دو انتہائیں

(Abu Yahya ابویحییٰ)

میں عام طور پر ٹی وی نہیں دیکھتا۔ لیکن آج ٹی وی پر علامہ اقبال کی شکوہ اور جواب شکوہ دوگلوکاروں کو خوبصورت انداز سے پڑھتے ہوئے سنی تو دیکھنے بیٹھ گیا۔ بیچ میں اشتہارات کا وقفہ آ گیا۔ چونکہ پورا کلام سننا چاہ رہا تھا تو وہ بھی دیکھنے پڑے۔ موبائل کمپنی کے طویل اشتہار میں یہ دکھایا گیا تھا کہ کالج کے لڑکے لڑکیاں ساتھ پڑھنے کے علاوہ مل کر کھیلنے اور مختلف تفریحات کرنے میں مشغول تھے ۔

اس اشتہار میں ایک منظر یہ بھی دکھایا گیا کہ باہمی طور پر مل کر کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک لڑکی شاٹ لگاتی ہے اور گیند لڑکے کے انتہائی نازک مقام کو نشانہ بناتی ہے۔ وہ سب لوگ جنھوں نے کرکٹ کھیلی ہے، جانتے ہیں کہ اس کے بعد صورتحال کتنی نازک ہوجاتی ہے۔ یہ منظر اگر لڑکوں کی کرکٹ میں دکھایا جاتا تو شاید مزاح کا کوئی عنصر اس میں ڈھونڈ لیا جاتا، لیکن لڑکی کے شاٹ پر لڑکے کے ساتھ یہ ہوتے ہوئے دکھانا بے ہودگی کے سوا کچھ نہیں۔

بہرحال ایک طرف یہ کلچر ہے جومیڈیا کے زیر اثر ہماری اشرافیہ سے گزر کر اب تعلیم یافتہ طبقات میں تیزی سے عام ہورہا ہے اور دوسری طرف میں اقبال کی شکوہ جواب شکوہ سنتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ اقبال کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ وہ پچھلی صدی میں رخصت ہوگئے۔ ورنہ جو کچھ انھوں نے اپنے اشعار اور خطبات میں ارشاد فرمایا ہے، اس کے بعد وہ یا تو کسی خود کش حملے میں شہید ہوکر بارگاہ الوہیت میں براہ راست شکوہ کرتے ہوئے پہنچ جاتے یا پھر کفر و ضلالت کے فتووں کے ہار گلے میں لٹکا کر ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے۔

اسی جواب شکوہ کو دیکھ لیجیے۔ اس میں وہ پوری نظم میں اللہ تعالیٰ طرف سے بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ مسلمانوں کی علمی روایت اورادب عالیہ میں کوئی انہونی بات نہیں، یہی ایک بات ان کو کفر اور گستاخی کا مرتکب قرار دینے کے لیے بہت تھی۔ یہی انتہاپسندانہ سوچ ہے جو مذہب کے نام پر اس معاشرے میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے جس میں ایمان و اخلاق کا مجسم نمونہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی تو کہیں نظر نہیں آتی، لیکن فرقہ واریت، عدم برداشت، نفرت، کفر و ضلالت کے فتوے، اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف مہم بازی اور دہشت گردوں کی خاموش اور اعلانیہ حمایت کے سارے عناصر جمع ہیں۔

بے لگام آزاد خیالی اور انتہا پسندی کی یہی وہ دو انتہائیں جن کے درمیان یہ قوم ایک عرصے سے پسے جا رہی ہے۔ اور اس وقت تک پستی رہے گی جب تک وہ دین کی اصل تعلیم کو اختیار نہیں کرے گی۔ دین کی یہ اصل تعلیم حضور کی وہ زندگی ہے جسے ہماری ماں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے بیا ن کیا کہ کان خلقہ القران، (صحیح مسلم ، رقم1773) یعنی قران مجید ہی آپ کا اخلاق تھا۔ ہم نے ایمان و اخلاق پر مبنی اس تعلیم کو اپنی کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔

ایمان و اخلاق پر مبنی دین کی تعلیم صرف انتہاپسندانہ رویوں ہی سے ہماری نجات کی ہی نہیں بلکہ دنیا و آخرت میں ہماری فلاح کی۔ ضامن بھی ہیں۔ اس تعلیم کا خلاصہ کیا ہے۔ وہ ایمان جو خدا کی ہستی اور اس کی ملاقات کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے۔ وہ اخلاق جو خالق کی بندگی اور مخلوق کی خدمت، عدل، احسان، ایثار سے عبارت ہو اور فواحش، مسلمہ برائیوں اور زیادتی کے کاموں سے انسان کو روکنے والا ہو۔ وہ شریعت جو تمام بدعات اور انسانی اضافوں سے پاک ہو۔

اس ایمان، اخلاق اور شریعت کے بارے میں قرآن مجید آخری درجے میں واضح ہے کہ یہ دنیا میں مجموعی قومی فلاح اور آخرت میں فرد کی کامیابی کو یقینی بنانے والی ہے۔ اسی تعلیم نے صحابہ کرام کے قدموں میں دنیا کا اقتدار لا ڈالا اور یہی آج ہمارے غلبہ کا واحد راستہ ہے ۔

http://www.inzaar.org

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s