عمر خیام

عمر خیام کا پورا نام ’ ’ابوالفتح عمر بن ابراہیم الخیامی ‘‘ تھا۔ عمر خیام ۱۰۴۸ .ء میں نیشا پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی پیشہ خیمہ دوزی تھا۔ اسی نسبت سے یہ خیام مشہور ہوئے۔ عمر خیام نے اس وقت نیشا پور میں آنکھیں کھولیں جب اس پر سلجوقیوں کی حکومت تھی، جو علم و حکمت کے بڑے دلدادہ تھے۔

عمر خیام نے نیشاپور میں ہی ابوالحسن زنہاری کی شاگردی اختیار کر لی جنہوں نے انھیں ریاضی، فلسفہ اور علم معیشت کا درس دیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد یہاں سے وہ سمرقند چلے گئے۔ جہاں ابو طاہر نامی امیر کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ ابو طاہر کی سرپرستی میں عمر خیام نے علم ریاضی پرکام کرنا شروع کر دیا اور تقریباً سات سال کی مسلسل محنت کے بعد انھوں نے اپنی مشہور تصنیف ’’مقالات فی الجبر و مقابلہ‘‘ لکھی۔ اس میں جو نظریات پیش کیے ہیں وہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔

سمرقند میں دس برس گزارنے کے بعد وہ اپنے وطن نیشاپور لوٹ آئے۔ اسی دوران یہاں کے حکمران ملک شاہ کا بیٹا بیمار ہوا۔ عمر خیام نے ہی اس کا شافی علاج کیا۔ ملک شاہ نے اسے اپنے یہاں کا شاہی طبیب مقرر کر دیا۔ ملک شاہ نے اصفہان میں ایک رصد گاہ قائم کی جس کا نگراں عمر خیام کو مقرر کر دیا۔ یہیں انھوں نے’’ تاریخ الجلالی‘‘ نامی کیلنڈر تیار کیا۔ جو موجودہ عیسوی کیلنڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ عمر خیام کی سب سے نمایاں خدمات الجبرا کے میدان میں رہی۔ ’’مقالات فی الجبر و مقابلہ‘‘ ان کا تاریخی شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ ’’بائی نومیل تھیورم‘‘(Binomial Theorum) پیش کیا اور مابعد الطبیعیات پر بھی تین کتابیں لکھی ہیں۔ مغرب نے عمر خیام کو ایک حکیم اور فلسفی کی بجائے صرف خمریات کے شاعر کی حیثیت سے نمایاں کیا ہے۔ ان کا یہی وطیرہ دوسرے مسلمان حکماء کے بارے میں بھی رہا ہے۔ ان کی رباعیات کو Idward Fitzgerald نے انگریزی میں ترجمہ کر کے عالمگیریت بخش دی ہے لیکن اس ترجمہ میں حکمت، فلسفہ اور تصوف کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف شباب اور سرمستی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اس کا ترجمہ اتنا جامع اور قابل تعریف ہے کہ کلاسیکی ادب میں آج تک شامل ہے۔ اردو میں کئی شاعروں نے ان کی رباعیات کے ترجمے کیے ہیں۔ ایک رباعی کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

اسرار دل نہ تجھ کو، مجھ کو معلوم

اس راز کو حل کرنے سے دونوں محروم

یہ گفت و شنید تجھ سے پردہ میں ہے

پردہ اٹھے تو دونوں ہوں گے معدوم

عمر خیام کا انتقال ۸۳ سال کی عمر میں ۱۱۳۱ .ء میں ہوا۔ انھیں نیشاپور میں ہی دفن کیا گیا۔

طالب انصاری

اجالے ماضی کے

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s