علم دین اور غلط رویہ

دین کا علم، دین پر غور وفکر اور دین کی معرفت خود دین پر عمل کرنے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہی ضرورت ہے جو آدمی کو قرآن و سنت کے مطالعے کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہی چیز ہے جس کی طلب لوگوں کو علما کی مجالس میں شرکت اور ان کے خطبات سننے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی احتیاج ہے، جسے پورا کرنے کے لیے کتابوں اور رسالوں کی اشاعت کا کام کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ دین کے بنیادی ماخذ قرآن مجید اور کتب حدیث کے ترجمے مختلف زبانوں میں کر دیے گئے ہیں اور لوگ ترجموں کی مددسے قرآن و حدیث سے براہ راست استفادہ کر رہے ہیں۔

جہاں یہ سارا کام دین کی ایک بڑی خدمت ہے، وہاں اللہ تعالیٰ ہی کے قانون آزمایش کے تحت، اس میں پڑھنے اور سننے والوں کے لیے ایک مشکل بھی ہے۔ چنانچہ، آدمی اگر متنبہ نہ ہو تو وہ غلط راستے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ مشکل ایسے لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ قابل توجہ ہے جو دنیوی علوم سے بہرہ یاب ہوتے ہیں اور جدید تعلیم نے ان کے ذہنی ڈھانچے کو ایک خاص شکل دے دی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا دین اس دنیا میں چودہ صدیوں سے پیش کیا جار ہا ہے اور اس کے ماننے والے اقصاے عالم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسے ہر زمانے میں مختلف فکری اور عملی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ چیلنج باہر سے بھی سامنے آئے اور خودامت کے اندر اٹھنے والے فتنوں نے بھی انھیں وجود بخشا ہے۔

قرون اولیٰ میں ان کا سامنا کرنے کے لیے اس امت میں ایسے جید علما موجود تھے جو اپنی مجتہدانہ بصیرت اور قرآن وسنت سے براہ راست استفادہ کرنے کی صلاحیت کے باعث اپنا فرض بخوبی ادا کردینے میں کامیاب ہوئے، لیکن بد قسمتی سے، مغرب کے فکری اور سیاسی غلبے کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے عام طور پر وہ لوگ میدان میں آئے جو یہ استعداد اور صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ، آج وہ مشکل دو چند ہو گئی ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے دین میں تفقہ اور بصیرت پیدا کر لینے کی صلاحیت ودیعت کی تھی، وہ آگے بڑھتے اور قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم میں غیر معمولی درک پیدا کرتے، پورے دین کی حکمت، ساری شریعت اور پھر اس کے مقصود سے آگاہی حاصل کرتے اور پھر ان سوالوں کا جواب دیتے جو دور جدید میں دین کے حوالے سے پیش آ گئے تھے۔ لیکن، بالعموم، ہوا یہ کہ ان سوالوں کا اپنے معمولی علم سے جواب سوچا گیا اور دینی نصوص کو کھینچ تان کر مطلوبہ معنی پہنانے کی کوشش کر ڈالی گئی۔ اور اس میں کوئی مشکل اس لیے بھی پیش نہ آئی کہ عربی زبان کی رکاوٹ بھی ترجموں کی وجہ سے دور ہو چکی تھی۔ اور کتب لغت کی مدد سے معمولی شد بد رکھنے والا بھی نکتہ سنجی کے لیے رطب و یابس فراہم کر سکتا تھا۔

ہم اپنے ہاں آنے والوں میں سے بعض لوگوں کو اس بیماری میں مبتلا دیکھتے ہیں کہ انھوں نے کسی دینی نص کا اپنے کسی فلسفے کی رو سے ایک مطلب طے کر لیا ہوتا ہے اور وہ اسے ایک خاص اعتماد سے پیش کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اگر دوسری قطعی نصوص بھی پیش کی جائیں جو ان کے طے کردہ مفہوم سے کتنی ہی نقیض کیوں نہ ہوں، تب بھی ان کے اعتماد میں ذرا کمی نہیں آتی اور وہ سارے استدلال کو محض اس لیے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ یہ ان کے محبوب فلسفے کے خلاف پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں کے وجود میں آنے کی وجہ بھی وہ سہولت ہے جودینی علوم کے حوالے سے آج کل پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سہولت پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ سہولت تو، بہرحال، اہل علم کا فرض ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے پیدا کریں، تاکہ وہ اپنے دین کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ سمجھ لینے کے بعد دین پر جواعتماد، عمل میں جورسوخ اور ایما ن میں جو گہرائی آتی ہے، وہ کسی دوسری صورت میں ممکن نہیں ہے۔

اصل خرابی یہ ہے کہ دینی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں، جو دنیا کے کسی دوسرے علم کے بارے میں ہر جگہ ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ہر علم میں ایسی مہارت کہ آدمی اس کے اصول و مبادی سے لے کر اس کے فروع و شعب تک نئی آرا قائم کر سکے اور اسی علم کے دوسرے ماہرین کی غلطیوں کی نشان دہی کر سکے، ہر آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس کے لیے، بہر حال، اس فن یا علم میں خصوصی تعلیم اور خصوصی تجربہ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جس طرح دوسرے ماہرین علم سے ہر آدمی اپنی استعداد اور اپنے دائرۂ کار کے مطابق فائدہ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح دین کے ماہرین علم سے بھی اسی اصول کے مطابق استفادہ کرنا چاہیے۔ غلطی یہ کی جاتی ہے کہ دین کے علم کے معاملے میں اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ اور ہر آدمی نصوص قرآن و سنت سے اپنا من پسند دین برآمد کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جس طرح علم طب میں نیم حکیم خطرۂ جان بن جاتا ہے، بالکل اسی طرح دین سے نیم واقف آدمی ایمان و عمل کی نعمت سے محروم کر دے سکتا ہے۔ یہ خطر ہ طب کے معاملے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اس لیے کہ وہاں یہ عارضی زندگی خطرے میں پڑتی ہے، جبکہ دین کا معاملہ ابدی زندگی کا معاملہ ہے۔

یہ ضروری ہے کہ دین کا لٹریچر پڑھنے والے اپنے آپ کو ہمیشہ طالب علم سمجھیں اور اہل علم سے ان کی کتابوں سے اور ان کے اجتماعات سے ایک طالب علم ہی کی طرح فائدہ اٹھائیں۔ وہ جہاں الجھیں، علما ہی سے اس کے بارے میں دریافت کریں۔ اگر اطمینان نہ ہو تو دوسرے علما اور پھر دوسرے مکاتب فکر کے علما کے سامنے اپنا سوال رکھیں اور یہ جد وجہد مطالعے اور ملاقاتوں کی صورت میں جاری رکھیں، جہاں تک کہ انھیں اطمینان حاصل ہو جائے۔ جب قرآن وسنت کا مطالعہ ترجموں کی مدد سے کریں تو یہاں بھی علما کی لکھی ہوئی تفسیروں اور شرحوں ہی سے فائدہ اٹھائیں۔مشکل پیدا ہو جائے تو موجود ماہرین سے، اپنی مشکل حل کرنے میں، مدد حاصل کریں اوراگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ خود مسائل حل کریں تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ سارے کام چھوڑ کر دین کا جید عالم بننے کا فیصلہ کریں اور ان علوم و فنون میں مکمل مہارت حاصل کریں جو اس طرح کی تحقیق کے لیے ضروری ہیں۔ اور بطور خاص اساتذہ کے زیر تربیت وہ مخصوص عرصہ گزاریں، جس کے بعد کوئی آدمی اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ دین کے بارے میں اپنے بل پر کلام کر سکے۔

[۱۹۹۳ء]

___________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: