ہیکلِ سلیمانی کی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ

ضمیمہ ۳

(بحوالہ باب دہم)

حضرت سلیمان علیہ السلام سے پہلے اسرائیلیوں کے ہاں ہیکل کی کسی عمارت کا وجود نہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی بدویانہ زندگی میں کسی ہیکل کی ایک متعین عمارت کے لیے کوئی جگہ ممکن ہی نہ تھی۔ ’خیمۂ اجتماع‘، جو متعین لمبائی، چوڑائی اور اونچائی وغیرہ کا ایک خیمہ ہوتا تھا، ہیکل کا کام دیتا تھا اور عہد کا تابوت (تابوتِ سکینہ) ۱؂ اِس میں رکھا ہوتا تھا۔جب حضرت داوٗد علیہ السلام (قریباً ۱۰۱۰ ۔ ۹۷۰ ق م) نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور اپنے لیے ایک مستقل محل تعمیر کر لیا تو اللہ تعالیٰ کے معبد کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( ۲۔سموئیل ۷:۲)۔ اُس نے تعمیراتی مٹیریل بہم پہنچایا، خزانہ اکٹھا کیا اورمعبد کی عمارت کے لیے ارونا یبوسی سے اس کا کھلیان خریدا (۱۔ تواریخ ۲۲: ۸؛ ۲۔ ۲۔سموئیل ۲۴: ۱۸۔۲۵)۔۲؂ اُس کے بیٹے سلیمان (جو اسرائیل کی متحدہ بادشاہت پر قریباً ۹۷۰ ۔ ۹۳۰ ق م حکمران رہا) نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں ہیکل کی باقاعدہ تعمیرشروع کی اور سات سال بعد ہیکل مکمل ہو گیا (قریباً ۹۶۰ ق م میں؛ لیکن سمتھ کی لغت، صفحہ ۹۷۶ کے مطابق قریباً ۱۰۰۵ ق م میں،جو قطعی ناممکن ہے)۔ یہودیہ کے بادشاہوں نے مختلف حکومتوں سے تعلقات استوار کرنے کی غرض سے خراج ادا کرنے کے لیے اس ہیکل کے خزانے متعدد مرتبہ لوٹے (۲۔سلاطین۱۲: ۱۸؛ ۱۶: ۸؛ ۱۸: ۱۵)۔ یوسیاہ نے (جس نے قریباً ۶۴۰ ۔ ۶۰۹ ق م یہودیہ پر حکومت کی) ہیکل کی تعمیر ومرمت کا حکم صادر کیا۔ یوسیاہ کے فرمان کے تحت کی جانے والی مرمت (قریباً ۶۲۲ ق م) کے دوران میں سردار کاہن حلقیاہ نے شریعت کی کتاب دریافت کی۔ اس بات پرعمومی اتفاق ہے کہ یہ اَسفارِ خمسہ (تورات) کی کتابِ استثنا کی اصلی حالت تھی۔ یوسیاہ نے دینی اصلاحات کے نفاذ کا عمل شروع کیا‘جو اُس تورات کی تعلیمات پر مبنی تھا جو حلقیاہ نے ہیکل میں دریافت کی تھی (۲۔ سلاطین ۲۲: ۸ وبعد)۔ بابل کے حکمران نبیو کد نضر نے ۵۸۶۔ ۵۸۷ ق م میں اپنی یروشلم کی فتح کے موقع پر ہیکلِ سلیمانی کو تباہ وبرباد کر دیااور یروشلم کے اسرائیلیوں کو اسیر بنا کر اپنے ساتھ لے گیا۔اگلے قریباً ۷۰ سال تک ہیکلِ سلیمانی کا صفحۂ ہستی پر کوئی وجود نہ تھا۔ فارس کے شاہِ سائرس نے بابل کے ولی عہد بل شعضر کو ۵۳۹ ق م میں شکست دی اور بابلی سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ سائرس ایک منصف مزاج اور رحم دل حکمران تھا۔ اُس نے اسرائیلیوں کوآزاد کر دیا اورانھیں اس بات کی اجازت بھی دے دی کہ وہ یروشلم میں واپس جا کر آباد ہو جائیں۔ اُس نے انھیں اپنا ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی اوراِس غرض کے لیے انھیں مناسب مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ہیکل کی(دوسری) تعمیر ۵۳۷ ق م میں شروع ہوئی۔ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل ڈکشنری‘ میں وضاحت کی گئی ہے:

But the builders encountered so much opposition from enemies in their homeland that the work soon came to a virtual stop and remained interrupted until the reign of Darius 1. In the 2nd year of his reign the prophets Haggai and Zechariah encouraged Zerubbabel, the governor, and Joshua, the high priest, to make another effort to rebuild the Temple. They responded, and with the enthusiastic support of the whole nation and the good will of the Persian officials and of the king himself, the new Temple, usually referred to as the Second Temple [or the Temple of Zerubbabel], was completed, along with its auxiliary structures, in the period of 4189 years, from 520 to 515 B.C. (Ezr. 3:8 to 4:5; 4:24 to 6:15). (…). Antiochus IV Epiphanes desecrated the Temple in 168 B.C. by erecting an altar dedicated to Jupiter Olympius in the Temple court and sacrificing swine on it. He stole the sacred furniture from the holy place and removed all Temple treasures (Jos. Ant. xii 5, 4; 1 Macc 1:21-23). However, the Temple was repaired, refurnished, and rededicated in 165 B.C., after the Maccabean forces took Jerusalem (1 Mac 4:43-59) (…). When Pompey conquered Jerusalem in 63 B.C. the Temple was spared any damage, but it was later pillaged by Crassus [in 54 BC]. It may have suffered some further damage in the conquest of Jerusalem by Herod in 37 B.C. (…). When Herod announced his intention of rebuilding a new Temple [commonly called ‘Temple of Herod’], the Jews feared he would tear down the old one and then fail to rebuild it. Consequently, Herod devised a method of reconstruction by which the old was demolished only as the new construction progressed; it appeared at the different stages as if he were doing nothing but repairing the older structures, while in reality a completely new complex of buildings was erected without interrupting the services. He first rebuilt the Temple proper. This work was begun in 20/19 B.C. and lasted 18 months. He had all building material finished to size before it was brought to the Temple area, and employed only priests to work on the inner Temple structure. After that was finished, most of the outer buildings, including the cloisters, were completed during the next 8 years, but the work of decoration and embellishment went on until the procuratorship of Albinus (A.D. 62-64), immediately before the outbreak of the Jewish war. Since building activities were still going on during Christ’s ministry, it is understandable that the Jews said the Temple had been in building for 46 years (Jn 2:20). (…). The whole Temple with all its buildings was destroyed by fire during the capture of Jerusalem by the forces of Titus in A.D. 70. (…). Although the Temple built by Herod the Great was actually a new structure, the Jews always referred to it as still the Second Temple, considering his work no more than a repair and remodeling. Because of the Jews’ hatred for him, the orthodox Jewish writings, like the Mishnah, which gives detailed descriptions of this Temple, never mention the name of its builder. (…). The old Temple area was enlarged to twice its former size, including also the palace grounds of Solomon’s time. Archeological investigations show that the present Moslem enclosure, the Haram esh-Sherif, almost exactly covers Herod\’s Temple area, and large parts of the present walls rest on foundations or wall stumps of Herod’s time. ؂3

لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حجی اور زکریاہ نبیوں نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی [یا ہیکلِ زروبابل] اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں ۵۲۰ ۔ ۵۱۵ ق م ( عزرہ ۳: ۸۔ ۴: ۵؛ ۴: ۱۴ ۔ ۶:۱۵) پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ (…)۔ انطیوکس چہارم ایپی فینز نے ۱۶۸ ق م میں ہیکل کے صحن میں جیوپیٹر اولمپیئس کے نام سے منسوب چبوترہ تعمیر کرکے اور اِس پر خنزیروں کی قربانیاں پیش کرکے ہیکل کے تقدس کو پامال کیا۔ اُس نے اِس مقدس مقام سے متبرک فرنیچر چرا لیااور ہیکل کے تمام خزانے وہاں سے ہٹا دیے (جوزیفس، اینٹی کوئیٹیز دواز دہم ۵، ۴: ۱۔ مکابیون ۱: ۲۱ ۔ ۲۳)، تا ہم۱۶۵ ق م میں مکابی فوجوں کے یروشلم پر قبضے کے بعد (۱۔مکابیون۴: ۴۳۔ ۵۹) ہیکل کی مرمت کرا دی گئی، اس میں نئے سرے سے فرنیچر فراہم کیا گیا اور اسے دوبارہ مراسمِ قربانی وعبادت کے لیے وقف کر دیا گیا۔ (…)۔ جب پومپی نے ۶۳ ق م میں یروشلم پر قبضہ کیا تو ہیکل کو کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا، لیکن بعد میں [۵۴ ق م میں] کریسس نے اسے تاراخت وتاراج کیا۔ عین ممکن ہے کہ ہیرود کی ۳۷ ق م میں فتح یروشلم کے موقع پر بھی اسے مزید نقصان پہنچایا گیاہو۔ (…)۔ جب ہیرودِ اعظم نے ایک نئے ہیکل [جسے عام طور پر ’ہیرود کا ہیکل‘ کہا جاتا ہے] کی تعمیر نو کے ارادے کا اظہار کیا تو یہودیوں کو اس بات کا خوف محسوس ہوا کہ وہ پرانا ہیکل توڑ پھوڑ ڈالے گا اور پھر اس کی تعمیرنو نہیں کرا سکے گا۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہیرود نے تعمیر نو کا ایسا طریقہ اختیار کیاجس کے ذریعے سے پرانے ہیکل [کے صرف وہی حصے ] گرائے جاتے تھے جس کی تعمیر پر عمل درآمد شروع ہو جاتا تھا۔ تعمیر کے مختلف مراحل کے دوران میں یوں لگتا تھاکہ وہ پرانی تعمیرات کی مرمت کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مراسمِ قربانی وعبادت میں کسی طرح کا خلل واقع ہوئے بغیر عمارات کا مکمل طور پر ایک نیا ڈھانچا تعمیر ہو رہا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں اُس نے اصل ہیکل کو دوبارہ تعمیر کیا۔ یہ کام ۱۹ یا ۲۰ ق م میں شروع ہوا اور ۱۸ ماہ تک جاری رہا۔اُس نے تمام تعمیراتی سامان کو ہیکل کے علاقے میں لائے جانے سے پہلے ہی بالکل سائز کے مطابق تیار کروایا اور ہیکل کے اندرونی ڈھانچے پر کام کے لیے صرف کاہنوں ہی کو مقرر کیا۔ جب یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا تواگلے آٹھ سالوں کے درمیان میں اکثر بیرونی عمارتیں بشمول خانقاہ کے حجرات مکمل کیے گئے، لیکن تزئین وآرایش کا کام، یہودی جنگوں کے پھوٹ پڑنے سے فوراً پہلے، البائنس (۶۲ء۔ ۶۴ ء) کے دورِ انتداب تک جاری رہا۔ چونکہ حضرت مسیح ؑ کے دورِ نبوت کے دوران تک تعمیراتی سرگرمیاں ابھی جاری تھیں تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ یہودیوں نے یہ (کیوں) کہا تھا کہ ہیکل میں تعمیراتی کام ۴۶ سال سے جاری ہے (یوحنا ۲:۲۰)۔ (…)۔ سارے کا سارا ہیکل اپنی تمام تعمیرات سمیت ۷۰ ء میں ٹائیٹس کی فوجوں کے ہاتھوں یروشلم کے قبضے کے دوران میںآگ کے ذریعے سے نیست ونابود کر دیا گیا۔ (…) اگرچہ ہیرودِ اعظم کا تعمیر کردہ ہیکل عملی طور پر ایک نئی عمارت تھی، لیکن یہودی ہیرودِ اعظم کے کام کو مرمت اورتعمیرِ جدید سے زیادہ نہ سمجھتے ہوئے ہمیشہ اس کا ہیکلِ ثانی کے طور ہی پر ذکر کرتے تھے۔ یہود کی ہیرودِ اعظم سے نفرت کی وجہ سے مِشنا کی طرز کی متعصب یہودی تحریریں ، جو اِس ہیکل کی مکمل تفصیل بتاتی ہیں،اس کے معمار کا نام کبھی نہیں لیتیں۔ (…)۔ہیکل کا پرانا رقبہ بڑھا کر پہلے سے دوگنے سائز کا کر دیا گیااور اِس میں عہدِ سلیمان کے محل کے میدان بھی شامل کر لیے گئے۔ آرکیالوجی کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمانوں والا حصہ یعنی حرم شریف ۴؂ ٹھیک ٹھیک ہیکلِ ہیرود کے رقبے پر مشتمل ہے اور موجودہ دیواروں کے زیادہ تر حصے ہیرود کے زمانے کی بنیادوں پر قائم ہیں۔

اس جگہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب مسجدِ عمر تعمیر ہوئی، اُس سے قریباً سات صدیاں پہلے تک ہیکل کی کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ ’جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا‘ کے مطابق:

The mosque was built over a rock the traditions of which were sacred, probably the site was the same as that of the Temple which Hadrian erected to Jupiter. This in turn was on the site of Herod\’s Temple. ؂5

مسجدایک چٹان پر تعمیر کی گئی تھی، جس سے متعلق روایات یہ ہیں کہ وہ مقدس تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ اس کا محلِ وقوع وہی تھا جواُس ہیکل کا تھا، جسے ہیڈرین نے جوپیٹر [کے مراسمِ قربانی و عبادت]کے لیے تعمیر کیا تھا۔اور اسی طرح یہ بھی ہیرودِ اعظم کے ہیکل کے محل وقوع پر واقع تھا۔

اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پچھلے قریباً دو ہزار سال سے اس مقام پر ہیکلِ سلیمانی کا کسی حالت میں بھی وجود نہیں رہا۔

________

حواشی ضمیمہ ۳ ’ہیکلِ سلیمانی‘ کی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ

۱؂ مکینزی بحوالہ خروج ۲۵:۱۰ وبعد(صفحہ۵۴پر) ’تابوت‘کی حسبِ ذیل وضاحت کرتا ہے:

A small portable box or chest: 3190 X 2188 X 2188 ft, made of acacia wood, overlaid with gold inside and out. On its top were two cherubim facing each other. This is the place where Yahweh meets Israel and reveals His commandments. It contained the two tablets of stone which were thought to go back to the Mosaic period, a vessel of manna and the rod of Aaron. It was carried on the head of the column when the Hebrews traveled through the desert and before the army in battle. After the settlement of the Israelites in Canaan the ark was finally established at Shiloh, [Shiloh was 9 mi NNE of Bethel, in the central mountain range.] It was taken into battle against Philistines, who defeated Israel and captured the ark. It was finally placed in the temple of Solomon.

[تابوتِ سکینہ یا عہد کا تابوت] کیکر کی لکڑی کا بنا ہوا ایک چھوٹا دستی طورپر قابلِ منتقلی بکس یا صندوقچہ جو پونے چار ضرب سوا دو ضرب سوا دو فٹ کاتھا اور جس پر اندر اور باہر سونا جڑا ہواتھا۔ اس کے اوپردو کروبی ایک دوسرے کی طرف منہ کیے بیٹھے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ اسرائیل سے ملاقات کرتا اور اپنے احکامات کا القا کرتا تھا۔ اس میں پتھر کی وہ دوا لواح بھی موجود تھیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عہدِ موسوی کا بقیہ ہیں اور ایک ’مَنّ‘ کا برتن اور ہارون ؑ کا عصا بھی تھا۔ جب عبرانی لوگ صحرا میں سفر کرتے تواُس وقت اس طرح لے جایا جاتا کہ یہ قطاروں سے آگے ہو اور جنگوں میں اِسے فوج کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا۔ اسرائیلیوں کے کنعان میں آباد ہو جانے کے بعد تابوت کو بالآخر شیلوہ [یہ مرکزی پہاڑی سلسلے میں بیت ایل کے شمال شمال مشرق میں نو میل کے فاصلے پر واقع تھا] کے مقام پر مستقل طور پر رکھ دیا گیا۔ اسے فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں لے جایا گیا جنھوں نے اسرائیل کو شکست دی اوراِس تابوت پر قبضہ کر لیا۔ بالآخر اِسے ہیکلِ سلیمانی میں رکھ دیا گیا۔

2. Smith’s Dic. of the Bible, 679 observes:

The gold and silver alone accumulated by David are at the lowest reckoned to have amounted to between two and three billion dollars.

داوٗد ؑ نے [بیت المقدس کی تعمیر کے لیے ]جو سونا اور چاندی جمع کیا تھاصرف اُسی کی قیمت کا کم از کم تخمینہ دو اور تین بلین ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔

بظاہر یہ نا ممکن نظر آتا ہے۔لگتا یہ ہے کہ لغت نگار نے اس کا حساب کتابِ تواریخ کے مطابق لگایا ہو گا جو اپنی مبالغہ آرائیوں کے لیے مشہور ہے(ملاحظہ کیجیے ۱۔ تواریخ ۲۲: ۱۴)۔

3. 7th Day Adventist Bible Dic., p. 1099 ff.

۴؂ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ حرم شریف سے مراد نہ تو مسجدِ عمر ہے اور نہ مسجد اقصیٰ، بلکہ اس سے مراد وہ سارا رقبہ ہے جو ہیرودِ اعظم کے ہیکل میں شامل تھا۔

5. The Jewish Enc. 12:100.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: