دوسرا گناہ – محمد مبین امجد

میں اس علاقے میں پہنچا تو پورا علاقہ تباہ ہو چکا تھا، فصلیں تباہ ہو چکی تھیں، مکانات گر چکے تھے، بیماریاں اور وبائی امراض پھوٹنے لگے تھے، غرض ہر طرح سے یہ علاقہ تباہ و برباد ہو چکا تھا، ہر طرف پانی ہی پانی دکھتا تھا۔۔۔ اور یہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ پچھلے چند سالوں سے یہ علاقہ ہر سال سیلاب اور بارشوں میں بہہ جاتا تھا۔۔۔ ہاں مگر بس پچھلے چند ہی سالوں میں ایسا ہوا تھا اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
۔۔
۔
میرا تعلق سرکار کے ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل سے تھا اور سرکار نے مجھے یہاں کی آفت و تباہی کے اسباب جاننے کیلیے یہاں بھیجا تھا۔۔۔ اور میں نے جو رزلٹ نکالا اس نے مجھے حیران کر دیا تھا،اس رزلٹ نے تو میرے رونگٹے کھڑے کر دیےتھے۔۔۔ آپ بھی سنیں گے تو حیران ہوجائیں گے۔۔۔

میرے رزلٹ کے مطابق یہاں سیلاب اور بارشیں آنے کا واحد سبب یہاں کے لوگوں کی دعائیں تھیں۔۔ میں نے یہاں رہ کر خود سنا کہ یہاں کے مفلس اور کنگلے لوگ سیلاب اور بارشیں آنے کیلیے دعائیں مانگتے ہیں، اور ان مفلس اور قلاش لوگوں کی دعائیں اللہ بھی بہت جلد قبول کرتا ہے۔ میں نے جب انہیں یہ دعا کرنے دیکھا تو بڑا حیران ہوا اور میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ دعائیں کیوں کرتے ہو۔۔؟؟؟ اس سے تو فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں، مکان ڈھے جاتے ہیں، لوگ بھوکوں مرتے ہیں، بیماریاں پھیل جاتی ہیں، لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے اور ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں۔۔۔ اور ساری فصلیں تباہ ہو گئیں تو زبردست معاشی بحران پیدا ہو جائے گا۔

ان کے جواب نے تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔۔۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارا کون سا ان فصلوں میں کوئی حصہ ہے جو ہمارا نقصان ہوگا۔۔۔ وہ بڑے گھر اور بنگلے جو سیلاب میں بہہ جائیں گے ہمیں ان سے کیا غرض۔۔؟؟؟ ہمیں کونسا کبھی ان سے کچھ ملا ہے۔۔؟؟؟ ارے میاں ہمارے تو سب سے بہترین دن وہ ہوتے ہیں جب سیلاب آتا ہے، ہم کچی جھونپڑیوں سے اٹھ کر سرکاری عمارتوں میں آجاتے ہیں، صبح شام سرکار کی جانب سے پکا پکایا کھانا ملتا ہے، ولائتی خیمے ملتے ہیں، سرکار فی گھرانہ بیس بیس ہزار روپیہ دیتی ہے جو ہم سارا سارا کنبہ مل کر بھی سالوں نہیں کما سکتے، بدیسی ناریاں آکر ہمیں بدیسی راشن اور کپڑا لتا دیتی ہیں۔۔۔ تو ایسے میں ہم سیلاب کیلیے دعائیں کیوں نہ کریں، کیوں نہ ہم سیلاب کے حق میں نعرے لگائیں کہ یہ سیلاب ہی ہوتا ہے جس کے بعد ہم اپنی دھی رانیوں کا شادی بیاہ کرتے ہیں، اس لیے۔۔۔
نعرہ سیلاب۔۔۔ آوے ہی آوے، سیلاب آوے ہی آوے۔۔۔

اس کے بعد بھی جانے انہوں نے کیا کچھ کہا، میں حیرانی اور پریشانی میں سن ہی نہ سکا۔۔۔ آخر جی کڑا کے میں نے استفسار کیا کہ پچھلے چند سالوں سے ایسا شروع ہوا ہے اس سے پہلے تو ایسا نئیں تھا ۔۔؟؟؟ ایک بزرگ بولا میاں لمبی کتھا ہے سننے کا یارا رکھتے ہو تو سنو۔۔۔ سالوں پہلے کی بات ہے یہاں دو بھائی تھے، ان کا باپ ہمارا سردار تھا اور وہ بہت نیک دل تھا، جو ہم کھاتے وہ بھی وہی کچھ کھاتا، یہ علاقہ سر سبز و شاداب تھا رزق یہاں وافر تھا اور سب امن و چین سے زیست کرتے تھے، خیر ایک دن یہ ہوا کہ وہ سردار کہ جس کے دو لڑکے تھے، بیمار ہوا اور چند دن بیمار رہ کر راہی ملک عدم ہوا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے پہلوٹھی کے لڑکے کو بستی والوں نے سردار چنا۔

چند دن تو اس نے نیک دلی سے سرداری کی۔۔۔ ہم جو کھاتے وہ بھی وہی کچھ کھاتا، مگر ایک دن کھانے پہ سب نے دیکھا کہ اس کی روٹی کا رنگ ہماری روٹی سے جدا ہے، اسکا بھائی بولا کہ کیا اب تم چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاؤ گے۔۔؟؟؟ کیا تم نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے باپ سے نہیں سنا کہ گیہوں سے اس کا بھوسا الگ کر دیا جائے تو ناخنوں سے گوشت جدا ہو جاتا ہے، اور یوں بھائی سے بھائی جدا ہوتا ہے، رزق کم پڑنے لگتا ہے اور امن رخصت ہوتا ہے۔۔۔ خیر اس دن سب کھائے بغیر ہی دسترخوان سے اٹھ گئے۔ مگر وہ اپنی روش سے باز نہ آیا، اور چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھانا لگا۔۔۔ یہ دوسرا گناہ تھا اور پہلا گناہ وہ تھا جو ہمارے پرکھوں نے گیہوں کھا کر کیا تھا، اسکی سزا میں ہمیں جنت سے نکال دیا گیا، اور دوسرا گناہ آٹا چھان کر روٹی کھانا تھا۔

رفتہ رفتہ رزق کم پڑنے لگا، اور اس روز تو قیامت ہی آگئی جب ایک بھوکے نے گیہوں کیلیے سردار کے گھر نقب لگائی۔۔۔ اور یوں لوگوں نے اپنی چیزیں سنگھوا کر رکھنا شروع کر دیں، اور دیواریں بڑی بڑی کر لیں، جب دیواریں بڑی ہونے لگیں تو لامحالہ اس میں دروازے بھی لگائے گئے، اور جب حفاظت کا انتظام ٹھیک طرح سے ہو گیا تو لوگوں نے گھروں میں اناج سٹور کرنا شروع کر دیا، جس سے مفلس لوگ اور بھی مفلس ہو گئے۔۔۔ ایک دن جانے کہاں سے ایک سر پھرا آگیا اس نے ہانک لگائی کہ اللہ کرے یہ فصلیں اور بڑی بڑی فصیلیں تباہ ہو جائیں، سیلاب ان کو بہا کر لے جائے۔۔۔ سب نے اس کی باتوں کا مذاق اڑایا کہ یہاں کبھی سیلاب نہیں آیا تھا، مگر اس روز لوگ سوئے تو پہر رات گذرنے کے بعد بستی کو سیلاب نے آن لیا۔۔۔ طرف پانی ہی پانی تھا، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، بڑی بڑی فصیلیں اور دیواریں ڈھے گئی ہیں، یہ دیکھ کر ہم نے اس سر پھرے کی تلاش کی مگر جانے وہ کون تھا، اور کہاں چلا گیا تھا۔۔۔!
خیر وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، ہم جب دعا کرتے ہیں اللہ پاک ان بڑوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔۔۔ جنہوں نے آٹا چھان کر روٹی کھانے کے گناہ کو جاری رکھا۔۔۔!

https://daleel.pk/2017/02/24/32379

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s