تاریخ کا مطالعہ

ہماری تاریخ بڑ ی تاب ناک ہے۔ہمارا نقطۂ آغاز خلافت راشدہ جیسی حکومت تھی۔ اس حکومت نے عدل، مساوات، احترام حقوق، آزادی اظہار اور ضرورتوں کی فراہمی جیسے معاشرتی اور سیاسی آئیڈیل اس طرح واقعات میں ممثل کردیے کہ انسانی تاریخ اس کی مثال لانے سے قاصر ہے۔

پھر ہم نے ایک ہزار سال تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی ہے۔ جو حیثیت آج امریکہ کو دنیا کے وسائل اور مسائل میں حاصل ہے، وہی ہمیں حاصل رہی۔ اور اس میں ایک بہت غیر معمولی فرق یہ بھی تھا کہ مسلمان حکمران ہمیشہ اخلاقی طور پر برتر رہے اور انھوں نے کبھی مغربی استعمار کی طرح سازش اور دو رخی پالیسی کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔

اسلامی افواج نے غیر معمولی سپہ سالار پیدا کیے۔ ان کے جنگی کارنامے، حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت میں علو وشان کا مطالعہ آج بھی ہمارے دل کی دھڑکن کو تیز اور ہمیں فخر و انبساط کے جذبات سے سرشار کردیتا ہے۔

آج زمانہ جن سائنسی ترقیوں پر فخر کر رہا ہے، ان کی نیو مسلمان سائنس دانوں نے اٹھائی اور نسل انسانی کو کائنات کی تسخیر کا حوصلہ دیا۔ البیرونی، الحیان، ابن رشد اور ابن سینا جیسے دسوں لوگ پیدا ہوئے اور انھوں نے معلوم تاریخ میں پہلی مرتبہ فطرت کی تسخیر کی راہ کھولی۔ قانون، معیشت، معاشرت، منطق اور فلسفہ جیسے علوم میں مسلمانوں نے غیر معمولی دریافتیں کیں اور بعض چیزوں میں یورپ کی موجودہ علمی دریافتیں بھی کوئی اضافہ نہیں کر سکیں۔

یہ ہمارے ماضی کے علو وشان کی ایک جھلک ہے۔ آج ہم پس ماندہ ہیں۔ دنیا کے نقشے پر بڑے بڑے خطے اسلامی ممالک کہلاتے ہیں، لیکن ان کازمانے کے الٹ پھیر میں کوئی قابل ذکر کردار نہیں۔ وہ ہر جگہ ’یدعلیا‘ سے محروم ہیں اور کاسۂ گدائی سے مزین ’یدسفلی‘ پھیلائے پھرتے ہیں۔

ہم جب اپنی تاریخ کے ان درخشاں ابواب کی جھلکیاں تاریخ کے اوراق میں دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں فخر سے چمک اٹھتی ہیں،چہرہ انبساط سے روشن ہو جاتاہے،سینہ شان و شوکت کے احساس سے پھیل جاتا ہے اور ہمیں اپنا قد بہت بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر ہماری نظریں نیچے اپنے ننگے پاؤں پر پڑتی ہیں اور اپنی رسوائیوں کا احساس اپنی تمام شدتوں کے ساتھ ہم پر طاری ہو جاتا ہے۔

تجزیے کی نگاہ کم ہی کھلتی ہے،لیکن اگر کھلے بھی تو اس زوال کے اسباب ہمیں خارج ہی میں نظر آتے ہیں۔صہیونی سازشیں،امریکہ کے مفادات،مغرب کا استیلا،غرض مختلف ناموں سے ہم اپنے دشمنوں کو موسوم کرتے ہیں اور جب ان سے مقابلے میں بے بسی محسوس کرتے ہیں تو کبھی اس خیال کو مسائل کا حل سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں ان کاآلۂ کار بن جانا چاہیے اور کبھی اس جذے کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو نیست و نابود کر دینا چاہیے۔

ہماری نگاہ صرف ظاہر میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہم اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا ادراک کریں اور پھر انھیں دور کرنے کی سعی کر ڈالیں۔ہم تاریخ کے اوراق میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں پڑھیں اور ان سے اپنے زوال سے نپٹنے کی راہ سمجھیں اور اسے اختیار کریں۔

پھر ہمارے پاس صحیفۂ خداوندی ہے۔وہ صحیفہ جو خدا کے اپنے الفاظ میں خدا کی رہنمائی دیتا ہے۔ ہم اسے کھولیں او رجاننے کی کوشش کریں کہ ہم پچھڑے ہوئے کیوں ہیں؟درماندگی نے ہمارا احاطہ کیوں کر لیا ہے؟بے کسی صرف ہمارا مقدر ہی کیوں ٹھہری ہے اورآخر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم کاسہ اٹھانے پر مجبور کر دیے گئے ہیں؟

پھر ہمارا یہ روشن ماضی اتفاق سے ہماری جھولی میں نہیں آ گیا تھا۔کچھ اسباب تھے جن کے نتیجے میں قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتیں خاک میں مل گئی تھیں اوراسلامی پرچم مشرق و مغرب میں سرحدیں عبور کرتا چلا گیا تھا۔پھر ہمارے ہزار سال تک دنیا میں غلبے کے پیچھے بھی کچھ عوامل تھے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ہمیشہ سرنگوں رہیں اور طویل عرصے تک اسلامی دنیا اپنے دشمنوں کو، جب بھی انھوں نے سر اٹھایا،ہزیمت دیتی رہی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ کا مطالعہ ہمارے لیے فخر کا سامان نہیں، منزل کانشان بنے۔ اسلاف کی عظمت و شان ہماری انا کی تسکین نہ کرے، ان کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ اور مثال بنیں۔

قرآن مجید نے اس مسئلے کے حل کو حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے نہایت مختصر الفاظ میں واضح کیا ہے۔سورۂ نوح میں ہے:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗکَانَ غَفَّارًا. یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمْ مِّدْرَارًا. وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْہَارًا. مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا.(۷۱: ۱۰۔۱۳)

’’میں نے کہا: اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ بے شک، وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر اپنے ابر رحمت کے دو نگڑے برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمھیں فروغ بخشے گا۔ اور تمھارے واسطے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے۔‘‘

یہی بات تورات میں بڑی تصریح سے آئی ہے:

’’ خدا وند تجھ کو اس ملک میں ضرور برکت بخشے گا، جسے خود خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے۔ بشرطیکہ تو خداوند اپنے خدا کی بات مان کر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے، جو آج میں تم کو دیتا ہوں، کیونکہ خداوند تیرا خدا جیسا اس نے تجھ سے وعدہ کیا ہے، تجھ کو برکت بخشے گا اور تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا، پر تجھ کو ان سے قرض لینا نہ پڑے گا اور توبہت سی قوموں پر حکمرانی کرے گا، پر وہ تجھ پر حکمرانی کرنے نہ پائیں گی۔‘‘(کتاب استثنا ۱۵: ۴-۶)

ہماری اصل کوتاہی یہ ہے کہ ہم خدا کے احکام کی امت کی حیثیت میں تکمیل نہیں کر رہے ہیں۔ہم دین سے، علی العموم، منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ساری خدائی ہم پر غلبہ پائے ہوئے ہے۔ ہم قوم یونس کی طرح آگے بڑھیں اور خدا کے حضور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جھک جائیں۔ سابقہ گناہوں کی معافی مانگیں تو چشم زدن میں صورت حال بدل جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کی دلیل آج قرآن ہے اور اس سے پہلے تورات رہی ہے۔ ۱؂

[۱۹۹۴ء]

_________

۱؂اس مضمون میں جس وعدہ کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اولاد ابراہیم کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اولاد ابراہیم اگر آج بھی دین میں اپنے اصل کردار کو اختیار کرے تو یہ وعدہ اس کے ساتھ قائم ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: