایا اور ایک وقت آیا کہ لوگوں نے اس کو امام مان لیا۔ یہ تو ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہم نے سید مودودی کو فتنہ مودودی اور ’’ایک مودودی سو یہودی‘‘ سے مودودی رحمت اللہ علیہ میں بدلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جاوید صاحب کے ساتھ بھی یہی ہونا ہے۔ اِدھر وہ دنیا سے رخصت ہوں گے اور اُدھر غامدی رحمت اللہ علیہ قرار پائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ جاوید صاحب کا تحقیقی کام اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے، جتنا لوگ واقف ہیں۔ میرے نزدیک اس کام کی اصل قدرو قیمت دو پہلوؤں سے ہے۔ ایک یہ کہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حیثیت عقیدت اور زبانی اعتراف کی سطح پر سب دیتے ہیں، مگر عملی طور پر علم کی دنیا میں کوئی دینے کو تیار نہیں، وہ حیثیت جاوید صاحب کے کام نے مسلمہ طور پر قائم کر دی ہے۔ ہم قرآن و سنت کو سب سے بڑا مانتے ہیں اور اس کے بعد ایک ’’لیکن‘‘ کہہ کر عملی رویہ بالکل کچھ اور کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ منافقت نہیں علم کی دنیا کے کچھ مسائل تھے جو جاوید صاحب اور ان کے جلیل القدر اساتذہ کے کام کے نتیجے میں حل ہوگئے۔ قرآن، سنت ، حدیث اورشریعت اور ان پر کئے گئے علمی کام علمی مشمولات سے اس کی درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں، لیکن ظاہرہے کہ یہ سفرنامہ ان علمی مباحث کا تحمل نہیں کرسکتا۔

اس کام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دین کی حجت اب دنیا کے سامنے سائنسی بنیادوں پر قائم کی جا سکتی ہے۔ خاص کر قانون اتمام حجت کے واضح ہونے کے بعد قرآن اور صاحب قرآن کی صداقت کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو ہر معقول انسان کو ان کے سامنے سرجھکانے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کام کے نتیجے میں فہم قرآن، سنت اور شریعت کو سائنسی بنیادوں پر انسانی اضافوں سے الگ کر کے بیان کیا جا سکتا ہے۔ انسانی اضافوں کے الگ ہونے کے بعد ان پر ہونے والے ہر اعتراض کا معقول جواب دیا جا سکتا ہے۔

شریعت میں افراط و تفریط

جاوید صاحب کا اصل کام جو بہت کم زیر بحث آتا ہے اس کو شریعت کے حوالے سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ اسلامی شریعت اس اعتبار سے ایک معجزہ ہے کہ وہ زرعی دورکے ایک قبائلی معاشرے میں نازل ہوئی مگر تاقیامت ہر طرح کے حالات حتیٰ کہ آج کی انفارمیشن ایج میں بھی قابل عمل ہے۔

اس حوالے سے جو مسائل سامنے آتے ہیں وہ شریعت میں نہیں بلکہ مسلمان اہل علم کی طرف سے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت شریعت کے نام پر جوعلمی ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے، اس میں خدائی شریعت اور انسانی فہم دونوں شامل ہیں۔ اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ اصل شریعت زندگی کے بہت کم معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔ مگر انسانی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ چنانچہ اس دائر ے میں جب سوالات پیدا ہوئے تو ہمارے جلیل القدر فقہا نے اپنے حالات اور ماحول کے لحاظ سے ان کے جواب دیے اور اپنی آراء بیان کیں۔ جس کے بعد ہمارا فقہی ذخیرہ وجود میں آیا۔ یہ فقہی ذخیرہ جو اصلاً انسانی فہم پر مشتمل تھا رفتہ رفتہ ابدی شریعت کا حصہ سمجھا جانے لگا۔ یہ فقہی ذخیرہ بڑا غیر معمولی ہے، مگر زرعی دور میں بنایا گیا تھا اور سب سے بڑھ کر انسانوں نے اپنے حالات کو سامنے رکھ کر بنایا تھا۔ چنانچہ یہ شریعت کی طرح کبھی ابدی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صنعتی دور اور اب انفارمیشن ایج کے بعد ان میں بہت سی چیزیں بالکل غیر متعلق یا غیر عملی ہو چکی ہیں۔ جب ان کو مقدس سمجھ کر دین کے نام پر پیش کیا جاتا ہے تو اس کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اور آنے والے دنوں میں تمام مسلمانوں کی نئی نسلوں کے لیے اس طرح کی کوئی پابندی قابل قبول نہیں رہے گی۔ اس بات کو سمجھنا ہے تو اس ایک مثال سے سمجھیں کہ ہزار سال تک حرام سمجھی جانے والی تصویر آج حلال ہو چکی ہے۔ایک نسل پہلے تک تصویر کی مخالفت کرنے والے اب اس تمدن کا مکمل حصہ ہیں جو تصویر پر کھڑا ہوا ہے۔ جو گنتی کے لوگ رہ گئے ہیں وہ اگلی نسل تک اس کا حصہ بن چکے ہوں گے۔

اہل علم کے ایک اور گروہ سے یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے جب عصر حاضر میں شریعت کے اوپر وارد ہونے والے بعض سوالات کو دیکھا تو اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ ان خاص احکام کے پہلو سے شریعت کو عملی طور معطل یا غیر متعلق کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک علمی غلطی ہے جو نیک نیتی سے کی جا رہی ہے۔مگر یہ کم وبیش وہی غلطی ہے جو سینٹ پال نے کی تھی۔ یعنی شریعت صرف یہودیوں کے لیے ہے۔ ہمارے ہاں شریعت کو اُس دور کے عرب کے لیے خاص کیا جا رہا ہے جب قرآن نازل ہوا تھا۔ یا پھر امام کے اجتہاد، مقاصد شریعت وغیرہ کی تاویل کے ذریعے سے عملاً شریعت کو بعض جگہوں پر معطل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

یہ دونوں رویے افراط و تفریط ہیں۔ اس معاملے میں جاوید صاحب کا شریعت پر کام ایک بڑا غیر معمولی کام ہے۔ انھوں نے صدیوں سے انسانی اضافوں میں دبی اصل شریعت کو قرآن، سنت اور احادیث کی روشنی میں سامنے رکھ دیا ہے۔ بدقسمتی سے ان کا یہ عظیم کام ان کی وجہ شہرت نہیں بن سکا۔ ان کی وجہ شہرت ان کی بعض فقہی آراء بن گئیں ہیں۔ ان کے معتقدین اور مخالفین دونوں ان کی بنیاد پر ان کے کام کا تعین کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اصل کام جس کی بنا پر تاریخ میں وہ یاد رکھے جائیں گے وہ ہے جو انھوں نے شریعت پر کیا ہے اور ان کی کتاب ’’میزان‘‘ کا حصہ ہے۔ اہل علم فتویٰ بازی سے فارغ ہوجائیں تو کبھی اِس حیثیت میں ان کے کام کا مطالعہ کریں۔ اس کام نے اس چیلنج کا جواب بڑی حد تک دے دیا ہے کہ جو اگلے بیس پچیس برسوں میں پورے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم مسئلہ بن جائے گا۔

فکر فراہی

جاوید صاحب کا یہ کام تنہا ان ہی کا کام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ان کے اساتذہ امام حمید الدین فراہی اور اصلاحی صاحب کی بلند پایہ شخصیات کھڑی ہیں۔ امام فراہی کے پس منظر ہی میں جاوید صاحب اسے فکر فراہی قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فکراصلا ً اس چیز کے بیان کا نام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب اپنے پیچھے خود چھوڑ گئے ہیں اور جو تمام فکری معاملات میں آخری حجت ہے وہ قرآن مجید ہے۔ دین کے نام پر موجود ہر چیز پر قرآن مجید کی برتری جو اب رہتی دنیا تک خدا اور اس کے رسول کے قائم مقام ہے، یہی فکر فراہی ہے۔ یہی اس کا اصل اصول ہے ۔ یہی اس فکر کا لایا ہوا اصل انقلاب ہے۔ یہ کام اصلاً امام فراہی نے کیا تھا اور ہر دوسری چیز پر قرآن مجید کی برتری کو عملاً ثابت کر دیا تھا۔

علم کی دنیا میں جب اس قدر بلند پایہ شخصیات پیدا ہو جائیں تو اس کے بعد علمی انقلاب آیا ہی کرتے ہیں۔ تاہم اکثر یہ انقلاب شخصیات کے گزرنے کے بعد آتے ہیں۔ ان کی زندگی میں تو ایسے لوگ کفر و ضلالت کے فتووں اور مخالفتوں کے طوفان میں گھر کر اجنبی بنے رہتے ہیں۔ اسی پس منظر میں فراہی صاحب نے اپنے خلاف ایک فتوے کے جواب میں کہا تھا کہ یہ فتویٰ دینے والے مجھے نہیں جانتے۔

شخصیت پرستی

مگر ایک دوسرا مسئلہ بھی ایسی شخصیات کے بعد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ شخصیت پرستی کا مسئلہ ہے۔ انسانوں کا المیہ یہ ہے کہ اکثر وہ دو انتہاؤں پر ہی رہتے ہیں۔ یا تو نری مخالفت یا پھر نری عقیدت، بیچ کی راہ پر رہنے والے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ جاوید صاحب کی ایک بڑی علمی خدمت یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے ساتھ رہنے والوں کو اختلاف رائے کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ کبھی اس سے بے مزہ نہیں ہوتے۔

تاہم عام لوگوں کا شاید کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ عقیدت کی عالیشان عمارت بلند کرتے ہیں اور آخرکار اسے اپنے ممدوح کا مزار بنا کر قبر پرستی شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا قبرستان بھی بناتے ہیں اور اس میں ہر اختلاف کرنے والے کو بھی دفن کر دیتے ہیں۔ یہ انسانوں کا المیہ ہے۔ اس سے بلند صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے عظمت کا سرچشمہ صرف خدائے لم یزل کی ذات بلند ہوتی ہے۔ ان کے لیے خطا سے پاک صرف انبیا علھیم السلام ہوتے ہیں اور جن کے لیے دین کا ماخذ و محور صرف خاتم الانبیا والمرسلین کی ہستی ہوتی ہے۔ جن کے لیے ذاتی عقیدت سے زیادہ دلیل طاقتور ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔

کچھ اور مسائل

شخصیت پرستی پہلی چیز ہے جو کسی بھی فکر کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ یہ تباہی عام طور پر کسی فکر کے آخر کے زمانے کے لوگوں کے ہاتھوں آتی ہے۔جاوید صاحب کی فکر کو بھی اب معاشرے میں بہت قبول عام ہو گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتا چلا جائے گا۔ مگر بعد میں آنے والے کچھ اور خرابیاں بھی اپنے ساتھ لیتے آ رہے ہیں۔ ان پر بھی توجہ دلانا ضروری ہے۔

فکر فراہی اصلاً ایک علمی تحریک ہے جس کی بنیاد تطہیر افکار پر ہے۔ فطری طور پر اس کا زیادہ زور علمی اور فکری مباحث پر ہے۔ جو لوگ مانوس ہوتے ہیں، ان کا پس منظر یہی ہوتا ہے۔ لیکن دین کی دعوت اپنی حقیقت اور مقصد کے لحاظ سے اول تا آخر ایک اخلاقی دعوت ہے۔ علمی معاملات میں ایک شخص جب اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ جائے تواس کے بعد کسی چیز کا سمجھنا مسئلہ نہیں رہتا۔ جبکہ اخلاقی معاملات کی اصلاح میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ بلکہ بارہا تو لوگوں کو اپنی کمزوریوں کا نہ علم ہو پاتا ہے نہ وہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ علم ہو بھی جائے تو ان کی اصلاح بہت مشکل کام ہے۔ چنانچہ جو لوگ اس فکر سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں اکثروہی اخلاقی کمزوریاں موجود رہتی ہیں جو پہلے سے تھیں۔ جس کے بعد اللہ کے ہاں جوابدہی زیادہ ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ فکر کی تطہیر ہوجائے اور علم کی نہ ہو تو انسان کی زیادہ پکڑ ہو گی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی بڑی اصلاح کی ضرورت ہے۔

فکری مباحث میں ہمہ وقت لگے رہنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ یہ انسان میں جا بے جا تنقید اور بعض اوقات دوسروں کی تضحیک کا رجحان پیدا کر دیتے ہیں۔بدقسمتی سے اس فکر کے کچھ نئے وابستگان میں یہ رجحان نظر آتا ہے۔ جبکہ ایک بندہ مومن کے دل میں دوسروں کی خیرخواہی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ کسی کی علمی رائے کے دلائل کتنے بھی کمزور محسوس ہوں، ہمیشہ اس احساس میں جینا چاہیے کہ ہو سکتا ہے دوسرا شخص ہی ٹھیک ہو۔ ایسے میں اپنی بات دلائل سے بیان کر کے خاموش ہوجانا ہی مناسب طریقہ ہے۔ دوسروں کو شکست دے کر زمین ہی پر گرا دینا کوئی درست طریقہ نہیں۔

اس فکر کے اہل علم عام طور پر ظواہر پرستی پر تنقید کرتے ہیں۔ تاہم اس سے بعض وابستگان میں یہ تصور پیدا ہوجاتا ہے کہ ہر ظاہری حکم غیر مطلوب ہے۔اسی طرح یہ اہل علم بعض ان چیزوں کے جواز کے قائل ہیں جن میں عام اہل مذہب بہت سختی سے قائل ہیں۔ چنانچہ اس فکر کے وابستگان ان رعایتوں اور اجازتوں سے فائدہ اٹھاتے اٹھاتے، ان سرحدوں میں قدم رکھتے ہیں جو بہرحال ممنوعات کے دائرے میں آتی ہیں۔ خاص کر وہ احکام جو سد ذریعہ کے نوعیت کے ہیں۔ اسی طرح نوافل اورذکر الٰہی کی مدد سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک گہرا تعلق خود اپنی جگہ ایک بڑی غیر معمولی اور مطلوب صفت ہے۔ وہ بھی اجازتوں اور رعایتوں میں کہیں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہے ۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ فکر فراہی کے ساتھ ابتداء ً وہی ہوا ہے جو کسی بھی بڑی اصلاحی تحریک کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی زبردست مخالفت اور جھوٹا پروپیگنڈا۔ اس کے وابستگان میں اس کا ردعمل پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ بعض لوگوں میں یہ ردعمل بڑھتا ہے اور مذہبی طبقے کے عناد اور مخالفت میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ پہلے ہی سے ’’مولوی دشمن ‘‘ہوتے ہیں۔ ان کو اس فکر کے اہل علم کی صورت ایک گھونسا مل جاتا ہے جسے وہ اپنی دانست میں مولویوں کی ناک توڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جس سے بعض صالح طبیعت لوگ بھی متنفر ہوجاتے ہیں، حالانکہ ان کو کوئی فکری اور علمی اشکال نہیں ہوتا۔

اس فکر کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کے متعلقین یہ جاننے کے باوجود کہ دین کی اہم اور بنیادی چیزیں کیا ہیں، ان کو زیر بحث لانے کے بجائے ثانوی چیزوں کو بارہا اپنی گفتگو کا موضوع بنالیتے ہیں۔ ثانوی درجے کی چیزیں زیر بحث لانے کے بعد اہم ترین چیزیں کہیں پس پشت چلی جاتی ہیں۔ جس کے بعد دین کا اصل نقطہ نظر واضح ہونے کے بجائے غیر اہم چیزیں ہی موضوع بحث بن جاتی ہیں۔

اگر جنگ شیطان سے ہے تو

یہ خاکسار علم کی جدید اور قدیم دنیا کے مسائل سے واقف ہے۔ یہ عاجز اصلاً قدامت پسند شخص ہے۔ یہ جانتا ہے کہ دور جدید میں نئے علمی، فکری اور تہذیبی چیلنج اتنے بڑے ہیں کہ قرآن مجید کے علاوہ مسلمانوں کے پاس کوئی ڈیفنس لائن نہیں ہے۔ علمی طور پر قرآن مجید کی بنیاد پر یہ ڈیفینس لائن فکرفراہی نے دے دی ہے۔ آج مخالفت اور عناد کی فضا میں شاید لوگوں کو یہ بات سمجھ نہ آئے۔ مگر پچیس سال بعد بیشتر انصاف پسند لوگوں کو یہ بات سمجھ آ چکی ہو گی۔

اس فکر کا اصل چیلنج اس کے مخالفین نہیں۔ انھیں تو ہر حال میں ہارنا ہی ہے۔ اس فکر کا اصل چیلنج وہ کمزوریاں ہیں جو اس خاکسار نے اوپر گنوائی ہیں۔ یہ کمزوریاں باقی رہیں تو شیطان اپنی جنگ یہاں سے نہ سہی وہاں سے جیت جائے گا۔ جنگ اگر شیطان سے ہے تو پھر ان کمزوریوں کی اصلاح ہونا اس وقت فکر فراہی کا سب سے بڑا مسئلہ بن جانا چاہیے۔

http://www.inzaar.org

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s