مسلمان اور اخروی نجات

 اخروی نجات کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ آدمی’’کلمہ گو مسلمان‘‘ ہو۔ مسلمانوں میںیہ عقیدہ عام ہے ۔ ان کے خیال میں، ہر مسلمان، محض، عقیدۃً، اللہ کو معبود اور رسول کو رسول مان لینے کی وجہ سے جنت میں چلا جائے گا۔ وہ، خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو، بہر حال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہے۔ لہٰذا، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت، اسے نصیب ہو گی۔ وہ عذاب جہنم سے بچا لیا جائے گا اور جنت اس کا نصیب بنے گی۔ البتہ، وہ اگر بہت ہی گناہ گار نکلا تو زیادہ سے زیادہ اسے چند دن جہنم میں گزارنے ہوں گے اور اس مختصرسزا کے بعد، وہ اپنے ایمان کے باعث، جنت میں بھیج دیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ آیا اس ایمان کی کچھ اہمیت ہے،جس کے نتیجے میں اعمال صالحہ وجود میں نہ آئیں، آخرت کی کامیابی کی طلب دل میں پیدا نہ ہو اور آدمی وہ آدمی نہ بن جائے، جسے قرآن مجید بندۂ مومن قرار دیتا ہے؟

سورۂ عصر قرآن مجید کی ایک مختصر سورہ ہے۔ اس میں اخروی نجات کی وہ شرائط بیان کی گئی ہیں، جنھیں پورا کر دینے کے بعدبندۂ مومن، یقینا، نجات پا لے گا۔ عذاب جہنم کا خسارہ جس کے خطرے سے ہر آدمی دو چار ہے، اس کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہے گا۔ اس طرح، یہ سورہ، ایک فرد کے لیے، انفرادی زندگی کے دائرے کی، بنیادی دینی ذمہ داریاں بیان کر دیتی ہے۔ اس سورہ میں بیان کیا گیا ہے کہ صرف وہی لوگ آخرت کے خسارے سے بچیں گے، جو ان حقائق کو مان لیں گے، جن سے اللہ کے رسولوں نے انسانوں کو آگاہ کیا ہے، جو ایسے اعمال اختیار کریں گے، جنھیں اللہ کا دین اور عقل و فطرت کا قاضی اچھے اعمال قرار دیتا ہے اور جو اپنے ماحول، اپنے گھر اور اپنے خاندان میں ایک دوسرے کو حق او ر حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کرتے رہیں گے۔ اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ نجات کے لیے، ایمان کے ساتھ نیک اعمال جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اعمال صالحہ کے بغیر ایمان، ایک بے برگ و باردرخت ہے، جس پر کسی پھل کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔

نیک اعمال، دو واضح حصوں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حصہ، ان اعمال پر مشتمل ہے، جنھیں ہم عبادات کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور دوسرے حصے میں، وہ اعمال آتے ہیں، جن میں آدمی دین کے ان احکام پر عمل کرتا ہے، جو اسے امور دنیا میں صحیح راستہ اختیار کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ عام مسلمان اس سلسلے میں بھی بہت کچھ افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عبادات یعنی نماز، روزے کے اہتمام سے دینی زندگی کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ، بالعموم، امور دنیا کے معاملے میں دین کے احکام سے بے پروا ہو جاتے اور اس دائرے میں اپنی اصلاح کے لیے کم ہی فکر مند ہوتے ہیں۔ کچھ دوسرے لوگوں کے نزدیک نماز، روزہ تو ایک شخص کا انفرادی عمل ہیں، اصل اہمیت اس چیز کی ہے کہ آدمی اخلاق و معاملات میں کیسا ہے۔ چنانچہ، ان کے ہاں، اخلاق و معاملات میں کچھ اقدار کی پاس داری تو نظر آتی ہے، لیکن نماز، روزہ اور دوسری عبادات میں کوتاہی کم ہی قابل توجہ قرار پاتی ہے۔

یہ دونوں نقطہ ہاے نظر، دین کی رو سے، غلط ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تقسیم، محض، بات سمجھانے کا ایک طریقہ ہے۔ ان میں سے ایک طرح کے اعمال کو دوسرے اعمال پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ نصوص قرآن و سنت میں، اس ترجیح کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس، حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرح کے اعمال باہم لازم وملزوم ہیں۔ آدمی دین کے کسی ایک حکم پر اس کی اصل روح اور سارے تقاضوں کے ساتھ، صرف اسی صورت میں عمل کرتا ہے، جب وہ سارے دین پر، بے کم و کاست، عمل کرنے والا ہو۔ اس کے بغیر نہ اسے ایمان کی حلاوت نصیب ہوتی ہے، نہ اس کی عبادت میں للہیت اور اخلاص شامل ہوتا ہے۔ آخر حلاوت کے بغیر ایمان، خشوع و انابت کے بغیر عبادت اور للّٰہیت اور اخلاص کے بغیر اعمال کی میزان میں کیا قدر و قیمت ہو گی۔

اسی ضمن میں، ایک فلسفہ وہ ہے، جسے ’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘ کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو راہ راست پر لانا اور انھیں غلط کام سے روکنا، خواہ مخواہ، پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کے مترادف ہے۔ آدمی کو بس اپنا معاملہ ٹھیک رکھنا چاہیے۔ یہ بات قرآن مجید اور احادیث میں، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے صریحاً منافی ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ کے بندوں کی یہ مستقل صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ نیکی کی تلقین کرنے والے اور برائی سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ سورۂ توبہ میں ہے:

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَآءُ بَعْضٍ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗأُولٰٓءِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّٰہُ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ. (۹: ۷۱)

’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے رفیق ہیں، یہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے نوازے گا۔ بے شک، اللہ عزیز و حکیم ہے۔‘‘

اس آیت میں ’امر بالمعروف‘۱؂اور ’نہی عن المنکر‘۲؂کا اہل ایمان کے کردار کے ایک نمایاں حصے کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ اس آیت کے یہ الفاظ بالکل اسی معنی میں ہیں، جس معنی میں سورۂ عصر میں ’تواصوا بالحق‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس لیے کہ سورۂ توبہ کے اس حصے میں مسلمانوں کا منافقین کے مقابلے میں ذکر ہوا ہے۔ قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ تمام منافقین ایک ہی کردار کے لوگ ہیں۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کو برائی پر ابھارتے اور خیر کے کاموں میں شرکت سے روکتے ہیں، جبکہ مسلمان، اس کے بالکل برعکس، دوسروں کو خیر پر ابھارتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔

جہاں مسلمانوں میں اس چیز کی کمی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو خیر کے کاموں پر ابھاریں اور برے کاموں سے روکیں اور اپنے ماحول کی اصلاح میں، عملاً، حصہ لیں، وہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ برائی کے خاتمے کے لیے، محض، باہمی نصیحت اور علما کے انذار کو کا فی نہیں سمجھتے، بلکہ وہ لوگوں کو بزور بازو برائی سے روک دینا دین کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں، ایک حدیث بطور استدلال پیش کی جاتی ہے۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کہ ’اگر تمھارے پاس استطاعت ہو تو ہاتھ سے برائی کوروک دو‘ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر آدمی، ہر دوسرے آدمی کو، بالجبر، برائی سے روک دینے کا مکلف ہے۔ یہ حدیث تو، درحقیقت، عام آدمی کو اس کے دائرۂ اختیار کے حوالے سے اس کی ذمہ داری، آخرت میں جواب دہی اور مسؤلیت پر متنبہ کرتی ہے۔ ظاہر ہے، جو شخص اپنی اولاد، اپنی بیوی اور اپنے ماتحت کو برائی سے باز رکھنے میں کوتاہی کرتا ہے اور جو حکمران اپنے ملک میں اپنی رعایا، اپنی انتظامیہ اور معاونین کو برائی سے نہیں روکتا اور اس کے لیے مناسب عملی اقدامات نہیں کرتا، اس کے ضعیف الایمان ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔

اوپر ہم نے بالفعل یا بالجبر برائی سے روکنے کے لیے دائرۂ اختیار کی شرط کا ذکر کیا ہے۔ یہ شرط، بظاہر، اس حدیث کے لفظ استطاعت سے نہیں نکلتی۔ لیکن، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی قرآن مجید میں بنیاد تلاش کی جائے تو ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ حکم دائرۂ اختیار کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ عام آدمی کی اصلاح و دعوت کی ذمہ داری سورۂ عصر میں بیان ہوئی ہے ’تواصی‘ (باہمی نصیحت) کے الفاظ ہی اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں کہ اس سے مراد اپنے ماحول، یعنی گھر، محلہ، حلقۂ احباب اور کاروبار کے ساتھیوں میں حق اور خیر کا علم بردار بن کر رہنا ہے۔ پھر قرآن مجید پورے معاشرے کی اصلاح اور دین حق کی شرح و وضاحت کی ذمہ داری عام لوگوں پر عائد نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک یہ ذمہ داری ان لوگوں کی ہے، جو دینی علوم کے جید عالم ہوں اور دین میں گہری بصیرت پیدا کر لیں۔ جس طرح قرآن مجید نے عام آدمی پر عائد ہونے والی ذمہ داری کے لیے سورۂ عصر میں ’تواصی‘ کا لفظ اختیار کیا ہے، اسی طرح علما کی اس ذمہ داری کے لیے سورۂ توبہ میں ’انذار‘ ۳؂کی تعبیر اختیار کی ہے۔ یہ دونوں لفظ دعوت و اصلاح کے کام کی نوعیت پوری طرح متعین کر دیتے ہیں۔ یہ اپنے لغوی مفہوم ہی سے یہ واضح کر دیتے ہیں کہ عام آدمی ہو یا عالم دین، اس کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کو صحیح بات سے آگاہ کرے، غلطی کی نشان دہی کرے اور بدی سے اجتناب اورنیکی کے اختیار کرنے کی تلقین کرے۔۴؂قرآن مجید کا یہ صریح بیان، کار دعوت کے اصل اسلوب کی پوری طرح وضاحت کر دیتا ہے۔ لہٰذا، اس حدیث سے کوئی ایسا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا، جو قرآن مجید کا مدعا ہی متغیر کر دے۔

دنیا کے ہر معاشرے میں برائی کے بالفعل خاتمے کی ذمہ داری حکومتیں ادا کرتی ہیں۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ یہ کام اپنی ذاتی حیثیت میں یا جتھا بنا کر انجام دینا شروع کر دے۔ اگر ریاستیں یا معاشرے اس اصول کی پاس داری کا اہتمام نہ کریں تو نظم و نسق مختل ہو کر رہ جائے اور معاشرہ، ایک منظم ریاست کے بجائے، گروہوں کی باہمی ’’جہادی سرگرمیوں‘‘ کی آماج گاہ بن جائے۔ اسلام نے بھی اس اصول کو پوری اہمیت دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اسالیب میں مسلمانوں کو تعلیم دی کہ وہ نظم ریاست کے پوری طرح پابند رہیں۔ دین کا تصور دعوت اور مسلمانوں کو ایک متحد اور مجتمع امت رکھنے سے متعلق احکام، اگر پیش نظر رہیں تو اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے نکلنے والا مفہوم قابل قبول نہیں رہتا۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان کو معاشرے میں دو حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک حیثیت میں وہ، ایک بھائی، ایک دوست، ایک محلے دار اور ایک شہری ہوتا ہے۔ اور دوسری حیثیت میں وہ ایک باپ، ایک شوہر، ایک سرپرست یا مالک، افسر اور حاکم یا استاد اور رہنماہوتا ہے۔ یہ دوسری حیثیت ہے، جس میں انسانی سماج نے ہمیشہ آدمی کے خصوصی حقوق مانے ہیں۔ یہی حیثیت ہے، جس کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث’ تم سب گلہ بان ہو اور تم سے تمھارے گلے کے بارے میں پوچھا جائے گا‘۵؂اشارہ کرتی ہے۔ چنانچہ، ہمارے نزدیک، اوپر والی حدیث، درحقیقت، اسی دوسری حیثیت میں، مسلمان کی دینی ذمہ داری بیان کرتی ہے۔ یہی حیثیت ہے، جس میں کوئی شخص برائی کے خاتمے کے لیے، سماج کی طرف سے دیے گئے اختیارات بروئے کار نہیں لاتا تو اسے متنبہ رہنا چاہیے کہ اس کا سبب، کہیں اس کے ایمان و عمل کی کمزوری تو نہیں۔

[۱۹۹۵ء[

_________

۱؂نیکی کی تلقین کرنا۔

۲؂برائی سے منع کرنا۔

۳؂وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوْا إِلَیْْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ‘ (اور یہ تو نہ تھا کہ سب ہی مسلمان اٹھتے تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتے، جب ان کی طرف لوٹتے۔ اس لیے کہ وہ بھی بچتے)۔ (التوبہ ۹: ۱۲۲)

۴؂یہاں یہ بات واضح رہے کہ دونوں کے کام میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔عام آدمی اپنے ماحول میں بنیادی اخلاقی اقدار اور اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے اور عالم دین اس سے آگے بڑھ کر دین کی شرح و وضاحت کرتا، بدعات، اور غلط عقائد کا ابطال کرتا اور معاشرے میں دین کو غالب رکھنے کی جد وجہد کرتا ہے۔

۵؂’کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ‘۔( بخاری، کتاب الجمعہ)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: