مرکز توحید کی تعمیر اور دعائے ابراہیم

سیرت النبی

[جناب خالد مسعود صاحب کی تصنیف ”حیات رسول امی” سے انتخاب]

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ رسول ہیں جن کے آہنی عزم، مضبوط کردار، اللہ کی وحدانیت کے اثبات کے لیے سرفروشانہ جذبہ اور ان کے اہم عملی اقدامات کو بنی آدم کے لیے بطور نمونہ پیش کیاگیا ہے۔ ان کو اللہ رب العزت کے لیے اپنی عبودیت اور وفاداری کاثبوت غیر معمولی طور پر سخت امتحانوں سے گزر کر پیش کرنا پڑا۔ جب وہ ہر آزمایش میں کامیاب رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام انسانوں کے امام و رہنما کی حیثیت عطا فرمائی۔ ہزاروں برس گزر جانے کے باوجود یہود، نصاریٰ اور مسلمان ان کو اپنا پیشوا مانتے اور ان کے لیے عقیدت کے جذبات رکھتے ہیں۔ ان کی نسل میں اتنی کثیر تعداد میں انبیا و رسل پیدا ہوئے کہ ان کو ابوالانبیا یعنی نبیوں کے جد اعلیٰ کا لقب دیاگیا ہے۔

اہل تحقیق کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آبا و اجداد اصلاً عرب کے باشندے تھے جو نقل مکانی کر کے دجلہ و فرات کی زرخیز سرزمین کے مشہور شہر بابل میں آباد ہو گئے۔ یہ علاقہ آہستہ آہستہ شرک، بت پرستی اور کواکب پرستی کا گڑھ بن گیا۔ یہاں تک کہ عرب سے آنے والے لوگ بھی اسی مذہب کے پیرو بن گئے۔ مشہور روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر شہر کے بڑے بت خانہ کے ایک ذمہ دار فرد تھے، لیکن بیٹے کو بت پرستی سے سخت نفرت رہی اور وہ اس کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ قوم کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رسول مبعوث کیا۔ انھوں نے اپنے والد اور اعزہ کو اللہ کی وحدانیت کا درس دیا اور شرک کو رب سے بغاوت قرار دیا، لیکن بجائے اس کے کہ وہ کوئی اثر قبول کرتے، والد نے ان کو گھر چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعوت قوم کے سامنے رکھی اور استدلال کے اچھوتے اسلوب اختیار کیے جنھوں نے قوم کو لاجواب کر دیا۔ انھوں نے بادشاہ وقت کو بھی اپنی دعوت سے روشناس کرایا اور اس کے مناظرانہ دلائل کاایسا توڑ کیا کہ اس سے کوئی جواب بن نہ آیا۔ ۱؂ تاہم ان کی بیوی سارہ اور ایک بھتیجے لوط کے سوا کسی نے ان کی دعوت پر کان نہیں دھرے۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قوم کے رویہ سے مایوسی ہوئی تو آخری حربہ کے طور پر انھوں نے عظیم خطرہ مول لے کر قوم کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسی شب میں کہ جب لوگ کوئی تہوار منانے میں مصروف تھے ، وہ مرکزی بت کدہ کو خالی پا کر اس میں داخل ہوئے اور اس میں رکھے ہوئے بڑے بت کے سوا باقی تمام بتوں کو توڑ دیا۔ صبح کو جب پجاری بت کدے میں داخل ہوئے اور بتوں کا حال دیکھا تو سوال پیدا ہوا کہ یہ حرکت کس نے کی ہے۔

ان کو خیال ہوا کہ ہو نہ ہو، یہ حرکت ابراہیم نے کی ہو گی ، کیونکہ وہ بت پرستی کے خلاف بہت بولتا رہتا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام سے جواب طلبی کی گئی تو انھوں نے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ سلامت ہے، اسی سے پوچھ لو کہ دوسرے بتوں کو کس نے توڑا ہے۔ اس پر اصل حقیقت لوگوں کی زبان سے ادا ہو گئی۔ وہ کہنے لگے کہ تم جانتے ہو، یہ بت بول نہیں سکتے۔ ابراہیم علیہ السلام کو موقع مل گیا تو انھوں نے قوم کے آگے توحید کے حق میں اور شرک کے خلاف تقریر کر دی کہ جب یہ بت نہ بول سکنے اور نہ اپنا دفاع کرنے پر قادر ہیں تو یہ تمھارے لیے کیسے نفع یا ضرر پہنچانے والے بن سکتے ہیں۔ حقیقی معبود صرف اللہ ہے جو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ شرک کے خلاف اس عملی مظاہرہ کا قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اندھے بہرے تعصب میں مبتلا ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو گردن زدنی قرار دیتے ہوئے ان کو آگ میں جلانے کی سزا تجویز کی۔ اپنے طور پر انھوں نے آگ بھڑکا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی تدبیر کی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت اس کو ٹھنڈا کر دیا اور ابراہیم علیہ السلام آگ سے محفوظ رہے۔ ۲؂ اس کے بعد ان کو بابل سے ہجرت کا حکم ہوا اور وہ اپنی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط کے ہمراہ شہر سے نکل گئے۔ ان کے نکل جانے کے بعد شہر پر عذاب نازل ہوا۔

ہجرت

دین کی خاطر اپنے وطن مألوف کو خیر باد کہہ کر کسی نئے علاقہ میں جا کر ازسر نو زندگی کی جدوجہد شروع کرنا ہجرت کہلاتا ہے۔ یہ ایک بڑی آزمایش ہوتی ہے۔ اس لیے جب اللہ کے بندے یہ عظیم قربانی دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر خصوصی نظر کرم فرماتا اور ان کے لیے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ یہی کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔ وہ مختلف علاقوں میں سے گزرتے ہوئے عرب کے شمال میں پہنچے اور اپنے لیے کنعان (موجودہ اسرائیل) کاعلاقہ بطور مسکن چنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں برکت دی۔ بھیڑ بکریوں میں افزایش ہوئی اور جلد ہی ان کاشمار علاقے کے رئیسوں میں ہونے لگا۔ شمالی عرب میں بنو قحطان کی ریاستیں تھیں۔ یہ عرب قبیلہ مروت، فیاضی اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جس جگہ آباد ہوئے ، وہ بنو جرہم کے سردار ابو ملک کے زیر اثر تھی۔ ابوملک کے تعلقات ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بہت اچھے تھے۔ اس نے ان کی بڑی مدارات کی۔ ۳؂ ان کو اپنا حلیف بنایا اور عرب قبائل کے رواج کے مطابق ان حلیفانہ تعلقات کے استحکام کے لیے اپنی بیٹی ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں دے دیا۔ پچاسی برس کی عمر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام لاولد رہے۔ بالآخر ان کو ایک حلیم الطبع فرزند عطا کیے جانے کی بشارت ہوئی۔ یہ بیٹا ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ یہ بیٹا قول و فعل میں سچا، صابر اور اپنے والد کی اعلیٰ صفات کامظہر تھا۔ یہ اکلوتا فرزند والدین کی دل جمعی کا ذریعہ اور ان کی امیدوں کا مرکز بن گیا۔

یہودیوں نے نسلی تعصب کی بناپر ہاجرہ کی تحقیر کے لیے ان کو ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی سارہ کی مصری لونڈی بتایا ہے ، لیکن قرائن سے اس کی نفی ہوتی ہے۔ ابوملک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جہاں مدارات کی اور دنیاوی مال و متاع دیا وہیں اس کی عقیدت کایہ حال تھا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ‘ہر کام میں جو تو کرتا ہے خدا تیرے ساتھ ہے’۔ اس صورت میں عربوں کے طریقہ پر اس کا اپنی بیٹی سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے بیاہ دینا بعید نہیں۔ خود ہاجرہ نے زندگی بھر اپنا تعلق بنو جرہم کے ساتھ باقی رکھا، اپنے بیٹے اسماعیل اور ان کی اولاد کی شادیاں اسی قبیلہ میں کیں، اور یہ تعلق اتنا مضبوط ہوا کہ بنو جرہم مکہ میں آباد ہو گئے اور بعد کے ادوار میں بیت اللہ کا نظم و نسق تک بنو جرہم کے ہاتھ میں آ گیا۔ اگر ہاجرہ فی الواقع مصری خاتون ہوتیں تو انھیں بنو جرہم کے ساتھ وابستہ رہنے اور رشتہ داریاں قائم کرنے کی کیاضرورت تھی۔ ۴؂

محبوب فرزند کی قربانی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا محبوب فرزند جب ان کا ہاتھ بٹانے کے لائق ہو گیا تو ان کو ایک ایسی آزمایش میں مبتلا کیاگیا جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان کو حکم ہوا کہ ہاجرہ اور بیٹے کو ساتھ لے کر جنوب کو روانہ ہوں۔ تورات کے بیان کے مطابق یہ سفر ‘بیت ایل’ پر جا کر ختم ہوا جہاں انھوں نے قربان گاہ بنائی۔ بیت ایل کے لفظی معنی بیت اللہ کے ہیں۔ آثار و قرائن اس بات کے حق میں ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے وادی بطحا میں پہنچے جہاں اس وقت مکہ مکرمہ واقع ہے۔ اس میں بیت اللہ بھی موجود ہے اور قربان گاہ مروہ بھی۔ مکہ کا ابتدائی نام بکہ تھا جو بابلی زبان میں آبادی یا شہر کے معنی میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد کے بعدجو گھر آباد ہوئے ہوں گے ، ان کے لیے انھوں نے اپنے پہلے وطن اور وہاں کی زبان کے لحاظ سے نام ‘بکہ’ تجویز کیا ہو گا جو امتداد زمانہ کے ساتھ مکہ میں بدل گیا۔ قرآن میں مکہ کے لیے یہی قدیم نام استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِینَ. فِیْہِ اٰیٰت” بَیِّنٰت” مَّقَامُ اِبْرَاھِیْمَ.(آل عمران ۳ :۹۶۔۹۷)

”بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیاگیا وہی ہے جو بکہ میں ہے، جہان والوں کے لیے برکت اور ہدایت کا مرکز۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں۔ وہ مسکن ابراہیم ہے۔”

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے فرزند کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں ۔ وہ جس عزم و حوصلہ کے مالک تھے ، اس نے انھیں خواب کی کوئی توجیہ و تعبیر کرنے سے باز رکھا اور خواب کے ظاہر کے مطابق انھوں نے اسماعیل کو قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب بیٹے سے اپنے ارادہ کا ذکر کیا تو اس نے نہایت سعادت مندی سے منشائے الٰہی پورا کرنے کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ ابراہیم اس کو مروہ پر لے گئے اور لٹا کر حلقوم پر چھری چلاناہی چاہتے تھے کہ حکم ہوا، ابراہیم! بس کر دو، تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ بیٹے کو واقعی ذبح کرنا مطلوب نہیں ہے۔ اس کے فدیہ کے طور پر ایک جانور ذبح کرو اور ہم اس واقعہ کی یادگار ایک عظیم رسم قربانی کو بنائیں گے جو رہتی دنیا تک باقی رہے گی۔

توحید پر کامل یقین اور اس کے لیے مکمل یکسوئی، شرک کے تمام مظاہر سے انتہائی درجہ کی بے زاری، رب کی اطاعت و نیازمندی کا جذبۂ فراواں، اور رضائے الٰہی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا حوصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کردار کی پہچان بن گیا۔ اللہ رب العزت نے اس کو پزیرائی بخشی، اس کو ‘ملت ابراہیم’ یعنی ابراہیمی طریقہ قرار دیا اور اسلام کی حقیقت کی عملی تعبیر کے لیے ابراہیم علیہ السلام کے عمل کو بطور مثال پیش کیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے کی قربانی کے امتحان میں کامیاب رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید نوازا اور ان کو پہلی بیوی سارہ کے بطن سے ایک فرزند اسحاق کی ولادت اور اسحاق کی نسل میں ان کے بیٹے یعقوب کے تولد ہونے کی بشارت ہوئی۔ یہ بشارت سن کر ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا کہ ‘کاش: اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ:

”اسماعیل کے حق میں میں نے تیری دعا سنی۔ دیکھ، میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔” (پیدایش ۱۷ :۱۸۔۲۰)

عہد نامہ قدیم میں قربانی کے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی نقل ہوا ہے:

”چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو، جو تیرا اکلوتا ہے، دریغ نہ رکھا، اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کر دوں گا، اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہو گی اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔” (پیدایش ۲۲: ۱۶۔۱۸)

عہد نامہ قدیم میں یہ وعدہ وہاں نقل ہوا ہے جہاں اس سے قبل حضرت اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کا بیان ہے۔ چنانچہ یہود و نصاریٰ اس وعدہ کو ان پر اور ان کی اولاد پر منطبق کرتے ہیں، حالانکہ وہ اس عبارت کا کسی طرح مصداق نہیں ہو سکتے۔ اس کی وجوہات حسب ذیل ہیں:

۱۔ یہاں ذبیح بیٹے کو اکلوتا بتایا گیا ہے ، جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے تقریباً چودہ برس چھوٹے تھے۔ اس لیے وہ کسی طرح اکلوتے نہیں کہلا سکتے۔ قرآن مجید نے جہاں واقعۂ ذبح بیان کیا ہے وہاں دوسرے بیٹے کے تولد کی بشارت کو پہلے بیٹے کو ذبح کے لیے پیش کر دینے کا صلہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی نسل کے لیے ہے۔

۲۔اولاد اسحاق میں کبھی وہ غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا جو ‘برکت پر برکت’ کا تقاضا معلوم ہوتا ہے۔ آج اکیسویں صدی عیسوی میں بھی دنیا بھر کے بنی اسرائیل کی تعداد، جو اولاد اسحاق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لاکھوں میں شمار ہوتی ہے ، جبکہ اولاد اسماعیل پہلے ملک عرب کے کونے کونے میں اور پھر اس ملک کی حدود سے نکل کر اکناف عالم تک پھیل گئی۔ اس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

۳۔ اولاد اسحاق کو بہت کم دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوا ہے۔ ان کی حکومت محدود مدت تک اور محدود علاقے میں قائم ہو سکی۔ بالعموم وہ دوسروں کے دست نگر رہے حتیٰ کہ تاریخ میں کئی بار ان کو غلامی کی ذلت سہنی پڑی۔ اس کے برعکس اولاد اسماعیل ہمیشہ آزاد رہی۔ ابتدا میں ان کی حکومتیں پورے عرب میں قائم ہوئیں، بعد ازاں دوسری قوموں کو بھی انھوں نے مغلوب کیا اور فی الواقع دشمنوں کے پھاٹک پر قابض ہوئے۔

۴۔ اللہ تعالیٰ نے برکت کا وسیلہ پہلے بنی اسرائیل (جو اولاد اسحاق ہیں) کو بنایا ، لیکن انھوں نے اس کو اپنا استحقاق سمجھ لیا اور دوسری اقوام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ برکت، جو آسمانی ہدایت کی شکل میں ان کے سپرد کی گئی تھی، دوسری اقوام تک نہ پہنچ سکی اور بنی اسرائیل اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد بنو اسماعیل کو یہی فریضہ سونپا گیا تو انھوں نے نہ صرف خود اس سے فائدہ اٹھایا ، بلکہ سو سال کے اندر ہندوستان اور چین سے لے کر سپین و پرتگال تک کے علاقے میں بسنے والی تمام اقوام کو اس برکت میں اپنے ساتھ شریک کر لیا۔

لہٰذا مذکورہ بالا اقتباس میں ذبیح کا اشارہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا وعدۂ خداوندی بھی انھی کی اولاد کے بارے میں پورا ہوا۔ تورات میں اس موقع پر حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام داخل کرنا تحریف کا کرشمہ ہے جس سے تورات کبھی محفوظ نہیں رہ سکی۔ ۵؂ متعدد زمینی حقائق بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ قربانی کا واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔ مثلاً یہ کہ قربانی کی عبادت کا دنیا میں سب سے بڑا مرکز ہمیشہ سے مکہ چلا آ رہا ہے۔ وہیں مروہ کی قربان گاہ واقع ہے۔ بیت اللہ، جس کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی، مکہ میں ہے اور اولاد اسماعیل کا تعلق اس معبد کے ساتھ کسی زمانہ میں ختم نہیں ہوا۔ عبادات کا جو نظام حج و عمرہ کی شکل میں حضرت ابراہیم ؑ نے جاری کیا تھا ، وہ ہزاروں برس گزر جانے کے باوجود اب تک قائم ہے۔ اولاد اسحاق کے ہاں ایسی کوئی نشانی محفوظ نہیں جس سے وہ اپنا تعلق واقعہ قربانی یا تعمیر بیت اللہ کے ساتھ ثابت کر سکیں۔

مرکز توحید کی تعمیر

ذبح سے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی حقیقی تعبیر، جو بعد میں ملنے والی آسمانی ہدایات سے واضح ہوئی، یہ تھی کہ وادی بطحاء میں وہ ایک معبد خاص اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کریں اور اس کی حفاظت و خدمت کے لیے بیٹے کو اللہ کی نذر کر دیں تاکہ وہ اس مقدس گھر کی زیارت کے لیے آنے والوں اوریہاں عبادت کرنے والوں کے لیے اس کو پاک و صاف رکھیں۔ ایک روایت کے مطابق وادی میں ایک قدیمی معبد پہلے سے موجود تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی کی تعمیر نو کا حکم ہوا ، لیکن اس روایت کے حق میں کوئی شہادت نہیں ہے۔ اول تو ‘بکہ’ کا لفظ ہی بتاتا ہے کہ وادی میں پہلے کوئی آبادی نہ تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں تشریف لائے تو ان کی آمد سے اس بستی کا آغاز ہوا اور انھوں نے بابلی زبان کا لفظ اس کے نام کے لیے منتخب کیا۔ اگر پہلے یہاں لوگ ہی آباد نہ تھے تو ان کے بغیر بیابان میں آخر معبد کس مقصد سے تعمیر ہوا۔ دوسرے قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ بیت اللہ ہی کو بیت العتیق (قدیمی گھر) کہا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن نے اول بیت وضع للناس (پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر ہوا) کے الفاظ جہاں استعمال کیے ہیں وہاں اس کو ‘مقام ابراہیم’ (ابراہیم کا مسکن) بھی کہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ میں جس اولیت اور قدامت کا ذکر ہوا ہے ، وہ یروشلم میں واقع بیت المقدس کے مقابلہ میں ہے جو صدیوں بعد سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت میں تعمیر ہوا اور یہود کے ہاں اس کو قبلہ کی حیثیت حاصل ہوئی۔

دعائے ابراہیم

حکم خداوندی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو ساتھ لیا اور اللہ کے گھر کی تعمیر میں لگ گئے۔ جب باپ بیٹا دونوں تعمیر میں مصروف ہوتے تو اس مقدس کام کے دوران میں یہ دعا کرتے:

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَینَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ. رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُولًا مِّنْھُمْ یَتْلُوا عَلَیْھِم اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ. اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیْمُ.(البقرہ ۲: ۱۲۸۔۱۲۹)

”اے ہمارے رب! ہم دونوں کو تو اپنا مسلم (فرمانبردار و اطاعت شعار) بنا اور ہماری ذریت میں سے اپنی ایک فرمانبردار امت اٹھا، اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ اور اے ہمارے رب! تو ان میں انھی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیتیں سنائے، اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے۔ ”

یہ عظیم باپ بیٹا، جن کا ہر عمل اسلام کی روح سے دوسروں کو آشنا کرنے والا ہے، سب سے پہلے اپنے اسلام اور کامل فرماں برداری کی دعا کرتے، اس لیے کہ اسلام کے درجات و مراتب کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی نسل کی خیرخواہی میں اس کے اندر ایک امت مسلمہ کے اٹھائے جانے کی التجا کرتے جو ان باپ بیٹا کی روش پر چلنے والی ہو، وہ اپنے رب کی وحدانیت پر کامل یقین رکھنے والی، فرامین الٰہی پر دل و جان سے کاربند اور یک سوئی کے ساتھ رب کی اطاعت شعار ہو۔ اس کے بعد وہ اپنی نسل میں ایک ایسے رسول کے مبعوث کیے جانے کی درخواست کرتے جس کے پاس اللہ کا کلام ہو، وہ امت مسلمہ کو کتاب الٰہی اور حکمت دین کی تعلیم دے، اس کا تزکیہ کرے اور ان کے اخلاق و کردار کو سنوارے۔ یہ دعا چونکہ بیت اللہ کے دونوں معزز و محترم معماروں نے مل کر اپنی اولاد کے حق میں کی ، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ اولاد اس میں شامل نہیں ہو سکتی جو ان کے دوسرے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھی۔ اس دعا کے مطابق امت مسلمہ اصلاً بنو اسماعیل پر مشتمل ہونی تھی اور اس رسول کی بعثت کہ جس کے بھیجے جانے کی آرزو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی، بنواسماعیل ہی میں ہونی تھی۔

حضرت اسماعیل کی ذمہ داریاں

مکہ کے مرکز توحید کی تعمیر مکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے دعائے ابراہیم علیہ السلام کے پہلے حصہ کو قبول فرماتے ہوئے انھیں عبادت کے احکام عطا کیے۔ ہدایت ہوئی کہ بیت اللہ تمام ذریت ابراہیم علیہ السلام کا مرکز اور قبلہ ہو گا۔ اپنی عبادات میں وہ اس گھر کا رخ کریں گے۔ اس گھر کی خاص عبادات نماز، اعتکاف، طواف کعبہ، حج اور قربانی ہوں گی۔ باپ بیٹے کو ان عبادات کے ادا کرنے کے طریقے اور مناسک سکھائے گئے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں یوں بیان ہوا ہے:

وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا. وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیمَ مُصَلًّی. وَ عَھِدْنَآ اِلٰی اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّاءِفِینَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ.(البقرہ ۲ :۱۲۵)/strong>

”اور یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ مسکن ابراہیم میں ایک نماز کی جگہ بناؤ اور ابراہیم اور اسماعیل کو ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔”

وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیّامٍ مَّعْلُومٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الاَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیرَ. ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ.(الحج ۲۲: ۲۷۔۲۹)

”اور لوگوں میں حج کی منادی کرو ، وہ تمھارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے پہنچیں گی، تاکہ لوگ اپنی منفعت کی جگہوں پر بھی پہنچیں اور چند خاص دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام بھی لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھاؤ اور فاقہ کش فقیروں کو کھلاؤ۔ پھر وہ اپنے میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں۔”

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جو بیت اللہ کی نذر کیا گیا تو ان کی ذمہ داری یہ ٹھہری کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ اللہ کے اس گھر کو کبھی بت پرستی کا اڈا نہ بننے دیں۔ اس کی حیثیت توحید کے ایک مرکز کی ہو جہاں آ کر لوگوں کو اللہ واحد سے لو لگانے، اس سے اپنا تعلق استوار کرنے اور یک سوئی کے ساتھ اس کی خاص عبادات کا موقع ملے۔ لہٰذا اسماعیل علیہ السلام اس کو طواف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھیں۔ وہ مکہ اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے لوگوں کو حج پر آنے کی دعوت دیں اور معین ایام میں حج و عمرہ پر آنے والوں کو سہولتیں فراہم کریں۔ ان کو مناسک حج سکھائیں اور اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنے کی رسم ڈالیں۔ یہ لوگ جب سفر کامیل کچیل اتار لیں، خدا کی نذر کے جانور ذبح کر لیں اور بیت اللہ کا طواف کر لیں تو ان کا حج مکمل ہو جائے گا۔ یہ بشارت بھی دی گئی کہ جب حج کی منادی کی جائے گی تو لوگ ذوق و شوق سے اس مرکز کی طرف جمع ہوں گے اور راستوں کی دوری کی پروا بھی نہیں کریں گے۔

ان ہدایات سے یہ بات از خود ثابت ہو جاتی ہے کہ عرب کے دوسرے قبائل کی نسبت اولاد ابراہیم علیہ السلام ، خواہ وہ بنو اسماعیل ہوں یا بنو اسرائیل، ان احکام کی اولین مخاطب تھی۔ لہٰذا شروع شروع میں بنی اسرائیل بھی اسی مرکز سے وابستہ رہے ہوں گے، ان میں حج کی عبادت رائج رہی ہو گی اور وہ نذر کی قربانیاں مکہ میں آ کر کرتے ہوں گے۔ نیز اس دور میں بیت اللہ ہی ان کی نمازوں کا قبلہ رہا ہو گا۔ اس کی تائید تورات کے اس جملہ سے ہوتی ہے کہ ”اسماعیل اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا”۔(پیدائش ۱۶: ۱۲) چونکہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل پھیل کر عرب کے مختلف علاقوں میں جا بسی اس لیے اسماعیل علیہ السلام کا سب بھائیوں کے سامنے بسنا اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کا مسکن سب کا قبلہ ہو اور وہ اس کی یہ حیثیت تسلیم کرتے رہے ہوں۔ لہٰذا بنی اسرائیل کا اصلی و قدیمی قبلہ بھی مکہ مکرمہ کا بیت اللہ رہا ہو گا۔ اس بات کی تائید بنی اسرائیل کے خیمۂ عبادت اور بعد میں بیت المقدس کی تعمیر کی تفصیلات سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں خیمۂ عبادت کی ہیئت اور اس کے بارے میں احکام پر بحث کرتے ہوئے حمیدالدین فراہی لکھتے ہیں:

”ہمارے نزدیک اس ساری ترتیب کا اصلی فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص خداوند کے حضور آئے اس کا رخ جانب جنوب یعنی مکہ معظمہ اور ابراہیمی قربان گاہ کی طرف ہو۔ اس کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خیمہ کے اندر مسکن مقدس بھی جنوب ہی کی سمت میں تھا اور مذبح اس کے سامنے دروازے کی طرف تھا۔ اس لیے جو شخص وہ قربانی پیش کرتا جس کو قدس الاقداس کہتے ہیں وہ مذبح کے شمالی جانب کھڑا ہوتا تاکہ اس کا رخ مسکن ربانی کی طرف ہو سکے، جس کے معنی یہ تھے کہ اس کا رخ لازماً خانہ کعبہ کی طرف ہوتا جس کے پاس ہی مروہ ہے، جس کو اولین قربان گاہ ہونے کی عزت حاصل ہے اور اس کے پاس ہی مسکن اسماعیل بھی ہے۔ ”۶؂

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اولاد اسحاق کا قبلہ مکہ کا بیت اللہ تھا اور ان کی قربانیاں اسی کے رخ پر ہوتی تھیں۔ بعد میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر کی تو اس میں بھی عبادت گاہ کا رخ جنوب کی جانب تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح ہماری مسجدیں قبلہ رخ تعمیر ہوتی ہیں اسی طرح بیت المقدس کی تعمیر بھی قبلہ کے رخ پر ہوئی۔ بعد کے کسی دور میں یہودیوں نے بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا اور بیت اللہ سے تعلق توڑ لیا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جب بیت اللہ کی خدمت کے لیے مکہ میں بسایا گیا تو اس وقت یہ سرزمین بالکل غیرآباد ، وسائل رزق سے محروم اور پر خطر تھی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی آبادی کی بھی دعا کی اور رزق و فضل کی کشائش اور امن و امان کی بھی۔ قرآن میں ان کی دعا یوں نقل ہوئی ہے:

وَ اِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ. رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِی فَاِنَّہُ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْر” رَّحِیْم”. رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ۔ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ اِلَیھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُم یَشْکُرُوْنَ.(ابراہیم ۱۴ : ۳۵۔۳۷)

”اے ہمارے رب! اس سرزمین کو پر امن بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے محفوظ رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں۔ اے میرے رب! ان بتوں نے لوگوں میں سے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے تو جو میری پیروی کرے وہ تو مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے ایک بن کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔”

یہ دعا قبول ہوئی اور اس زمانہ سے آج تک مکہ مکرمہ تجارت کا ایک ایسا مرکز رہا ہے جہاں ہر شہری سہولت میسر ہے اور وہاں کے باشندے تجارت ہی سے رزق پاتے ہیں۔ خانہ کعبہ کی بدولت جو تقدس اس شہر کو حاصل ہوا اور حج اور عمرہ کی عبادات کی عظمت جو دلوں میں قائم ہوئی ، اس کی بدولت نہ صرف حرم کعبہ میں، بلکہ پورے ملک میں، مخصوص مہینوں میں امن و امان قائم رہتا جس کی بدولت حج و عمرہ کے لیے آنے والے بحفاظت اپناسفر کر سکتے ، بلکہ ان مہینوں میں تجارت بھی ممکن ہوتی۔

جہاں تک دعائے ابراہیم کے اس حصہ کا تعلق ہے جو نسل اسماعیل میں رسول کی بعثت کے بارے میں ہے تو اس کی قبولیت کو موخر کر دیا گیا اور صدیاں گزر جانے کے باوجود اس رسول کی بعثت نہ ہوئی جس کے لیے تعمیر کعبہ کے وقت دعا کی گئی تھی۔

———————-

۱؂ سورۂ بقرہ ۲: ۲۵۸

۲؂ سورۂ صافات ۳۷: ۸۳ ۔ ۱۰۰۔

۳؂ تورات کی کتاب پیدائش کے باب ۲۰ میں بیان ہوا ہے کہ ابو ملک جرار کا بادشاہ تھا۔ یہ علاقہ کنعان کے جنوب میں تھا۔ ابراہیم ابوملک سے ملے تو ان کو رخصت کرتے وقت اس نے بھیڑ بکریاں، گائے بیل، غلام اور لونڈیاں ان کو پیش کیں اور کہا کہ میرا ملک آپ کے سامنے ہے، جہاں جی چاہے رہو۔

اس باب میں حضرت ابراہیم کا اپنی بیوی سارہ کو بادشاہ کے حرم میں بھیجنے کا واقعہ ابوملک کے تعلق سے بیان کیاگیا ہے جبکہ بعینہٖ انھی تفصیلات کے ساتھ یہ واقعہ باب ۱۲ میں فرعون شاہ مصر کے حوالہ سے بیان ہوا ہے۔یہ بالکل ناممکن ہے کہ سارہ دو مرتبہ ایک جیسے امتحان سے گزری ہوں اور دونوں مرتبہ اس کی تفصیلات بھی یکساں رہی ہوں۔ چونکہ عرب ابوملک کو قبیلہ جرہم کا سردار مانتے ہیں جو حضرت اسماعیل کے سسرال بھی تھے ، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ واقعہ ابوملک کے کردار کو مسخ کرنے کے لیے گھڑا گیا اور ہاجرہ کی ولدیت کے معاملہ میں خلط مبحث سے کام لیا گیا۔

۴؂ قاضی سلیمان منصور پوری نے یہودی مفسر تورات ربی شلومو کی تحقیق یوں بیان کی ہے کہ ہاجرہ فرعون مصر کی بیٹی تھی۔ اس نے سارہ کی خدمت کے لیے اس بیٹی کو ان کے ساتھ کر دیا اور کہا کہ اس کا سارہ کے ہاں خادمہ ہو کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ ہو کر رہنے سے بہتر ہے۔ اس محقق کے نزدیک ہاجرہ لونڈی نہیں ، بلکہ بادشاہ کی بیٹی تھیں۔

ابوملک عربی نام ہے۔ اس کی ریاست بھی کنعان کے جنوب یعنی ملک عرب ہی میں بتائی گئی ہے جبکہ مصر کنعان سے مغرب کو ہے۔ صاحب تفسیر نظام القرآن حمیدالدین فراہی نے اسیریا کے کتبوں کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جس مصر سے گزرے وہ کنعان کے جنوب میں عرب کاشمالی و مغربی حصہ ہے نہ کہ مصر نیل۔ ان کے نزدیک ہاجرہ ابوملک کی بیٹی تھیں۔ (دیکھیے آنحضرت کا سلسلۂ نسب اور اہل کتاب، حمیدالدین فراہی۔ مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی۔ ۱۹۹۱ء)

۵؂ اس موضوع پر نہایت جامع اور مدلل کتاب ”الرای الصحیح فی من ھو الذبیح ”مؤلفہ حمیدالدین فراہی ہے۔ جس کا ترجمہ ‘ذبیح کون ہے؟’ کے نام سے مولانا امین احسن اصلاحی نے کیا۔ (شائع کردہ: فاران فاؤنڈیشن لاہور)

۶؂ ”ذبیح کون ہے” از حمیدالدین فراہی، فصل ۱۵ ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s