جادو کا کھلونا

(Abu Yahya ابویحییٰ)

ندا فاضلی اردو کے معروف شاعر ہیں۔ ان کا ایک خوبصورت شعر اس طرح ہے:

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے چھن جائے تو سونا ہے

یہ شعر دنیا نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ایک مکمل بیان ہے۔ انسان کے لیے قدروقیمت ہمیشہ انھی چیزوں کی ہوتی ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتیں۔ وہ ان چیزوں کو سونا سمجھ کر ان کی خواہش کرتا ہے۔ جبکہ جو نعمتیں اور بھلائیاں انسان کو ملی ہوئی ہوں، وہ انسان کے لیے مٹی کی طرح بے وقعت ہوتی ہیں۔

اس کی سادہ ترین مثال صحت ہے۔ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحت ہر شخص کو دی جاتی ہے۔ بیشتر انسان کامل اعضا اور قویٰ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے جوڑ بند سلامت ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے، سنتے، بولتے اور چلتے پھرتے ہیں۔ ان کا دل، دماغ، جگر، پھیپھڑے سب ٹھیک کام کرتے ہیں۔ وہ اطمینان سے سانس لیتے اور مزے سے کھانا چبا سکتے ہیں۔

مگر اکثر انسانوں کو یہ نعمتیں سرے سے کوئی نعمتیں نہیں لگتیں۔ ہاں اس کے ساتھ ذرا مالی تنگی آجائے تو انسان مایوس اور پریشان ہوجاتا ہے۔ وہ چھوٹے گھر، کم تر سواری، قلیل آمدنی کو اتنا بڑا مسئلہ بنالیتا ہے کہ گویا اسے دنیا میں کچھ نہیں ملا۔

ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ کسی نابینا کو دیکھیں، کسی معذور سے ملاقات کریں، کسی مریض کی عیادت کریں، کسی ہسپتال کا چکر لگا کر کینسر اور ہارٹ کے کسی مریض کو دیکھیں تو ان کو اندازہ ہو گا کہ ان کے پاس سونے سے بھی قیمتی نعمت ہے، جسے وہ مٹی سے بھی کمتر سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب لوگ اپنے ’’سونے ‘‘ کو سونا سمجھیں گے تو دنیا میں جو ان کو نہیں ملا، وہ بھی دے دیا جائے گا۔

http://www.inzaar.org

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s