شاخوں پر ابہام کے پیکر لٹک رہے ہیں

مظفر حنفی

شاخوں پر ابہام کے پیکر لٹک رہے ہیں

لفظوں کے جنگل میں معنی بھٹک رہے ہیں

پاکیزہ اخلاق مسلط ہے جذبے پر

خواہش کی آنکھوں میں کانٹے کھٹک رہے ہیں

ملہاریں گاتے ہیں مینڈک تال کنارے

آسمان پر بھورے بادل مٹک رہے ہیں

مطلع پر یادوں کی پو سی پھوٹ رہی ہے

من پر کالے سانپ اپنے پھن پٹک رہے ہیں

خوشبو کی چوری کا داغ لگا ہے ان پر

سب گل بوٹے اپنے دامن جھٹک رہے ہیں

ایسی جدت سے ہم کو کیا مل جائے گا

پڑھنے والے ہر مصرع پر اٹک رہے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s