نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایت

تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

— ۱ —

عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ:۱ قُلْتُ لِلزُّبَیْرِ: مَا لِيْ لَا أَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّيْ لَمْ أُفَارِقْہُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلٰکِنِّيْ سَمِعْتُ مِنْہُ کَلِمَۃً: ”مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا [لِیُضِلَّ بِہِ]۲[النَّاسَ]۳ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۴”.۵

عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنازبیررضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں جس طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور فلاں اور فلاں بعض دوسرے حضرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بیان کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، آپ کو اُس طرح نہیں دیکھتا، اِس کی کیا وجہ ہے؟اُنھوں نے فرمایا: صاحب زادے، میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، کبھی آپ سے جدا نہیں ہوا، لیکن (اِس لیے ڈرتا ہوں کہ)میں نے آپ سے ایک بات سن رکھی ہے۔آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جان بوجھ کرکوئی جھوٹی بات میری نسبت سے بیان کی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔۱

۱۔ یہی احتیاط سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے جلیل القدر صحابۂ کرام نے بھی ملحوظ رکھی ہے۔وہ جانتے تھے کہ پورا دین قرآن وسنت میں محفوظ ہے اور وہ مسلمانوں کے اجماع اور تواتر سے آنے والی نسلوں کو منتقل ہو جائے گا۔اِس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں ، اُس سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا، لہٰذا اِس کو آگے بیان کرنا اُن کی کوئی دینی ذمہ داری بھی نہیں ہے۔اُن کے لیے مناسب یہی ہے کہ احتیاط کریں اور آپ کی نسبت سے زیادہ باتیں بیان کرنے سے گریز کریں۔

— ۲ —

قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ:۶ إِنَّہُ لَیَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ حَدِیْثًا کَثِیْرًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ کَذِبًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ”.۷

انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے زیادہ باتیں بیان کرنے سے روکتی ہے، وہ آپ کا یہی ارشاد ہے کہ جس نے جانتے بوجھتے مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔

— ۳ —

یَقُوْلُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانُ:۸ وَاللّٰہِ مَا یَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِّيْ لَا أَکُوْنُ أَوْعَاہُمْ لِحَدِیْثِہِ وَلٰکِنْ أَشْہَدُ أَنِّيْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ”مَنْ قَالَ۹عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ”.

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:خدا کی قسم، مجھے جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بیان کرنے سے روکتی ہے،وہ یہ نہیں ہے کہ آپ کی باتیں مجھے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ یاد نہیں ہوں گی،بلکہ یہ ہے کہ میں نے آپ کو سنا ہے اور میں اِس کا گواہ ہوں کہ آپ نے فرمایا:جس نے میری طرف اُس بات کی نسبت کی جو میں نے نہیں کہی، اُسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔

— ۴ —

عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، قَالَ:۱۰ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ”إِنَّ کَذِبًا عَلَيَّ لَیْسَ کَکَذِبٍ عَلٰی أَحَدٍ،۱۱ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ”.۱۲

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی دوسرے پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں ہے ، جس نے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات میری نسبت سے بیان کی ، اُس کا انجام پھر یہی ہے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔

— ۵ —

عَنْ أَبِيْ قَتَادَۃَ قَالَ:۱۳ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ: ”یَا أَیُّہَا النَّاسُ، إِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَدِیْثِ عَنِّيْ، مَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلاَ یَقُوْلَنَّ إِلَّا حَقًّا، أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ”.۱۴

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو، میری نسبت سے زیادہ باتیں بیان کرنے سے بچو۔ جو شخص میری طرف سے کوئی بات کہے، وہ حق اور سچ ہونی چاہیے۔ اِس لیے کہ جس شخص نے میری طرف اُس بات کی نسبت کی جو میں نے نہیں کہی ، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔

— ۶ —

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱۵ ”حَدِّثُوْا عَنِّيْ وَلَا حَرَجَ، حَدِّثُوْا عَنِّيْ وَلَا تَکْذِبُوْا عَلَيَّ، وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ”.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری باتیں بیان کرو، اِس میں کوئی حرج نہیں۱۔بیان کرو، لیکن مجھ پر جھوٹ باندھنے کی جسارت نہ کرو۔ یاد رکھو، جس نے جانتے بوجھتے مجھ پر جھوٹ باندھا، اُس نے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لیا۔

۱۔ یعنی جس طرح میری باتیں بیان کرنا ضروری نہیں ہے ، اُسی طرح ناجائز بھی نہیں ہے۔ اِس طرح کی چیزیں لوگ اپنی محبوب شخصیتوں کے حوالے سے بیان کیا ہی کرتے ہیں۔ تاہم ہرشخص کو محتاط رہنا چاہیے، اِس لیے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی دوسرے شخص پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں ہے۔اِس کے نتائج اُس کے لیے نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں۔

— ۷ —

أَنَّ أَبَا مُوْسَی الْغَافِقِيَّ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِيَّ یُحَدِّثُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَادِیْثَ، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: إِنَّ صَاحِبَکُمْ ہٰذَا لَحَافِظٌ أَوْ ہَالِکٌ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ آخِرُ مَا عَہِدَ إِلَیْنَا أَنْ قَالَ: ”عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، وَسَتَرْجِعُوْنَ إِلٰی قَوْمٍ یُحِبُّوْنَ الْحَدِیْثَ عَنِّيْ، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّيْ شَیْءًا فَلْیُحَدِّثْہُ”.۱۶

ابو موسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے صحابی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کچھ روایتیں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:تمھارا یہ ساتھی یا حافظ ہے یا ہلاک ہونے والا ہے۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری وصیت ہمیں فرمائی، وہ یہ تھی کہ اللہ کی کتاب کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔تم عنقریب ایسے لوگوں کی طرف جاؤ گے جو میری باتیں بیان کرنا پسند کریں گے۱۔ سو یاد رکھو کہ جو شخص میری طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔جس نے میری بات اچھی طرح یاد رکھی ہو، وہ بیان کرنا چاہے تو ضرور بیان کرے۔

۱۔ یہ اُسی فطری تقاضے کا بیان ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے خطا علم کی جو دولت ہم حدیث کی کتابوں میں پاتے ہیں ، وہ اِسی سے حاصل ہوئی ہے۔

— ۸ —

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:۱۷قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَکْتُبُوْا عَنِّيْ شَیْءًا إِلَّا الْقُرْآنَ، مَنْ کَتَبَ عَنِّيْ شَیْءًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ”.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے قرآن کے سوا کوئی چیز نہیں لکھو۔جس نے میرے حوالے سے کوئی چیز قرآن کے سوا لکھ رکھی ہے، وہ اُس کو لازماً مٹادے۔۱

۱۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ نزول قرآن کے زمانے میں اِس کا شدید اندیشہ تھاکہ اِس طرح کی کوئی چیز قرآن کی حیثیت سے لوگوں تک پہنچادی جائے۔ بعد میں جب یہ اندیشہ نہیں رہا تو یہ پابندی بھی باقی نہیں رہی۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۱۴۱۳سے لیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسلوب کے معمولی تفاوت کے ساتھ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے علاوہ جن دوسرے صحابہ سے روایت ہوا ہے، اُن کے نام یہ ہیں:انس بن مالک ، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عمر،ابو سعید خدری، زید بن ارقم،عثمان بن عفان،مغیرہ بن شعبہ، معاویہ بن ابی سفیان،سلمہ بن اکوع، عقبہ بن عامر،علی بن ابی طالب ،سعید بن زید،سائب بن یزید،خالد بن عرفطہ،طارق بن اشیم اشجعی، عمرو بن عبسہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم۔ اِس روایت کے مراجع درج ذیل ہیں:

مسند طیالسی، رقم۳۴۰، ۳۶۰، ۲۱۹۷، ۲۵۴۳۔مصنف عبد الرزاق، رقم۱۰۱۵۷، ۱۹۲۱۰۔ مسندحمیدی، رقم ۱۲۰۰۔ مسند ابن جعد،رقم۳۳۷، ۵۶۰، ۱۴۲۸، ۱۴۲۹، ۱۴۸۰۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۶۲۳۸، ۲۶۲۳۹، ۲۶۲۴۰، ۲۶۲۴۱، ۲۶۲۴۲، ۲۶۲۴۳، ۲۶۲۴۷، ۲۶۲۵۱، ۲۶۲۵۲، ۲۶۲۵۵۔ مسنداسحاق، رقم۲۶۴۔ مسنداحمد، رقم ۱۴۱۳، ۱۴۲۸، ۱۹۴۲، ۳۳۳۲، ۳۶۹۴، ۳۸۱۴، ۳۸۴۷، ۴۱۵۶، ۴۳۳۸، ۶۴۸۶، ۶۸۸۸، ۷۰۰۶، ۹۳۱۶، ۹۳۵۰، ۱۰۰۵۵، ۱۰۷۲۸، ۱۱۴۰۴، ۱۲۱۱۰، ۱۲۱۵۴، ۱۲۷۰۲، ۱۲۷۶۴، ۱۲۸۰۰، ۱۳۱۰۰، ۱۳۱۸۹، ۱۳۹۶۱، ۱۳۹۷۰، ۱۴۲۵۵، ۱۶۵۰۶، ۱۶۹۱۶، ۱۷۴۳۱، ۱۹۲۶۶، ۲۲۵۰۱۔سنن دارمی، رقم ۲۳۷، ۲۴۱، ۲۴۲، ۲۴۴، ۵۵۹، ۶۱۳۔صحیح بخاری، رقم۱۱۰، ۳۴۶۱، ۶۱۹۷۔ صحیح مسلم، رقم۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۰، ۳۳، ۳۶۔ سنن ابی داؤد، رقم۳۶۵۱۔سنن ترمذی، رقم ۲۲۵۷، ۲۶۶۱، ۲۶۶۹۔ مسند بزار، رقم۳۸۴، ۹۷۰، ۹۷۱، ۱۲۷۵، ۱۸۱۵، ۱۸۷۶، ۳۶۴۴، ۴۳۳۵، ۶۳۴۳، ۶۴۱۲، ۶۴۳۶، ۶۴۷۱، ۷۱۶۸، ۸۹۹۷، ۹۶۴۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۸۸۱، ۵۸۸۳، ۵۸۸۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۶۷، ۶۷۴، ۱۲۲۹، ۱۷۵۱، ۱۸۴۷، ۱۹۵۲، ۲۹۰۹، ۳۱۴۷، ۳۹۰۴، ۴۰۲۵، ۴۰۶۱، ۴۰۶۲، ۴۰۷۰، ۴۰۷۶، ۴۰۷۷، ۵۲۵۱، ۵۳۰۷، ۶۸۶۸۔ مسند شاشی، رقم۳۳، ۳۴، ۳۶، ۳۸، ۳۹، ۴۲، ۲۸۴، ۲۸۵، ۲۸۶، ۲۸۷، ۲۸۸، ۲۸۹، ۵۹۸، ۶۴۲، ۶۴۳، ۶۴۴، ۶۴۵، ۶۵۰، ۷۸۰۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۱، ۱۰۵۲، ۲۵۵۵، ۶۲۵۶۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۸۹۷، ۱۹۳۰، ۲۰۹۱، ۳۳۸۱، ۵۴۶۱، ۸۰۳۳، ۹۲۸۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۹۰۴، ۹۲۲، ۴۱۰۰، ۵۰۱۸، ۵۰۱۹، ۵۰۲۰، ۵۰۲۱، ۶۶۷۹، ۸۱۸۱، ۱۰۰۷۴، ۱۳۱۵۳، ۱۳۱۵۴۔ مستدرک حاکم، رقم۲۵۸۔فوائد تمام، رقم ۵۵۹، ۸۷۲۔ مستخرج ابی نعیم، رقم ۲۲، ۳۶، ۳۸، ۶۵، ۶۸، ۶۹۔ مسند شہاب، رقم ۵۴۹، ۵۵۰، ۵۵۹، ۵۶۰، ۵۶۱۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۵۶۱۹، ۶۱۱۳۔ معرفۃ السنن والآثار، رقم۱۴۲۔

۲۔ یہ اضافہ مسند بزار، رقم ۱۸۷۶سے لیا گیا ہے جس کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔

۳۔ یہ اضافہ کشف الأستار عن زوائد البزار، ہیثمی، رقم ۲۰۹سے لیا گیا ہے اور یہ بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے نقل ہوا ہے۔

۴۔ بعض روایتوں،مثلاً مسند احمد، رقم ۱۹۲۶۶میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہاں’مِنَ النَّارِ’کے بجاے ‘مِنْ جَہَنَّمَ’ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔المعجم الاوسط،طبرانی، رقم۸۰۳۳میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہاں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں:’فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا فِی النَّارِ’، جب کہ صحیح ابن حبان، رقم ۱۰۵۲میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول الفاظ یہ ہیں:’فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا مِنْ جَہَنَّمَ’۔المعجم الکبیر،طبرانی،رقم ۱۳۱۵۳میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں:’بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی النَّارِ”’اُس کا ٹھکانا اللہ آگ میں بنائے گا”۔معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۱۴۲میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے آپ کا یہ ارشاد ان الفاظ میں روایت ہوا ہے:’مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلْتَمِسْ لِجَنْبِہِ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ’ ”جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اُسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے”۔

۵۔مسند طیالسی، رقم۱۸۷میں یہی روایت اِس طرح بھی نقل ہوئی ہے: ‘قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَیْرِ: مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ کَمَا یُحَدِّثُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ مَا فَارَقْتُہُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَکِنِّيْ سَمِعْتُہُ قَالَ کَلِمَۃً، قَالَ: مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ’۔ ”عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا زبیررضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے جو آپ کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور فلاں اور فلاں بعض دوسرے حضرات کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے باتیں بیان کرنے سے روکتی ہے؟ اِس پر اُنھوں نے فرمایا:دیکھو، خدا کی قسم، میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، کبھی آپ سے جدا نہیں ہوا، لیکن (اِس لیے ڈرتا ہوں کہ)میں نے آپ سے ایک بات سن رکھی ہے۔آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے میری طرف اُس بات کی نسبت کی جو میں نے نہیں کہی، اُسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے”۔

بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۲۴۵میں روایت کا یہی مضمون عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اِس اسلوب میں بھی نقل ہوا ہے:’أَنَّ النَّبِيَّ، قَالَ: إِنَّ الَّذِيْ یَکْذِبُ عَلَيَّ یَبْنِي بَیْتًا لَہُ فِي النَّارِ”’بلاشبہ، جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے، وہ گویا اپنا ٹھکانا آگ میں بنا رہا ہے”۔مستخرج ابی نعیم، رقم۲۳میں ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ الفاظ بھی آئے ہیں:’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: مَنْ یَکْذِبْ عَلَيَّ یُبْنَ لَہُ بَیْتٌ فِي النَّارِ”’جس نے مجھ پرجھوٹ باندھا، اُس کا ٹھکانا آگ میں بنایا جائے گا”۔ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اِس روایت کے مصادر یہ ہیں: مسند شافعی، رقم۱۹۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۲۴۵۔ مسند احمد، رقم۴۷۴۲،۵۷۹۸، ۶۳۰۹۔ مسند عبد بن حمید، رقم ۷۳۸۔ مسند ابی یعلیٰ،رقم۵۴۴۴۔ مستخرج ابی نعیم، رقم۲۳۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۱۴۰۔

۶۔ اِس روایت کامتن صحیح بخاری، رقم۱۰۸سے لیا گیا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ آپ کے یہ کلمات سیدنا عثمان بن عفان سے بھی روایت ہوئے ہیں۔ اِس کے مراجع یہ ہیں: مسند احمد، رقم۵۰۷۔ صحیح مسلم، رقم ۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۵۸۸۲۔ مسند شہاب، رقم۵۴۸۔

۷۔ مسند احمد، رقم۵۰۷میں یہاں’مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ’کے بجاے’بَیْتًا فِي النَّارِ’کے الفاظ آئے ہیں۔

۸۔ اِس روایت کا متن مسند طیالسی، رقم ۸۰سے لیا گیا ہے۔ اِس تعبیر کے ساتھ یہ روایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ زبیر بن عوام، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن عمرو اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے بھی نقل ہوئی ہے اور اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند شافعی، رقم۲۰۔ مسند طیالسی، رقم۸۰، ۱۸۷۔ مسند اسحاق، رقم ۳۳۴۔ مسند احمد، رقم۶۵۹۱۔ مسند بزار، رقم۳۸۳، ۷۹۶۲۔ صحیح ابن حبان، رقم ۲۸۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۶۲۸۰۔ مستدرک حاکم، رقم۳۴۹، ۳۵۰، ۵۵۵۷۔ فوائد تمام، رقم ۳۰۸۔مستخرج ابی نعیم، رقم۲۱۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۲۰۳۲۴، ۲۰۳۵۳۔ معرفۃ السنن والآثار، رقم ۱۳۹۔

۹۔ بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۲۴۹میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہاں ‘قَالَ’ کے بجاے ‘تَقَوَّلَ’کا فعل نقل ہوا ہے۔اِس فعل کے ساتھ یہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے اور اِس کے مراجع یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۶۲۴۹۔ مسند احمد، رقم ۸۲۶۶، ۱۰۵۱۳۔ الادب المفرد، بخاری، رقم۲۵۹۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۴۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۱۲۳۔

۱۰۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم۱۲۹۱سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے مصادریہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۶۲۵۴۔ مسند احمد، رقم۱۸۱۴۰، ۱۸۲۰۲۔ صحیح مسلم، رقم ۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۹۶۶۔ مسند شاشی، رقم ۲۰۶، ۲۱۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۹۷۵۔ مستخرج ابی نعیم، رقم۲۴، ۶۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۷۱۶۹۔

۱۱۔ مسند شاشی، رقم ۲۰۶ میں آپ کے یہ ابتدائی کلمات سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہوئے ہیں۔ مستخرج ابی نعیم، رقم۶۶میں یہاں’عَلٰی أَحَدٍ”’ کسی پر”کے بجاے ‘عَلٰی غَیْرِيْ”’میرے سوا کسی دوسرے پر” کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۹۷۵میں یہ الفاظ آئے ہیں:’إِنَّ الْکَذِبَ عَلَيَّ لَیْسَ کَالْکَذِبِ عَلٰی أَحَدٍ’۔بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم۳۵۰۹میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آپ کی نسبت سے جھوٹی بات کرنے کو تین سب سے بڑے جھوٹوں میں شمار کیا گیا ہے۔اِس مضمون کی روایات واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہیں اور اُن کے مراجع یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۶۰۰۸، ۱۶۰۱۵، ۱۶۹۸۰۔صحیح بخاری، رقم ۳۵۰۹۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۶۴، ۱۷۴، ۱۷۶، ۱۷۸، ۱۷۹۔ مسند الشامیین، طبرانی، رقم۱۰۵۳، ۱۸۶۶، ۱۹۲۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۸۲۰۴۔ مستخرج ابی نعیم،رقم۲۶۔

۱۲۔بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۶۲۹میں روایت کا یہی مضمون سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جس تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے، وہ یہ ہے:’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَکْذِبُوْا عَلَيَّ، فَإِنَّہُ مَنْ یَکْذِبْ عَلَيَّ، یَلِجِ النَّارَ”’مجھ پر جھوٹ نہیں باندھنا، اِس لیے کہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ، وہ دوزخ میں جائے گا”۔ علی رضی اللہ عنہ سے اِس روایت کے مراجع یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۱۰۹۔ مسند ابن جعد، رقم۸۱۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۲۴۶۔ مسند احمد، رقم ۶۲۹، ۶۳۰، ۱۰۰۰، ۱۰۰۱، ۱۲۹۲۔صحیح بخاری، رقم ۱۰۶۔صحیح مسلم، رقم ۱۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۱۔ سنن ترمذی، رقم۲۶۶۰۔ مسند بزار، رقم۹۰۲، ۹۰۳۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۵۸۸۰۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۱۳، ۶۲۷۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۶۰۷۔مستدرک حاکم، رقم ۲۶۱۴۔مستخرج ابی نعیم، رقم۵۸، ۵۹، ۶۰، ۶۱۔

۱۳۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم۲۲۵۳۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے مراجع یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۶۲۴۴۔ مسند احمد، رقم ۲۲۵۳۸۔ سنن دارمی، رقم۲۴۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۔ مستدرک حاکم، رقم۳۷۹، ۳۸۰۔

۱۴۔بعض روایتوں مثلاً مسند احمد، رقم۲۰۱۶۳میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ رَوٰی عَنِّيْ حَدِیْثًا، وَہُوَ یَرٰی أَنَّہُ کَذِبٌ، فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِیْنَ’ ”جس نے مجھ سے کوئی بات روایت کی اور اُسے معلوم ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے”۔الفاظ کے معمولی تفاوت کے ساتھ اِس کی روایت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے علاوہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی ہوئی ہے۔ یہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے: جامع ابن وہب، رقم۵۵۱۔ مسند طیالسی، رقم ۷۲۵، ۹۳۷۔ مسند ابن جعد، رقم ۱۴۰، ۵۴۱، ۲۰۶۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۶۱۴، ۲۵۶۱۵۔ مسند احمد، رقم ۹۰۳، ۱۸۱۸۴، ۱۸۲۱۱، ۱۸۲۴۰، ۱۸۲۴۱، ۲۰۱۶۳، ۲۰۲۲۱، ۲۰۲۲۴۔ سنن دارمی، رقم۲۳۹۔ سنن ابن ماجہ، رقم۳۹، ۴۰، ۴۱۔سنن ترمذی،رقم ۲۶۶۲۔ مسند بزار، رقم ۴۵۳۶۔ مسند شاشی، رقم ۳۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۸۷۸۱۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۰۲۰، ۱۰۲۱، ۶۷۵۷، ۷۵۵۷۔مستخرج ابی نعیم، رقم۲۸، ۲۹، ۶۲، ۶۴۔ معرفۃ السنن والآثار،بیہقی، رقم۱۴۷۔

۱۵۔ اِس روایت کا متن مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۲۰۹سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ اِن مراجع میں دیکھ لی جاسکتی ہے:مسند شافعی، رقم۱۷۔ مسند حمیدی، رقم ۱۱۹۹۔ مسند احمد، رقم۱۱۳۴۴، ۱۱۴۲۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۵۸۱۷۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۲۰۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۶۲۵۴۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۱۴۵۔

۱۶۔ اس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۸۹۴۶سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی مالک بن عبادہ غافقی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ جن مراجع میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:احادیث اسماعیل بن جعفر، رقم ۲۶۴۔ مسند احمد، رقم۱۸۹۴۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۶۵۷۔ مستدرک حاکم، رقم۳۸۵۔ مستخرج ابی نعیم، رقم۱۸۔

۱۷۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۱۰۸۵سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے مصادر یہ ہیں:مسند احمد، رقم۱۱۰۸۵، ۱۱۰۸۷، ۱۱۱۵۸، ۱۱۳۴۴، ۱۱۵۳۶۔سنن دارمی، رقم ۴۶۴۔ صحیح مسلم، رقم ۳۰۰۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۷۹۵۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۲۸۸۔ صحیح ابن حبان، رقم۶۴۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۳۷۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن ۔ الہند: دائرۃ المعارف العثمانیۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ).المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علی، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ في تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ھ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. د.ط. بیروت: دارالمعرفۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م) مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.

ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). . ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.

ابن عدي، عبد اللّٰہ أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ؍۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت۔ لبنان: الکتب العلمیۃ.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجہ. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

ابن وہب، أبو محمد عبد اللّٰہ بن وہب بن مسلم المصري القرشي. (۱۴۲۵ھ/ ۲۰۰۵م). الجامع. ط۱. تحقیق: الدکتور رفعت فوزي عبد المطلب، والدکتور علي عبد الباسط مزید. د.م: دار الوفاء.

أبو داؤد، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). سنن أبي داؤد. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.

أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. مسند أبي یعلٰی. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

إسماعیل بن جعفر بن أبي کثیر، أبو إسحاق، الأنصاري، المدني. (۱۴۱۸ھ/ ۱۹۹۸م). حدیث علي بن حجر السعدي عن إسماعیل بن جعفر المدني. ط۱. دراسۃ وتحقیق: عمر بن رفود بن رفید السّفیاني. الریاض: مکتبۃ الرشد للنشر.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي.(۱۴۰۹ھ/ ۱۹۸۹م). الأدب المفرد. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار البشائر الإسلامیۃ.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). مسند البزار. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م).

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). سنن الترمذي. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض.مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفٰی البابي الحلبي.

تمام بن محمد، الرازي، البجلي، أبو القاسم.(۱۴۱۲ھ). الفوائد. ط۱. تحقیق: حمدي عبد المجید السلفي. الریاض: مکتبۃ الرشد.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطاء. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.

الدارمي، أبو محمد عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، التمیمي. (۱۴۱۲ھ/۲۰۰۰م). سنن الدارمي. ط۱. تحقیق: حسین سلیم أسد الداراني. الریاض: دار المغني للنشر والتوزیع.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرنؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثي. (۱۴۱۰ھ) مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الشافعي، محمد بن إدریس، أبو عبد اللّٰہ، القرشي، المکي. (۱۳۷۰ھ/ ۱۹۵۱م). مسند الإمام الشافعي. د.ط. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۴م). مسند الشامیین. ط۱. تحقیق: حمدي بن عبدالمجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسي، أبو داؤد سلیمان بن داؤد البصري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). . ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الحمید بن حمید بن نصر الکَسّي، أبو محمد. (۱۴۰۸ھ/ ۱۹۸۸م). المنتخب من مسند عبد بن حمید. ط۱. تحقیق: صبحي البدري السامراءي، محمود محمد خلیل الصعیدي. القاہرۃ: مکتبۃ السنۃ.

عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.

القضاعي، أبو عبد اللّٰہ محمد بن سلامۃ بن جعفر.(۱۴۰۷ھ/ ۱۹۸۶م). مسند الشہاب. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

الہیثمي، نور الدین، علي بن أبي بکر بن سلیمان. (۱۳۹۹ھ/ ۱۹۷۹م). کشف الأستار عن زوائد البزار. ط۱. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

____________

http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/nabi-sws-ke-ilm-o-amal-ki-riwayet

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s